Meri jhali by Anaya Ahmad NovelR50685 Meri Jhali (Episode 02)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Jhali (Episode 02)
Meri Jhali by Anaya Ahmad
ثمن کو تو اپنا آپ جلتا دہکتا محسوس ہوا ۔اس سے پہلے کہ وہ مڑتی فہام اسکو دیکھ چکا تھا ۔وہ اس افتادہ پہ گھبرا گیا کیونکہ وہ تو صرف ریہرسل کروا رہا تھا۔
“شٹ ۔ہمیشہ غلط ٹائم پہ آتی ہو تم ۔”وہ اس لڑکی کا ہاتھ جھٹکتا دل میں کہتا کھڑا ہوا ۔ثمن غصے میں واپس مڑی ۔
“ایکسکیوزمی ۔یہ فہام درانی کو بھیج دیں ۔”وہ دھپ سے ٹفن ریسیپشن پہ رکھ کے بولی۔وہ لڑکی حیران اسکی صورت تک رہی تھی ۔
“کیا چیز ہے یہ لڑکی۔”ریسپشینسٹ بڑبڑائی ۔
“ثمن ثمن ۔چلو آؤ میرے ساتھ ۔کیبن میں جا کے بات کرتے ہیں ۔”اس سے پہلے کہ ثمن جاتی فہام نے ایک ہاتھ سے اسکا ہاتھ پکڑا اور ایک ہاتھ سے ٹفن اٹھا کے اسکو اپنے ساتھ کھینچا تھا۔
“مجھےنہیں جانا کہیں ۔اور بھی کام ہیں مجھے ۔نا کہ آپکی چاکریاں کرتی رہوں میں آ کے۔”ثمن نے ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا۔ آواز پہ سب ان کی جانب متوجہ ہو گئے تھے۔
“دیکھو سب لوگ دیکھ رہیں ہیں ۔پوچھیں گے کہ تم کون ہو؟۔تو میں اپنا رشتہ بتا دینا ہے ۔تو آرام سے اند چلو میرے ساتھ۔”فہام نے صلح جو انداز میں سمجھایا جو اسے خونخوار نظروں سے گھور رہی تھی۔یہ اسکی دکھتی رگ تھی۔چپ چاپ چل دی۔
کیبن میں آتے ہی فہام سے اسنے ہاتھ چھڑوایا تھا ۔وہ لڑکی نہیں تھی اب یہاں ۔فہام نے مسکراتےہوئے اسکا ہاتھ چھوڑا اور کرٹن نیچے کر دئیے۔
“بیٹھوں ادھر میں ہاتھ دھو کہ آیا ابھی ۔”فہام نے اسے کہا تھا اور اس کمرےکے ساتھ ملحقہ چھوٹے سے واش روم میں گھس گیا ۔درثمن مجبوراً بیٹھ کے اردگرد کا جائزہ لینے لگی۔
ایک دیوار پہ فہام درانی کے پوسٹرز لگے ہوئے تھے۔اور دیوار کے ساتھ پڑے ٹیبل پہ مختلف مواقعوں پہ جیتے ہوئے ایوارڈز۔مشہور سیاسی ،سماجی اور فلمی دنیا کے ستاروں کے ساتھ تصویریں بھی پڑھی ہوئی تھیں۔
ایک طرف لیپ ٹاپ پڑا تھا۔فائلیں پڑی تھی ۔دو چئیرز تھی ایک صوفہ پڑا تھا جس کے سامنے بھی ٹیبل تھا اور ایک واس پڑا ہوا تھا۔
“میری استانی آج میرے لیے لنچ لے کے آئی ہے ۔واہ۔میری تو عید سے پہلے عید ہو گئی۔”فہام نے اسکا ارتکاز توڑا ۔اور اسکے ساتھ صوفہ پہ آکے بیٹھ گیا اور ٹفن کھولا ۔
“کچھ دیر پہلے بھی ویسے یہاں عید کا ہی سماں تھا۔”درثمن نے اسکو دیکھتے ہوئے چوٹ کی ۔فہام نے بلیو شرٹ پہنی ہوئی تھی۔خوبصورت نین نقوش ۔کچھ بال ماتھے پہ گرے ہوئے تھے۔آستینیں فولڈ کی ہوئی تھی۔
“اوہ اوہ عید تو اب ہوئی میری ۔ ماہ بدولت بریانی بنا کے لائیں ہیں اپنے ہاتھوں سے ۔”فہام نے اسکے طنز کو نظر انداز کیا تھا۔
ثمن نے کڑھتے ہوئے منہ پھیرا ۔
“تم نہیں کھاؤ گی کیا ؟مجھے دیکھ دیکھ کے ہی پیٹ بھرنا ہے کیا ؟”فہام نے پلیٹ میں بریانی نکال کے شرارت سے کہا ۔
“واہ واہ کیا ذائقہ ہے ۔دل کر رہا ہے کہ بنانے والے کے ہاتھ چوم لوں ۔”فہام نے دل سے تعریف کی ۔ثمن اس کی بات پہ تھوڑا سا آگے کی طرف سرکی تھی۔اگلے ہی پل فہام اپنی کہی بات پہ عمل کر گیا ۔
ثمن کو تو گویا سانپ سونگھ گیا تھا۔
“کیا ہوا یوں کیوں گھور رہی ہو۔”فہام نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا۔
ثمن کو اسکی مسکراہٹ زہر لگی ۔دھوکے باز انسان ۔اس لڑکی سے بھی یہ سب کہہ رہا ہو گا ۔بس پھر کیا تھا ۔ثمن کو جو نظر آتا گیا اسکی توڑ پھوڑ شروع کر دی تھی۔
پہلے باری تھی سیلقے سے سجی ہوئی تصویروں کی جو کچھ ٹائم قبل وہ دیکھ رہی تھی ۔انکو گرایا تھا ۔فائلوں کے کاغذ اڑا دئیے سب ۔
“بہت ہنسی آ رہی تھی ناں ۔اب ہنسیں ذرا۔”ثمن نے پیچھے مڑ کے فہام کو کہا تھا۔وہاں وہ ہی اطمینان تھا ۔وہ اپنی بریانی سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔
ثمن کو اسکے اس اطمینان پہ پھر جوش آیا تھا۔اب باری تھی ۔لگے پوسٹرز کی ۔جس میں چند ایک نئے پراجیکٹ کے تشہیری پوسٹرز تھے ۔جس میں فہام تھا۔اور چند اس اکیلے کی کلر سمائل کے ساتھ تصویریں۔تشہیری پوسڑز تو سب زمین بوس ہو گئے تھے مگر فہام کی تصویریں بچ گئی تھی۔
ٹیبل کا دراز کھولا اور اندر موجود دفتری استعمال کی چیزیں پھینکنا شروع کر دی تھیں ۔فہام اپنی بریانی ختم کر کے اسکے پاس آیا تھا۔اطمینان سے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑےتھا۔ثمن کی اس کاروائی سے سانس پھولی تھی۔وہ صوفہ کی طرف لپکی اور اپنا بیگ اٹھایا تھا ۔
“درثمن ۔”دروازہ کھولتے ہوئے فہام کی سنجیدہ سی آواز آئی تھی۔ثمن کے کلیجہ میں گویا ٹھنڈا پڑ گئی تھی کہ اب تو غصہ آیا ہے اسے ۔دوسروں کی بات پہ تو کان نہیں دھرتا جو مرضئ کہی جائیں ۔اب مزہ آیا کہ اگر کسی کی بات کو مذاق میں اڑائیں تو کتنا دکھ ہوتا ۔اب بھڑکے گا اور میں ہنستے ہوئے چلی جاؤں گی۔وہ دل ہی دل میں خوش ہوئی ۔اسکی آواز پہ پلٹ کے دو قدموں کے فاصلے پہ کھڑے فہام کو دیکھا ۔جسکا چہرہ بہت ہی سنجیدہ تھا ۔ضرور کوئی سخت الفاظ کہے گا۔
“فرمائیے اب ۔”ثمن نے دل میں مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
مقابل نے بڑے جان لیوا انداز میں دائیں آنکھ دبائی تھی دلکش مسکراہٹ کے ساتھ ۔
ثمن پہ یہ حرکت اور آگ بھڑ کا گئی تھی۔اسنے دونوں مٹھیاں بند کرتے ہوئے غصے سے کسی چیز کی تلاش میں دائیں بائیں دیکھا مگر کچھ نہ ملا۔وہ ااسکی طرف بڑھی اور فاصلے ختم کرتے ہوئے بولی۔
“یو ۔۔۔۔”اور دونوں ہاتھوں سے اسکے بنے ہوئے بالوں کا حشر نشر کر دیا تھا ۔وہ جلتے دل کے ساتھ باہر نکل آئی تھی۔
وہ مسکراتے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا باہر آیا ۔اس کو دیکھا جو جلتی بھنتی جا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ دو سال پہلے کا منظر ہے درانی ہاؤس کے ڈرائنگ روم کا ۔
جہاں عظمت درانی کا فیصلہ ہر ایک کام میں سنایا جاتا تھا اور کسی میں اتنی مجال نہ ہوتی تھی کہ کوئی اس فیصلے سے روگردانی کر جائے۔
“کہہ دو اس نافرمان سے کہ اگر اس نے اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کی راہ اختیار کرنی ہے تو اسکا اس گھر سے اور ہم سب سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہو گا۔”عظمت درانی کی گرجدار آواز سے سارا درانی ہاوس ہل گیا تھا۔باہر لاوئج میں بیٹھے سب افراد اس بات پہ رو دینےکو تھے۔فاطمہ بیگم تو باقاعدہ رونا شروع ہو گئ تھیں کیا کرتیں انکے جگر کا ٹکڑا تھا وہ ۔
جو لاؤن قہقہوں سے گونجتا تھا آج وہاں خاموشی کا راج تھا۔سب افسردہ بیٹھے ہوئے تھے۔سب مرد حضرات اندر تھے ۔اور نرمین بھابھی بھی ماذن کو لیے افسردہ بیٹھی ہوئی تھی ۔فرزانہ بیگم نڈھال ہوتی فاطمہ کو تسلی دے رہی تھی۔ملیحہ ایک کونے میں بیٹھی رو رہی تھی۔سب پریشان تھے جانتے تھے کہ عظمت درانی اگر ضدی ہے تو فہام درانی بھی انکا خون ہے تو کم وہ بھی نہ تھا۔
ثمن اوپر والی منزل کو جاتی سیڑھیوں میں بیٹھی ہوئی تھی۔
“ثمن تم ہی جاو پلیز۔بابا ایک تمہاری بات مانتے ہیں ۔فی الحال اس معاملہ کو یہاں بند کروا دو۔ورنہ بابا کوئی بہت بڑا فیصلہ نہ کر جائیں ۔میں بھائی کے بغیر نہیں رہ سکتی۔”ملیحہ نے منت کی تھی۔ثمن جانتی تھی کہ فہام کے ساتھ وہ کتنا اٹیچ ہے۔
“فکر نہ کرو سب ٹھیک ہو جائے گا۔اس وقت تایا جان غصے میں ہیں میں کوشش کرتی ہوں ۔”ثمن کچھ سوچتے اٹھی کچن سے ایک گلاس پانی لائی اور ٹرے میں رکھ کے ڈرتے ڈرتے ڈرائنگ روم میں قدم رکھا تھا۔اتنا یقین تھا کہ تایا اسے ڈانٹے گے نہیں ۔
“بھائی صاحب حوصلہ رکھیں ۔وہ ابھی بچہ ہے ۔آپ تو بڑے ہیں یوں اولاد کو خود سے دور تو نہیں کرتے ۔کوئی مصلحت کی راہ نکل آئے گئ۔”قدیر صاحب نے انکو سمجھایا ۔
“ہونہہ یہ ابھی بچہ ہے ۔دیکھا نہیں تم نے کیسے میرے سامنے کھڑا میرے فیصلے سے انکاری ہے۔تم اسے بچہ کہہ رہے ہو۔ضیاء اور فرخ کو دیکھا ہے ناں کتنے قابل ہیں ۔اپنا خاندانی بزنس سنبھال لیا ۔یہ میاں چلیں ہیں انڈسڑی میںُ۔”عظمت صاحب کا غصہ کم ہونے کا نام نہیں تھا لے رہا ۔ضیاء ،عمیر اور احتشام نے اسے سمجھایا تھا مگر جب اسنے کہا کہ یہ اسکا پیشن ہے تو سب پیچھے ہٹ گئے ۔سب کوعظمت درانی کا ہی ڈر تھا۔
“آج یہ انڈسٹری میں جارہا ہے۔کل کووہاں ہی شادی کروا کے اپنی دنیا بھی بسا لے گا۔جبکہ اسے پتہ ہے کہ یہ کام نہ تو پہلے ہمارے خاندان میں کسی نے کیا ہے اور نہ کبھی کوئی کرے گا۔
اور نہ ہی خاندان سے باہر شادیاں کرنے کا میں قائل ہوں ۔”وہ پھر گرجے۔فہام سر جھکائے بیٹھا تھا۔ثمن اندر داخل ہوئی ۔ہاتھ میں ٹرے تھے۔قدیر صاحب نے اشارہ کیا اسے تو وہ سر ہلاتی تایا کے پاس آئی۔
“تایا جان یہ پی لیں ۔”ثمن نے انکو پانی دیا جو انہوں نے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے لے لیا ۔
“فہام بیٹا سوچ سمجھ کے فیصلہ کر لو۔تم ابھی بھی انڈسٹری جوائن کرنا چاہتے ہو۔”قدیر صاحب نے پوچھا کیونکہ انہیں معلوم ہو گیا تھاکہ عظمت صاحب بات نہیں ماننے گے۔
“چچا جان اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔میں آپ سب کی دل وجان سے عزت کرتا ہوں ۔اور ہر مقام پہ میں اپنے بابا کا مان رکھا انکی بات مانی۔یہ میرا شوق ہے میں اسے پورا کرنا چاہتا ہوں ۔میں پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔کیونکہ یہ کوئی غلط مطالبہ نہیں ہے”فہام نے کہا تھا۔دونوں ہی اپنے اپنے موقف پہ ڈٹے تھے۔ثمن نے اپنے ضدی کزن کو دیکھا تھا۔تبھی تایا جان نے ثمن کو ایک نظر دیکھا اور کھڑے ہوئے۔
“تو ٹھیک ہے اگر اسنے اپنی بات منوانی ہے تو ایک میری بات بھی ماننی ہو گئی۔ورنہ اسکی راہ الگ اور ہماری راہ الگ ۔”عظمت درانی نے فیصلہ سنایا ۔
“جی بابا کہیے مجھے قبول ہو گی۔”فہام کو امید کی کرن نظر آئی ۔
“تمہیں درثمن کو اپنی زوجیت میں لینا ہو گا تاکہ مجھے اطمینان رہے کہ تم اس روشنی کی دنیا میں خود کو کھو نہیں دو گے۔اسی رنگینی میں بھی اپنا اصل برقرار رکھو گے ۔کیونکہ میری درثمن ایسا ہونے نہیں دے گی۔مگر یہ رشتہ بھی ثمن کی رضا مندی پہ طے پائے گا۔ورنہ وہ رہا باہر کا راستہ۔”عظمت صاحب کی بات پہ سب ایک لحظے کو تھم گئے تھے۔مگر باہر جاتی درثمن کو شاک لگا تھا۔”مجھے منظور ہے آپ ثمن سے پوچھ لیں ۔میں اسی وقت نکاح کے لیے تیار ہوں ۔”فہام نے جھٹ کہا تھا۔
ثمن تو گویا ہلنا ہی بھول گئی تھی۔فہام کی آواز پہ ہوش میں آئی اور باہر نکلی بمشکل قدموں کو گھسیٹتے ۔
“ثمن گڑیا۔”ضیاء کی آواز پہ وہ رکی۔فاطمہ سمیت سب کو یہ فیصلہ سن کرگیا تھا۔اب سب ثمن کی طرف ٹکٹکی لگائے دیکھ رہے تھے۔
“گڑیا ۔اب سب تمہارے ہاتھ میں ہے۔مگر فیصلےکا اختیار تایا جان نے تمہیں سونپا ہے۔”ضیاء نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھا تو اسنے آنسووں سے لبریز آنکھیں اٹھاکے ضیاء بھائی کو دیکھا جو خود بھی غمگین لگ رہے تھے۔کون چاہتا ہے کہ خوشیوں بھرا شیرازہ بکھرے۔غموں کی آندھی سب اڑا کے لے جائے۔
اداسیوں کا بسیرا ہو جائے۔مسکراہٹیں روٹھ جائیں ۔دل ویران ہو جائیں ۔کون چاہتا ہے کہ بہار روٹھ جائے۔
ثمن نے فاطمہ تائی کو دیکھا تو ممتا بلکتی نظر آئی ۔ملیحہ سراپا فریاد لگی۔نرمین بھابھی کو بھی اس گھر کی خوشیوں کی امید تھی جو ثمن کے فیصلے سے جڑ گئی تھیں۔گھرکے ہر فرد سے لے کے ہر چیز اس ظالم کی حامی نظر آئی۔کس کس کی فریاد سے منہ مؤڑتی ۔کس کس کا دل دکھاتی۔
کسی کا دل دکھا کے سکون تو خود کو بھی محسوس نہیں ہوتا ۔مگر ہم اسے موڈ کا خراب ہونا یا طبیعت کی خرابی کہہ کے نظر انداز کر جاتےہیں ۔
“مجھے منظور ہے۔”ثمن نے فیصلہ سنایا ۔تو بس طے تھا کہ وہ دوسروں کے خوشیوں کا قتل کر کے نہیں جی سکتی ۔کسی کی فریادوں کا بوجھ نہیں ڈھو سکتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورے عظمت درانی ہاؤس کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔چند قریبی رشتے داروں کو مدعو کیا گیا تھا۔یہ سب تین ہفتوں میں ہوا تھا۔آج مہندی کی رسم ادا ہونی تھی جو کے دھوم دھام سے ادا کی جانی تھی۔سب خوش تھے۔فہام کی خوشی سب سے الگ تھی ۔وہ تو آج کل ہواؤں میں تھا۔اسکے خواب سچ ہوئے تھے۔وہ اپنی شوٹ میں بھی مصروف تھا۔اسکو انٹروڈیوز کر دیا گیا تھا۔اس نئے چہرے پہ ناظرین سمیت انڈسٹری کے نامور پرڈیوسرز بھی حرکت میں آئے تھے اور اسے کام کی آفرز آنا شروع ہو گئی تھیں۔فی الحال اسنے اپنے دوست کے بابا کے اسٹوڈیو سے آغاز کیا تھا اور ابھی صرف ایک ٹیلی فلم جاری کی تھی اسکی مقبولیت کا چرچا ہونے لگ گیا تھا۔شادی میں
میڈیا اور انڈسٹری میں سے کسی کو بھی نہیں بلایا گیا تھا ۔فیملی فنکشن کہہ کے سب سے معذرت کر لی گئی تھی۔صرف فہام کے دوست اور اسکے بابا کو شامل کیا گیا تھا۔ اور دلہن کو بھی گھونگٹ میں رکھنے کا آرڈر تھا عظمت صاحب کا۔
اس ٹائم وہ اوپر چھت پہ کھڑی تھی ۔نیچے کا منظر پرنور اور رونقوں سے بھرپور تھا۔ہر طرف خوشیوں کے رنگ اور مسکراہٹیں تھیں ۔
“میری ذات کو تو استعمال کیا گیا کے بس ۔میں تو محض مہرہ ہوں فہام درانی کے لیے ۔اسکے خوابوں تک جانے کے لیے۔ایک پل میں کیا سے کیا ہو گیا تھا۔میں کیا کروں گی اب ۔نہ تو انکار کر سکتی ہوں نہ ہی اقرار۔میں کیسے اس شخص کے ساتھ رہوں گی جس کے خیالات تو کیا عادات بھی مجھ سے جدا ہیں ۔ہمارے مزاج ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں ۔اے خدا یہ کیا ہونے جا رہا ہے۔”درثمن کا رونا نہیں تھا بند ہو رہا۔
“فہام صرف اپنی ذات کی خاطر تم نے مجھے یوں سب کے سامنے بے بس کر دیا تھا کہ میں کچھ بول ہی نہ پائی ۔”
درثمن نے مہندی والے ہاتھ آگے کر کے دیکھے تھے۔تبھی نیچے سے ایک شور اٹھا تھا ۔وہ سمجھ گئی تھی کے آنے والا کون ہو گا ۔مہندی کی رسم کے لیے ان دونوں کو ساتھ بیٹھایا گیا تھا۔
فہام کی شوخیاں عروج پہ تھی۔ہر کسی کے مذاق کا جواب دے رہا تھا۔ثمن کو یہ انسان بہت ہی دوغلا لگ رہا تھا ۔جس نے اپنی منزل تک جانے کے لیے اسکو اپنی راہ کے طور پہ چن لیا تھا ۔
اگلا دن بھی آن پہنچا تھا ۔جس دن اسے درثمن قدیر سے درثمن فہام درانی بننا تھا ۔ریڈ کلر کے خوبصورت نفیس لہنگے میں ملبوس وہ کسی حور سے کم نہ لگ رہی تھی ۔فہام بھی شہزادوں سی آن بان والا شہزادہ ہی لگ رہا تھا۔
ارینج گھر کے وسیع لان میں ہی تھا۔
سب ہنگامے زوروں پہ تھے۔ہنسی مذاق ہو رہا تھا۔نکاح کا وقت ہو گیا تھا۔درثمن نے آنسوؤں کو اندر اتارتے ہوئے نکاح نامے پہ سائن کر دئیے تھے۔ہر طرف مبارک باد کا شور اٹھ گیا تھا۔ہر کوئی خوش تھا ۔کھانے کے بعد دلہن کو اسٹیج پہ لایا گیا ۔رسموں کے بعد رخصتی کا شوراٹھ گیا تھا۔تایا ابا اسٹیج پہ آئے تھے۔فہام اور درثمن دونوں اٹھ گئے تھے ۔
“برخوردار ایک سرپرائز ہے تمہارے لیے۔”عظمت صاحب نے اسکا کندھا تھپتھپایا تھا۔
“الٰہی خیر ۔ضرور کچھ نا کچھ چل رہا ہے میرے بابا کے دماغ میں ۔”فہام نے دل میں کہاتھا۔
“آج رخصتی نہیں ہو گی۔دنیا کے سامنے شادی کروانی تھی جو کے ہو گئی ہے۔کل ولیمہ کی رسم بھی ادا کر دی جائے گی ۔مگر رخصتی تب ہی ہو گی جب میں تمہیں درثمن کے قابل سمجھوں گا۔”تایا جان نے ثمن کو ساتھ لگاتے ہوئے کہا تھا۔اس کے تو سینے سے گویا پتھر سرکا تھا۔
“اگر تم ضدی ہو تو یاد رکھنا کہ تم میرے بیٹے ہو تو میں تمہارا باپ ہوں ۔”عظمت صاحب نے کہا تھا۔جو ہونق سا باپ کا منہ دیکھ رہا تھا۔
گھر میں سب کو علم ہو گیا تھا کہ ابھی رخصتی نہیں کی جائے گی۔یہ فہام کے فیصلے کی ضد میں تایا جان کا حکم تھا۔یہ بات خاندان والوں فی الوقت مخفی رکھنی تھی۔
اگلے دن شاندار سا ولیمہ بھی ہو گیا تھا۔ثمن اور فہام کا آمنا سامنا اسٹیج پہ ہی ہوتا تھا۔فنکشن کے بعد فہام رفو چکر ہو جاتا تھا۔دعوتوں کا سلسلہ فہام نے شوٹنگ کا بہانہ کر کے ختم کر دیا تھا۔
(جاری ہے)
