Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri jhali (Episode 01)

Meri jhali by Anaya Ahmad

جب وہ نیچے آئی سب لوگ انہماک سے سامنے رکھی ایل سی ڈی دیکھنے میں لگے ہوئے تھے۔وہ اس قدر انکے کھو جانے والے انداز پہ متجسس ہوتی آگے بڑھی تو اس انہماک کی وجہ سمجھ میں آئی ۔وہ برا سا منہ بناتی وہاں سے ہٹی تھی۔سب لوگ ٹی وی میں بھاگتے دوڑتے مناظر کو دیکھنے میں مگن تھے۔چہروں میں خوشی اور پیار کی تحریریں تھیں ۔
یہ نچلے پورشن کا منظر تھا جو تایا ابو کا تھا۔چھوٹوں بڑوں سے اس وقت کمرہ فل بھرا ہوا تھا۔
وہ مین ڈور کھول کے باہر آ گئی تھی۔اور چند قدموں کی دوری پہ بنے ہوئے لان میں داخل ہوئی تھی۔جہاں چئیرز اور ٹیبل پڑا ہوا تھا۔پودے اور گھاس لگے ہوئے تھے۔ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا بہت بھلی لگ رہی تھی۔
مئی کا اوائل تھا۔دن کو گرمی شدید ہوتی تھی مگر رات کو کچھ زور کم ہو جاتا تھا۔آج تو ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔اس کے بال اڑ کے اسکے چہرے پہ آ رہے تھے۔
“تایا ابو نے بہت غلط فیصلہ کیا ہے ۔”اسنے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے سوچا۔اور ایک سرد آہ خارج کی تھی۔اور اردگر کے ماحول کے مسحور کن سحر میں کھو سی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس گھر میں دو بھائی رہتے ہیں ۔عظمت درانی اور قدیر درانی ۔عظمت درانی سخت طبیعت کے مالک ہیں ۔سب ان سے ڈرتے ہیں سوائے ایک انسان کے ۔عظمت درانی کی زوجہ ہیں فاطمہ جو ایک دھیمی مزاج کی خاتون ہیں ۔انکی چار اولادیں ہیں ۔عمیر ،ماہم ،فہام اور ملیحہ۔
پھر آتے ہیں قدیر صاحب انکے تین بچے ہیں ۔ضیاء ،در ثمن اور
احتشام۔
عظمت درانی اور قدیر درانی کی ایک بہن بھی اسی شہر میں مقیم تھیں ۔
شہربانو بیگم ۔جن کے تین بچے تھے ۔فرخ اور اس سے چھوٹا حسن بی بی اے کے فورتھ سمسٹر میں تھا اور پھر چھوٹی سی زینیا جو میڑک میں تھی۔
عمیراور ماہم کی شادی ہو چکی ہے ۔ ایک عدد ماذن نامی پھول عمیر کا آنگن میں مہک چکا ہے۔ماہم کی شادی اسکے ماموں زاد فرخ سے ہوئی ہے جو اسی شہر میں مقیم ہے۔انکی شادی کو ابھی ایک سال کا عرصہ ہواہے۔فہام اپنی سٹڈیز مکمل کر چکا ہے۔اور اب ایک نئی دنیا میں نکل چکا ہے-وہ اس خاندان کا ہونہار اور ضدی سپوت ہے۔اور پھر باری ہے ملیحہ کی جس نے ماسٹرز میں ایڈمیشن لیا تھا احتشام کے ساتھ ہی ۔دونوں میں ایک سال کا فرق تھا ۔احتشام بڑا تھا مگر اسے مانتا کون تھا۔جس پہ دونوں کی لڑائی ہوتی رہتی تھی۔ضیاء بھائی کی بھی انگیجمنٹ ہو چکی ہے مگر انہیں ابھی شادی نہیں کرنی یہ کہہ کے وہ بچے ہوئے ہیں کچھ وقت کے لیے۔
درثمن صاحبہ اپنی سٹڈیز مکمل کر کے درس وتدریس کے شعبے میں آ چکی تھیں ۔جو ایک نجی کالج میں اپنے فرائض سرانجام دے رہی تھی ۔اپنی فیملی کی سلجھی اور دھیمے مزاج والی بچی تھی یہ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درثمن کا معمول تھا کہ وہ صبح اٹھ کے وقت پہ نماز ادا کر کے گھر کے لان میں چہل قدمی کے لیے نکل آتی تھی پھر اندر جا کے تائی کے ساتھ باتوں میں تھوڑا ٹائم گزارتی تھی ۔
آج بھی یہ ہی ہوا تھا۔جب وہ واپس آئی صرف تائی اماں نظر آ رہی تھیں۔باقی سب سو رہے تھے۔عمیر بھائی نے آج لیٹ آفس جانا تھا اس لیے نہ وہ نظر آ رہے تھے نہ ہی نرمین بھابھی۔ملیحہ تو یونی جانے سے دس منٹ پہلے ہی اٹھتی تھی اسے نیند بہت پیاری تھی۔اور رہ گئے فہام درانی صاحب تو
“وہ کل اپنی شوٹ سے ہی لیٹ آئے ہونگے انکی صبح ابھی کب ہونی ہے ۔”درثمن بڑبڑائی تھی۔
“اسلام علیکم تائی امی۔”درثمن نے کہا تھا۔
“وعلیکم اسلام۔کیسی ہے میری رانی بیٹی۔”تائی نے معمول کے مطابق اسے پیار کیا تھا۔یہ انکو بہت پیاری تھی کیونکہ عظمت درانی کی اس میں جان تھی۔درثمن عظمت صاحب کو شروع سے ہی بہت پیاری تھی۔کچھ مزاج بھی ان سے ملتے تھے۔
“میں ٹھیک ہوں ۔تایا ابو نہیں اٹھے ابھی۔”درثمن نے پوچھا تھا۔
“اٹھ گئے ہیں کمرے میں ہی ہیں ۔دیکھو ذرا ماشاء اللّٰہ تم واک سے بھی ہو آئی اور میری نکمی اولاد ابھی اٹھی ہی نہیں ہے۔”تائی کو انکی عادت سے سخت چڑ تھی۔
“ماما کیوں لوگوں کے سامنے اپنی اولاد کو برا بھلا کہہ رہی ہیں ۔لوگ پہلے ہی سیر ہیں ۔سواسیر ہو جائیں گے۔”فہام کہتے ہوئےفاطمہ بیگم کے ساتھ بیٹھا تھا۔آنکھیں موندی ہوئی تھیں۔ٹروازر شرٹ میں تھا اس وقت ۔سیاہ بال ماتھے پہ بکھرے ہوئے تھے صاف رنگت ،دراز قد۔ایک مکمل مرد تھا۔جس نے پچھلے ایک سال سے انڈسڑی میں دھوم مچا دی تھی۔اور پبلک کو اپنا دیوانہ بنا لیا تھا۔ہر کوئی فہام درانی کے گن گاتا تھا۔سوائے دو انسانوں کے ۔ایک تھی درثمن اور اسکے حامی تایا ابا یعنی عظمت درانی۔
“لوگ کس کو بول رہے ہو تم افی۔میں ماروں گی تمہیں ۔اور آج بہت جلدی آنکھ کھل گئی رات بھی لیٹ آئے تھے تم ۔”تائی نے درثمن کے بولنے سے پہلے کہا تھا۔
“والدہ ماجدہ کو لوگ ہم سے زیادہ پیارے ہو گئے ہیں اب۔اور پتہ نہیں آج کی صبح میں ایسا کیا تھا کہ آنکھ خودبخود کھل گئی۔”فہام نے اپنے سامنے بیٹھے وجود پہ نظر ڈالتے ہوئے کہا تھا جو اب اٹھنے کو پر تول رہی تھی۔وہ اس کے سامنے آنے سے بھی کتراتی تھی۔وجہ تھی ان دونوں کے مزاج کا فرق ۔
درثمن بھولی بھالی دل کی صاف اور کم گو سی لڑکی تھی۔جو زندگی کو سادگی سے گزارنا پسند کرتی تھی۔اور زندگی میں زیادہ ہل چل ،گلیمر اور میل ملاپ پسند نہ تھا۔اسکا اپنا سرکل بھی محدود سا تھا۔
“تائی اماں میں اب چلتی ہوں ۔کالج کی تیاری بھی کرنی ہے ۔”ثمن نے کہا تھا اور ساتھ ہی اٹھ گئی۔
“اچھا بچے ۔میں بھی فہام کو جوس لا دوں ۔تم بھی لے جاؤ ۔پی لینا اچھا ہوتا ہے ۔آج کل کے بچوں کو تو کھانے پینے کی ہوش ہی نہیں دیکھو تو کتنا سا منہ نکل آیا ہے ۔ٹھہرو ذرا میں آئی۔”تائی درثمن کو کہتے کچن کی طرف چل دیں۔
“دوسروں کو تمیز کے لیکچر دینے والے خود تمیز کے ‘ت’ سے بھی ناواقف ہیں ۔”فہام نے سیدھی چوٹ کھڑی درثمن پہ کی تھی ۔جو جانے کو تیار کھڑی تھی۔فوکس میں اسکا من موہنا چہرہ تھا۔نماز کے سٹائل میں ڈوپٹہ بندھا ہوا تھا۔ہلکی سنہری آنکھیں ۔
“کون سی گستاخی کر بیٹھی ہوں میں ۔ترانہ ہی نہ پڑھ دوں میں آپکی شان میں ۔”درثمن نے جھنجھلاتے ہوئے کہا تھا۔وہ صبح صبح جس بحث سے بچنا چاہتی تھی وہ ہی گلے پڑھ گئی تھی بس۔
“نہیں اب میں استانی صاحبہ کے قیمتی وقت میں سے صرف ایک سیکنڈ لینا کا اختیار تو رکھ سکتا ہوں ناں ۔سلام لینے میں کتنا وقت لگتا ہے بھلا ۔”فہام نے اسکے تپے چہرے کو دیکھ کے اور تپایا تھا۔
“دیکھیں صبح صبح میرے ساتھ مغز ماری نہ ہی کریں آپ ۔”وہ چڑی ۔اور ایک دفعہ کچن کی طرف نظر دوڑائی تائی کہی نظر نہیں آئی تھی۔
“صرف تھوڑی سی زبان ہی ہلنی ہے آپکی محترمہ ۔”فہام نے صوفہ پہ نیم دراز ہو کے سر کے نیچے بازو رکھے تھے۔اب درثمن کا چہرہ صاف نظر آ رہا تھا۔
“ہمارے ہاں زبان ہلانے کے لیے جذبات چاہیے ہوتے ہیں ۔جو کہ حقیقی دنیا کے واقعات پہ استعمال میں لائے جاتے ہیں ۔آپ کی طرح نہیں زبان ہلانی آتی ۔جہاں صرف اداکاری درکار ہوتی ہے ۔جذبات کے بغیر بھی کام چل سکتا ہے ۔کیونکہ اسکا حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔”درثمن نے بدلہ لیا تھا۔
“اچھااااااا۔۔۔جذبات تو وہاں بھی درکار ہیں ۔کیونکہ جذبات کے بغیر کوئی اداکار نہیں بن سکتا ۔”فہام نے بند ہوتی آنکھوں کو کھولا تھا۔
“وہ جذبات جھوٹے ہوتے ہیں ۔محض چند پلوں کے لیے ۔”درثمن نے کہا تھا۔
“جھوٹ سچ سے آج کل کسے فرق پڑتا ہے۔سب اداکاری ہی تو کر رہیں ہیں ۔یہاں بھی اور وہاں بھی۔وہاں صرف ایک عدد اضافہ سکرین کا ہوتا ہو گا۔اور ویسے بھی جو آپ کے ہاں فریب ہوتے ہیں ناں انکو ہی ہم محفوظ کر کے لوگوں تک پہنچا رہے ہوتے ہیں ۔”فہام نے طنز میں بات لپیٹ کے واپس کہی تھی۔دلائل دونوں کے پاس ہی تھے۔اس سے پہلے کے بحث طول پکڑتی تائی اماں آ گئی تھی۔
“یہ لو بیٹا ۔جیتی رہو۔”تائی نے کہا تھا۔تو وہ بمشکل انکا خیال کرتے ایک مسکراہٹ انکو دیکھ کر چہرے پہ لاتے سیڑھیوں کی طرف مڑی۔
“جتنے مرضی تازہ جوس پلالیں اس کو ۔عقل پھر بھی انکی باسی ہی رہنی ہے۔”فہام نے صوفے سے اٹھتے ہوئے فاطمہ بیگم کے ہاتھ سے جوس کا گلاس لیا تھا۔
“کیوں بچی کو تنگ کرتے ہو۔اور پلے سے باندھ لو میری بات کہ یہ لاکھوں میں ایک ہے۔”فاطمہ بیگم نے اسکے کان کو مڑوڑتے ہوئے کہا تھا۔
“سوری میں کونسا ڈوپٹہ لیتا ہوں تو پلو کہاں سے آیا ۔”وہ شرارت سے کہتا اپنے کمرے کی طرف بھاگا ۔کیونکہ اسے اپنے کان بہت عزیز تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لیکچر لے کے فیکلیٹی روم میں آئی تھی جہاں کچھ ساتھی کولیگز پہلے سے ہی بیٹھی ہوئیں محو گفتگو تھیں ۔درثمن کی سب سے اچھی دوستی تھی۔وہ سب بھی اس سے اچھے سے ملتے ۔ایک وجہ یہ بھی تھی کہ درثمن کا ماموں کا کالج تھا جس کا نام ٹاپ کلاس کالجز میں ہوتا تھا۔تو کچھ مینجمنٹ کے کام بھی اکثر در ثمن سنبھال رہی ہوتی تھی۔
“آؤ درثمن ۔کیسی ہو ۔؟”اسکی ساتھی کولیگ شفق نے اسے آتے دیکھ کہا تھا۔
“الحمد اللّٰہ۔تم سب سناؤں ۔خیریت ہے بھئی یہ کس خوشی میں سب نے گروپ بنا رکھا ہے۔کیا راوزونیاز ہو رہے ہیں ۔”درثمن نے چار پانچ لوگوں کو سر جوڑے بیٹھے دیکھا تھا۔
“رازونیاز تو آج کل ایک بندے کے بارے میں ہوتے ہیں ۔فہام درانی ۔اف کیا پرسنالٹی ہے اس بندے کی۔”یہ تھی سب سے چلبلی انکی کولیگ نگین ۔درثمن کو غصہ آیا تھا اسکے ذکر پہ۔
“تم آہیں نہ بھرو نگین اتنی۔درثمن تمہیں ملاوا دے گی فہام درانی سے ۔یہ تو اسکی کزن ہے ۔”فوزیہ نے تسلی دی تھی نگین کو ۔
“ہاں یار یہ نیک کام تو کر دو تم میرا ۔ثمن ۔”نگین نے درثمن کے لیے ساتھ والی کرسی خالی کی ۔
“تم لوگوں نے ایویں اسکا ہّوا بنایا ہوا ہے۔اور نگین کو تو ہر وقت کسی ناں کسی انڈسٹری کے ہیرو کا بخار چڑھا ہوا ہوتا ہے۔”درثمن نے کہا تھا۔
“یوں تو نہ کہوں اب تم ۔اس بندے کی ایکٹنگ میں کچھ تو دم ہے ۔”کب سے چپ بیٹھی راحت نے بھی تبصرہ کیا تھا۔
“تم یہ بتاؤ کہ تم ملوا رہی ہو کہ نہیں ؟یا میں خود ہی تمہارے گھر دھاوا بول دوں۔”نگین نے دھمکایا تھا ۔سب ہنس پڑیں ۔
“نگین مجھے بھی لے چلنا ساتھ مجھے اسکے گھر کا اڈریس پتہ ہے۔میں بھی آٹو گراف لے لوں گی میرا بیٹا فہام درانی کی ہوسٹنگ کا بہت بڑا فین ۔”شفق نے بھی کہا تھا۔
“ہاں کیڑے تو ایک مجھ میں ہی ہیں ۔”ثمن نے سوچا ۔
“کبھی موقع ملا تو ضرور ۔چلو اب لنچ کرتے ہیں ۔”درثمن نے کہا تھا۔تاکہ سب کا دھیان ہٹایا جائے اس ٹاپک سے ۔وہ کامیاب بھی ہوئی تھی۔
“پتہ نہیں کیا ہو گا اب ۔”درثمن کے ذہن میں مستقبل کے لیے سوچ ابھری تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جلی بھنی گاڑی پارک کر کے ٹفن نکال کے ایک بلند وبالا عمارت کے پارکنگ ایریے سے ایک وسیع لابی میں داخل ہوئی تھی۔بائیں طرف بنی لفٹ میں داخل ہوئی اور مطلوبہ فلور کا نمبر دبایا تھا۔ففتھ فلور۔
“یہ ہی ایک جی حضوری رہ گئی تھی اب لارڈ صاحب کی ۔”درثمن نے کڑھ کے سوچا ۔
آج اسنے بہت شوق سے بریانی بنائی تھی ۔جو کہ اسکے ہاتھ کی سب کو پسند تھی۔آج وہ کالج سے جلد لوٹ آئی تھی کچھ موڈ اچھا تھا تو کچن میں گھس گئی ۔اب ساری شوخی جھنجلاہٹ میں بدل چکی تھی۔کیونکہ گھر پہ کوئی نہ تھا اور تائی اماں نے اسے کہا تھا کہ فہام کو لنچ دے آو ۔اور وہ چاہ کے بھی منع نہ کر سکی۔کیونکہ گھرمیں اسکے سوا کوئی اور موجود نہ تھا۔
“ایکسکیوزمی فہام درانی کا کیبن کدھر ہے۔”ثمن نے ایک بڑے سے ہال میں ایک طرف بنے ریسیپشن پہ آ کے پوچھا تھا۔سارے ہال مختلف حصوں میں بٹا ہوا تھا۔وڈ کے کیبنز بنے ہوئے تھے جہاں ورکرز کمپیوٹرز پہ کام میں مصروف تھے کچھ اسٹوڈیو میں بھی کام کرتے نظر آئے تھے۔
“جی آپ کون۔؟”ریسپشن والی بے پوچھا تھا۔
“میں انکی فیملی ممبرز میں سے ہی ہوں ۔یہ لیں میرا کارڈ۔چاہیں تو آپ ان محترم سے پوچھ لیں جا کے۔میں کبھی نہ آتی یہاں ۔مجھے بحالت مجبوری آنا پڑا ۔انکا لنچ ڈرائیور لاتا ہے وہ کہی اہم کام کے سلسلے میں گئے ہوئیں ہیں ۔کوئی اور سوال ۔میں اپنا آئی ڈی کارڈ آپ کو دے دیا ہے ۔اب کیا گردہ بھی نکالا دوں ۔”وہ بولنے پہ آئی تو بولتی گئی ۔غصہ کسی اور پہ تھا نکل ادھر گیا ۔آخر جملہ ہلکا ہی بولا تھا امید تھی کہ مقابل کی سماعت اس سے محروم رہی ہو۔
“جی میڈم آپ جا سکتی ہیں ۔اسے لائن میں مطلب رائٹ سائیڈ پہ تھرڈ کیبن ہے انکا۔”لڑکی نے کارڈ لیتے ہوئے کہا تھا ۔
“سوری اینڈ تھینکس ۔”ثمن کو فٹ احساس ہوا تھا اور وہ معذرت کرتی آگے بڑھ گئی تھی۔
کسی کا دل دکھانا کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔آج کل تو یہ کام بہت شوق اور سر عام کیا جا رہا ہے ۔مگر اچھا انسان وہ ہی ہے جو اپنی حدود کا خیال اور دوسروں کی عزت کا خیال رکھے اور کسی کی عزت نفس کو مجروح نہ ہونے دے ۔
ثمن آگے بڑھی ۔مگر اندر کا منظر اسکو اور بھڑکا گیا تھا۔
فہام درانی اور ایک ماڈرن سی لڑکی اسکے سامنے والی کرسی پہ بیٹھی ہوئی تھی جینز اور شرٹ میں ۔فہام کے ہاتھ میں کاغذ تھا کوئی اور ایک ہاتھ میں اس لڑکی کا ہاتھ ۔لڑکی کچھ بولنے کے ساتھ ساتھ ہنس بھی رہی تھی

                                                       (جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *