Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri jhali by Anaya Ahmad

شہربانو کے گھر آج افطاری تھی۔آخری عشرہ چل رہا تھا۔ ۔سب طرف چہل پہل تھی۔با برکت ماہ کی رونقیں تھی ہر سو۔

افطاری کے بعد بڑے خوش گیپیوں میں مصروف ہو گئے اور جوانوں کو چہل قدمی اور مستی کی سوجھی تو وہ ان لوگوں نے لان کا رخ کیا تھا۔فہام سب سے آگے تھا۔ “یار میری استانی کو بھی لے آؤ۔اسکے بغیر مزہ نہیں آنا ۔”فہام کو درثمن کہی نظر نہ آئی تو اسنے حسین سے کہا جو انکی طرف آ رہا تھا۔ “کچھ شرم کر جاؤ تم فہام ۔”ساتھ بیٹھی نرمین بھابھی نے اسکا کان مڑوڑا تھا۔انہیں کب اپنی دیورانی کم دوست زیادہ کے بارے میں کچھ الٹ سیدھا سننا پسند تھا۔ “بھابھی ابھی تک شرم ہی کر رہا ہوں ۔لیکن کوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں آرہا ۔”فہام نے کہا تھا۔بھابھی کو سمجھ لگ گئی تھی کہ وہ جس حوالے سے بات کر رہا ہے۔ “نرمین بھابھی شرم ہی نہیں ہے ان لوگوں کے پاس ۔”احتشام نے کہا ۔ “شامی پارٹی مت بدلو تم ۔بھول مت تمہارا دوست ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اور بھی رشتہ ہے ۔تمہارا اور میرا ۔”فہام نے سامنے بیٹھے احتشام کو گھورا تھا۔باقی سب “اور بھی رشتہ “کا مطلب سمجھ کے ہنس پڑے تھے۔ “جی غلطی سے آپ میرے کزن بھی ہیں ۔”شامی نے بھی جواب گول کر دیا تھا۔ “خدا دشمنوں کو بھی تم جیسے کزن نہ دے۔میں سالے والے رشتے کی بات کر رہا ہوں ۔شامی تم نے کسی دن میری ہاتھوں ختم ہو جانا ہے۔”فہام نے چڑتے ہوئے اسے کہا تھا۔ “اور میرے آپی کے ہاتھوں آپ نے ۔اپنی حرکتیں سدھار لیں ۔کل تازہ تازہ آپکے سیریل کی لاسٹ ایپی سوڈ سے وہ اپنا خون جلا چکی ہیں ۔واہ کیا سین تھا ۔اظہار محبت ،کومل ہاتھ ،میوزک ،پھول ۔۔۔”احتشام نے ڈرامائی انداز میں بتایا کہ حاظرین بھی جھوم اٹھے۔تو فہام نے اپنا کان کھجایا ۔ “کیمرہ ایکشن ۔ٹیک ون ۔درثمن ۔”حسین نے درثمن کو آتے دیکھ لقمہ لگایا۔درثمن اور زینیا اسی طرف آ رہی تھی۔درثمن نے ٹرے پکڑے تھی جس میں سب کے لیے چائے تھی۔ “ہائے وہ آئے،ساتھ چائے لائے۔”فہام کو پھر مستی سوجھی۔ سب لان میں بیٹھے ہوئے تھے۔کچھ کرسیوں پہ اور کچھ گھاس پہ آلتی پالتی مار کے ۔درثمن نے ٹرے ٹیبل پہ رکھ دی تھی۔ “ساری عوام ایسے ہی بیٹھی ہوئی ہے۔چلوں کرکٹ کھیلیں ۔”فرخ بھائی اور ضیاء اس طرف ہی آ رہےتھے۔کرکٹ کا دیوانے فرخ کہتے ہوئے لان میں داخل ہوا تھا۔ “چلو جی ۔ان کو کرکٹ کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں ہے۔”ماہم کا احتجاج بلند ہوا تھا ۔سب ہنس پڑے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *