Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jhali (Episode 04)

Meri Jhali by Anaya Ahmad

سامنے ہی جو ہستی براجمان تھی اسے دیکھ کے ثمن کا حلق کڑوا ہوا۔وہ صوفہ پہ ٹیک لگائے فریش سے انداز میں سب کے ساتھ خوش گپیوں میں لگا ہوا تھا۔
“اگر دنیا میں سب سے زیادہ گپیں ہانکنیں کا انعام ہوتا تو فہام درانی کو ہی ملنا تھا۔”ثمن نے کڑھ کے سوچا ۔ثمن نے فہام کی ممانی کو سلام کیا تھا۔ملیحہ اپنی کزن خدیجہ کے ساتھ رازونیاز میں لگی تھی جو اسکی ہی ہم عمر تھی۔فہام اور پندرہ سالہ علایہ اور آٹھ سالہ جبران فہام کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے۔انکے سامنے ہی صوفے پہ ممانی شائستہ براجمان تھیں ۔
“وعلیکم اسلام ۔آو بھئی ۔تم تو بہت انتظار کرواتی ہو۔عظمت بھائی کی چہیتی ہونے کا پورا پورا فائدہ اٹھا رہی ہو تم تو ۔”شائستہ نے آتے ہی طنز کیا تھا ۔ثمن اسی طنزیہ گفتگو سے کتراتی تھی۔
“انکو عادت ہے انتظار کروانے کی ممانی ۔”فہام نے بھی گفتگو میں حصہ لیا تھا۔ثمن جو پہلے ہی شائستہ کی بات پہ رنجیدہ ہوئی تھی فہام کی بات پہ دل بھر آیا ۔
“بھابھی ثمن کے سر پہ کالج کی بھی ذمہ داری ہے ماشااللّٰہ۔کچھ دیر پہلے ہی لوٹی تھی۔اب ظاہر ہے ناں بچوں نے آرام بھی تو کرنا ہوتا ہے ناں۔اور ویسے بھی یہ اپنے تایا ابا کے پاس بیٹھی تھی۔”فاطمہ نے کہا تھا ۔اور ثمن کو لے کے فہام کے ساتھ والے صوفہ پہ بیٹھ گئی تھی۔ثمن اپنی گود پہ دھرے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔
“فہام بھائی نیکسٹ کویسچن آپ سے ۔آپ کا پسندیدہ کلر کون سا ہے۔”علایہ جو ہوسٹ بنی ہوئی فہام کا انٹرویو کر رہی تھی۔فہام سے پوچھا۔فہام نے ایک نظر ساتھ والے صوفے پہ بیٹھی ثمن کو دیکھا۔لائٹ گرین کلر میں ملبوس وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔چہرے پہ معصومیت کا رنگ سب رنگوں سے زیادہ واضح تھا۔
“آئی لو گرین کلر۔”بے ساختہ فہام کے منہ سے نکلا تھا۔جس پہ ملیحہ کا قہہقہ پڑا تھا۔ثمن بھی چونکی جب غور کیا تو پتہ چلا وہ اس رنگ کا سوٹ پہنے ہوئے ہے۔اس نے ایک نظر فہام کو گھورا ۔
“لگتا ہے ابھی ابھی یہ رنگ پسند آیا ہے ۔کیوں فہام ؟”خدیجہ نے بھی حصہ لیا تھا۔
“جو مرضی سمجھ لو اب تم لوگ۔”فہام نے کندھے اچکائے۔اس کے انداز پہ ثمن کو شدید غصہ آیا تھا۔
“مکار،دو نمبر ،فراڈیا انسان ۔۔۔۔”ثمن نے اسکو دل میں القاب سے نوازتے ہوئے غصے سے مٹھیاں بھینچی تھیں ۔
“سارے فیورٹ کلر بتا دیں ۔اور جو نہیں پسند وہ بھی۔”علایہ نے ایک اور سوال داغا۔
“ہہم ناپسندیدہ تو میرے پیچ ،پنک،بلیک اور ریڈ۔فی الحال یہ ہی ۔”فہام نے بات سمیٹی تھی۔فہام کو پتہ تھا اب اس بات کا ردعمل کیا ہونے والا تھا۔اس نے دل ہی دل میں خود کو شاباشی دی تھی۔ملیحہ کو بھی سمجھ آ گئی تھی۔
“تائی اماں آئیں کچن میں افطاری کی تیاری دیکھ لیں۔”ثمن نے یہاں سے نکلنے کے لیے کہا تھا۔
“چلو ملیحہ بہن کے ساتھ نرمین کچن میں ہی ہے۔”فاطمہ بیگم نے ملیحہ کو بھی کہا تھا۔
یہاں کی محفل کافی دیر تک چلتی رہنی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رمضان شروع ہوچکا تھا۔ثمن ،نرمین اور ملیحہ شاپنگ سے لوٹی تھی۔روزے میں شاپنگ کر کے برا حال ہو چکا تھا۔
فرزانہ بیگم بھی نچلے پورشن میں ہی تھی۔سب وہی بیٹھ گئے تھے ۔اور شاپنگ دیکھنے لگ گئے تھے۔
فاطمہ اور فرزانہ نے جب ثمن کی ساری شاپنگ دیکھی تو حیران رہ گئی تھیں ۔
“ثمن بچے یہ تمہاری شاپنگ صرف تین ،چار رنگوں تک ہی کیوں محدود ہے۔بامشکل کوئی اور رنگ مل رہا ہے ۔وہ بھی کوئی ایک آدھ ڈیزائن میں ۔”فاطمہ بیگم نے اسکی ساری شاپنگ جو کل چھ سوٹ ہونگے ۔صرف چار رنگوں کے تھے ۔حتی کہ کمبینیشن بھی انہوں میں سے کسی رنگوں کا تھا۔ایک دو سوٹ کو دیکھ کے تو ان کو یہ بھی گمان ہوا تھا کہ صرف رنگ کو لے کے پسند کئے گئے ہیں کیونکہ ڈیزائن بھی کچھ خاص نہ تھے۔
“تائی امی پیچ ،ریڈ،بلیک اور پنک یہ سب بہت اچھے لگتے ہیں ۔یہ کلر مجھے بہت پسند ہیں۔”ثمن نے فخریہ انداز میں کہا تھا۔اندر آتے فہام کو یہ بات نا صرف سنی تھی بلکہ سمجھ بھی آئی تھی اور ایک سرشاری کی لہر اسکے اندر ڈور گئی تھی۔
“ماما آپ کی بہو میرے رنگوں میں رنگنے لگ گئی ہے۔رخصتی کا انتظام کر لیں ۔اس عید پہ ہی۔”فہام نے اندر آتے ہوئے شوخ لہجے میں کہا تھا۔ثمن نے غصےاور ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھا۔
“دیورانی صاحبہ یہ میرے دیور کے فیورٹ کلر ہیں پگلی۔تو پھر ہاں سمجھیں ۔”نرمین بھابھی نے بھی شرارت سے کہا تھا۔اس اب بات سمجھ آئی تھی کہ فہام نے کس چالاکی سے اپنے فیورٹ کلر منگوائے ۔اور وہ سدا کی سیدھی اسکی باتوں میں ا گئی۔وہ غصے سے اٹھی اور اوپر چلی گئی۔سب ہنس دئیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملیحہ ایک خوش شکل لڑکی تھی ۔ملیحہ کا شمار صحت مند ترین انسانوں میں ہوتا تھا۔جن پہ زیادہ ہی گوشت چڑھا ہوتا ہے اور اس بات پہ احتشام اور ملیحہ کی لڑائیاں صبح شام ہوتیں تھیں ۔
ابھی بھی جب شامی نیچے آیا تو ملیحہ فرائز اور جوس کے ساتھ بیٹھی انصاف کر رہی تھی۔ساتھ ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی جہاں فہام کا انٹرویو آ رہا تھا۔سب مرد حضرات تروایح کے لیے جا چکے تھے سوائے اس نکمے کے ۔ملیحہ کو دیکھ کر وہی رک گیا تھا۔
“اے گوشت کے ڈھیر کچھ ہم غریبوں کے لیے بھی چھوڑ دو زمین پہ۔”شامی کی زبان پہ کھجلی ہوئی تھی۔
“ارے چھوڑی ہے ناں گھاس ۔کھاؤ جتنی مرضی۔”ملیحہ نے بھی بدلہ چکایا ۔
“موٹی تمہارا کیا مطلب ہے ؟میں کیوں گھاس کھاؤں گا؟”احتشام نے اسے گھورتے ہوئے کہا اور صوفے پہ آکے بیٹھ گیا۔
“میرے بھولے کزن گدھے گھاس ہی کھاتے ہیں۔”ملیحہ نے اطلاع دی تھی۔
“تمہاری آنکھوں پہ چربی چڑھ گئی ہے جو تمہیں اتنا ہینڈسم لڑکا نظر نہیں آتا ۔”شامی نے کندھے اچکائے۔
“اللّٰہ رے خوش فہمیاں۔اب مجھے موٹی نہ بولنا یو گینڈے۔”ملیحہ نے ناک سے مکھی اڑانے
والے انداز میں کہا۔
“موٹی اسے حقیقت کہتے ہیں ۔”شامی نے دوبدو کہا۔موٹی کہنے پہ ملیحہ کو تپ چڑھ گئی تھی ۔ملیحہ نے ایک تیز نظر اس پہ ڈالی پھر پاس پڑا جوس سے بھرا گلاس اٹھایا اور سیدھا شامی کے منہ پہ پھینکا۔مینگو جوس اب شامی کے آنکھوں ،گالوں اور ہونٹوں سے نیچے بہہ رہا تھا۔
“ملیحہ بچ جاؤں مجھ سے اب۔”شامی نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔اس سے پہلے کہ وہ اپنا بچاؤ کرتی ۔شامی نے پاس پڑا کیچپ اٹھایا اور اسے دبوچ کے واپس اسکی جگہ پہ بیٹھایا۔سارا کیچپ پاؤچ سے نکال کے اسکے سر پہ ڈال اور اب اسے چہرے اور بالوں پہ لیپ کر رہا تھا ملیحہ چیخیں مار رہی تھی۔
اس کی آوازیں سن کے نرمین بھابھی آئی تھیں ۔فرزانہ اور فاطمہ بیگم تو گھر نہ تھی۔
انکی حالت دیکھ نرمین کا اپنا قہقہ چھوٹا تھا انکو منع کیا خاک کرتی ۔
“بس کر جاؤ شامی ۔اف خدایا اس کا حال دیکھو ذرا ۔”نرمین بھابھی نے ہنستے ہوئے شامی کے ہاتھ سے پیکٹ پکڑا۔
“تم بلکل جنگلی ہوں گینڈے۔”ملیحہ سے جب کچھ بن نہ پایا تو غصے سے چیخی۔ملیحہ کی حالت کیچپ میں لت پت ہو کے عجیب ہو گئی تھی۔شامی نے بھی نرمین بھابھی کا ساتھ دیا قہہقے لگانے میں ۔ملیحہ پیر پٹختی اندر چل دی۔
“میں بھولی نہیں ہوں یاد رکھنا ۔”جاتے جاتے کہہ گئی تھی۔
“ہاں تو میں کب چاہتا ہوں کہ تم بھول جاؤ۔”شامی نے ایک ادا سے کہا۔
“سدھر جاؤ تم شامی۔”نرمین نے اسکا کان مروڑا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج احتشام گھر نہیں تھا ۔آج وہ کسی دوست کے گھر گیا تھا ملیحہ کو یہ ہی شاندار موقع لگا دودن پہلے والی کیچپ اور جوس کی جنگ کا بدلہ لینے کا ۔
“مما میں ذرا اوپر جا رہی ہوں چچی پاس ۔”ملیحہ نے فاطمہ کو کہا اور پیروں میں چپل ڈالتے ہوئے اوپر آ گئی۔اوپر والے پورشن میں اس وقت خاموشی کا راج تھا۔
“چھلاوا نہیں ہے ہر جگہ کتنا سکون ہے۔”ملیحہ زیر لب بڑبڑائی۔
ضیاء اور چچا آفس گئے تھے۔ثمن کالج ۔اور چچی اپنی کمرے میں ہی ہوں گی اس لیے باہر نظر نہیں تھی آ رہیں۔وہ چپ چاپ دشمن کے مورچے کی طرف بڑھی۔دروازہ کھولا ۔لائٹ آن کی ۔
کمرہ سلیقے سے سجا ہوا تھا۔ہر چیز طریقے سے اپنی جگہ پہ تھی۔صاف ستھرا چمکتا کمرہ۔شامی صفائی پسند تھا بہت ۔ہر روز ماسی کی صفائی کا بعد وہ خود بھی روم سیٹ کرتا تھا۔یہ بات ملیحہ کو اچھی طرح معلوم تھی۔وارڈروب کھولی تو اسکے کپڑے سیلقے سے پڑے ہوئے تھے۔
“چل شاباش ملیحہ جلدی کر ٹائم کم ہے اور مقابلہ سخت۔”ملیحہ نے پھر دھاوا بولا تھا۔ٹھیک دس منٹ بعد کمرہ کھنڈر کا روپ دھار چکا تھا۔ہر چیز اتھل پتھل کر دی گئی تھی۔ہینگ کئیے ہوئے کپڑے اپنی حالات زار پہ رو رہے تھے کوئی بیڈ کے نیچے گیا کوئی واش روم کے ڈور کے پاس ۔بیڈ شیٹ اتار پھینکی۔تکیوں کی روئی سے بھی وہ کھل کے کھیلی تھی۔جوتوں پہ بالٹی بھر کے انڈیلی تاکہ انکی گرمی دور ہو سکے ۔پردے الٹ پلٹ کیے ۔جب کچھ دل جو سکون ہوا تو ہاتھ صاف کرتی باہر نکلی ۔اردگرد دیکھا کوئی بھی نہ تھا۔
‏“Bravo ۔۔”سینے پہ ہاتھ مارتے ہوئے خود کو شاباشی دی۔اور نیچے کو لپکی۔اب اسے احتشام کے آنے کا شدت سے انتظار تھا۔
“ہیلو موٹی۔”شام کو افطاری سے کچھ دیر پہلے شامی کی واپس ہوئی اوپر جاتے جاتے اسے چڑانا نہ بھولا تھا۔جو ٹیبل لگا رہی تھی۔
“اوہ ہیلو مسٹر احتشام درانی۔”ملیحہ نے عزت سے جواب دیا ۔شامی کو جھٹکا لگا۔
“خدانخواستہ آج تمہارا طبیعت تو نہیں ٹھیک ۔؟”شامی نے اسکے سیدھے جواب پہ پوچھا تھا۔
“جی الحمداللّٰہ میں ٹھیک ہوں ۔اور اگر آپکو نظر آ رہا ہو تو میں ٹیبل پہ افطاری لگا رہی ہوں ۔اور کسی کو ڈسٹرب کرنا مناسب بات نہین ۔”ملیحہ چند منٹ پہلے یاد کیا فلسفہ جھاڑ کے پھر اپنے کام میں گم ہو گئی۔شامی چند پل وہاں کھڑا بے یقینی اور یقین میں جھولتا اوپر چل دیا۔
ٹھیک ایک منٹ بعد شامی کی چیخ گونجی تھی درانی ہاؤس میں۔احتشام کو منٹوں میں سمجھ آ گئی تھی ۔پھر کیا ہونا تھا احتشام پیچھے پیچھے تھا اور ملیحہ آگے آگے۔سارا درانی ہاوس ملیحہ کے قہقہوں سے گونج رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرا عشرہ ختم ہونے والا تھا۔نچلے پورشن میں آج رونق لگی ہوئی تھی ۔ماہم اور فرخ آئے ہوئے تھے۔احتشام بھی آج نیچے ہی افطاری کر رہا تھا۔ثمن کو بھی پیغام ملے تھے نیچے آنے کے مگر وہ کان لپیٹے اپنے کام میں لگی رہی ۔افطاری کے بعد نماز وغیرہ سے فارغ ہو کے وہ اب نیچے جا رہی تھی۔
نیچے سب بیٹھے گپیں لگا رہے تھے۔فرخ بھائی ،احتشام اور تائی اماں صوفے پہ بیٹھے تھے ۔سامنے رکھی کرسیوں پہ ماہم اور نرمین بھابھی بیٹھی ہوئی تھیں۔فہام نیچے کشن پہ بیٹھا ہوا بظاہر موبائل میں مصروف تھا مگر ساتھ ساتھ باتوں کا جواب بھی دے رہا تھا۔
“آو ثمن تم تو آج افطاری میں بھی نہیں آئی ۔سب تمہیں بلا رہے تھے۔”ماہم نے شکوہ کیا تھا۔فہام نے ایک نظر ثمن پہ ڈالی جو شرمندہ سی نظر آئی۔وہ اسکے گریز کی وجہ جانتا تھا۔
“مما اور میں اکیلے تھے ناں ۔بابا اور ضیاء بھائی کسی افطار پارٹی میں گئے ہیں عمیر بھائی کے ساتھ ۔اور یہ گدھا پہلے ہی یہاں آ گیا تھا۔”ثمن نے شامی کو گھورا تھا اور بتایا ۔
“بیٹھو تم لوگ میں ذرا ملیحہ کو دیکھ لوں ۔کچن میں ہی رہ گئی ۔دو کپ چائے کے نہیں بنے اس لڑکی سے۔”فاطمہ بیگم کہتے ہوئے اٹھی ۔
“اچھا چھوڑو اب تو آ گئی ہو ناں ۔بیٹھوں اب ۔ہم سب یہ باتیں کر رہے تھے کہ فہام کا سب سے بیسٹ سیریل کون سا تھا۔جو ابھی ختم ہوا یا جو آن ائیر ہے ۔بھئی مجھے تو زیادہ آن ائیر والا پسند ہے۔”فرخ بھائی نے اپنی پسند بتانے کے ساتھ ساتھ ثمن کو بھی گھسیٹا تھا۔فہام کی موبائل پہ چلتی انگلیاں چند پلوں کے لیے رکی تھی کیونکہ اسکا جواب لازمی کوئی کرارا ہی ہوگا ۔
“مجھے کیا ضرورت ہے فضول میں تبصرے کرنے کی ۔”ثمن نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا ۔اس کےجواب پہ فہام کا بےساختہ قہقہہ پڑا تھا۔
“فرخ بھائی کچھ لوگ ناں کسی کی تعریف کر ہی نہیں سکتے ۔انکا شمار بھی غالباً ان ہی لوگوں میں ہوتا ہے۔”فہام نے فرخ سے کہا اور ایک گھوری ثمن کو ڈالی۔
“جو مرضی سمجھ لیں آپ ۔آپکی سمجھ ہے میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔بات کو الگ مطلب کے جامے پہنانا آپ لوگوں کی خصوصیت جو ٹھہری ۔”ثمن نے بھی تیکھے لہجے میں کہا ۔
“خصوصیات توآپ نے ابھی میری دیکھی ہی نہیں مس درثمن ۔”فہام نے ابرو اٹھاتے ہوئے تھا۔
“تصیح کر لیں برادر اِن لا ۔مس درثمن نہیں مسز درثمن۔”احتشام نے فہام کو دیکھتے ہوئے کہا ۔سب ہنس پڑے۔
“شامی تم اپنا منہ بند ہی رکھو۔”ثمن کی توپوں کا رخ اب احتشام کی طرف تھا۔
“ثمن لگتا ہے کوئی نئی نئی رشورت لی ہوئی ہے شامی نے ۔”نرمین بھابی نے کہا تھا۔
“میں بتاتی ہوں ناں ۔ارے ثمن بھابھی یہ فہام بھائی کے دو آٹوگراف کے عوض بک چکا ہے۔”کچن سے آتی ملیحہ نے بھانڈا پھوڑا تھا۔
“انتہائی ہی ہلکے پیٹ کی ہو تم ملیحہ موٹو ۔”شامی نے ملیحہ کو گھورا ۔ابھی شام میں ہی اس نے فیسبک پہ اپنے دو دوستوں سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ ناصرف فہام کا آٹوگراف انکو لائیو دلوائے گا بلکہ ساتھ گھومنے پھرنے کا چانس بھی ہے۔اور فہام تو پھر ہےہی سیر سپاٹوں کا شوقین تھا۔اور اتنی شہرت کے بعد بھی اس میں پراوؤڈنس جیسی چیز کا نام و نشان تک نہ تھا۔
فہام مان گیا تھا۔تو تب سے اب تک شامی فہام کے واری صدقے جا رہا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *