Meri jhali by Anaya Ahmad NovelR50685 Meri Jhali (Episode 06)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Jhali (Episode 06)
Meri Jhali by Anaya Ahmad
“نہ۔نہیں ۔وہ تو میں ۔”ثمن منمنائی۔
“رہنے دو ثمن تم سےنہیں ہو گا ۔”فہام نے اسکی حالت پہ ہنستے ہوئے کہا تھا۔
پھر سارے راستے ثمن نے نہ بولنے کی قسم کھا لی تھی۔فہام نے لاکھ بلانے کی کوشش کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہربانو کے گھر آج افطاری تھی۔آخری عشرہ چل رہا تھا۔ ۔سب طرف چہل پہل تھی۔با برکت ماہ کی رونقیں تھی ہر سو۔
افطاری کے بعد بڑے خوش گیپیوں میں مصروف ہو گئے اور جوانوں کو چہل قدمی اور مستی کی سوجھی تو وہ ان لوگوں نے لان کا رخ کیا تھا۔فہام سب سے آگے تھا۔
“یار میری استانی کو بھی لے آؤ۔اسکے بغیر مزہ نہیں آنا ۔”فہام کو درثمن کہی نظر نہ آئی تو اسنے حسین سے کہا جو انکی طرف آ رہا تھا۔
“کچھ شرم کر جاؤ تم فہام ۔”ساتھ بیٹھی نرمین بھابھی نے اسکا کان مڑوڑا تھا۔انہیں کب اپنی دیورانی کم دوست زیادہ کے بارے میں کچھ الٹ سیدھا سننا پسند تھا۔
“بھابھی ابھی تک شرم ہی کر رہا ہوں ۔لیکن کوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں آرہا ۔”فہام نے کہا تھا۔بھابھی کو سمجھ لگ گئی تھی کہ وہ جس حوالے سے بات کر رہا ہے۔
“نرمین بھابھی شرم ہی نہیں ہے ان لوگوں کے پاس ۔”احتشام نے کہا ۔
“شامی پارٹی مت بدلو تم ۔بھول مت تمہارا دوست ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اور بھی رشتہ ہے ۔تمہارا اور میرا ۔”فہام نے سامنے بیٹھے احتشام کو گھورا تھا۔باقی سب “اور بھی رشتہ “کا مطلب سمجھ کے ہنس پڑے تھے۔
“جی غلطی سے آپ میرے کزن بھی ہیں ۔”شامی نے بھی جواب گول کر دیا تھا۔
“خدا دشمنوں کو بھی تم جیسے کزن نہ دے۔میں سالے والے رشتے کی بات کر رہا ہوں ۔شامی تم نے کسی دن میری ہاتھوں ختم ہو جانا ہے۔”فہام نے چڑتے ہوئے اسے کہا تھا۔
“اور میرے آپی کے ہاتھوں آپ نے ۔اپنی حرکتیں سدھار لیں ۔کل تازہ تازہ آپکے سیریل کی لاسٹ ایپی سوڈ سے وہ اپنا خون جلا چکی ہیں ۔واہ کیا سین تھا ۔اظہار محبت ،کومل ہاتھ ،میوزک ،پھول ۔۔۔”احتشام نے ڈرامائی انداز میں بتایا کہ حاظرین بھی جھوم اٹھے۔تو فہام نے اپنا کان کھجایا ۔
“کیمرہ ایکشن ۔ٹیک ون ۔درثمن ۔”حسین نے درثمن کو آتے دیکھ لقمہ لگایا۔درثمن اور زینیا اسی طرف آ رہی تھی۔درثمن نے ٹرے پکڑے تھی جس میں سب کے لیے چائے تھی۔
“ہائے وہ آئے،ساتھ چائے لائے۔”فہام کو پھر مستی سوجھی۔
سب لان میں بیٹھے ہوئے تھے۔کچھ کرسیوں پہ اور کچھ گھاس پہ آلتی پالتی مار کے ۔درثمن نے ٹرے ٹیبل پہ رکھ دی تھی۔
“ساری عوام ایسے ہی بیٹھی ہوئی ہے۔چلوں کرکٹ کھیلیں ۔”فرخ بھائی اور ضیاء اس طرف ہی آ رہےتھے۔کرکٹ کا دیوانے فرخ کہتے ہوئے لان میں داخل ہوا تھا۔
“چلو جی ۔ان کو کرکٹ کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں ہے۔”ماہم کا احتجاج بلند ہوا تھا ۔سب ہنس پڑے۔
“چلیں موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ویسے بھی کافی عرصے سے موقع نہیں ملا ۔”ضیاء بھائی نے حامی بھری تھی فورا۔
پھر کیا تھا سب بوائز تیار ہو گئے تھے۔
اب یہ ڈیسائیڈ ہو تھا کہ ایک ٹیم بوائز کی اور ایک گرلز کی ۔یہ شور ملیحہ نے ڈالا تھا۔کیونکہ اگر صرف لڑکے کھیلتے تو لڑکیاں یوں ہی بیٹھی رہتی جو اسے نامنظور تھا۔
“حقوق نسواں نے ہر جگہ لازمی ٹپکنا ہوتا ہے۔”شامی نےملیحہ کو گھور کے کہا تھا۔وہ اسے حقوق نسواں سے چڑاتا تھا کیونکہ وہ ہر کام میں مرد اور عورتوں کی برابری کی قائل تھی۔
“نان شامی تم زیادہ میرے ساتھ فری نہ ہو سمجھے ۔”ملیحہ نے بھی دوبدو جواب دیا تھا۔
“اس شامی نے اگر تمہیں اس شام تمہاری دوست کے گھر ڈراپ نہ کیا ہوتا یا تمہں مئی کی جھلستی دوپہر میں تمہاری دوست کے گھر سے تمہیں نوٹس لا کے نہ دئیے ہوتے تو تم نے فیل ہو جانا تھا۔اے احسان فراموش موٹی ۔۔””شامی نے بھی بدلے میں اپنی احسانات کی فہرست کھولنئ شروع کی تھی۔
“ساتھ میں اسکا نمبر بھی لے آئے تھے وہ میں لانے کو بولا تھا۔اور جب اسکے ساتھ تم ڈ۔۔۔۔۔”ملیحہ بھی فام میں آ چکی تھی ۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور بول کے اسکا بھانڈا پھوڑتی درثمن بول اٹھی۔
“بس کر دو تم دونوں کی لڑائی ساری رات بھی ختم نہیں ہونی ۔”درثمن نے ان دونوں کو کہا تھا۔
“ہاں ٹائم نہیں ہے اتنا جو ہم تم دونوں کی لڑائی میں گزار دیں ۔”حسین نے کہا تھا۔
درثمن نے نہ کھیلنے کا اعلان کر دیا تھا۔
زینیا ،نرمین ،ماہم ،حسن ،ملیحہ
فہام ،فرخ ،ضیاء،احتشام ،عمیر کی ٹیمیں بن چکی تھیں ۔
“آپی آپ نے بھی کھیلنا ہے مجھے نہیں پتہ ۔یہ فیئر نہیں ہے۔آپ کا لیے ایک رول ہے میرے پاس ۔”زینیا کے شور سے فہام کو اپنا کام نکلتا نظر آیا تھا۔اس کے بغیر کیا اسے مزہ آنا تھا۔
“دشمن میدان چھوڑ کے بھاگ رہیں ہیں ۔ویسے ایک رول میرے پاس بھی ہے انکے لیے ۔اگر یہ نظرِ کرم کریں تو ۔۔”فہام نے اسکے چہرے کو فوکس میں لاتے ہوئے کہا تھا۔جو اس وقت نرمین بھابھی کے پہلو میں بیٹھی ماحول پہ چھائی ہوئی تھی۔
“مجھے فضول کے رولز میں کوئی انٹرسٹ نہیں ۔آپ کو مبارک آپکی اداکاریاں ۔اور ہئیروئنز ۔”درثمن نے ہیروئنز پہ زور ڈال کے کہا تھا۔
“یارایک سیریل میں آیا تھا میں دو ہیروئنز کے ساتھ تم تو دل پہ ہی لے گئی ۔”فہام نے اپنی صفائی دی۔
“یہاں ہم آپ کے ڈراموں پہ تبصرے اور آپکے سمیت آپکی ہیرونز کو خراج تحسین پیش کرنے نہیں بیٹھے ہیں ۔بہتر ہے کہ گیم پہ فوکس کریں ۔”درثمن نے بھی ادھار کہاں رکھنا تھا۔
“آپی آپ نے ایمپائر بننا ہے ۔یہ رہی آپکی کیپ اٹھیں جلدی ۔”زینیا نے پھولی ہوئی سانس میں آ کے اسکے آگے کیپ رکھی جو اندر سے بر آمد کر کے لائی تھی۔
“مگر زینی ۔۔مجھے نہیں کھیلنا ناں ۔اور یہ سب بھی نہیں پہننا ۔”درثمن نےکہا۔
“پہن لو ثمن ۔اگر زینی کا باجا بجنے لگ گیا ناں تو رات اسکو منانےمیں لگ جانی ہے۔”نرمین بھابھی نے بھی کہا تھا۔کیونکہ زینیا جلد ماننے والوں میں سے نہیں تھی۔درثمن کو بالآخر ماننا پڑا۔
پہلے بیٹنگ بوائز نے کرنی تھی۔کرسیاں سائیڈ پہ کر دی گئی تھیں ۔اور یہ لان اب اور بھی بڑا ہو گیا تھا۔
فرخ اور فہام نے پہلے بیٹنگ کرنی تھی۔دوسری ٹیم فیلڈنگ پہ کمر بستہ ہو چکی تھی۔سب اپنی نشتوں پہ چوکس کھڑے تھے۔بال حسین نے کروانی تھی۔فہام کا سارا دھیان وکٹ (جو ایک بڑے سے گملے کو بنایا گیا تھا)کے پاس کھڑی درثمن میں تھا ۔کیپ میں سے بھی بالوں کی کچھ لٹیں نکلی ہوئی تھی۔بال کو ہٹ کر کے فہام اور فرخ نے ایک سکور بنا کر اپنی نشتیں بدلی تھیں ۔فہام کو آتا دیکھ درثمن پیچھے ہٹی تھی ۔
فہام نے اسکی حرکت نوٹ کی اور کھکھلا کے ہنسا ۔
“
سوچ رہا ہوں گھڑی خرید لوں
کسی کا دوپٹہ پھنس جائے شاید
۔”ساتھ ہی یہ شعر بلند آواز میں پڑھا تھا۔فوکس میں وہ پری چہرہ ہی تھی۔
“اوئے عاشق ادھر بھاگ آوٹ ہونا ہے کیا ۔شاعری بعد میں کر لینا ۔”احتشام نے اسے ہوش دلانے کو کہا تھا۔کیونکہ فرخ کو رن لگانے کے لیے اس طرف آنا تھا اور فہام کو بیٹنگ کے لیے جانا تھا۔شعر پہ درثمن تو تپ گئی تھی۔
“حسین آؤٹ کرو تم۔”درثمن نے جھنجھلاہٹ میں کہا تھا۔
فہام بھاگ کے اسکی طرف آیا تھا ۔سیدھا درثمن کی طرف ۔ثمن کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا تھا۔
جیسے دھاگہ ہو پھولوں کی مالا میں
ایسے سانسوں کے درمیاں ہو تم ‘
اسکے کان میں ہلکی سی سرگوشی کی تھی ۔جوڑے کی شکل میں باندھے گئے بالوں کو آزاد کیا فہام کی انگلیاں اسکی گردن سے مِس ہوئی ۔اس لمس سے درثمن کانپ گئی تھی۔وہ جادو کرتا دور ۂٹا تھا۔جان لیوا سی مسکراہٹ آ گئی تھی ہونٹوں پہ ۔
سب نے آؤٹ آؤٹ کا شور مچا دیا تھا ۔مگر ایمپائر ہوش میں کب تھی ۔
“ثمن بتا ناں ۔آؤٹ ہو گئے ہیں فرخ بھائی ۔میں خود ہٹ کیا ہے انکے وکٹ سے جانے سے پہلے وکٹ کو بال سے۔”ملیحہ آئی تھی۔درثمن کے گال سرخ ہو گئے تھے۔اسنے خود کو کمپوز کیا ۔
“و۔وہ۔بھیا ۔فرخ بھائی ۔مجھے نہیں پتہ میں نہیں کھیلنا ۔”وہ وہی کیپ گرا کے روہانسی اندر جانے کو لپکی ۔اسے فہام پہ غصہ تھا ۔کیوں اسکے ساتھ فلرٹ کر رہا ہے ۔جب پسند ہی شوخ وچنچل لڑکیوں کو کرتا ہے تو ان سب باتوں کا مطلب۔
مجھے تو اسنے بحالت مجبوری اپنایا ہے۔وہ اپنی سوچوں میں غلطاں تھی ہمیشہ کی طرح۔
“یوں بیچ میں چھوڑ کے نہیں جا سکتا کوئی بھی۔کیا ہوا ہے۔اچھا بھلا تو کھیل رہے سب۔”ضیاء بھائی آئے تھے۔نرم لہجے میں پوچھا ۔ساتھ ہی زینیا کی شکل بھی نظر آئی۔درثمن چاہنے کے باوجود بھی نہ جا سکی ۔کیونکہ اسکو گیم خراب ہو جانے کا ڈر تھا۔
“ہاں آؤٹ ہو گئے ہیں فرخ بھائی ۔اور اب اگر فہام کو آؤٹ نہیں کیا تو میں نہیں رہنا گیم میں ۔”درثمن کا مطالبہ آیا تھا۔سب کے چہروں پہ دھیمی دھیمی مسکراہٹ آ گئی ۔
“پاگل۔”ضیاء بھائی اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتے واپس چلے گئے ۔
فہام کے دانت اندر نہیں جا رہے تھے بس۔
“ایک نظر دیکھ لوں پکا سلنڈر کر دوں گا۔”فہام نے پھر پاس آکے سر گوشی کی ۔
وہ تو اب کھل گیا تھا ۔آتے جاتے ثمن کو تنگ کر رہا تھا ۔کبھی جان بوجھ کے کندھا مارتا ۔باآخر آؤٹ ہوا اور گرلز کی باری آئی۔
لڑکیوں کا دل رکھنے کے لیے سب ہلکا ہاتھ رکھے ہوئے تھے بالنگ پہ۔
“جتینے والے کو کیا ملے گا۔”عمیر بھائی کی آواز آئی۔
“مجھے ایمپائر ہی دیے دی جائے ۔”فہام نے کن اکھیوں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔نرمین بھابھی نے ایک مکا کمر پہ مارا تھا۔
“اپنی چیز مانگی ہے ظالم سماج ۔”فہام نے کہا تھا۔
“میں کوئی چیز نہیں ہوں مسٹر فہام درانی۔”درثمن منٹوں میں آوٹ آف کنٹرول ہوئی تھی ۔اور کیپ اتار کے پھینکتے اندر کو لپکی ۔
“منا کے لاؤ جا کے اسے اب نکمے ۔ہم نہیں کھیل رہے ہم تھک گئے ہیں ۔”بھابھی نے کہا تھا ۔اور ساتھ کھیل ختم ہونے کا اعلان کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سیدھی غصے میں اوپر گئی تھی اور زینیا کے کمرے میں جا کے دروزاہ بند کرنے لگی تھی کہ فہام کے پاؤں نے اسکی کوشش کو ناکام بنایا تھا۔
فہام نے خود اندر آ کے دروازہ بند کیا تو وہ غصے سے چلتی کھڑکی کے پاس آ گئی تھی۔نیٹ کے پردوں سے باہر سے ہلکی ہلکی روشنی میں ثمن کا چہرہ دھمک رہا تھا۔کمرے کی مین لائٹ آف تھی ۔سائیڈ لیمپ روشن تھے۔
“مسئلہ کیا ہےآپ کا اب ادھر کیوں آ گئے ہیں ۔”درثمن نے اسے اپنی طرف آتے دیکھا تو بولی تھی۔
“کوئی بھی نہیں ۔”فہام نے ایک ہاتھ کھڑکی پہ رکھا اور بلکل اسکے سامنے آ کے کھڑا ہو گیا ۔ثمن اسکی نظروں سے کنفیوز ہو رہی تھی ۔
“دیکھیں میں آپ کے ڈراموں کی کوئی ہیروئن نہیں ہوں سمجھے ۔
ہٹائیں ہاتھ۔”درثمن نے اسکے کھڑے ہونے کے انداز پہ کہا تھا ۔جو ایک ہاتھ اسکے گرد کر کے کھڑا ہوا تھا اور دوسرے اب اسکے چہرے کی طرف بڑھا رہاتھا۔
“ڈراموں کی بنا کون رہا بھلا۔تم تو اصل زندگی میں ہیروئن ہو میری ۔”فہام نے ایک ادا سے کہتے ہوئی اسکے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکڑایا۔ثمن غصے سے دور ہٹی اور بولی ۔
“ہونہہ اصل زندگی ۔۔پتہ ہے مجھے اصل زندگی میں اپنے مقام کا بھی۔اس رشتے کی بات مت کریں آپ ۔آج جب بات شروع ہو چکی ہے تو کھل کے بات ہو جائے ۔وہ رشتہ جو محض آپ نے اپنے مستقبل کے لیے جوڑا ۔کیا ایسے بھی کوئی فیصلے ہوتے ہیں ۔اپنے مفاد کی خاطر آپ نے یہ رشتہ جوڑ لیا۔اور تو اور ہم دونوں کے مزاج میں زمین آسمان کا فرق ہے۔اگر آپ مشرق ہیں تو میں مغرب۔
اس رشتے کی آپ کی نظر میں حیثیت ہی کیا ہو ہے ۔۔صرف اور صرف۔۔۔۔۔”اس سے پہلے کے وہ اپنے اندر چھپی اور بھڑاس نکالتی فہام تپی تپی سے ثمن کی پیشانی کے اوپرجھکا اور اپنا پہلا حق استعمال کیا تھا۔جو اسے بولتی سیدھا دل میں اترتی محسوس ہو رہی تھی ۔ثمن کی بولتی تو کیا چند پل کے لیے ڈھڑکنیں بھی رک گئی تھی۔
“ٹر ٹر ۔تھکتی نہیں ہو صبح شام مجھے ڈانٹ ڈانٹ کے۔کچھ رخصتی کے بعد کے لیے بھی بچا رکھو۔اور اپنے دماغ سے اوٹ پٹانگ باتیں نکال دو ۔یہ نہ ہو میں عید کے بعد رخصتی کرواتے کرواتے آج اور ابھی یہاں سے ہی رخصت کروا کے لے جاؤں۔
اگر کوئی اور وضاحت چاہیے تو عملی طور پہ دینے کے لیے تیار ہوں ۔”فہام نے بت بنی کھڑی ثمن سے پیچھے ہٹتے ہوئے پوچھا تھا۔آخری بات میں شرارت تھی۔
“آپ نہایت ہی ایک فضول انسان ہے۔”ثمن اسکی گرفت سے نکلتی دور جا کے بولی تھی۔
“ہونہہ فضول نہیں اسے میری ڈکشنری میں اسے رومانٹک ہونا کہتے ہیں ۔”فہام نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔
“نہایت ہی کوئی گھٹیا ،بےمعنی اور فالتو ڈکشنری ہے ۔اور آپ ۔۔آپ ۔۔۔ہونہہ۔۔۔”ثمن نے مٹھیاں بھینچتے ہوئے کہا تھا۔آگے کوئی بات نہ بن پائی تو پیر پٹختی باہر نکل آئی۔فہام کا قہقہہ اسکی جھجھلاہٹ پہ بلند ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمن اپنی کمرے میں صوفے پہ بیٹھی کسی کتاب کے مطالعے میں مگن تھی ۔عید میں چند دن رہ گئے تھے۔نرمین بھابھی اند آئیں تھیں ۔
“آئیں بھابھی ۔”نرمین کو دیکھ کے ثمن نے کہا اور کتاب بند کی ۔
“مجھے ایک ضروری بات کرنی ہے تم سے ۔”نرمین نے آنے کی وجہ بیان کی ۔سب جانتے تھےکہ نرمین سے ثمن اپنی بات شئیر کر لیتی ہے اور اسکی مان بھی لیتی ہے ۔نرمین ہے ہی بہت اچھی اور مخلص تھی۔
“جی بولیں ۔خیریت تو ہے ناں۔”ثمن کے لہجے سے فکرمندی جھلک رہی تھی۔
“ہہم وہ دراصل سب تمہاری عید پہ رخصتی کی باتیں کر رہے ہیں ۔مجھے بھی اس سلسلے میں تمہارے پاس بھیجا گیا ہے ۔کیونکہ بہرحال انکل عظمت تمہاری بات کو ہی اہمیت دیں گے ۔مگر کوئی بھی فیصلے کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لینا ۔”نرمین نے اسکو کہا تھا۔جو اب پریشان نظر آ رہی تھی۔
جاری ہے
