Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Muhabat (Episode 06)

Meri Muhabat by Mahra Shah

آپی ایک بات پوچھوں ۔۔۔۔صفا حیا کے ساتھ چھت پہ لیٹ گئی تھی ۔۔

ہاں بولو ۔۔۔حیا نے پیار سے مسکراہ کر کہا حیا اپنے ماں بہنو سے بہت پیار کرتی تھی ۔۔

ہم غریب کیوں ہے کیا اللّه تعالیٰ ہم لوگوں کو امیر نہیں پیدا کر سکتے تھے۔۔۔صفا نے اداسی سے کہا اسکا بھی دل کرتا تھا وہ امیر ہوتے ۔۔۔

کیوں نہیں کر سکتا تھا پھر یہاں کوئی اور ہوتا وہ بھی ایسا بولتا لیکن پتا ہے وہ مالک ہے اس دنیا کا اسکو پتا ہے اپنے بندوں کو کیسے رکھنا ہے ہمیں ہر حالت میں انکا شکر ادا کرنا چاہیے وہ اس بات پے خوش ہوتا ہے جب اسکا بندا صبر شکر کرتا ہے ۔۔۔حیا نے اسکو پیار سے سمجھایا لیکن کبھی وہ خود بھی صفا کی طرح اپنے غریبی سے تھک جاتی تھی ۔۔

حیا تم نے کام چھوڑ دیا کیا ۔۔۔صباء نے اوپر آتے پوچھا حیا کو ایک ہفتہ ہو گیا تھا وہ نہیں گئی تھی اب وہ ٹھیک تھی پہلے سے ۔۔۔

نہیں آپی کام کبھی میرا پیچھا نہیں چھوڑتا اور نہ ہی میری ہمت ہے کہ میں اسکو چھوڑو ۔۔اداسی سے مسکراتے ہوئے کہا۔۔

آپی ابھی آپ مجھے سمجھا رہی تھی اور اب آپ خود ایسی مایوسی والی باتیں کر رہی ہیں ۔۔۔صفا نے اسے یاد دلایا ۔۔

تمہاری بات اور ہے میری اور میں جاب کرتی ہوں ہزاروں لوگوں کو دیکھتی ہوں ۔۔۔حیا پھر سے اداس ہوگی ۔۔۔

ایسے نہیں کہتے میری جان کیوں زندگی سے اتنے شکوے کرتی ہو ۔۔۔صباء نے افسوس کرتے ہوئے اسکو دیکھا ۔۔۔

افف آپی ایسی زندگی سے کرنا پڑتا ہے جہاں ہر روز یہی سوچنا پڑتا ہے آج اگر نوکری چلی گئی تو کل کیا کھائیں گیں۔۔۔۔حیا کی سوچ شاید ہی کوئی بدلے۔۔۔

تو پھر زندگی کیا ہے ۔۔۔صفا کب سے خاموش بیٹھی تھی بول پڑی ۔۔

زندگی تو امیر لوگوں کی ہے جو چیز چاہتے ہیں وہ انکے سامنے حاضر ہوتی ہے اور ہم جسے لوگ کوئی چیز لینے سے پہلے دس بار سوچتے ہے اگر لی تو پیسے ختم ہو جائے گیں ۔۔۔

بس چپ دونوں سو جاؤ پتا نہیں کب دونوں کے زندگی سے شکوہ ختم ہوگے ۔۔صباء نے دونوں کو چپ کروا دیا ورنہ انکی دکھوں کی داستان کبھی ختم نہیں ہونی تھی ۔۔۔

______________________________

بھائی آپ کب آئے۔۔۔۔پری بھاگتی ہوئی آئی اذان کے پاس آئی

بس ابھی آیا ہوں کیسی ہے میری پری ۔۔۔۔اذان نے پیار سے بہن سے مل کے کہا ۔۔

چلو جاؤ اذان جاکے فریش ہو جاؤ ۔۔۔۔مشال نے بیٹے سے کہا ۔۔۔۔

اذان جاؤ ورنہ یہ چھپکلی نہیں چھوڑے گی ۔۔۔ہادی بولا۔۔۔

کوکروچ تمہارے ساتھ مثلا کیا ہے میرا بھائی ہے میری مرضی ۔۔۔پری کھا جانے والی نظروں سے ہادی کو دیکھا۔۔۔

پری شوہر سے بات کرنے کی تمیز نہیں تم میں ۔۔۔مشال نے بیٹی کو آنکھیں دکھائی ۔۔

امی اسکی بھی تو غلطی ہے نہ میں اپنے بھائی سے بات کر رہی ہوں نہ اور یہ شوہر ہے تو اسکو بھی بولے بیوی کی عزت کریں ۔۔۔پری کہا پیچھے رہنے والی تھی ۔۔

ہاہاہا تم۔ دونو کھبی نہیں سدھرو گے ۔۔۔اذان ہنستے ہوئے روم میں چلا گیا مشال بھی چلی گی ہادی گھور کر اسکو دیکھتا چلا گیا باہر ۔۔۔

سب مجھے ہی باتیں سناتے ہیں پری دنیا بہت بری ہے زندگی بہت چھوٹی اسے دل کھول کے جیو ۔۔پری ایک ادا سے بولی جو ہمیشہ سے کرتی ہے۔۔

_____________________________

ہادی احمد ساتھ ریسٹورینٹ میں اندر آئے ۔۔مینیجر کو بلاؤ ۔۔احمد نے ویٹر سے کہا۔۔۔۔

جی سر آپنے بلایا ۔۔۔مینیجر حاضر ہوا ۔۔۔

یہ لو کھانے میں ملا دو وہ جو لڑکی بناۓ گی۔۔۔۔ہادی نے ایک چیز نکال کے دی مینیجر کو ۔۔۔۔

پپ۔۔پر سس سر یہ سب کیوں ۔۔۔۔مینیجر ڈر سے بولا ۔۔

جتنا بولا ہے کرو ۔۔ہادی نے حکم دیا ۔۔۔احمد خاموشی سے ٹیبل پے بیٹھا تھا اس کو ہادی کا پلین اچھا نہیں لگا لیکن بدلہ تو لینا تھا ۔۔۔۔

مینیجر نے بات مان لی اور کام کرنے چلا گیا ۔۔۔

کیسا لگا میرا آئیڈیا ۔۔ہادی نے دانتوں کی نمائش کی ۔۔۔۔۔۔بکواس دیکھا نہیں تھا لڑکی تیز بتمیز زبان کی تھی ۔۔۔۔احمد بیزاری سے بولا ۔۔۔

چاچو اپکا کچھ نہیں ہو سکتا سوچو اگر وہ میری چاچی بن جائے گی تو۔۔ہادی نے شرارت سے کہا ۔۔جواب میں احمد نے گھوری سے نوازا ۔۔۔

تھوڑی دیر بعد ریسٹورینٹ میں حالت مچ گئی تھی سب کے ہی پیٹ خراب الٹی ہو رہی تھی وہی پہ ۔۔ہادی نے پیٹ درد کی دوا دی تھی ۔۔۔۔

مینیجر نے اپنا کام بہت اچھے سے کردیا تھا اس کو حیا پے رحم بھی آیا لیکن اپنے جاب بچانے کے لئے کرنا تھا ۔۔۔احمد ہادی نے پلین سٹارٹ کیا ۔۔۔۔

یہ کیا ہو رہا ہے کس نے بنایا یہ سب بلاؤ اسکو ۔۔۔۔احمد نے رعب دار آواز سے کہا ۔۔۔ویٹر نے جلدی سے حیا کا نام لیا ۔۔۔بلاؤ اسکو دیکھے کیا کردیا اسنے ۔۔۔ہادی غصے سے بولا ۔۔۔۔

____________

حیا کھانے میں کیا ملایا تھا تم نے باہر سب کی حالت خراب ہوگئی ہے تمہارے کھانے کی وجہ سے ۔۔۔مینیجر نے غصے سے حیا کو کہا ۔۔

پر سر میں نے کچھ نہیں ملایا میں تو روز یہی کھانا بناتی ہوں ۔۔۔حیا پرشانی سے بولی اسکو تو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔

آج تک ایسا نہیں ہوا تھا حیا باہر سب غصے میں ہے وہ سر بول رہے ہے جس نے یہ کھانا بنایا ہے تم اسکو کو بلاؤ ۔۔۔ویٹر نے جلدی سے احمد کا پیغام دیا۔۔۔چلو اب ورنہ ہم سب کو نکال دیں گیں بہت غصے میں ہے ۔۔۔۔

ہے کون وہ ۔۔۔۔حیا نے پوچھا ۔۔۔اس restaurant کے مالک ہے اب حارث صاحب نے یہ اپنے بیٹے کے نام کردیا ہے اب چلو اب سب باہر ۔۔

_______________

حیا احمد کو دیکھتے ہی ساکت ہوگئی یہ تو وہی تھا ۔۔۔حیا نے دل میں سوچا پھر ہمت سے اسکے سامنے آئی اور اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بولی ۔۔۔۔۔

اچھا طریقہ ہے بدلہ لینے کا۔۔۔۔حیا سمجھ گئی تھی وہ اس سے بدلہ لے رہا ہے۔۔۔۔۔

احمد ہادی ایک پل کو حیران ہوئے وہ اتنے جلدی سمجھ گئی تھی ۔۔۔احمد کو وہ خوبصورت پیاری دیکھنے میں بہت اچھی لگی پر اسکی زبان ۔۔۔۔

آپ ہم پر الزام لگا رہی ہے جب کے لوگوں کی طبیت تو آپ نے خراب کی ہے۔۔۔۔۔احمد نے طنزیہ کیا۔۔

میں نے کچھ نہیں کیا اور میں یہ کھانا روز بناتی ہو آج تک ایسے نہیں ہوا پھر آج کیوں ۔۔۔۔۔حیا نے بھی اچھے سے جواب دیا ۔۔۔

بس بہت ہوا کیا ہو رہا ہے یہاں اور یہ کھانا بنتا ہے آج ہم لوگوں کو کچھ ہو جاتا ہے تو کون جواب دیگا ۔۔ایک آدمی غصے سے بولا ۔۔۔

دیکھے ہم بھی وہ یہی کہ رہے ہے محترمہ سے لیکن ان کو صرف بدتمیزی کرنی آتی ہے ۔۔۔۔احمد نے غصے سے کہا ۔۔۔

ٹھیک ہے نہیں ہے میرے پاس کوئی ثبوت اپنے بےگناہی کا تو کیا کریں گے آپ لوگ میرے ساتھ ۔۔۔۔۔حیا غم اور غصے سے بولی اسکی آنکھوں میں ہلکی سے نمی تھی۔۔۔۔۔۔جس کو احمد نے غور سے دیکھا تھا اور وہ ہی لمحہ تھے احمد کی نفرت ختم کرنے کے لئے اسکی آنکھوں میں کچھ تو تھا جس نے احمد جیسے غصے والے شخص کو اسکا دیوانہ بنا رہا تھا ۔۔۔۔

ہاں ہاں اسکو جیل میں بھیجوا دو اس شیف نے خانے میں زہر ملا یا تھا ۔۔۔ایک اور آدمی بولا ہادی نے بھی انکا ساتھ دیا حیا اپنی ذلت پے آنکھیں میچ کے کھڑی تھی اسکے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا آج وہ خود کو بہت کمزور سمجھ رہی تھی اسکو آج احمد سے بے انتہا نفرت ہوئی ۔۔۔

کیا ہو رہا ہے یہاں ۔۔۔۔بھاری رعب دار آواز آئی حارث صاحب کی ۔۔۔حیا جلدی سے انکی طرف بھاگی ۔۔۔

انکل یہ لوگ مجھے پے الزام لگا رہے ہیں ہم نے کھانے میں کچھ نہیں ملایا ۔۔ حیا رو کے بولی ۔۔۔

چاچو مر گئے دادو یہاں ۔۔۔ہادی نے سرگوشی میں بولا ۔احمد تو ابھی تک اسکے سحر میں تھا ہادی کے بولنے سے ہوش میں آیا ۔۔۔اور سامنے دیکھا وہ رو رہی تھی

بیٹا آپ رو مت میں دیکھتا ہو ۔۔۔پھر حارث صاحب نے مینیجر کو بلا کر بات کی اور بہت مشکل سے انہوں نے بات سلجھائی ۔۔۔۔۔

_________________________

یہ کیا سن رہا ہوں میں احمد ۔۔۔.۔۔حارث صاحب غصے سے بولے ہادی احمد انکے سامنے شرمندہ کھڑے تھے حیا نے سب کچھ بتا دیا تھا ان کو حیا حیران ہوئی تھی یہ انکا بیٹا ہے انکے بابا اتنے اچھے اور بیٹا حیا نے نفرت سے سوچا ۔۔

سوری بابا وہ سب غصے میں ہو گیا تھا ہم سے ۔۔.۔۔۔احمد شرمندہ سا بولا ۔۔

مجھے نہیں حیا بیٹی سے کہو جس کے ساتھ اتنا برا کیا تم نے یہ سکھایا تھا ہم نے ۔۔۔۔۔سوری دادو ہادی نے کہا پھر حیا کے سامنے آیا ۔۔

سوری پلیز ۔۔ہادی نے معصوم منہ بنا کر کہا ۔۔۔حیا نے بس ہاں میں سر ہلایا ۔۔

i am Really sorry for hurting۔۔

۔۔۔احمد نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کے بولا جس کی آنکھوں سے صرف اسکے لئے نفرت تھی ۔۔۔حیا نے ایک نظر اسکو دیکھ پھر وہاں سے چلی گئی احمد اسکی پشت دیکھتا رہا ۔۔۔۔

وہ میرے دوست کی بیٹی ہے وہ لوگ بہت غریب ہیں احمد اسکو کبھی دکھ مت دینا اس سے یہاں میں نے رکھا تھا ۔۔۔حارث صاحب بول کے چلے گئے ۔۔۔۔

سوری چاچو ۔۔۔ہادی شرمندہ سا بولا ۔۔۔

کوئی بات نہیں چلو ۔۔۔۔احمد نے ہادی پے غصہ نہیں کیا کیوں کے وہ بھی جانتا تھا غلطی اسکی بھی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *