Meri Muhabat by Mahra Shah NovelR50543 Meri Muhabat (Episode 15)
Rate this Novel
Meri Muhabat (Episode 15)
Meri Muhabat by Mahra Shah
آآآآآآآآہہہہہ ۔۔بھوت بھوت ۔۔احد چیخ مار کر بھاگا ۔۔۔۔
احد کے بچے رکو تمہے تو میں بتاتی ہوں ۔۔۔پری اسکے پیچھے بھاگی ۔۔۔
کیا ہو گیا احد آرام سے ۔۔۔مسز حماد نے احد کو روکتے ہوئے کہا ۔۔۔جو بھاگتا ہوا انکے پیچھے چھپ گیا ۔۔
امی میں نے بھوت دیکھا نہیں چڑیل دیکھی سچی میں ۔۔۔احد ڈرتے ہوئے بولا ۔۔۔
مامی اس نے مجھے چڑیل بھوت کہا میں کہاں سے لگتی ہوں چڑیل ۔۔۔پری مسز حماد کے سامنے آکے بولی ۔۔
آپو یہ آپ ہیں پھر آپکے چہرے پے کیا ہوا ہے آپ چڑیل کیوں بنی ہوئی ہی ۔۔۔احد پری کے سامنے آکے صدمے سے بولا ۔۔
پاگل انسان یہ فیشل ہے اسکو فیس پے لگاتے ہیں ۔۔۔پری نے اسکو مارتے ہوئے کہا ۔۔
آپو مارے تو نہیں نہ مجھے کیا پتا آپ لڑکیوں کے کیا کیا فیشن ہوتے ہیں ۔۔۔احد منہ بنا کے بولا ۔۔
اب دفع ہو یہاں سے مجھے بھی ڈرا دیا اپنے بھیانک چیخ سے ۔۔۔پری اسکو گھورتی ہوئی چلی گئی ۔۔
یا اللّه پاکستان میں یہ سارے فیشن ختم کروا دے تا کے ہماری لڑکیاں سدھر جائیں آمین ۔۔۔۔احد نے دونوں ہاتھ اٹھاکے دعا کی ۔۔۔۔
یا اللّه ہمارے لڑکوں کو بھی ہدایت دے دوسروں کی بہنوں کو تارنہ بند کریں آمین ۔۔۔پیچھے شرارت سے بولتی حدیثہ بھاگی کیوں کے اسکے پیچھے ہی احد بھاگا تھا ۔۔۔
___________________________
برو پھر کیا سوچا ۔۔۔سیف احمد سے بولا دونوں آفس میں بیٹھے ہوئے تھے ۔۔
پہلے حیا سے بات کرنا چاہتا ہوں پھر گھر میں بتاؤں گا ۔۔۔احمد کچھ سوچ کے بولا ۔۔
بھابی بات کر لینگی ۔۔۔سیف شرارت سے بولا ۔۔
کیوں نہیں کریں گی ۔۔۔احمد گھور کے بولا ۔۔
وہ کیا ہے نہ تمہے دیکھ کے بھابی کا چہرہ سرخ ہو جاتا ہے نہ ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔سیف نے قہقہہ لگایا۔۔
اس بار شرم حیا والا سرخ ہوگا ۔۔۔احمد کی مسکراہٹ گہری ہوئی ۔۔
اس بار احمد نے سوچ لیا تھا وہ حیا سے بات کر کے ہی گھر والوں سے بات کرے گا اب دیر نہیں کرنا چاہتا تھا اسے کہی ڈر بھی تھا اگر حیا نہیں مانی تو وہ کیا کرے گا چھوڑ تو وہ اب نہیں سکتا حیا کو ۔۔۔
______________________________
حیا سڑک پے کھڑی ٹیکسی کا انتظار کر رہی تھی آج اسکو کوئی گاڑی نہیں مل رہی تھی اچانک سامنے ایک گاڑی آکے رکی حیا جلدی سے پیچھے ہوئی ۔۔۔
ہادی گاڑی سے نکل کے اسکے سامنے آیا وہ جا رہا تھا کہ حیا پے نظر پڑ گئی اسکی ۔۔
السلام علیکم چاچی آپ یہاں کیا کر رہی ہیں ۔۔۔ہادی مسکراتا ہوا بولا ۔۔حیا کو پہلے ہی اسے دیکھ کے غصہ آیا لیکن اسکے منہ سے چاچی سن کے تو وہ غصے سے سرخ ہوگئی ۔۔
تمیز سے بات کرو میں تمہاری چاچی نہیں ہوں سمجھے ۔۔حیا غصے سے بول کے آگے بڑھ رہی تھی کہ ہادی سامنے آگیا ۔۔۔
آپ کہاں جا رہی ہیں چلے میں آپکو چھوڑ دیتا ہوں ۔۔۔ہادی کو اچھا نہیں لگا حیا کا انتظار کرنا گاڑی کے لئے اسکی جگہ احمد ہوتا تو وہ بھی یہی کرتا ہادی نے سوچا ۔۔۔
دیکھو چاچو کے بھتیجے مجھے اور غصہ مت دلاؤ جاؤ یہاں سے ۔۔۔حیا سختی سے بولی کچھ لوگ وہاں کھڑے ہوئے تھے کب سے انکو لڑتے ہوئے دیکھ رہے تھے تو کچھ ان میں سے آگے آئے ۔۔۔۔
کیا ہو رہا ہے یہاں آپ لوگ لڑ کیوں رہے ہیں ۔۔ایک آدمی بولا ۔۔
چاچی نہ چاچو سے ناراض ہوگئی ہے تو میں انھے منا رہا تھا ۔۔۔
ہادی نے سب کو معصومیت سے کہا حیا کا صدمے سے منہ کھل گیا یہ چاچو بھتیجہ کتنے چلاک تھے حیا سوچتی رہ گئی ۔۔۔
کیا یہ سچ کہہ رہا ہے میڈم ۔۔۔ایک آدمی حیا سے بولا ۔۔
حیا کو تو کچھ سمجھ نہیں آیا کیا بولے ہادی نے بولنے کو کچھ چھوڑا ہی نہیں تھا ۔۔
پلیز چاچی مان جائے ورنہ یہاں تماشہ لگ جائے گا ہادی نے جھک کے سرگوشی میں کہا حیا بھی نہیں چاہتی تھی کہ کوئی تماشہ ہو اس لئے ہاں میں سر ہلا کے گاڑی میں بیٹھ گئی ۔۔۔ہادی مسکراتا گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔۔
______________
چاچی یار آپ اتنا غصہ کیوں کرتی ہیں ۔۔۔ہادی گاڑی چلاتے ہوئے کب سے بول رہا تھا اور وہ غصے میں خاموش بیٹھی تھی۔۔۔اب اسکی برداشت کی حد ختم ہوگئی تھی۔۔۔
گاڑی روکو میں نے کہا گاڑی روکو ۔۔۔حیا غصے سے چلائی ہادی نے جلدی سے گاڑی روکی ۔۔
کیا ہوا چاچی۔۔ہادی کچھ کہتا حیا گاڑی سے اتر گئی ۔۔۔اور باہر نکل کر کچھ تلاش کیا پھر ایک بہت برا پتھر اٹھایا اور اسکی گاڑی کی ہیڈ لائٹ توڑ دی پھر دوسری اور گہری سانس لےکے ہادی کے سامنے آئی ۔۔۔ہادی کو تو صدمہ لگ گیا تھا یہ سب کیا ہوا اسکو کچھ سمجھ نہیں آیا ۔۔
دوبارہ اگر مجھے چاچی کہا نا تو تمہارا منہ توڑ دونگی ۔۔حیا غصے سے بول کے آگے گلی میں چلی گئی آگے اسکا گھر قریب تھا ۔۔ہادی اسکے جانے سے جیسے ہوش میں آیا۔۔
صرف چاچی ہی تو بولا تھا کون سا کچھ غلط کہہ دیا افف میں کہاں پھنس گیا ہوں چاچی بولو تو یہ مارتی ہیں اور چاچی نا بولو تو چاچو آنکھیں دیکھاتے ہین کہاں جاؤ میں معصوم ہادی ۔۔۔اب چاچی کے سامنے گاڑی نہیں لیکے آؤنگا میری ہی گاڑی ملتی ہے ان کو ابھی ٹھیک کروائی تھی ۔۔ہادی خود سے بول رہا تھا پہلے بھی احمد اسکی گاڑی لیکے گیا تھا جس کا حیا نے برا حال کیا تھا اور آج بھی پھر سے ۔۔۔
________________________
آرام سے آرہی ہوں دروازہ توڑ نہ ہے کیا ۔۔۔۔صباء بولتی ہوئی آئی حیا دروازے کو غصے سے بجا رہی تھی ۔۔
حیا کیا ہوا اتنا غصے میں کیوں ہو ۔۔صباء نے دروازہ کھولا حیا غصے میں جلدی سے آگے بڑھ گئی پیچھے صباء بھی گی اسکے ۔۔
پتا نہیں ان چاچو بھتیجے کو مثلا کیا ہے مجھے سے ۔۔۔حیا غصہ ہو کے بولی ۔۔
اب کیا کردیا ان لوگوں نے ۔۔۔صباء نے اپنی ہنسی ضبط کی ۔۔
جب بھی مجھے کوئی گاڑی نہیں ملنی ہوتی نہ تو ان دونوں میں سے کسی کی آجاتی ہے اور پتا ہے نہ بیٹھو تو دھمکی دینی ہوتی ہے لوگوں کے سامنے تماشہ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔حیا کو ہادی کی حرکت پر غصہ تھا ۔۔
ہاہاہا میری جان غصے میں اور بھی پیاری لگتی ہو اس لئے تمہے وہ لوگ غصہ دلا تے ہیں ۔۔۔صباء نے ہنس کر اسکو گلے لگایا ۔۔۔
آپی آپ بھی انکی سائیڈ پر ہیں مجھے نہیں کرنی آپ سے بھی بات ۔۔۔حیا ایک شکایت بھری نظر صباء پے ڈال کے واش روم میں چلی گئی ۔۔
