Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Muhabat (Episode 14)

Meri Muhabat by Mahra Shah

چاچو کیا ہوا آپ ٹھیک ہیں نہ ۔۔۔ہادی فکرمندی سے بولا۔۔

مجھے کیا ہونا ہے یار میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔احمد حیران سا ہوا۔۔

وہ باہر آپ کی گاڑی کی ہیڈ لائٹ ٹوٹی ہوئی ہے ۔۔۔ہادی نے حیرت سے اسکو دیکھا جو اب اسکی بات پے مسکرا رہا تھا ۔۔

چاچو آپ ٹھیک ہے نا۔۔ہادی نے اسکو ہلاتے ہوئے کہا ۔۔

ہادی کیا ہے یار جاؤ یہاں سے مجھے آرام کرنا ہے اور ہاں گاڑی صحیح کروا دینا ۔۔۔احمد بول کے چلا گیا پیچھے ہادی سوچتا ہی رہ گیا ۔۔

_______________________________

اوہ میڈم کہاں تھی آپ میں تمہارا انتظار کرتا رہا کالج کے باہر اور تم وہاں کس کے ساتھ چلی گئی تھی اور اب کس کے ساتھ آرہی ہو۔۔۔ہادی ایک ہی سانس میں بولتا چلا گیا اور غصہ بھی تھا پری کی اس حرکت پے۔۔۔

افف ہادی آرام سے پہلے سانس تو لو خود اور مجھے بھی لینے دو ۔۔۔پری نے بیگ رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔

میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں پری بتاؤ ۔۔۔ہادی غصے سے پری کا بازو پکڑ کے بولا ۔۔ہادی کے اس طرح کرنے سے پری ڈر گئی تھی۔۔

ہا ہادی ۔مم میں ارم کے ساتھ گئی تھی اسکے گھر کچھ نوٹس بنانے تھے اس کے لئے دیر ہوگئی سوری ۔۔پری نے گھبراتے ہوئے جھوٹ بول دیا وہ ابھی ہادی کو نہیں بتا سکتی تھی سعد کے بارے میں آج تو ہادی کے غصے نے اسکو ڈرا دیا تھا۔۔

دوبارہ ایسا کیا نا تو بہت برا حال کرونگا یاد رکھنا ۔۔ہادی جھٹکے سے اسکو چھوڑتا ہوا چلا گیا پری گہری سانس لیکے رہ گئی۔۔

_______________

احد ۔تمہارے پاس بھی لڑکی ہے۔۔۔پری شوک سے بولی وہ اپنے روم میں جا رہی تھی کہ احد کی آواز پے رک گئی وہ کسی لڑکی سے بات کر رہا تھا۔۔

ااپپ آپو آآپ یہاں ۔۔۔احد گھبرا گیا پری کو دیکھ کے۔۔

ہاں بھائی میں یہاں وہ اللّه کو نا مجھے بھیجنا تھا تمہے پکڑنے کے لئے اس لئے میں یہاں اب سیدھے بتاؤ کون ہے کس سے بات کر رہے تھے ۔۔پری گھورتی ہوئی بولی۔۔

ایسا کچھ نہیں ہے آپو وہ بس کلاس میٹ تھی کچھ نوٹس کے بارے میں پوچھ رہی تھی ۔۔احد خود کو سنبھالتے ہوئے بولا اگر پری نے کسی کو بتا دیا تو اسکی خیر نہیں ۔۔۔

تمہے دیکھ کے ایک شعر یاد آیا ہے ۔۔پری ہنس کے بولی ۔۔

” جہاں دیکھو عشق کے بیمار بیٹھے ہیں”

” ہزاروں مر گئے لاکھوں تیار بیٹھے ہیں”

ہاہاہا کیسا لگا بلکل تم پے لگ رہا ہے ۔۔پری نے قہقہے لگاتے ہوئے کہا۔۔

واہ واہ ۔۔آپو یہ آپ پے بھی ہیں دیکھیں۔۔بیمار آپ لوگ بیٹھے ہیں تیار ہم جیسے لوگ مر گئے بھائی جیسے لوگ ہاہاہا ۔۔احد بولتا ہوا قہقہہ لگا کے بھاگ گیا ۔۔

____________________

تمہے بھی غصہ آتا ہے ۔۔۔۔احمد حیا کو سوچ کے مسکرایا ۔۔۔۔

میں نے جس لڑکی سے محبت کی ہے وہ مجھے ہر حال میں اچھی لگتی ہے پھر چاہے وہ مجھے پے غصہ کرے یا جھگڑا لیکن وہ میری زندگی بن گئی ہے اب ۔۔۔احمد خود سے بڑبڑا کے بولا وہ حیا کو سوچتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔۔۔۔۔۔

_____________

افف کیا ہو گیا ہے مجھے ۔۔۔حیا اپنا سر تھام کے بولی اسکو آج خود پے غصہ آرہا تھا کیوں اسنے اسکی گاڑی کی لائٹ توڑی ۔۔۔

میں کیوں سوچ رہی ہوں اسکو مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے مجھے نفرت ہے اس سے بس ۔۔۔۔حیا خود کو ڈانٹ رہی تھی ۔۔۔

ارے آپی غصہ کرنے سے کچھ نہیں ہوگا مان لیں آپکو بھی محبت ہوگئی ہے ان سے ۔۔۔۔صفا نے شرارت سے کہا وہ کب سے اسکے پیچھے آئی حیا کو پتا نہیں چلا اور یقینن اسنے سب سن لیا تھا ۔۔۔

بکواس مت کرو جاؤ یہاں سے مجھے سونا ہے سر میں درد ہے میرے ۔۔۔۔حیا نے گھبرا کر جلدی سے کہا محبت کا نام پے اسکا دل دھڑکا تھا ۔۔۔۔

اب اتنا سوچیں گی تو درد تو ہوگا ہی نہ آرام سے سکون سے سوچیں تو پکا جواب ملے گا دل سے اگر غصے میں سوچیں گی تو جواب اچھا نہیں آئے گا یقین کریں میرا ۔۔۔۔صفا نے معصومیت سے کہا ۔۔۔۔۔

جاؤ میرے لئے چائے لیکے آؤ سر درد نہ کرو اور ۔۔۔۔حیا نے گھور کر کہا ۔۔۔

اچھا جاتی ہوں میں تو بس کام لے لئے ہی پیدا ہوئی تھی نہ چھوٹا ہونا بھی مصیبت ہے ۔۔۔۔صفا پیر پٹخ کے چلی گئی ۔۔۔

پیچھے حیا گہری سانس لیکے رہ گئی اسکو سمجھ نہیں آرہا تھا کیا ہو رہا ہے اسکے ساتھ وہ اپنے ہی فیلنگ سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔

________________________________

اففف اللّه کیا کروں آج ہادی کے غصے سے بچ گئی لیکن پھر بھی غصہ تو ہوا نا ۔۔۔۔پری اب حقیقت میں پریشان ہو رہی تھی آج تو اسنے جھوٹ بول دیا لیکن آگے کیا ہوگا اسکا سوچ کے ہی اسکو پریشانی ہو رہی تھی وہ سعد کے بارے میں کیسے بتاۓ سب کو ۔۔۔۔

میں کیا کروں سعد کے بارے میں کسی کو بتاؤ یا نہیں اگر بتا دیا تو سب غصہ کریں گے یار کہاں پھس گئی میں کاش سعد آتا ہی نہیں ۔۔۔۔پری نے دونوں ہاتھ سر پے رکھ دیے۔۔۔

پری سنو بیٹا اذان کے کچھ دوست آ رہے ہیں کچھ اچھا سے بنا لو ۔۔۔مشال روم میں آتے ہی بولنا شروع ہوگئی ۔۔۔

امی امی سانس لیں خود اور مجھے بھی لینے دیں ۔۔۔پری چڑ کے بولی ۔۔۔

چلو سیدھی سے جاؤ اور تیاری کرو کچھ سیکھ لو کام ۔۔۔مشال آنکھیں دیکھاتی ہوئی بولی ۔۔۔۔

کیوں امی اتنے نوکر ہیں ان سے کام کرواۓ نا میں ہی آپ کو دکھتی ہوں کام کے ٹائم ۔۔۔۔پری کو غصہ آرہا تھا وہ پہلے ہی پریشان تھی آج ۔۔۔

بیٹا جی آپکے ہی کام آنے ہیں یہ سارے کام تو اچھا ہے نا کچھ سیکھ لو ۔۔۔مشال نے اب پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا ۔۔۔

میں پکا آپکی سگی بیٹی ہوں نا ۔۔۔پری رونے جیسی شکل بنا کے بولی ۔۔۔

جی بیٹا تم جیسی ڈھیٹ نکمی میری ہی بیٹی ہے افسوس ہے مجھے اس بات کا ۔اب تھوڑی دیر میں نیچے آؤ ۔۔۔۔مشال اسکو بولتی چلی گئی روم سے ۔۔۔۔

یہ میری ہی ماں تھی نہ افف یہ ساری مائوں کا مثلا بیٹی ہی کیوں ہوتی ہے بیٹے تو بس انکے خاص ہوتے ہیں بیٹیوں سے ہی مثلا ہوتا ہے ہر بات پے انکو ۔۔۔پری خود سے بول کے واشروم میں چلی گئی ۔۔۔۔

____________________________

پری کو نیند نہیں آرہی تھی اس لئے وہ ہادی کے روم میں آئی لیکن ہادی کو روم میں نا دیکھ کے وہ سمجھ گئی وہ واش روم میں ہے ۔۔

پری واپس جانے کا سوچ رہی تھی کے سامنے ہادی کے موبائل پے نظر پڑھی تو اسکے دماغ میں خیال آیا کیوں نا چیک کرلوں وہ اتنا موبائل چلاتا کیوں ہے پری کو شک ہوا ۔۔

افف حد ہے پاسورڈ کیا ہے اب ۔۔۔پری نے بہت کوشش کی لیکن موبائل نہیں کھلا ۔۔

کس کی اجازت سے میرا فون اٹھایا ہے ۔۔۔ہادی جو واش روم سے نکل کے سامنے دیکھا تو پری اسکے فون کے ساتھ لگی ہوئی تھی وہ آرام سے چلتا ہوا اسکے پیچھے آکے کان میں بولا ۔۔

ااہہہہ۔۔۔پری قریب سے ہادی کی آواز پے ڈر کے چیخ پڑھی ۔۔

اسے پہلے وہ بھاگتی ہادی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے طرف

کھینچا وہ ہادی کے سینے سے جا کے لگی ۔۔

کیا کر رہی تھی میرے فون کے ساتھ ۔۔۔ہادی اسکو گھور کر بولا ۔۔

ووہ ووہ مم میں آذان بھائی کا نمبر نکال رہی تھی ۔۔پری اسکے قریب کھڑی گھبرا رہی تھی ۔۔

کیوں تمہارے پاس نہیں ہے اسکا نمبر ۔۔

نہیں مطلب ہاں ہے نہیں مطلب تھا ڈیلیٹ ہو گیا تھوڑی دیر پہلے وہ میں نا انکو کال کرنی تھی پر جلدی میں ڈیلیٹ ہو گیا ۔۔پری نے بہت اچھے سے جھوٹ بول دیا پر ہادی سمجھ گیا تھا وہ کیا کر رہی تھی۔۔۔

مجھے سمجھ نہیں آتا تمہارے دماغ میں بھوسہ بھرا ہوا ہے کیا تم مجھے بھی بول سکتی تھی ۔۔ہادی غصے میں بولا ۔

افف ہادی صرف فون ہی اٹھایا تھا کون سا گناہ کردیا ۔۔پری ہادی کے اس طرح غصہ کرنے سے چڑ گئی تھی ۔۔۔

ہادی جو سمجھ رہا تھا پری غصہ نہیں کرے گی اسکے سوال پر اسے دیکھتا ہی رہ گیا پھر سر جھٹک کر اسے دیکھا جو کبھی کسی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتی تھی۔۔

اب جاؤ یہاں سے بھیج دونگا ۔۔پری منہ بنا کے چلی گئی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *