Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jhali (Last Episode)

Meri Jhali by Anaya Ahmad

“بھابھی آپ سب باتیں جانتی ہیں پھر بھی آپ مجھ سے پوچھ رہیں ہیں ۔آپ پلیز اس رخصتی کو رکوا دیں ۔”ثمن نے منت کی تھی۔
“دیکھو ثمن یہ حقیقی زندگی ہے ۔کب تک یوں ہی فرار کی راہ چاہتی رہو گی ۔کبھی ناکبھی تو فیصلہ کرنا ہی ہے ناں ۔تو یوں اس سب کو طول دینا بے معنی ہے ۔”نرمین کو اسکی لوجک سے ہی چڑ تھی جس کو بنیاد بنا کے وہ اب تک خود کو دکھی کر رہی تھی۔
“بھابھی میں بھی تو یہ ہی کہہ رہی ہوں کہ یہ حقیقی زندگی ہے ۔کسے گزارے گی۔میں کہاں پھیکے مزاج والی ۔اور وہ گلیمر کی دنیا میں رہنے والے ۔ہمارے مزاج جدا ہیں ۔کل کو تو بھی وہ اپنی راہ کو جدا کریں گے ناں یہ کہہ کہ ہم ساتھ نہیں چل سکتے کیونکہ میں انکے ساتھ مناسب جوڑ نہیں ہوں ۔نہ تو انکی مزاج سے ہم آہنگ ہوں ۔نہ ہی کوئی مجھے لوگوں کی طرح پارٹیوں میں جانے کا شوق ۔”ثمن نے جذباتی انداز میں نم آواز نیں کہا تھا۔
“ثمن تم ناحق فضول باتوں کو اہمیت دے رہی ہو ۔جبکہ شادی کے بعد زندگی یکسر مختلف ہوتی ہے۔یہ اگرچہ اہم بات ہے کہ دونوں اگر ایک مزاج کے ہوں تو زندگی کو ایک ساتھ گزارنا آسان ہو جاتا ہے۔مگر محبت تو ان سب باتوں سے بالاتر ہے۔جس رشتے میں محبت شامل ہو وہ بہت مضبوط ہو جاتا ہے۔اور پھر ہم جس گھر میں رہتے ہیں وہاں کے لوگوں کے مزاج بھی تو ہم سے مختلف ہوتے ہیں ان کے ساتھ بھی تو ہم رہ رہے ہوتے ہیں۔ناں کہ ان سے رشتہ توڑ دیتے ہیں ۔حتی کہ انکے بغیر زندگی کا تصور بھی مشکل لگتا ہے ۔جہاں ہم کام کرتے ہیں وہاں بھی تو ہمارے مزاج کے لوگ نہیں ہوتے ہیں ۔”آج تو ثمن کو لمبے ہاتھوں لینے کا ارادہ تھا بھابھی کا۔
“فہام ایک پیار کرنے والا ،سمجھنے والا اور بہترین انسان ہے۔وہ تمہیں محض تنگ کرنے کو الٹی سیدھی حرکتیں کرتا ہے ۔مگر تم تو اسکے خلاف بھری بیٹھی ہو۔جب ساتھ رہو گے تو جو یہ فضول کے خدشے ہیں ناں دم توڑ جائیں گے۔کیونکہ محبت میں یہ سب نہیں چلتا ۔انسان خود کو اپنے محبوب کے رنگ میں رنگتا چلا جاتا ہے۔اسکے تابع ہونا چاہتا ہے تاکہ اسکے محبوب کو اسکا ہر رنگ بھائے ۔اچھا لگے ۔”ثمن نے کہا ۔
“تو سیدھا کہیں کہ مجھے کمپرومائز کرنا ہو گا ۔خود کی انا کا اپنے ہی ہاتھوں قتل کرنا ہو گا ۔اور پل پل جھکنا ہو گا۔”ثمن نے دوبدو کہا ۔
“پیار محبت میں انا کا کیا تصور بھلا ۔ایک حد تک انا اچھی بھی ہے ۔مگر اگر یہ انا اور ‘میں ‘کا جذبہ زیادہ بڑھ جائے تو یہ سب خوشیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ۔اور نگل جاتا ہے۔رشتوں کا قتل ہو جاتا ہے ۔محبت جیسے پاکیزہ رشتے کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے اس بے جا انا کے ہاتھوں ۔اور تم دونوں کا رشتہ تو ازحد پاک اور پاکیزہ ہے ۔تو اس میں بلا وجہ کی انا اور ضد کیوں ۔”ثمن نے ایک گتھی سلجھائی تھی۔
“یہ سب لڑکی کے حصے میں ہی کیوں آتا ہے۔ایک ساتھی ہی کیوں ان سب باتوں کو پورے کرنے کے لیے پیستا ہے۔”ثمن نے شکوہ کیا ۔
“یہ بات درست ہے کہ ایک ساتھی ہی اس گاڑی کو نہیں دھکیل سکتا ۔دونوں کا شانہ بشانہ ہونا لازمی ہے۔تبھی وہ اس سفر کی خوبصورتیوں سے لطف اندوز ہو پائیں گے۔ورنہ سفر روکے گا تو نہیں مگر اس میں کوئی رنگ نہین ہو گا ۔”نرمین نے کہا تھا۔
“اور رہا سوال راہ جدا کرنے کا تو یہ میں مر کے بھی نہیں ہونے دوں گا ۔چاہے یہ مطالبہ تمہاری طرف سے ہی کیوں نہ ہو ۔لاکھ میرے والد صاحب تمہاری فیور کر لیں ۔مگر میں مرتا مر جاؤں گا ۔مگر تمہاری جان نہیں چھوٹے گی ۔اسی عید پہ رخصتی ہو گی مطلب پانچ دن بعد سو ابھی سے تیاری شروع کر دو ۔یہ دماغ میں جتنی جلدی ہو سکے بات فٹ کر لو۔”اچانک فہام کی بےلچک اور کڑک آواز آئی تھی۔مطلب وہ ساری باتیں سن چکا تھا ۔ثمن نے اسکی سرخ آنکھوں میں دیکھنا مشکل ہو گیاتھا۔وہ کہہ کے نکلتا گیا تھا۔
وہ خود آج اس حوالے سے ثمن سے بات کرنے آیا تھا کہ آخر وجہ جان سکے ۔اسے سمجھا سکے ۔اب جب ثمن اسکی رگ رگ مین بسنے لگی تھی محرم تھی اسکی محض ایک چھوٹی سی بات کو جواز بنا کے زندگی کا تنا بڑا فیصلہ کر رہی تھی۔اسے تو سن کے دھچکا لگا تھا۔
پسند کی شادی تو کروا لی جاتی ہیں مگر پھر چند عرصہ گزارنے کے بعد وہ ہی پسند ناپسند میں ڈھلتی جاتی ہے۔تو یہ کہہ کر جان چھڑا لی جاتی ہے کہ آپس میں ہمارے مزاج نہیں ملے ۔اس لیے ہم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے ۔آج کل ہمارے معاشرے میں یہ روز ہی سننے کو ملتا ہے کہ فلاں کی آپس میں نہ بنی تو علیحدگی اختیار کر لی گئی۔بے تکی بات کو بنیاد بنا کر لوگ طلاق جیسے نا پسندیدہ کام کو آج کل کثرت سے کرتے پائے جاتے ہیں ۔
جسکی گواہ آج کل شدت سے طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح بھی ہے۔لوگ آج کل اپنے رشتوں کو انا کی بنیاد پہ نباتے ہیں ۔جسکا نتیجہ پھر زوال ہی نکلتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل سے اب چوبیس گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر چکا تھا مگر فہام اور ثمن کا سامنا نہیں ہوا تھا ۔گھر پہ بھی ابھی گھمبیر خاموشی کا راج تھا۔سب آنے والے وقت کو لے کے فکر مند تھے۔کیونکہ عظمت صاحب نے ثمن کی رضامندی کے بغیر رخصتی کی حامی نہیں بھرنی تھی اور فہام کی طرف سے رخصتی کا مطالبہ اب زور پکڑ رہا تھا۔
صرف ثمن کے بلاوجہ کے ڈر اور ضد کی وجہ سے اتنا تناؤ چل رہا تھا۔اس کو اس بات کا ڈر تھا کہ مختلف مزاج کے لوگ ساری زندگی ایک ساتھ مجبوری میں جھولتے رہتے ہیں ۔ایک عجیب کھچاؤ سا زندگی کا حصہ بنا رہتا ہے ۔یہ اسکی فکریں اور ڈر تھا۔
“ثمن بابا کا پیغام آیا ہے آج شام سب بچہ پارٹی کو شاپنگ کے لیے بھیجنا ہے ۔سو ٹائم پہ تیار رہنا ۔”ملیحہ نے افطاری سے کچھ ٹائم قبل آ کے اطلاع دی تھی ۔ثمن کچن میں افطاری کے لیے فروٹس کاٹ رہی تھی۔فرزانہ بیگم سالن بنا رہی تھی۔
“ملیحہ میرے پاس پہلے ہی بہت سے جوڑے پڑیں ہیں ان میں سے ہی ایک پہن لوں گی میرا موڈ نہیں ہے۔”ثمن کل کی گفتگو کو لے پریشان تھی تو جھٹ سے انکار کر دیا تھا۔
“یار ثمن یوں تو نہ کرو ۔سب کا موڈ خراب ہو جانا ہے۔سال بعد ہی سب کو ایک ساتھ جانے کا موقع ملتا ہے۔”ملیحہ نے منہ بسورا تھا۔
“نہیں ناں آپ لوگ چلے جاؤ میرا موڈ نہیں ہے۔”ثمن نے باؤل فریج میں رکھتے ہوئے کہا تھا۔
“دیکھیں ناں چچی ۔سب اسکی اتنی فکر کرتے ہیں مگر یہ بلکل بھی ہماری پرواہ نہیں کرتی۔۔۔”ملیحہ روہانسی سی کہتی کچن سے نکلتی چلی گی تھی۔
“ارے سنو تو۔۔۔فرزانہ بیگم اسے آوازیں دیتی رہ گئیں تھیں۔
“دیکھا بچی کو ناراض کر دیا ۔۔ثمن کیوں یوں تم ایسا کر رہی ہو میرا بچہ ۔بات کو سمجھو ۔ایسے تو دونوں خاندانوں کے بیچ اور بھی دوریاں آئیں گئیں جو میں نے اور بھابھی نے ان گزرے کئی سالوں میں نہیں آنے دیں ۔ہماری محنت کو یوں برباد نہ کرو بیٹا ۔”فررزانہ بیگم اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتی اسے سمجھاتی خود بھی رنجیدہ سی باہر کو ہو لیں تھیں۔
افطاری کے بعد وہ ناچاہتے ہوئے بھی سب کا خیال کرتے سب کے ساتھ شامل ہونے کے لیے نیچے آ گئی تھی۔سب تیار تھے ۔نرمین بھابھی اور عمیر بھائی نے ایک گاڑی میں جانا تھا ماذن نے گھر دادی کے پاس رہنا تھا۔ملیحہ شامی اور درثمن نے ایک ساتھ جانا تھا۔فہام درانی کا البتہ کوئی اتہ پتہ نہ تھا جس پہ ثمن نے سکھ کا سانس لیا تھا۔
ہنستے ہنساتے وہ لوگ مال پہنچے تھے ۔ابھی وہ اپنے متعلقہ فلور کی طرف جا ہی رہے تھے جب پیچھے سے کسی نے ثمن کے کندھے جو چھوا تھا اور اپنی کاپی اتر اسکے سر پہ ٹیڑھے سے انداز میں رکھی تھی ۔اور اپنا بازو اسکے گرد لپیٹ لیا تھا۔
“ہیلو مسز فہام درانی ۔۔”اتنی جسارت فہام درانی کے سوا کوئی نہیں تھا کر سکتا ۔ثمن کو گویا جھٹکا لگا تھا۔
“اف خدایا ۔کبھی تو شرم کر لیا کریں ۔”ثمن نے اسے دور کیا ۔اور ناگواری سے اسکا دیا ہوا کیپ اتارا تھا۔
“بقول تمہارے میں تو بے شرم ہوں ناں تو کچھ بھی کر سکتا ہوں ۔شرم کیسی ؟؟ ۔۔”فہام نے آنکھ مارتے ہوئے کہا تھا۔
“فہام کم از کم اس بات کی ہوش کر لیں ہم یہاں اس وقت ایک مال میں ہیں ۔اورہم اکیلےنہیں ہیں ۔مگر نہیں آپ کو ہر وقت پبلسٹی کی پڑی رہتی ہے ۔”ثمن نے تپے تپے لہجے میں کہا تھا۔اس وقت یہاں کافی رش تھا کیونکہ عید میں تین دن رہ گئے تھے اگر انتیس روزے ہوتے ۔
“ہاں تو کس نے روکا ہے اکیلا ہونے سے ۔میں تو جی جان سے کوشش کر رہے ہوں اکیلا ہونے کی ۔آپ ہی تنہائی میں میسر نہیں مجھے ۔اور اس فراہمی کے لیے میری کاوشیں جاری و ساری ہیں۔”فہام نے بات کو اپنے مطلب کا جامہ پہنایا تھا۔اور ثمن سے کیپ لیتے ہوئے اپنے سر پہ اس انداز میں ڈالی کہ اسکا چہرہ کم نظر آئے لوگوں کو ۔ورنہ ابھی سیلفی سیزن شروع ہو جانا تھا۔
“پتہ نہیں کس غلطی کی سزا ملی ہے مجھے۔”ثمن نے دانت پیستے ہوئے کہا تھا۔
“نیکیوں کا صلہ سمجھو ۔۔”فہام نے اسکی بات پہ کہا ۔ثمن نے ان لوگو کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں ڈوڑائیں وہ لوگ کہی بھی نظر نہیں آ رہے تھے۔
“وہ لوگ آرام سے اپنی اپنی شاپنگ کر رہے ہیں ۔تم بھی آرام سے آؤ میرے ساتھ ہم بھی اپنی شاپنگ کریں ۔”فہام نے چونکہ ان لوگوں کے ساتھ پہلے سے ہی یہ پلان سیٹ کیا ہوا تھا تو وہ لوگ فہام کے آتے ہی ثمن کو چھوڑ رفو چکر ہو گئے تھے۔
“فہام آپ کس دن اپنی دو نمبریوں سے باز آئیں گئے۔”ثمن کو سمجھ آ گئی تھی کہ انکو غائب کرنے والا کارنامہ کس کا ہو سکتا ہے۔
“جس دن تم خود میرے پاس آنے لگ جاؤ گئ ناں تو مجھے یوں دو نمبریاں نہیں کرنی پڑیں گئ ۔”فہام نے دلکش مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔اور ساتھ ہی ایک شاپ کا گلاس ڈور کھول کے اسکو ساتھ لیتا اندر چلا گیا ۔
“ادھر سے شاپنگ کریں گے ہم دونوں ۔”فہام نے ایک شاپ کے اندر آ کے اپنی کیپ اتاری تھی۔شاپ کیپر اسے پہچان ان کے پاس آ گیا تھا مطلب کہ وہ پہلے بھی یہی سے شاپنگ کرتا ہے۔شاپ کو دو سیکشن میں تقسیم کیا گیا تھا ۔لیڈیز اور جینٹس ۔۔
“میں پہلے ان محترمہ کی شاپنگ کروں گا۔”فہام نے اس لڑکے سے کہا تھا۔تو وہ اپنی راہنمائی میں انکو لیڈیز سیکشن میں چھوڑ آیا تھا۔یہاں بھی رنگوں کی ایک دنیا تھی ہر چیز روشنیوں میں نہائی ہوئی تھی۔
“ویلکم میم ۔۔”سیلز گرل نے پاس آ کے اپنے پیشہ وارنہ انداز میں کہا تھا ۔اور فہام کو دیکھ وہ کھلی تو فہام نے ہاتھ ہلایا تھا۔
شاپ میں اور بھی لوگ تھے۔
اب ثمن ہلکے ہلکے کلرز والے ڈریسز چیک کر رہی تھی ۔فہام ایک دو منٹ اسکو ضبط سے کھڑا دیکھتا رہا تھا۔پھر آگے بڑھا تھا۔
“خدا کا خوف کر جاؤ ۔ان کلرز کو تم نے اپنی شادی کے بعد پہننا ہے اور ایک جوڑا رخصتی پہ ۔تو فہام درانی کی بیوی یہ ڈل کلرز پہنے گی اب ۔۔۔”فہام نے اسکے ہاتھ سے ایک کرتا لے کے واپس رکھتے ہوئے کہا تھا۔
“تو کسی اور کو پہنا دیں ۔بلکہ بیوی بنا لیں ۔”ثمن نے تڑخ جواب دیا۔
“بیوی بھی تم ہی ہو اور پہنوں گی بھی تم ہی تو ناحق خود کو ہلکان نہ کرو اس بحث میں ۔۔”فہام نے اسکی عقل پہ ماتم کرنا چاہا۔۔
“یہ لو اور اسے ٹرائی کرو اتنی دیر میں عید والے دن کا جوڑا دیکھتا ہوں جو کہ ہماری رخصتی کا دن ہو گا۔۔”فہام نے ایک ٹاپ نکال کےا سے تھمایا تھا جو گولڈن کلر کا تھا اور اسکے اوپر ہلکا ہلکا سا نفیس کٹ ورک تھا۔
“مجھے نہین یہ پسند۔۔ بس کہہ دیا میں نے ۔”ثمن نے ایک نظر دیکھے بغیر ہی کہا ۔
“پہنو گی کہ سب کے سامنے بلند آواز میں آئی لو یو بولوں ۔۔۔”فہام بے اسکے پاس آتے ہوئے کہا تھا ۔دھمکی کارگر ثابت ہوئی اور وہ جلتی ہوئی ٹرائل روم کی طرف چل دی۔اب اسے ناچاہتے ہوئے بھی شاپنگ فہام کی مرضی سے کرنی پڑنی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“شامی تم اس شاپ پہ چلو میں ذرا اپنی فرینڈز سے مل آوں۔۔”ملیحہ نے کہا تھا۔اور سامنے کھڑی دو لڑکیوں کو ہاتھ ہلایا تھا۔
“ایک تو تمہاری دوستیں ۔کتنی کو آ گئیں ہیں ۔”شامی نے چڑ کے کہا تھا۔
“بس دو ہی ہیں۔وہ دیکھو میں آئی ابھی۔”ملیحہ نے سامنے کی طرف اشارہ کیا تھا۔شامی نے بھی اس طرف دیکھا تھا۔ایک دبلی سے لڑکی کھڑی تھی۔اور ساتھ ایک ملیحہ کی جسامت سے بھی دگنی جسامت والی لڑکی تھی۔
“یہ بس ہے کیا ٹرک کہو۔۔”فہام نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔
“اگر تھوڑی سے بھی شرم ہے تو کر جاؤ تم۔”ملیحہ نے اسے شرم دلانے کی ناکام کوشش کی۔وہ لڑکیاں ادھر ہی دیکھ رہیں تھی۔شامی نے بھی ہنستے ہوئے ہاتھ ہلایا ۔
“اب اسی ٹرک سے فلرٹ کر رہے ہو ۔”ملیحہ نے اسکے بازو پہ مکا مارا تھا۔
“جیسی بھی ہے تم سے کیوٹ ہے ۔میرے ٹرک ۔۔”شامی نے ملیحہ کو تپایا تھا۔
“دفعہ ہو تم شامی۔فضول انسان۔۔”ملیحہ غصے سے کہتی آگے بڑھ گئی تھی۔
“میں کھانا کھانے جا رہا ہوں آجانا جلدی ہی ۔”شامی نے پیچھے سے کہا تھا۔
“کہاں رہ گئی ہو ملیحہ موٹی میں کب سے کھانا منگوا کے تمہارا ویٹ کر رہا ہوں ۔”شامی نے آدھا گھنٹا گزر جانے کے بعد اسے کال کی تھی۔
“ہائے شامی تمہیں میری کتنی فکر ہے ۔میں بس آ رہی ہوں ۔۔کیا کیا منگوایا ہے میرے لئے تم نے سپیشل ۔”ملیحہ کو آج پہلی بار شامی پہ پیار آیا تھا۔
“سب کچھ آج ملیحہ کی پسند کا منگوایا ہے میں جلد سی آ جاؤ ۔”شامی کا لہجہ شہد سے بھی میٹھا تھا۔
جب ملیحہ آیا تو ٹیبل بھرا پڑا تھا کھانے پینے کی چیزوں سے اور شامی موبائل پہ لگا تھا۔کچھ ڈشز چائینز تھیں ۔
“ہائے اللّٰہ شامی سب کچھ میری چوائس کا ہے ۔تم نے میرے انتظار میں شروع بھی نہیں کیا ۔ہاؤ سویٹ ۔۔”ملیحہ آج شامی پہ نثار ہو رہی تھی۔
“باتوں میں وقت ضائع نہ کرو جلد آؤ ۔ٹھنڈا ہو رہا ہے کھانا۔”شامی نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے بیٹھایا تھا۔
“احتشام یو آر سوسویٹ ۔”ملیحہ نے دل سے کہا۔اب وہ کھانے کے ساتھ انصاف کر رہے تھے۔کچھ دیر بعد شامی کا فون بجا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *