Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Muhabat (Episode 13)

Meri Muhabat by Mahra Shah

حیا میڈم کہاں جا رہی ہیں کبھی ہم سے بھی بات کر لیا کرو ۔۔۔رشید کمینگی سے مسکرا کر بولا

تم جیسے گھٹیا لوگوں کی جگہ جیل میں ہوتی ہے جن کو نہ اپنی عزت کا خیال ہوتا ہے نہ اپنی ماں بہن کا دوبارہ مجھے روکنے کی کوشش کی تو بہت برا ہوگا ۔۔۔۔حیا نے اسے غصے سے گھورتے ہوئے کہا اور آگے چلی گئی

رشید اپنی اتنی بیعزتی پے غصے سے آگے بڑھا اور حیا کا ہاتھ پکڑ لیا گلی میں کچھ ہی لوگ تھے وہ سارے لوگ جما ہوکے تماشہ دیکھ رہے تھے سب جانتے تھے رشید کتنی گندی نیت کا انسان ہے

ٹهاااا ۔حیا نے ہاتھ چھڑا کے ایک زور دار تھپڑ مارا اسکے منہ پے ۔۔۔تم جیسا کمینہ انسان مجھے پے نظر رکھ کے بیٹھا ہے نہ تو سوچو تم جیسا ہی کوئی گھٹیا انسان تمہاری ماں بہن بیوی پے بھی نظر رکھ کے بیٹھا ہوگا اور ہاں یہ مت سوچنا میں ڈر جاتی ہوں نہیں لیکن ایک دن ضرور ہوگا جب تم جیسے گھٹیا شخص کو سزا ملے گی اس دن کا میں انتظار کروں گی حیا اسے غصے سے دیکھ کر آگے چلی گئی ۔۔۔۔

تمہے تو میں چھوڑو گا نہیں اب حیا بی بی ۔۔رشید نے اپنی بیعزتی کا بدلہ لینے کا سوچ لیا تھا اب ۔۔

_________________________

بس بھائی یہاں روک لیں ۔۔۔حیا ٹیکسی سے نکل کر آگے بڑھ رہی تھی کے اچانک رک گئی کیوں کے سامنے احمد کی گاڑی کھڑی تھی جس کا مطلب وہ آج پہلے ہیں پہنچ گیا ہے حیا ایک گہری سانس لیکے آگے بڑھی ۔۔احمد کی گاڑی کے سامنے رک کے اسکو گھورنے لگی جیسے سامنے احمد ہو ۔۔

تو تم میرا پیچھا نہیں چھوڑو گے کیا کروں میں تمہارا ۔۔حیا دانت پیس کے بولی پھر آگے پیچھے دیکھا کوئی نہیں تھا وہاں پے کچھ لوگ تھے لیکن وہ دور تھے پھر اسنے ایک ڈنڈا اوٹھایا اور اس گاڑی کو دیکھ کر پھر ایک زور سے گھوما کے گاڑی کی ہیڈ لائٹ توڑ دی اور اب اپنے ہاتھ کو صاف کر کے ایک نظر گاڑی کو دیکھا پھر اندر چلی گئی

بہت شوق ہے نہ میرے پیچھے آنے کا مسٹر یہ اسکی ایک چھوٹی سی سزا ہے ۔۔۔حیا دل میں بولی اور مسکرائی ۔۔۔

_________________________

حیا کچن میں جانے سے پہلے ایک نظر اسکو دیکھنے آگے آئی لیکن وہی رک گئی ۔۔احمد کے ساتھ ایک لڑکی تھی دونوں بیٹھ کے باتیں کر رہے تھے ۔۔حیا کو پتا نہیں کیوں برا لگا احمد کو کسی لڑکی کے ساتھ دیکھ کے ایک غصے بھری نظر دیکھ کر اندر چلی گئی

احمد نے اسکو اندر آتے دیکھ لیا تھا اور اسکا غصے سے دیکھ کے آگے جانا اسکے اس انداز پے ۔۔احمد مسکرا دیا

_____________

کیا ہوا غصے میں لگ رہی ہو خیر ہے نہ ۔۔۔سمن اسکا سرخ چہرے کو دیکھ کر پوچھا

بس آج وہ لوگ ملے ہیں جن کو دیکھ کے میرا موڈ خراب ہو جاتا ہے ۔۔۔حیا کا غصہ کم نہیں ہو رہا تھا اب

اچھا لگتا ہے سر کو دیکھ کے آرہی ہو ۔۔۔سمن لب دبا کے مسکرائی

تمہے بہت کچھ پتا ہے چپ کر کے کام کرو اپنا ۔۔۔حیا نے گھور کے کہا

اچھا جا رہی ہوں سنو آج چائے میں نمک ڈالنا روز روز مرچوں والی اچھی نہیں لگتی نہ ۔۔۔سمن قہقے لگا کے بھاگ گئی

زہر والی نہ پلا دوں آج ۔۔افف کیا کروں کیوں سوچ رہی ہوں میں ہاں بس مدد کی نہ میں نے نہیں کہا تھا نہ خود ہی کی تو اب میں کیوں شکریہ بولوں کیوں نمک والی چائے دوں مرچ والی ہی پلاؤں گی ۔۔۔حیا خود سے ہی غصے میں بڑبرائی

____________________

افف یار کیا کرو ابھی تک نہیں آیا ہادی لینے ۔۔۔پری کالج کے باہر کھڑی ہادی کا انتظار کر رہی تھی آج وہ اکیلی تھی حدیثہ نہیں آئی تھی پری خود سے ہی باتیں کر رہی تھی کے سامنے ایک گاڑی آکے رکی پری نے سامنے دیکھا اس گاڑی سے ایک نوجوان اچھی شکل کا لڑکا گاڑی سے نکل کے اسکے سامنے آیا

اسلام علیکم پری کیسی ہو ۔۔۔وہ مزے سے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کے پوچھ رہا تھا جیسے پہلے سے جانتے ہوں ایک دوسرے کو

جج۔۔جی ااآ آپ ۔۔کّک کون۔ مم میرا نام کسے پتا آپکو ۔پری اسکے اس انداز پے گھبرا گئی ڈر سے ایک قدم پیچھے ہوئی

ہاہاہا تم ڈر رہی ہو پری میں سعد رفیق تمہارا کزن ۔۔۔سعد ہنس کے بولا پری کا ڈرنہ دیکھ کے اسکو ہنسی آئی

میرا کون سا کزن میرے تو صرف ہادی احد ہی ہے بس آپ سچ سچ بتاؤ کون ہوں ورنہ میں پولیس کو بلاؤں گی ۔۔۔پری نے دھمکی دی

دیکھو پری میں جانتا ہوں ہم لوگ ملے نہیں کبھی یا شاید ہمارے فیملی نے کبھی نہیں چاہا ہم لوگ ملے اوکے تو میں بتاتا ہوں میں ہوں سعد رفیق تمہارا تایا زاد کزن اب تو سمجھ گئی نہ ۔۔۔سعد نے اسکے چہرے کو دیکھا جو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی

اچھا تو مجھے سے کیا کام ہے آپکا ۔۔۔پری نے غصے سے کہا اسکو اپنے ددھیال والوں سے نفرت تھی بچپن میں کیوں ساتھ نہیں رکھا انکو

کیا ہم بیٹھ کے بات کر سکتے ہیں پلیز پری میں جانتا ہوں ہم لوگوں کے بیچ بہت غلط فہمی ہیں ہم بیٹھ کے بات بھی کر سکتے ہیں نہ پلیز ایک بار بات کرلو ۔۔۔سعد بے چارگی سے بولا پری کا دل نہیں کر رہا تھا لیکن اس کا بولنے کا انداز اسکو لگا ایک بار بات سن لینی چاہیے پھر سوچ کے اسکے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی سعد مسکرا کے گاڑی آگے لیکے گیا

________________________

اب خود ہی سوچو اس سب میں ہماری کیا غلطی ہے جو ہم لوگ نہیں مل سکتے ۔۔۔سعد نے اسکو سمجھاتے ہوئے کہا جو بھی ہوا تھا وہ بڑوں کی بات تھی اب اس سے ہم چھوٹوں کی تو غلطی نہیں تھی نہ پھر کیوں ہم لوگ دور رہیں ۔۔

مجھے نہیں پتا یہ سب کیا ہو رہا ہے لیکن پھر بھی دادا دادی والوں نے ہم لوگوں کو ساتھ نہیں رکھا تو کیا ہوا آجا سکتے تھے نہ ہم لوگ ۔۔۔پری نے بھی اپنے دکھرے سنائے ۔۔

پری جو ہوا وہ اب ہم ٹھیک نہیں کر سکتے لیکن ہم ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں یار میں نے جب سے سنا تم لوگ ہمارے کزن ہو تو میں خود کو روک نہیں پایا اور پلیز کیا ہم دوست بن سکتے ہیں پلیز ۔۔۔سعد نے مسکرا کر کہا ۔۔

اوکے ویسے بھی پرانی باتیں یاد کرنے سے کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔پری مسکرائی اسکی بات سہی لگی پری کو بھی۔۔

اچھا اب مجھے گھر چھوڑ دو ویسے ہی دیر ہوگئی ہے سب پریشان ہونگے ۔۔۔ پری جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی

اچھا چلو پھر ملیں گے نہ ۔۔۔سعد نے چلتے ہوئے پوچھا

ہاں ضرور لیکن ابھی کسی کو بھی نہیں بتانا میں خود بتاؤں گی سب کو اوکے ۔۔دونوں گاڑی میں بیٹھ گئے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *