Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jhali (Episode 03)

Meri Jhali by Anaya Ahmad

اگلے دن ہی دوبئی شوٹنگ کے لیے روانہ ہو گیا تھا۔زندگی واپس معمول پہ آ گئی تھی۔ثمن نے کالج جانا شروع کر دیا تھا۔
آنے والے حالات ناجانے کیسے ہو گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ارے آؤ ثمن تم تو عیدکا چاندہوتی جا رہی ہو ۔کبھی نظر ہی نہیں آتی تم ۔”نرمین بھابھی نے اسے آتے دیکھا تو کہا تھا۔وہ اس وقت باہر گارڈن میں بیٹھی ہوئی تھی ۔شام کا وقت تھا۔ساتھ ماذن بیٹھا کھیل رہا تھا۔
“نہیں بھابھی کچھ روٹین ٹف ہوئی ہے کالج میں ۔”ثمن نے ماذن کو اٹھا کے چوما تھا۔جو چڑا تھا ۔
“مصروفیت تو مجھے صاف بہانہ لگ رہا ہے تمہارا ۔”نرمین نے کہا ۔
“بہانہ تو نہیں اور ویسے بھی آپ کے دیور بھی آج کل زیادہ ہی گھر پائے جانے لگے ہیں ۔”ثمن نے اصل وجہ بتائی تھی اور ماذن کو پاس بٹھا کے اسکے سامنے اسکے ٹوئز رکھے۔
“ثمن تم وہاں کی وہاں ہی کھڑی ہو ابھی تک ۔ایسے تو مسائل جوں کے توں ہی رہیں گے ناں ۔”نرمین کافی دنوں سے اس سے بات کرنا چاہ رہی تھی تو آج پوچھ ہی بیٹھی تھیں ۔
“بھابھی ان مسائل کا تو کوئی حل ہی نہیں نکلتا ۔کیونکہ یہ تو محض مجبوری تھے ۔کسی نے اس ان سب حالات سے اپنے مستقبل کی راہ استوار کی اور کسی نے اپنی انا اور ضد کو بچایا تھا۔”ثمن نے نیلے آسمان کی وسعتوں میں دیکھتے ہوئے گلوگیر انداز میں کہا تھا ۔
“یہ محض تمہارا خیال ہے جبکہ حقیقت تو کچھ اور ہے ۔”نرمین بھابھی نے اسکی بات کی نفی کی تھی۔
“خیال تو تب ہوتا جب سب کچھ مجھ سے پوشیدہ ہوتا ۔میں ہر سچائی سے ناواقف ہوتی مگر یہ سب تو میری آنکھوں کے سامنے طے پایا ہے ۔میں بھی عینی شاہد تھی ۔”درثمن نے تڑپتے ہوئےبھابھی کی طرف دیکھا تھا۔
“مگر وہ صرف بات کا ایک پہلو ہے ۔جو تم دیکھ رہی ہو۔چندا ہم میں سے کوئی تمہارا برا تو نہیں چاہتا ۔سب تم کو جی جان سے چاہتے ہیں ۔اور انکل کو تو تم سب سے زیادہ عزیز کو ۔”نرمین بھابھی نے اس نرم ونازک اور صاف دل والی اچھی لڑکی کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
“بھابھی ہمارے مزاج ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں ۔بلکل بھی ہم آہنگی نہیں ہے ہم میں ۔اور میرے خیال میں یہ اہم چیز ہے کسی بھی رشتے کو نبھانے کے لیے ۔”ثمن نے اصل بات کی تھی۔
“یہ بات اپنی جگہ ٹھیک ہے مگر اتنی اہم بھی نہیں کہ اس کو بنیاد بنا کے تم اپنے آپ اور اپنے سے وابستہ لوگوں کو دکھ دے رہی ہو ۔”نرمین بھابھی نے سمجھایا تھا ۔
“بھابھی مجھے یہ نہیں پتہ کہ میری زندگی میں آ گے کیا ہونے والا ہے ۔میں ایک الگ مزاج کی ہوں جبکہ وہ ایک الگ مزاج کے ہیں ۔مطلب کیسے ہو گا سب کچھ ۔بعد کی زندگی تو اور بھی کٹھن ہو جائے گی۔”ثمن نے اپنا جواز پیش کیا تھا۔کیونکہ جو آج اس سے اتنا بچ کے رہتی تھی کل کو اس کے ساتھ ہی رہنا تھا۔آج تو وہ فرار کی راہ سے اپنا آپ بچا لیتی تھی مگر کل کو کیسے ممکن ہو گا یہ سب ۔
“وہ دن آج بھی مجھے لمحہ بہ لمحہ یاد ہے جس دن میری ذات کو شرط بنا کے فہام کے مستقبل کی بنیاد رکھی گئی تھی۔میں تو محض فہام کا مہرہ تھی اسکا مقصد حاصل کرنے کے لیے ۔
میں تو ایک احتیاطی تدابیر تھی جو آگے کے حالات کے لیے اختیار کی گئی تھی۔ایک بند جو باندھا گیا تھا تاکہ کل کو فہام کہی تایا جان کی خواہشات کے خلاف جا کے اپنی زندگی میں کسی اور کو داخل نہ کر لے۔جو ہمارے ماحول سے مطابقت نہیں رکھتا ہو۔”ثمن نے کہا تھا۔
“ثمن میں یہ ہی کہوں گی کہ تم حد سے زیادہ بد گمانی کا شکار ہو ۔”نرمین نے کہا تھا۔
اس سے پہلے کہ ثمن کچھ کہتی ۔

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں،میرے دل سے بوجھ اتار دو
میں بہت دنوں سے اداس ہوں,مجھے کوئی شام ادھار دو

فہام کی جذبوں سے چُور آواز ثمن کے کانوں سے ٹکرائی۔اسکے الفاظ سے ثمن کے گال سرخ پڑ گئے تھے۔فہام ثمن کے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا۔کیمل کلر کی شرٹ اور بلیک پینٹ میں ماحول پہ چھایا ہوا تھا۔محبت پاش نظروں سے وہ ثمن کے چہرے کو تک رہا تھا۔ماتھے پہ بکھرے ہوئے بال ۔وہ گھاس پہ ثمن کے ساتھ یوں بیٹھا تھا کہ دونوں کے کندھے ٹکرا رہے تھے۔
ثمن نے ایک نظر اسے دیکھا تھا پتہ نہیں ایسا کیا تھا اسکی نظروں میں کہ وہ فوراً نظریں ہٹا گئی تھی ۔ذرا فاصلہ پیدا کرتے ہوئے پیچھے ہٹی تھی ۔فہام اسکے گریز پہ سرد سانس خارج کرتا بولا تھا۔
“کیا مطالبات طے پا رہے ہیں دنوں خواتین میں ۔”اسنے ماذن کو اپنے بازوؤں میں لیتے ہوئے اسکی گال پہ بھوسا دیا تھا۔جو اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ اپنے چچا کے منہ پہ مار رہا تھا۔
“تمہیں کیوں بتائیں ۔میں اپنی دیورانی سے جو مرضی باتیں کروں ۔”نرمین بھابھی نے کہا تھا ۔وہ سب نرمین کو بہت عزیز تھے وہ خود بھی بہت اچھے تھے۔ایک دوسرے کا خیال رکھنے والے لوگ۔
“ہائے دیورانی ۔پھر تو مجھے ضرور بتائیں ۔مجھے تو لگتا ہے کہ آپکی دیورانی صاحبہ نے آجکل بولنا بھی چھوڑ دیا ہے۔یا مجھے دیکھ کے یہ شرما جاتی ہیں ۔”فہام نے شرارتی انداز سے اسے دیکھ کے کہا تھا ۔جو نیچے منہ کیے بیٹھی تھی۔ضبط کے رنگ چہرے پہ واضح تھے۔
“تمہارے مطلب والی باتیں نہیں تھیں ایکٹر صاحب ۔”نرمین بھابھی نے گھورا ۔
“حالانکہ اب ساری باتیں میرے مطلب کی ہونی چاہیے کیوں ثمن۔”فہام نے بھابھی سے کہا اور آخر پہ ساتھ بیٹھی ہوئی ثمن کو کندھا مارتے ہوئے تصدیق چاہی ۔تو ثمن نے گھورا ۔
“بھابھی میں تائی اماں کے پاس جا رہی ہوں ۔”فہام کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا تھا۔
“بھابھی نہایت ہی نک چڑی اور مغرور دیورانی ہے آپ کی مجھے بلکل نہیں پسند ۔”فہام نے اسکو چڑانے کے لیے کہا تھا کو اٹھ چکی تھی۔یہ بات ثمن کے دل پہ لگی تھی۔
“مسٹر فہام درانی یہ بات میں پہلے سے جانتی ہوں ۔”چند لحظے کو وہ فہام کی بات پہ رکی۔دل کیا کے کوئی سخت الفاظ کہے یا اس سے آج اپنے رشتے کا ہی پوچھ لے کیا حقیقت ہے اسکی۔
مگر وہ سر جھٹکتی اندر چلی گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ رات کا گیا شوٹ سے فارغ ہوتے ہوتے اسے صبح کے آٹھ بج گئے تھے۔گاڑی سے نکل کے وہ اندر کی طرف جا رہا تھا۔جب نظر لائٹ یلو کلر اور وائٹ امتزاج کے ڈیزائن والے کرتے اور بلو جینز میں ملبوس کھڑی ثمن پہ پڑی۔ہاتھ میں گھڑی بندھی ہوئی تھی۔بالوں کو پونی میں قید کیا ہوا تھا ۔ڈوپٹہ سر پہ تھا۔ہاتھ میں فائل۔ہاتھ میں فائلز اور بیگ تھا۔آج خلاف ِ معمول جوگرز میں تھی۔موبائل کال کو لگائے وہ کسی کے ساتھ زیر بحث تھی۔
“میری استانی کو کس نے تنگ کر دیا صبح صبح۔دو ادھر مجھے فون میں لوں خبر ۔”فہام اب اسکے سامنے کھڑا کہہ رہا تھا۔
“چلیں میں نکلنے لگی ہوں ۔آ کے بتاتی ہوں ۔آپ آغا سرکو آگاہ کر دیں ۔”ثمن نے ایک چبھتی نظر فہام پہ ڈال کے فون پہ بات سمیٹی۔اور اگلے ہی پل بند کر دیا۔
“اسلام علیکم۔”ثمن سلام جھاڑتی آگے بڑھی۔اس بار بھی سلام نہ کرنے کا طعنہ نہ مل جائے تو سلام کر دیا۔
“واہ ۔بہت جلد سیکھ لیتی ہیں مسز ثمن ۔وعلیکم اسلام ۔جیتی رہیں ۔سدا سہاگن رہیں ۔چلو سلام ہو گیا اب پیار رہ گیا ۔”اسنے کہتے اسکے گرد بازوں کا گھیرا ڈالنا چاہا۔فہام کی آنکھیں نیند کے زور سے سرخ ہو رہی تھی۔
“نیند آپ کے حواسوں پہ سوار ہے میرے خیال میں ۔جا کے نیند پوری کریں ۔ورنہ آپ ہوش میں نہیں ہیں کہ کیا کہہ رہے ہیں۔۔”ثمن نے پیچھے ہٹتے ہوئے فہام کوسخت نظروں سے دیکھا۔وہ ہنس دیا۔
“حواس تمہیں دیکھ کے کھو جاتے یہ سمجھ لو۔”فہام نے اسکے تپے تپے چہرے کو اپنی نیند سے بوجھل آنکھوں سے دیکھتے ہوئے جذبوں سے بھر پور آواز میں کہا۔
“ادھر اُدھر دیکھیں ۔یہاں کوئی کیمرہ نظر آ رہا ہے کیا ؟نہیں ناں ۔تو یہاں کسی ڈرامے یا فلم کی شوٹنگ نہیں ہو رہی ۔
تو اپنے ان ڈائیلوگز سے پرہیز کریں ۔بد ہضمی نہ کروا لیجیے گا ۔”ثمن نے مفت مشورہ دیا تھا۔
“تم ادھر اُدھر نہ دیکھو۔ادھر دیکھ بس۔”فہام نے اپنی شہادت کی انگلی کو اپنے سینے کے بائیں سائیڈ پہ رکھتے ہوئے دائرہ بنایا ۔ثمن کو اسکے پروفیشن سے تایا جان کی طرح ہی چڑ تھی۔دوسرا مسئلہ اسکا ذاتی تھا کہ وہ کسی کی شراکت برداشت نہیں تھی کر سکتی اس معاملے میں ۔چاہے ہی ڈراموں میں وہ کسی کو دل سے ڈائیلاگ نہیں تھا بولتا مگر ثمن کو یہ بات بھی ناقابل قبول تھی۔
“ہو گیا جاؤ اب میں ۔باقی کی شوٹنگ پھر کبھی کے لیے۔”ثمن نے گھورتے ہوئے کہا تھا۔
“اچھا بابا رکو سنو ۔دیکھو تم گر ۔۔۔۔”اس سے پہلے کے فہام پوری بات کرتا وہ نظر انداز کرتی آگے بڑھ گئی۔آگلے ہی پل وہ منہ کے بل گرتے گرتے بچی تھی۔کیونکہ فہام اسے تھام چکا تھا۔
“دیکھ کے ابھی گر جانا تھا۔”وہ اسے سیدھا کرتے ہوئے بولا تھا۔اسکے جوگرز کے تسمے ٹھیک نہیں تھے بندھے ۔ہونا کیا تھا پھر جو شروع سے ہوتا آیا تھا۔اسے بچپن سے لے کر آج تک تسمے نہیں باندھنے آئے تھے ۔چھوٹے ہوتے بھی یوں ہی گرتی رہتی تھی۔آج بھی یہ ہی ہوا تسمے ٹھیک نہ بندھنے کی وجہ سے ایک دوسرے شوز کے نیچے آ گئے تھے وہ گرتے ہوئے بچی۔
“م ۔میں ۔۔”اس سے پہلے ثمن کچھ کہتی فہام گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھا تھا اور اسکے شوز کے تسمے باندھنے لگ گیا ۔ثمن کے سامنے بچپن کا منظر آن ٹھہرا۔اکثر بھاگتے بھاگتے اسکے لیسز کھل جاتے یا ٹھیک نہیں بندھے ہوتے تو فہام باندھتا تھا۔منظر وہی تھا مگر کتنا کچھ بدل گیا تھا۔وہ سب اور انکا رشتہ بھی۔وہ یوں ہی گم تھی ۔جب وہ باندھ کے اسکے مقابل کھڑا ہوا ۔
“لو ہو گیا ۔اتنی سی بات تھی ابھی گر جاتی تم ۔اسلیے کہتا ہوں کہ اگر کوئی کچھ کہنا چاہتا ہوں تو اسکی بات سن لینی چاہیے ۔کیا پتہ وہ آپ کے فائدے کی ہو ۔زندگی کی مصیبتوں سے نجات ہو ۔الجھنوں کا حل ہو۔”فہام نے ثمن کو نرم نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ثمن اسکی بات کا مطلب باخوبی سمجھ گئی تھی۔
“تم بدل گئی ہو ۔مجھ سے ناراض ہونا لڑنا سیکھ لیا ہے مگر لیسز ٹائی کرنے نہیں سیکھے ابھی بھی۔”فہام نے اسکی ناک کو چھوا تھا۔ثمن نے فہام کی طرف دیکھا جس کے چہرے پہ ذرہ بھر بھی اکتاہٹ اور غصہ نہ تھا۔ثمن جتنی بھی سخت بات کہہ لیتی تھی مگر فہام غصہ نہ کرتا تھا۔وہ اکثر اسکی اس عادت سے چڑ جاتی تھی۔ایسے انسان کے مزاج کے رنگوں کو سمجھنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے جب وہ خود کو ہنسی کی تہہ میں چھپا لیتا ہے۔پھر اسکے مزاج تھی رسائی تبھی ممکن ہوتی ہے جب ہم خود اسکے رنگوں میں رنگ جائیں یا پھر شاید ایسے انسان کے اندر تک رسائی کبھی ممکن نہیں ہوتی ۔
وہ اسے تکتی رہ گئی ۔کبھی کبھی دل کرتا تھا کہ اس پہ یقعین کر لے ۔اسکی بولتی آنکھوں پہ ایمان لے آئے مگر پھر جس دنیا کا حوالہ اسکی ذات سے لگا تھا وہ اسے خوفزدہ کر دیتا تھا۔وہ تو سچے جذبوں کی قائل تھی۔کھوٹ کہاں برداشت کر پاتی۔
اپنی سوچوں سے موبائل کی بیل پہ چونکی تھی ۔اور سر جھٹکتی آگے بڑھ گئی تھی اور فہام بھی اندر کو چل دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رمضان کا ماہ مبارک شروع ہو چکا تھا۔کالج سے آ کے وہ سو گئی تھی۔عصر کی نماز کے وقت جب وہ سو کے اٹھی تو نچلے پورشن میں کافی چہل پہل تھی۔تایا ابا کی آوازیں بھی آ رہی تھی۔
“اٹھ گئی تم۔احتشام کب سے تمہارے اٹھنے کا انتظار کر رہے تھا ۔”درثمن کی امی (فرزانہ)نے اسکو دیکھ کے کہا تھا۔
“جی ۔خیریت تھی کوئی کام تھا تو مجھے اٹھا لیتا شامی۔”درثمن نے کہا تھا۔
“نہیں وہ نیچے مہماں آئے ہوئے ہیں ناں ۔ افطاری بھی یہاں ہی کرنی ہے۔ تمہارے تایا ابا تمہیں یاد کر رہے ہیں ۔آج تو ویسے بھی وہ جلد آ گئے تھے آفس سے۔تمہیں تو پتہ ہے ناں تم انکو نظر نہ آؤ تو تمہارا پوچھتے رہتے ہیں ۔”فرزانہ نے پیار سے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔تایا کے پیار پہ ثمن بھی ہنس سی تھی۔جانتی تھی کہ وہ شروع سے ہی اس سے کتنا پیار کرتے تھے۔زرا سا بھی وہ بیمار پڑ جاتی تو وہ سارا گھر سر پہ اٹھا لیتے تھے ۔لاڈلی تھی انکی ۔اسلیے شاید یہ فیصلہ لیا ہو درثمن کے لیے۔
“جی میں جاتی ہوں ۔مگر مہمان کون آئیں ہیں ۔”درثمن نے پوچھا تھا۔
“فہام کے ماموں کی فیملی آئی ہے۔”فرزانہ نے مسکراتے ہوئے اطلاع دی ۔
“ماما۔آپ کو پتہ ہے ناں وہ لوگ آئیں ہیں میں کیسے نیچے جاؤں۔”درثمن جو جانے کو تیار کھڑی تھی دھپ سے صوفے پہ واپس بیٹھ گئی۔
کیونکہ فہام کے ماموں کی فیملی کو درثمن زیادہ پسند نہ تھی تو کوئی نہ کوئی بات ضرور کر جاتے تھے۔
“تایا ابا کو میں رات کو مل لوں گی۔”اسنے فٹ سے کہا تھا۔
“تمہارے تایا ابا کب سے تمہیں یاد کر رہے ہیں ۔بری بات درثمن ۔”فرزانہ نے اسے ڈپٹا تھا۔ان تایا بھانجی کا پیار بے مثال تھا۔
“اور تمہارے تایا ابا ہیں ناں انکے سامنے مجال ہے کوئی کچھ کہہ جائے
وہ بھی تمہیں۔”فرزانہ نے کہا تھا۔وہ جی کہتے ہوئے نیچے ہو لی ۔۔۔۔
وہ منہ بسورتی نیچے آئی سامنے ہی لاونج میں تایا ابا بیٹھے ہوئے تھے۔مہمانوں کی آوازیں ڈرائنگ روم سے آ رہی تھیں ۔وہ تایا ابا کے پاس ہی چلی آئی ۔گیسٹ ڈرائنگ روم میں تھے۔
“اسلام علیکم تایا ابا۔”ثمن نے آگے سر کیا تھا۔
“وعلیکم اسلام ۔جیتی رہو میری بچی ۔خدا ڈھیروں خوشیاں دے۔آمین ۔”ثمن کو دیکھ کے وہ کھل اٹھے تھے ڈھیروں دعائیں دیں ۔
“طبیعت ٹھیک ہے ناں آپ کی۔”ثمن نے انکے پاس ہی صوفے پہ بیٹھتے ہوئے پوچھا تھا۔
“کرم ہے اس ذات کا۔اور میری بچی کی دعائیں بھی تو ہیں ناں ۔”تایا ابا نے پیار سے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تھا۔
“تایا بھتیجی رازونیاز بعد میں کر لیجئیے گا۔ثمن تم پہلے مہمانوں سے مل آو۔”فاطمہ بیگم نے آکے کہا تھا۔
“ہونہہ ۔دو منٹ بچی کو بیٹھ تو لینے دو ۔چلو جاؤ ثمن بچے مل آؤ۔ورنہ تمہاری تائی کے میکے والے کوئی اعتراض نہ کر دیں ۔”عظمت صاحب نے فاطمہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
“آپ بھی ناں بس ۔وہ کیوں بھلا اعتراض کریں گے۔وہ تو بھابھی کئی مرتبہ ثمن کا پوچھ چکیں ہیں ۔”فاطمہ نے کہا تھا۔
“جی میں مل کے آتی ہوں ۔پھر ایک ساتھ بیٹھ کے اخبار پڑھیں گے ۔”ثمن نے انکی طویل ہوتی بحث کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔اور جانے کو اٹھ کھڑی ہو گی۔
“آجائیں تایا امی ۔”ثمن نے مسکراتے ہوئے فاطمہ بیگم کو ساتھ لیا۔تایا ابا اب اخبار اٹھا چکے تھے۔
(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *