Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jhali (Last Episode)part 2

Meri Jhali by Anaya Ahmad

“ملیحہ تم کھانا کھاؤ میں کال سن کے آیا۔”کھانے سے انصاف کرتی ملیحہ کو دیکھ کے شامی نے کہا اور باہر آ گیا تھا۔جاتے جاتے ویٹر سے کچھ کہہ گیا تھا۔
کافی ٹائم گزر گیا مگر شامی نہیں آیا ۔اب تو ملیحہ کا پیٹ بھی بھر چکا تھا۔تبھی ویٹر اسکا فون بجا تھا۔گینڈا کالنگ ۔ملیحہ نے پیار سے فون کی طرف دیکھا تھا۔اتنے پیارے اور مہنگے ڈنر کے بعد وہ اسے اور پیارا لگ رہا تھا۔
“ہیلو کدھر ہو۔۔”ملیحہ نے کہا۔تبھی ویٹر بل لے کے آیا۔
“ویٹر بل لے آیا ہے کدھر ہو جلدی آؤ۔”ملیحہ نے کہا تھا۔
“کتنا بل ہے؟””شامی نے پوچھا ۔
“سات ہزار آٹھ سو ننانوے۔اف اتنا زیادہ ۔”ملیحہ نے فگر پڑھی۔
“ہاں تو کھانے بھی سب مہنگے تھے ناں ۔بل دو اور آ جاؤ ۔گھر بھی جانا ہے سب انتظار کر رہے۔”شامی نے آرام سے کہا تھا۔
“کیا۔۔۔”ملیحہ کی ہلکی سی چیخ نکلی۔
“کیا کیا کھانے کا پتہ ہے ۔تو بل بھی دو ۔جلد آو ۔ورنہ یہی چھوڑ جاؤں گا ۔۔”شامی نے آخر میں سیٹی کی دھن بجائی۔
“شامی تم تو گئے اب ۔۔۔چٹنی بنا دوب گی مین ۔۔۔”ملیحہ نے مٹھیاں بھینچتے ہوئے کہا اور بل دیتی باہر آئی تھی ۔غصہ تو پوچھو مت کتنا آیا تھا۔
احتشام گھر جا چکا تھا فہام کے ساتھ ملیحہ گھر آئی تھی اور آتے ہی کو واویلا کیا تھا ۔
“شامی گینڈے۔چیٹر ۔۔تمہاری شادی پکا لیٹ ہو گی موٹی لڑکی سے ہو گی ۔لکھ لو تم ۔۔۔”لاوئج میں رکھی ہر چیز اب شامی پہ گر رہی تھی۔سب انکی لڑائی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آٹھ بج چکے تھے جب وہ دنیا کے ہنگاموں سے نمٹ کے تھکا ہارا گھر میں داخل ہوا تھا۔مارکیٹوں سمیت روڈز پہ بھی آج گہماگہمی نظر آئی تھی کیونکہ آج انتیسواں روزہ تھا تو کل عید ہونے کا امکان تھا مگر ابھی کمیٹی کی طرف سے باقاعدہ چاند نظر آنے کا اعلان نہیں تھا ہوا۔عید پہ ہونے والے شو کو ریکارڈ کروا کے وہ بلکل تھک چکا تھا افطار بھی آج اسٹوڈیو پہ کرنی پڑی تھی۔
فہام کی نظر لان پہ پڑی تو کوئی سکڑا سمٹا وجود بیٹھا نظر آیا تھا۔غور کیا تو پتہ چلا انکی ہی بیگم صاحبہ تشریف فرما ہیں ۔بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ سرد سی آہ خارج کرتی اپنی اس جھلی اور لاپرواہ مسز کی طرف بڑھا۔
قریب آنے پہ احساس ہوا تھا کہ وہ وجود ہچکیاں لے رہا ہے اور گھٹی گھٹی آواز میں رو رہا ہے ۔وہ بجلی کی سی تیزی سے آگے بڑھا تھا ۔ایسے اسے روتا تڑپتا کب دیکھ سکتا تھا۔اسکے پاس بیٹھتے ہوئے اسکو بازوؤں سے پکڑ کے سیدھا کیا تھا۔
“ثمن کیوں رو رہی ہو۔؟؟”فہام نے بےقراری سے پوچھا تھا۔ثمن نے سر اٹھایا تھا۔اس وقت رو رو کے اسکی ناک سرخ ہو چکی تھیں ۔آنسووں سے گال بھیگے پڑے تھے۔آنکھیں سوج چکی تھیں ۔پیشانی پہ چند پسینے کی بوندیں چمک رہی تھیں ۔اس کی حالت پہ فہام کا سکون تباہ ہو گیا تھا۔
“ثمن میری حالت پہ رحم کرو کیوں اتنا رو رو کے برا حال کر رہی ہو ۔بتاؤ تو بات کیا ہے ۔۔؟”فہام نے اسکا چہرا دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے پوچھا تھا۔
“فہام۔۔۔۔”وہ ہچکیوں کے درمیاں سے اتنا کہہ سکی اور اسکا نام پکارا تھا۔فہام کو اپنا نام آج سے پہلے کبھی اتنا میٹھا اور پرسوز نہ لگا تھا ۔ثمن کے آنسووں میں اور روانی آئی تھی ۔اور وہ بلکتی ہوئی سامنے بیٹھے فہام کو دیکھ کے ضبط کھوتی اسکے سینے میں جا چھپی ۔۔دو چار منٹ یوں ہی گزر گئے۔
“ثمن بس کر جاؤ ۔کیوں مجھے اذیت دے رہی ہو ۔بتاؤ تو کیا ہوا ۔؟کسی نے کچھ کہا ۔۔”فہام کا فکر سے برا حال ہوا رہا تھا ۔ثمن کو سیدھا کرتے ہوئے پھر پوچھا تھا۔
“اوکے نہ بتاؤ ۔میں خود پوچھ لیتا ہوں اندر جا کے ۔۔”فہام اسے پیچھے کرتا اٹھنےلگا تھا۔تو ثمن نے اسکی شرٹ پہ اپنی گرفت مضبوط کر کے اسے اٹھنے سے روکا تھا۔
“نہیں ۔۔فہام ۔۔میں بتاتی ہوں ۔۔”وہ بدقت ہچکیوں کے دوران بولی۔
“ثمن پلیز بتاؤ ناں مجھے ۔اور رونا بند کرو ۔میں ہوں ناں کیوں رو رہی ہو۔”فہام اسکے گرد ایک ہاتھ سے حصار باندھتا اسے بچوں کی طرح پچکار رہا تھا ۔
“وہ میرے کولیگ ہے ناں رضا ۔وہ کافی دنوں ۔۔۔۔وہ کافی دنوں سے مجھے کالز اور میسجز کر کے مجھے شادی کے لیے پرپوز کر رہے ہیں۔۔۔۔۔”مشکل سے بات پوری کرتے ہوئے وہ پھر فہام کے سینے میں منہ چھپا گئی تھی۔
“بس بس ۔۔۔۔اسے بھی ہینڈل کر لیں گے ۔بس خود کو اور ہلکان نہ کرو ۔۔۔”فہام کو غصہ آیا مشکل سے ضبط کر گیا ۔کیونکہ فی الوقت سامنے بیٹھی جھلی کو چپ کروانا ضروری تھا۔
“بس ثمن ۔۔چپ اب ۔۔ورنہ میں ڈانٹوں گا۔۔۔”فہام نے اب سخت لہجے میں کہا تھا۔ثمن کے رونے میں اب کمی ہوئی تھی۔
“مگر فہام ۔بھابھی انہوں کو بھی میں بتایا ہے ۔وہ کہتی ہیں کہ ۔۔۔۔کہ میں تو یہ چاہتی تھی ناں ۔وہ ایسا کیسے کہہ سکتی ہیں ۔۔۔۔جو بھی تھا میں ایساتو نہیں چاہا تھا ناں ۔۔۔بھلے ہمارے مزاجوں میں فرق تھا میری اور آپ کی نہیں بنتی تھی مگر یہ رشتہ میرے لیے بہت اہم ہے اور ۔۔۔”ثمن بات مکمل نہ کر پائی اور پھر رو پڑی۔وہ انجانے میں اس رشتے کو لیے کے انے احساسات بھی ظاہر کر چکی تھی جو فہام کے لیے سانسوں کی مانند تھے۔
“جی بلکل یہ مزاجوں کا فرق ہی ہے ناں جو یوں میری بانہوں میں بیٹھی میرے سینے سے لگی سب کچھ میرے ساتھ شئیر کر رہی ہو۔خود کے ساتھ میں مجھے بھی ہلکان کر رہی ہو ۔”فہام نے اسکے گرد حصار تنگ کرتے ہوئے اسے کہا ۔اور بالوں پہ بوسہ دیا ۔ثمن اب کھسکی تھی۔
“ہوں تو آپ کون سا اس رشتے کےلیے دل سے راضی تھے ۔صرف انڈسڑی میں جانے کے لیے میری ذات کو بکرا بنایا گیا تھا۔”اب ثمن پھٹی تھی فہام پہ۔
“ہاں میں مانتا ہوں کہ نہ ہی تمہیں میں کبھی اس لحاظ سے سوچا ۔نہ ہی دیکھا ۔حتی کہ شادی کے ایک عرصہ تک مجھے یہ سب عجیب لگتا رہا تھا ۔مگر پھر اس رشتے کی طاقت نے مجھے تمہاری طرف مائل کرنا شروع کر دیا تھا۔تم میں مجھے سکون اور راحت ملنے لگی ۔یہ کوئی اندھا دھند محبت ہرگز نہیں تھی۔مگر تمہارا اثر رفتہ رفتہ ہواہے ۔جسکا اثر بھی تا حیات رہے گا ۔
پھر جب بابا نے کہا تھا کہ یہ لڑکی مجھے اس دنیا میں کہی اپنا آپ کھونے نہ دے گی ۔میرے اصل کو کھونے نہیں دے گی۔مجھے تھمامے رکھے گی ۔سنبھالے رکھے گی تو خودبخود میں تمہاری طرف کھینچا آنے لگا ۔”فہام نے اپنے دل کی بات کہی ۔
“واقعی ہی مجھ جیسے انسان کے لیے ایک دھیمے اور سلجھے انسان کی ہی ضرورت تھی۔
یہ جو تم کہتی ہوناں کہ ہمارے مزاج مختلف ہیں ۔تو میرا ماننا یہ ہے کہ مخالف مزاج کے لوگ اگر دل سے اپنا تعلق نبھائیں ناں تو زندگی کے رنگ اور بھی دلکش اور خوبصورت ہوتے ہیں ۔ہر لمحہ امر ہو جاتا ہے۔شرط یہ ہے کہ رشتے میں دونوں طرف سے خلوص اور محبت ہونی چاہیے ۔اور دیکھنا ہم دونوں مل کے دنیا میں کیسے کیسے دھماکے کرتے ۔”فہام نے شرارت سے کہتے ہوئے آخر میں اسے خود میں بھنیچا تھا ۔ثمن نے دور ہونا چاہا تھا۔
“ناکام کوشش نہ کرو اب ۔انجانے میں ہی سہی اس رشتے کی اہمیت تم مجھ پہ واضح کر چکی ہو۔بھابھی کے ایک اتنے سے لفظ کہنے پہ اتنا احتجاج ۔۔رو ورو کے خود کو ہلکان کر لیا ۔ابھی تم کہتی ہو کہ میرے ساتھ نہیں رہ سکتی کیونکہ ہمارے مزاج میں فرق ہے مگر آج خود ہی تم نے اپنی بات کی نفی کر دی ہے کہ تمہارے خدشے بلکل بے معنی تھے ۔کیونکہ مجھ سے دور جانے تک کی بات تم برداشت نہیں کر سکتی ۔۔تو یہ مجھ سے محبت ہی ہوئی ناں جو تم اپنی جھنجلاہٹ میں دبائی بیٹھی تھی ۔”فہام نے اسکا چہرہ ایک ہاتھ سے اپنے سامنے کیا تھا۔
بات سچ تھی ثمن نظریں جھکا گئی۔اسے یہ خود نہ پتہ چلا تھا کب اسں سے لڑتے جھگڑتے یہ جھنجھلاہٹ کا رشتہ پیار جیسے پاکیزہ اور اٹوٹ بندھن میں بدل گیا ۔کہ کسی اور کی شراکت تو کیا کسی اور کی شراکت کاخیال بھی اسے چھبنے لگ گیا ۔
“رضا صاحب کا بھی بندوبست کر لیں گے ۔کل عید ہو جائے گی ناں تو اپنی رخصتی کا دعوت نامہ لے کے خود اسکی خدمت میں حاضر ہونگا ۔چھچھورا انسان منہ توڑ کے رکھ دوان گا اگر اب ایک سیکنڈ بھی تمہارے بارے میں سوچا دیکھنا تو بہت دور کی بات ہے ۔ “فہام نے غصے سے کہا تھا۔
“آپ ایسا کچھ نہین کریں گے۔اور رخصتی کس کی ہو رہی ہے ۔۔؟”ثمن کو اسکی بات پہ جھٹکا لگا ۔۔تو دور ہوتے پوچھا ۔
“رخصتی آپ محترمہ کی ہو گی ۔میرے ساتھ ہی ۔وہ بھی کل رات بلکل اسی ٹائم ۔کیونکہ اب میں تمہیں چوبیس گھنٹوں سے زیادہ کا ٹائم نہیں دے سکتا ۔پہلے ہی بہت سا وقت تمہاری بے وقوفیوں کی نذر ہو چکا ہے ۔اگر اب تک میں تمہارے ساتھ پیار سے پیش آیا ہوں ںاں تو سختی بھی کر سکتا ہوں اس معاملے میں ۔”فہام نے اسے گھور کے کہا تھا۔اس سے پہلے کے ثمن کچھ اور کہتی ایک شور اٹھ گیا تھا چاند رات مبارک کا ۔۔۔
“میرے چاند ۔۔چاند مبارک ہو ۔۔”فہام نے ثمن کے کان میں سرگوشی کی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عید کا دن خوشیاں لے کے طلوع ہوا تھا ۔درانی ہاوس کے لیے تو خوشیاں دوبالا تھیں کیونکہ شام کو فہام اور ثمن کی رخصتی کا فنکشن ہونا تھا۔مرد حضرات عید پڑھ کے آ چکے تھے ۔فہام کی نظریں ثمن کو ڈھونڈ رہی تھیں جو کہی نظر نہ آ رہی تھی۔
“اوہ چھپکلی عیدی نہیں لینی ۔۔”احتشام نے سب کو کھیر پیش کرتی ملیحہ کو چھیڑا تھا۔عظمت صاحب ،قدیر صاحب دونوں کی بیگمات ،ضیاء ،عمیر اور نرمین بھابھی اس وقت لاونج میں بیٹھے ہوئے تھے۔ماذن دادی اماں کی گود میں دبکا بیٹھا تھا۔
“کیوں نہیں تم سے تو لازمی لینی ہے ۔۔”ملیحہ نے جھٹ کہا تھا ۔کیونکہ باقی بڑوں سے وہ عیدی بٹور چکی تھی ۔۔
“تو آؤ لے لو ۔۔”شامی نے آفر کی ۔
“جلدی لے لو شامی کنجوس نے جگرا نکالا ہے ۔”نرمین بھابھی نے کہا تھا ۔
“لا دوں جلدی ۔تمہارا کیا بھروسہ مکر جاؤ ۔۔”ملیحہ اب صوفے پہ بیٹھا کھیر کے پیالے سے انصاف کر رہا تھا۔
“یہ لو ۔۔”شامی نے جیب سے نکال کے ملیحہ کی مٹھی پہ رکھا تھا۔ملیحہ کو کچھ رینگتا محسوس ہوا تھا تو ملیحہ نے چیخنا شروع کر دیا تھا۔اور ہتھیلی پہ پڑا رینگتا کاکروچ دور پھینکا تھا۔ملیحہ کی چیخوں پہ سب ہنس پڑے تھے ۔
یہ بیٹری سے چلنے والا کاکروچ تھا۔۔
“چچا دیکھیں شامی کے بچے کو ۔۔”وہ روتی بسورتی قدیر صاحب کے پاس گئی تھی۔
“اوئے گدھے کیوں میری بیٹی کو تنگ کرتے ہو ۔چلو دو عیدی ۔۔”قدیر صاحب بے شامی کو ڈانٹا تھا۔
“بابا اپنی بہو کو بھی بلوا کے عیدی دے دیں ۔”کب سے انکی شرارتوں سے محفوظ ہوتے فہام نے بلآخر عظمت صاحب کو کہا تھا ۔تو سب اسکی بے قراری پہ ہنس دئیے ۔۔
“برخوردار۔ چپ چاپ بیٹھے رہو ۔شام کو رخصتی ہونی ہے اس سے پہ مجھے تم ادھر ہی چپکے بیٹھے نظر آؤ۔”عظمت صاحب نے کہا تھا ۔۔اور کہتے اٹھ کے اندر چلے گئے ۔
“اف یہ ظالم سماج ۔۔”فہام نے آہ بھری تھی ۔
“اگر اوپر گئے ناں تو بھی آپکی خیر نہیں ۔آپکی استانی بھری پڑی ہے ابھی بھی۔”شامی نے کہا تھا ۔
“وہ فکر نہ کرو تم اپنے معاملات طے پا گئے ہیں سب ۔ایک ملاقات کا انتظام کروا دیں بس ۔”فہام نے دہائی دی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام تک اسنے لاکھ رشوتیں دیں مگر مجال تھی جو کسی نے ایک سنی ہو ۔ثمن کو کوئی لاکھ میسجز کر چھوڑے تھے مگر ان میڈم کا شرما شرما کے براحال تھا مجال تھا کہ کوئی ایک بھی کال یا میسج کا ریپلائے کیا ہوتا الٹا موبائل بند کر دیا گیا تھا۔فہام اور سلگ اٹھا تھا۔دل پہ پہاڑ رکھتے وہ اب شام کو ہی اس جھلی کی خبر لینے کا سوچتا وقت گزارنے لگا تھا۔آج کا سارا دن اسنے گھر پہ گزارنا تھا۔
شام سے پہلے ہی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں ۔رخصتی میں صرف شہربانو کی فیملی تھی ۔گھر کو شامی ،ملیحہ حسین اور زینیا نے سجایا تھا۔ہر طرف گہماگہمی تھی ۔خوشیاں ہی خوشیاں تھیں ۔ثمن کو تیار کر دیا گیا تھا ۔
فہام اپنی چند افراد پہ مشتمل بارات لے کے قدیر صاحب کے پورشن میں پہنچا تھا۔عظمت صاحب تو ثمن کی طرف ہو گئے تھے ۔شور سے استقبال کیا گیا تھا دولہے کا ۔فہام کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔
“چلو بھئی دلہن لو ہماری ۔۔”یہ شامی تھا جو اپنی ٹیم بدل چکا تھا ۔اور باراتی بن کے آیا تھا۔
“دھیراج رکھو باراتیوں ۔آپکا استقبال تو کر لینے دو ۔”ملیحہ نے کہا تھا ۔۔
“ہمارا استقبال چھوڑیں وہ تو آپ آئے روز کرتی ہیں پہلے ہمارے ایکٹر کو دیدار یار کروا دیں ۔۔”شامی نے کہا
“بلکل کیونکہ اب اور زیادہ انتظار نہیں کر سکتا ۔یہ ناں ہو کہ میں خود اسے اٹھا کے لے جاؤں ۔”کب سے ضبط کیے بیٹھا فہام بولا تھا ۔۔
تبھی نرمین بھابھی ثمن کو لے کے داخل ہوئی تھیں ۔فہام اسے دیکھ کے کھڑا ہوا تھا۔نیوی بلو کلر کے سوٹ میں ملبوس اوپر واسکٹ پہنے آج بہت ہی ہینڈسم لگ رہا تھا۔
ثمن نے بھی فہام کی پسند کردہ گرے فراک پہنی ہوئی تھی ۔جس پہ نفیس کا کام ہوا تھا۔مگر بھلا ہوا ان شیطانوں کو جنہوں نے ثمن کے منہ کے آگے چنری ڈالی ہوئی تھی ۔فہام کوشش کے باوجود چہرہ نہ دیکھ پایا تھا۔
“بیٹھ جائیں دولہے صاحب ۔۔دلہن بیٹھ گئیں ہیں ۔۔”فرخ بھائی نے کہا تھا۔
“یار یہ کیا اس کے چہرے پہ ڈالا ہوا ہے اسکو تو ہٹا دو ۔۔۔”فہام ناگواری سے بولا تھا۔
“بس کچھ اور دیر کے لیے انتظار کر جائیں ۔۔”سب یک زبان بولے تھے۔
“ہرگز بھی نہ بہت آزما لی میری شرافت ۔۔”ساتھ ہی فہام نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چنری الٹ دی تھی۔سب ارے ارے کہتے رہ گئے تھے۔آج اپنے کیے فہام کی بے قراریاں دیکھ ثمن خود میں سمیٹی جا رہی تھی۔خدا نے اس کے سارے خدشات کو غلط ثابت کرتے اس شخص کا پیار اسکی جھولی میں ڈالا تھا۔۔
“عید مبارک ۔۔۔اور ساتھ رخصتی بھی مبارک مسز ۔۔”فہام نے جھک کے سرگوشی کی تھی۔۔
“آپ کو مسٹر فہام درانی میرے ایکٹر ۔۔”ثمن نے بھی اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔سب ادھر ادھر مصروف ہو چکے تھے باتوں میں ۔
“میری جھلی ۔۔۔”فہام نے سرگوشی کی۔۔
“یہاں اپنا رومانس شروع نہ کریں ۔مسٹر اینڈ مسز ۔”ملیحہ اور شامی ان کے سر پہ آن دھمکے تھے ۔۔۔ان کی بات پہ وہ دونوں دل سے مسکرا دئیے تھے ۔آج سب کے چہروں پہ ایک اطمینان اور خوشی تھی ۔۔
جب رشتوں میں پیار محبت اور خلوص شامل ہو جائے ناں تو انکو نبھانا مشکل نہیں ہوتا ۔۔مزاج کا ایک حد تک عمل داخل تو ہوتا ہے مگر پیار اگر شامل ہو جائے تو باقی چیزیں بے معنی لگتیں ہیں ۔کیونکہ رشتے بھی توجہ اور پیار چاہتے ہیں ۔جتنی توجہ اقر پیار انکو ملتا جائے کا وہ پروان چڑھتے جائیں گے اور مضبوط ہوتے جائیں گے ۔

(ختم شدہ )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *