Meri Muhabat by Mahra Shah NovelR50543 Meri Muhabat (Episode 08)
Rate this Novel
Meri Muhabat (Episode 08)
Meri Muhabat by Mahra Shah
جی بابا آپنے بلایا ۔۔۔احمد روم میں آکے انکے سامنے سر جھکا کے کھڑا تھا
آپ نے کیوں کیا حیا کے ساتھ ایسا ۔۔۔۔حارث صاحب نے رعب سے پوچھا انکو اپنے بیٹے کی یے بات غلط لگی تھی
سوری بابا وہ بس غصہ آگیا تھا اسنے بھی بدتمیزی کی تھی ۔۔۔احمد نے آرام سے جواب دیا اب اسکی آنکھوں میں حیا کے لئے نفرت نہیں تھی ایک الگ ہی احساس تھا ۔۔۔
بیٹا غصے کو کنٹرول کرنا سیکھو یاد رہے یہ غصہ بہت کچھ برباد کرتا ہے انسان کو کسی کا نہیں چھوڑتا ۔۔۔حارث صاحب نے سمجھایا ۔۔۔۔۔۔
جی اب خیال رکھوں گا اور کیا اس نے جاب چھوڑ دی ۔۔احمد نے وہ بات پوچھی جو اسکے دل پوچھنا چاہ رہا تھا۔۔۔
آپ نے کوئی کسر تو نہیں چھوڑی تھی لیکن وہ آئے گی میں نے بہت سمجھایا ہے اسکو وہ میری بات کو کبھی انکار نہیں کرے گی ۔۔۔حارث صاحب نے امید سے کہا انکو پتہ تھا حیا انکی بات کو کبھی انکار نہیں کرے گی ۔۔
بس آپ ان کو اب تنگ مت کرنا اسکو میں نے رکھا ہے اس کو ضرورت تھی جاب کی وہ ایک بہت ہی اچھی شیف ہیں ۔۔۔حارث صاحب نے مسکرا کر اسکا کندھا تھپایا۔۔
جی تنگ نہیں کروں گا بس ایک بار انکے ہاتھ کا کھانا ضرور کھاؤں گا ۔۔۔۔احمد نے شرارت سے مسکرا کر کہا۔۔
چلیں ایک موقع دیتے ہیں آپ کو ویسے آپ کی ماں آپ کا رشتہ دیکھ رہی ہیں ۔۔۔حارث صاحب نے بھی شرارت سے کہا۔۔۔
پھر جلدی کچھ کرنا پڑے گا ۔۔۔احمد قہقہ لگا کر نکل گیا آفس کے لئے ۔۔۔پیچھے حارث صاحب اسکی بات کا مطلب سمجھ کر مسکرائے ۔۔۔
_______________________________
حیا تم آگئی شکر ۔۔۔۔سمن نے خوشی سے کہا۔۔
دل نہیں کر رہا تھا یہاں آنے کا پر انکل کی وجہ سے انہوں نے بہت مدد کی ہے ہمارے بس انہی کے لئے آئی ہوں ۔۔۔حیا نے بوجھے دل سے کہا۔۔
اچھا چلو موڈ خراب مت کرو اور بتاؤ گھر میں سب کیسے ہیں آپی کے رشتے کا کیا ہوا ۔۔۔۔سمن نے اسکے موڈ فریش کرنے کے لئے بات بدلی ۔۔۔
پتا نہیں ہمارے نصیب میں خوشیاں لکھی بھی ہے یا نہیں جو بھی لوگ آتے ہیں دیکھنے انکو آپی نہیں اسکے ساتھ اپنے گھر کے لئے سامان چاہیے ہوتا ہے ۔۔۔۔حیا اداسی سے بولی۔۔
حیا ہم کتنا بھی کیوں نہ بول لیں لیکن لوگوں کی سوچ نہیں بدلنی ۔۔۔۔سمن نے گہری سانس لی ۔۔
نہیں سمن لوگوں کو اپنے بیٹوں کے لیے بیوی نہیں انکو اپنے گھر کے لیے سامان کی ضرورت ہوتی ہے جو صرف بیٹوں کی وجہ سے بہو کی صورت میں ملتا ہے یہ دنیا نہیں بدلے گی نہ ہی کسی غریب کا احساس ہوگا کسی کو ۔۔۔۔حیا نے گہرا سانس لیا اور کام میں لگ گئی ۔۔
انسان کو کتنی بھی انا کیوں نہ ہو پیٹ کے لئے اسے مارنی پڑتی ہے جیسے آج حیا خود کو بہت بےبس محسوس کر رہی تھی جس جگہ وہ آنا نہیں چاہتی تھی آج وہ مجبور کھڑی تھی جس شخص سے وہ نفرت کرتی تھی آج اسکے ہی در پے کام کر رہی تھی ۔۔۔۔
__________________________________________
ویلکم برو فائنلی میٹنگ ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔سیف طنزیہ بولا ۔۔سیف احمد بہت اچھے دوست ہونے کے ساتھ بزنس پارٹنرز بھی ہیں ۔۔
یار فائل خراب کردی تھی ویٹر نے دوبارہ کام کرنے میں ٹائم لگ گیا ۔۔۔۔ گہری سانس لیکے بولا ۔۔
اور اس لڑکی کا کیا ہوا وہ ٹھیک تو ہے نہ ۔۔۔سیف نے فکرمندی سے پوچھا اسکو احمد کی حالت پے بھی رحم آیا
پتا نہیں وہ کیسی ہے اب کچھ سمجھ نہیں آرہا میں کیوں اتنا غصہ کرتا ہوں ۔۔۔احمد کو خود پے غصہ آرہا تھا اب وہ حیا کی آنکھوں میں خود کے لئے نفرت نہیں دیکھ سکتا تھا ۔۔
اس لئے کہتا ہوں یار مت کیا کر اتنا غصہ اب دیکھ لی نہ اسکی آنکھوں میں اپنے لئے نفرت ۔۔۔۔سیف نے افسوس سے سر ہلا یہ احمد نے سیف کو سب بتا دیا تھا اس کو اب حیا سے محبت ہونے لگی ہے ۔۔
چل میرے یار پریشان نہ ہو منا لیں گے بھابی جان کو ۔۔۔سیف نے شرارت سے آنکھ دبائی ۔۔۔۔۔احمد اسکی بات پے دل سے مسکرایا
تمہاری بھابی بہت تیز ہے یار ابھی تو وہ مجھے خوار کرے گی اپنے پیچھے ۔۔۔۔۔ہاہاہاہا ۔۔۔۔۔احمد کی بات پے دونوں نے قہقہہ لگایا ۔۔۔
_____________________________
کیاااا۔۔ سچ میں تمہاری شادی ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔پری خوشی سے چیخی ۔۔۔۔۔۔
افف ہو پری آرام سے شادی ہو رہی ہے ابھی ہوئی نہیں ۔۔۔۔ارم نے پری کو آنکھیں دکھائی دونوں اس وقت کینٹین میں بیٹھی تھی ۔۔۔۔
افف یار آئی ام سو ہیپی ۔۔۔۔پری پیار سے اسکو گلے لگی ۔۔۔
اچھا سنو تم میرے گھر آؤ گی رہنے ساتھ میں مستی کریں گے ۔۔۔۔واہ جی بڑی بے شرم دلہن ہو دعوت دے رہی ہو گھر میں مستی کریں گے ہاہاہاہاہا ۔۔۔پری نے ہنس کے مذاق اڑایا ۔۔۔
تو کیا ہوا آج کل سب کرتے ہے ویسے بھی شادی ایک بار ہوتی ہے دل کھول کے انجوائے کرنا چاہئیے ۔۔۔۔۔ارم کو اپنے شادی فل انجوائے کرنی تھی ۔۔۔
اچھا یہ بتاؤ تمہاری شادی کب ہوگی ۔۔۔ارم نے شرارت سے پوچھا ۔۔۔۔
جب میرے پیر قبر میں ہونگے تب ۔۔۔۔۔پری نے افسوس کرتے ہوئے ایکٹنگ کی ۔۔۔۔۔ہاہاہا پری تم نہ بہت بڑی چیز ہو ۔۔۔ارم سمجھ گئی پری کی ایکٹنگ ۔۔
نہیں یار سچی کہہ رہی ہوں میرے شوہر صاحب کو تو خیال نہیں بیوی لانے کا اور گھر والے سوچتے ہی نہیں میرا یہاں میں ڈاکٹر کی پڑھائی کر کے قبر تک پہنچ جاؤ گی ۔۔۔۔۔۔افف اللّه لڑکی کتنے نخرے ہیں تمہارے ۔۔۔۔ارم تو اسکو گھورتی رہ گئی ۔۔۔ہاہاہاہا یار تمہاری شکل دیکھنے جیسی تھی ۔۔۔۔۔۔۔دفع ہوں کمینی ۔۔۔۔ارم اٹھ کے چلی گئی ۔۔۔رک میں بھی آرہی ہوں ۔۔۔۔پری جلدی سے اسکے پیچھے بھاگی۔۔۔۔
______________________________
ہادی یار سن ۔۔۔۔۔حاشر ہادی کے پیچھے بھاگتے ھوۓ باہر آیا ۔۔
کیا ہے کیوں میرے پیچھے پڑ گیا ہے تیری وجہ سے ہر بار میری بیعزتی ہوتی ہی کمینے انسان ۔۔۔۔ہادی حاشر کو غصے سے دیکھ کے بولا آج پھر سر نے حاشر کی وجہ سے ہادی کی کلاس لی کیوں کے حاشر نے ہادی کی کاپی کی تھی ٹیسٹ ۔۔
اچھا نہ یار سوری مجھے کیا پتا سر ہم دونوں کو اتنے اچھے سے جانتا ہیں ۔۔۔۔حاشر نے منہ بنایا ۔۔
جی ہاں اور پھر بھی تو نہیں سدھرے گا ۔۔۔۔۔چل بھائی نیکسٹ ٹائم خیال سے کرو گا ۔۔۔۔۔مطلب تجھے نہیں سدھرنہ ۔۔۔۔ارے ہاں یار اس دن وہ assgiment کس نے خراب کی تھی ۔۔۔۔۔۔حاشر کو اس دن والا واقعہ یاد آیا تو پوچھ لیا ۔۔
مت پوچھ یار میرے سر پے جو وہ چھپکلی چشمش باندھ کر رکھی ہے نہ گھر والوں نے اسکے سوا کون میرا جینا حرام کر سکتہ ہے ۔۔۔۔ہادی کو پری کا چہرا سامنے آیا تو غصے سے بولا ۔۔
ہاہاہاہاہا اچھا بدلہ لیتی ہے.. ہماری معصوم پری بھابی ۔۔۔۔حاشر نے اسکا مذاق اڑایا اور آخر میں بھابی کو لمبا کھینچا۔۔۔۔۔۔
دفع ہو کمینے۔۔ اور وہ معصوم شیطان کی نانی ہے۔۔۔ہادی اسکو گھورتا وہاں سے چلا گیا
