Meri Muhabat by Mahra Shah NovelR50543 Meri Muhabat (Episode 09)
Rate this Novel
Meri Muhabat (Episode 09)
Meri Muhabat by Mahra Shah
مامو پلیز آج ہم سب کو گھمانے لے چلیں پلیز پلیز ۔۔۔پری احمد کے ساتھ بیٹھ کے بولی سب حال میں ساتھ بیٹھے تھے ۔۔
ہاں چاچو پلیز پلیز ہم نے آپ کے ساتھ وقت بھی نہیں گزارا ۔۔۔حدیثہ نے بھی حصہ لیا۔۔
کوئی ضرورت نہیں چاچو ان فقیروں کو لیکے جانے کی ۔۔۔ہادی پری کو گھور کے بولا ۔۔
تمہارے ساتھ مثلا کیا ہے کوکروچ ہم جا رہے ہیں نہ تمہے تو نہیں لیکے جا رہے ۔۔۔۔پری نے بھی ہادی کو گھورا ۔۔۔
تمیز سے بات کرو چشمش چھپکلی شوہر ہوں تمہارا۔۔۔۔ہادی غصے سے بولا ۔۔
اور میں بیوی ہوں تمہاری تم بھی تمیز سے نام لو میرا ۔۔۔جواب میں پری نے بھی غصے سے کہا ۔
چپ کرو دونوں جب دیکھو لڑنے شروع ہو جاتے ہو ۔۔۔دادی دونوں کو گھور کے بولی
احمد ان سب کے بیچ چپ بیٹھا تھا اور اب وہ سوچ رہا تھا روم میں جانے کا لیکن احد کی بات سن کے رک گیا ۔۔
چاچو پلیز آپکے ہی ریسٹورینٹ چلتے ہیں ۔۔۔احد پھر سے بولا ۔۔ہاں ماموں پلیز پلیز پری حدیثہ نے بھی ہاں کی۔۔
اوکے اوکے فائن چلو ۔۔۔احمد اٹھ کر باہر چلا گیا اسکو ویسے ہی دل کر رہا تھا آج حیا کو دیکھنے کا پیچھے وہ تینوں بھی گئے ۔۔
آگے میں بیٹھو گی ۔۔پری جلدی سے آگے والی سیٹ کا دروازہ کھولا ۔۔۔جی نہیں پیچھے جاکے بیٹھو یہ میری جگہ ہے ۔۔۔ہادی جلدی سے آگے بیٹھ گیا ۔۔
پری نے ہادی کو غصے سے دیکھا پھر اندر جانے لگی ۔۔سب حیران پریشان سے پری کو دیکھنے لگے ۔۔
پری واپس آؤ ۔۔احمد جلدی سے گاڑی سے نکل کے اندر گیا ۔۔
پری کو کیا ہوا ۔۔۔بھائی آپ نے اچھا نہیں کیا ۔۔۔حدیثہ احد دونوں ہادی سے ناراض ہوئے ۔۔
کچھ نہیں کیا میں نے بس اس کا دماغ خراب ہیں ۔۔ہادی غصے سے گاڑی سے نکلا اور اپنی گاڑی لیکے نکل گیا باہر اسکو پری کی حرکت پسند نہیں آئی ۔۔
ہادی کہا گیا اب ۔۔۔احمد پری کو منا کے لیکے آیا تو ہادی صاحب نہیں تھے ۔۔
چاچو ہادی بھائی غصے سے اپنی گاڑی لیکے چلے گئے ۔۔سب کے دماغ خراب ہے بس ۔۔احمد نے غصے سے کہا پری کو اب شرمندگی ہوئی ۔۔۔۔۔
___________________________
سب ریسٹورنٹ پوچھ گے اور اب ٹیبل پے بیٹھے تھے ۔۔۔پری اب اپنے حرکت پے شرمندہ ہو رہی تھی اسکو ہادی کے ساتھ اسے نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔
ماموں آپ پلیز ہادی کو کال کریں نہ اسکو بولیں وہ بھی یہاں آئے ۔۔۔۔پری ہادی کے لئے پریشان ہو رہی تھی اب
پھر کیوں ناراض کیا اسکو ۔۔۔احمد نے اسکو گھورا ۔۔
چاچو پلیز ہادی بھائی کو بلائیں ۔۔۔احد حدیثہ نے بھی ہادی کو مس کیا ۔
تم لوگ آرڈر دو میں کال کر کے آتا ہوں ۔۔احمد اٹھ کے باہر گیا
آپو اپنے کیوں کیا پھر ۔۔احد نے ناراضگی سے پوچھا ۔۔
وہ بس میں پاگل ہوں مجھے آگے بیٹھنا تھا نہ اس لئے اب میں سوری کردو گی ۔۔۔پری اداس ہوئی ۔۔
اچھا چلو آرڈر کرتے ہیں چاچو بھائی کو بلا لیں گے ۔۔۔پھر تینونے مل کر آرڈر دیا ۔۔
__________________
احمد ہادی کو کال کرنے کے بعد سیدھا ریسٹورنٹ کے کچن میں آیا ۔۔جہا حیا اپنا کام کر رہی تھی احمد تھوڑا دور رک کے اسکو دیکھنے لگا جو اپنے کام میں مصروف تھی سادہ لان کے کپڑوں میں سر پے ڈوپٹہ میکپ سے پاک چہرہ اسکی خوبصورت بیان کر رہا تھا ۔۔احمد کو آج وہ دنیا کی معصوم خوبصورت لڑکی لگی ۔۔
حیا جو اپنے کام میں مصروف تھی اچانک کسی کو اپنے سامنے دیکھ کے ڈر گئی احمد چل کے اسکے سامنے آیا جس سے حیا ڈر گئی ۔۔
آرام سے لگتا ہے ڈرا دیا ۔۔۔۔احمد نے اسکا چہرہ دیکھ کے ہنسی ضبط کی ۔۔
اا آپ یہاں کیوں آئے ہیں ۔۔۔حیا پہلے حیران ہوئی پھر غصے سے بولی ۔۔
مجھے چائ مل سکتی ہے ۔۔۔احمد اسکے چہرہ پے نظر رکھ کے بولا ۔۔
زہر مل سکتہ ہیں آپکو یہاں ۔۔۔۔۔حیا غصے نفرت سے بولی وہ جب بھی احمد کو دیکھتی تھی اسکو وہ گولی یاد آجاتی تھی ۔۔
مجھے چائے کی طلب ہو رہی ہیں زہر بعد میں دیجیۓ گا ۔۔۔احمد شرارت سے بولا۔۔۔
میں چائے نہیں بناتی اور پلیز مجھے میرا کام کرنے دے آپ کو وہاں سے چائے مل جائے گی ۔۔۔۔حیا کو اسکی باتوں سے غصہ آرہا تھا اب اسکو بول کے اپنے کام میں لگ گئی۔۔
مجھے آپ کے ہاتھ کی چائے پینی ہے سو پلیز جلدی سے بھیج دیں۔۔۔احمد رعب دار آواز میں بول کے باہر چلا گیا بنا اسکی سنے ۔۔پیچھے حیا اسکی پشت کو گھورتی رہ گئی۔۔
افف اللّه مجھے صبر دے یہ سمجھتے کیا ہے خود کو میں ان کی نوکر ہوں جو بولے گیں وہ کروں گی میں یہاں مفت میں کام نہیں کرتی ۔۔۔حیا خود سے غصے میں بول کے کام میں لگ گئی ۔۔
___________________
احمد باہر آیا تو سامنے ہادی آرہا تھا ۔۔۔کیا ہوا چاچو آپنے بلایا ۔۔۔ہادی احمد کے پاس آکے بولا ۔۔
اس طرح غصہ نہیں کرتے چلو سب ویٹ کر رہے ہیں تمہارا۔۔احمد بول کے آگے بڑھا۔۔
تو کیا آپ کی طرح غصہ کرتے ہیں ۔۔۔ہادی نے طنزیہ کہا احمد نے صرف اسکو گھورا ۔۔
چاچو کیا آپ چاچی سے ملنے گئے تھے ۔۔۔ہادی نے شرارت سے کہا اسنے احمد کو کچن سے نکلتے دیکھ لیا تھا ۔۔
بکواس بند کرو ۔۔۔احمد گھور کے بولا۔۔
چاچو کہا تھے آپ ۔۔۔احد بولا ۔۔
ماموں آپ ہادی کو لینے گئے تھے کیا ۔۔پری ہادی کو اسکے ساتھ دیکھ کے بولی جس نے اسکو گھورا اور سیٹ پے بیٹھ گیا۔۔
مجھے واش روم جانا ہیں احد پلیز چلو آگے تک ۔۔۔پری بولی ۔
مجھے کھانے دے آپو آپ ہادی بھائی کے ساتھ جاۓ ۔۔۔احد کھانے سے انصاف کرتے ہوئے بولا ۔۔
جی نہیں میں نہیں جا رہا ۔۔۔ہادی نے جواب دیا پری نے رونے جیسی شکل کر کے احمد کو دیکھا۔۔۔
ہادی جاؤ ساتھ ۔۔۔احمد نے رعب سے کہا ۔۔۔تو مجبورن ہادی کو اٹھنا پڑا ۔۔تھوڑا آگے جاکے پری بولی ۔۔
سوری ہادی مجھے نہ بس آگے بیٹھنا تھا ۔۔۔پری معصوم بچوں کی طرح کان پکڑ کے بولی وہ جانتی تھی ہادی کیسے معاف کرے گا اور پری ہادی سے زیادہ دیر ناراض نہیں رہ سکتی تھی۔۔۔
ہادی بھی پری سے ناراض تھا لیکن اسکا اس طرح سے سوری کرنا ہادی کو اچھا لگا ۔۔
اوکے نیکسٹ ٹائم نہیں کرنہ ایسے ۔۔۔۔ہادی نے معاف کرتے ہوئے کہا ۔۔۔اوکے پری خوشی سے بولی اور جلدی سے واش روم گئی ۔۔۔
____________________
او بھائی سامنے سے ہٹ میرے ساتھ میری گرل فرینڈ ہے۔۔لڑکا سامنے ہادی کو دیکھ کے بولا ۔۔
تو میرے ساتھ کیا بکری ہے ۔۔ہادی جل کے بولا۔۔
لڑکا جلدی سے لڑکی کو لیکے نکل گیا۔۔
ہاددیییی تم نے مجھے بکری کہا۔۔پری صدمہ سے چلائی ۔۔
تو کیا بھینس بولتا ۔۔ہادی نے الٹا جواب دیا ۔۔
تم یہ بھی کیہ سکتے تھے بیوی ہیں تمہارے ساتھ ۔۔۔۔پری ہادی پے خفا ہوئی ۔۔
تو وہ لڑکا اندھا نہیں تھا چشمش دیکھا تو اسنے بھی تھا میرے ساتھ کوئی ہے پھر بھی بولا تو میں کیا بولتا ۔۔۔۔ہادی نے بیزاری سے جواب دیا ۔۔
تمہے میں بعد میں دیکھتی ہوں پہلے اس لڑکے کو دیکھ لو ۔۔۔پری غصے سے اس لڑکے کے پیچھے گی ہادی نے جلدی سے اسکو پکڑ کے ٹیبل پے لیکے گیا ۔۔۔
کیا ہوا چاچو آپکا چہرہ اتنا لال کیوں ہو رہا ہے ۔۔۔ہادی احمد کو دیکھ کے بولا سب کی نظر احمد پے گئی ۔۔
کچھ نہیں تم لوگ سیدھا گھر جانا مجھے کچھ کام ہیں ۔۔۔احمد بول کے جلدی سے باہر چلا گیا کیوں کے اسکو حیا نے مرچوں والی چائے پلائی تھی جس کو احمد نے بہت مشکل سے اندر اتارا ۔۔۔۔
ماموں کو کیا ہوا ۔۔۔پری احمد کو دیکھتی بولی ۔۔
کچھ نہیں جلدی ختم کرو یہ سب پھر ہم لوگ چلیں ۔۔۔ہادی نے انکا دھیاں احمد سے ہٹایا ۔۔۔
