Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jhali (Episode 05)

Meri Jhali by Anaya Ahmad

مطلب ثمن گورنمنٹ بک گئی ۔”ماہم نے بھی ہنستی ہوئی ثمن کو ہی گھسیٹا ۔
“میری بلا سے ۔”ثمن نے بے نیازی کا اعلان کیا تھا۔
“یہ دنیا کی پہلی بیوی ہے جو اپنے شوہر کی کامیابی سے خائف ہے ۔عقل سے پیدل عورت ۔حالانکہ سب سے زیادہ فائدے ان محترمہ کو ہی ہے۔”فہام نے اسکی بے نیازی پہ کہاتھا۔
“کوئی اور بات نہیں ہو سکتی کیا ۔”ثمن نے سب کو ایک نظر گھورتے ہوئےکہا تھا۔
“اف یہ بے نیازیاں ۔”شامی کی حس پھر پھڑکی تھی۔ثمن بھڑکی۔
“جیلسی بھی کہا جا سکتا ہے اسے۔”فہام بولا۔رہی سہی کسر فہام نے پوری کر دی ۔وہ غصے سے اٹھی اور باہر نکلتی گئی۔
“ارے یار ایک تو تمہاری بہن ناراض بہت ہوتی ہے ۔جھلی۔”فہام نے تاسف سے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے شامی کو کہا اور اس کے پیچھے لپکا ۔
“اب اور کچھ الٹا سیدھا نہ کر دینا کہ تمکو وہ گھر سے باہر پھینک دے۔”فرخ بھائی بے پیچھے سے کہا تھا۔سب ہنس دئیے۔
“فکر نہ کریں اسے بھی ساتھ ہی لے کے جاؤں گا۔رخصتی تو آپ لوگ ویسے بھی نہیں کر رہے۔تو مجھے دوسرا راستہ تو نکالنا ہے ناں۔”فہام انکو جواب دیتے باہر کو لپکا جہاں وہ شعلہ بنی گئی تھی۔وہ راہداری سے ہوتی لان میں جا رہی تھی۔لان کا یہ حصہ وسیع اور تاریک تھا۔
“مسز فہام ۔آٹو گراف لیتی جائیں۔”وہ بھی لان میں داخل ہوتا بولا تھا۔وہ موڑی اور غصے سے چلائی۔
“اب اپنا فہام نامہ بند کرتے ہیں یا میں تایا ابا کو کال کروں ۔”ثمن نے دھمکایا ۔وہ اب اسکی طرف رخ کیے غصے سے کھڑی تھی۔
“اتنا غصہ کرو گی تو اپنا رنگ جلا لو گی ۔”فہام نے اسکے سامنے جا کے اسے کے تیکھے چتونوں کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
“آپ سے مطلب ۔میں اندر سے باہر آ گئی ہوں اب کیا چاہتے ہیں کدھر چلی جاؤں۔”وہ کہتے ہوئے دو قدم پیچھے کو بھی ہوئی تھی۔
“کہی اکیلے ٹائم گزارنے چلتے ہیں ناں سویٹی ۔”فہام نے اسکا بازو پکڑنے کے لیے ہاتھ آگے کیا تھا مگر ثمن اور دو قدم پیچھے ہوئی تھی پھر کیا تھا ۔
“ثمن وہ ۔رکو تو ۔۔۔۔”فہام نے اپنی بات کہنی چاہی مگر وہ کب سننے کے موڈ میں تھی ۔چھپاک کی آواز آئی تھی۔ثمن لان میں رکھے پانی کے ٹب میں گر چکی تھی ۔یہ ملیحہ کا تازہ ترین شوق تھا۔جس کا انتظام اسنے ماذن اور اپنے لیے کیا تھا۔اب وہاں پانی سے بھرا ٹب ویسے ہی پڑا تھا۔وہ پانچ فٹ کے پانی سے لبالب ٹب میں گر کر بھیگ چکی تھی۔
فہام اسکے حلیے پہ ہنستا ہی گیا تھا۔ثمن اب روہانسی ہو گئی تھی۔
“کہاں تھا ناں کہ رک جاؤ۔”فہام نے کہا اور گھٹنوں کے بل اسکے سامنے بیٹھ گیا جو اب ٹب میں بھیگی ہوئی کھڑی بیٹھی کم لیٹی زیادہ تھی۔فہام کو کھاجانے والی نظروں سے دیکھتی کھڑی ہوئی اور اب سنبھل کے قدم رکھنے کا سوچ رہی تھی کہی پھر نہ گر جائے ۔پہلے کم سبکی ہوئی تھی فہام کے سامنے۔
وہ باہر نکلی اب پریشان کھڑی تھی کہ اندر کیسے جائے۔کپڑے بھیگ چکے تھےٹَپ ٹَپ پانی گر رہا تھا۔
“تم اس ٹائم پتہ ہے کیا لگ رہی ہوں ۔ثمن ۔”فہام نے اسکی کلائی سے کھینچ کر ساتھ لگایا تھا اور اپنا ایک ہاتھ اسکی کمر پہ جما دیا ۔وہ اب اس نزدیکی پہ دہق کھڑی تھی۔فہام نے ایک ہاتھ سے اسکے گلابی رخسار پہ پڑتی گیلی ہوئی ان سر پھری لٹوں کو ہٹایا تھا۔اور اسکا چہر ہ ایک ہاتھ سے تھام کے پاس کیا ۔
“بتا دوں۔۔۔؟”فہام نےاسکا چہرہ اوپر کیا ۔ثمن نے اوپر نظر اٹھائی اور فہام کی بے باک نظروں میں دیکھا ۔
“سنوں گی کہ اس وقت تم مجھے کیسی لگ رہی ہوں ۔میرے دل کی آوزاز سننا چاہوں گی۔”فہام نے اس کے چہرے سے ہاتھ ہٹا کے اسکے بالوں کو کان کے پیچھے کیا تھا۔اپنا ماتھا اسکی گیلی پیشانی کے ساتھ ٹکڑایا۔ثمن کی بولتی بند ہو گئی تھی۔
“تم اس وقت ۔۔۔ثمن۔۔بھیگی بلی لگ رہی ہو۔”فہام نے کہا اور ساتھ ہی فہام کا قہقہہ ابلا ۔ثمن ہوش میں آئی اسکے الفاظ پہ اسکے گرفت توڑتی پیچھے ہٹی ۔اور اندر کی طرف بھاگی مگر چپل سے پاؤں پھسلا ۔فہام اسکی گھبراہٹوں سے لطف اندوز ہوتا آگے بڑھا اسے بازووں میں اٹھایا ثمن نے احتجاج کیا مگر وہ بنا سنے اندر کو لپکا ۔
سب وہاں ہی بیٹھے تھے ۔وہ شرم سے پانی ہوئی اپنی پوزیشن کا خیال کرتے ہوئے ۔
“مجھے اتار دیں سب وہاں ہیں ۔کیا سوچیں گے۔”ثمن نےمنت کی معصوم سی شکل بنا کے ۔مگر فہام کہاں سنتا ہے۔انکو اس حالت میں اندر آتا دیکھ سب کے چہروں پہ معنی خیز مسکراہٹ آ گئی تھی۔
پھر کیا تھا ۔ملیحہ نے ہوٹنگ کی تو سب نے اسکا ساتھ دیا۔لاونج میں شور تھا اب ۔ثمن نے گھبراتے ہوئے فہام کو دیکھا ۔جیسے کہہ رہی ہوں کہ
“میں کہا تھا۔ “فہام نے اسکا اپنی جانب دیکھتا پا کر اپنی ایک آنکھ دبائی تھی۔ثمن نے شرم سے پانی ہوتے اسکے سینے میں ہی منہ چھپا لیا تھا۔فہام اسکے کمرے میں جا کے رکا تھا۔
“چچی سنبھال لیں اپنی بیٹی کو ۔۔”فہام نے بلند آواز کہا تھا۔
“میری ایمان خراب کر رہی ہے اس وقت ۔کوئی جسارت نہ کر بیٹھوں۔”فہام نے اسکے کان میں گھستے ہوئے سرگوشی کی ۔وہ فوراً پیچھے ہٹی۔
“کیا ہوا فہام ۔”چچی فرزانہ نے اندر آتے استفسار کیا تھا ۔ثمن ڈھڑکتے دل اور دہکتے گالوں سمیت واش روم میں گھس گئی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رمضان کا ماہ چل رہا تھا ۔ہر سو اسکی برکتیں اور رونقیں تھیں ۔اسی سلسلے میں یونی میں آج ایک درس کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں ملک کے ایک نامی گرامی مولانا نے آنا تھا۔ملیحہ نے بھی اپنی کلاس کی طرف سے پارٹ لیا تھا۔وہ تیار شیار ہو کے سفید لباس میں باہر نکلی تھی۔سفید لباس پہ نفیس سی کڑھائی ہوئی تھی۔حجاب بھی باندھا تھا۔وہ باہر نکلی اسی وقت اپنے ٹیرس میں پودوں کو پانی دیتے شامی کی نظر اس پہ پڑی تھی ۔وہ عین اسکے ٹیرس کے نیچے کھڑی تھی۔
“ہیلو کزن۔”شامی نے بلند آواز میں کہا ۔
ملیحہ نے آواز کے تعاقب میں اوپر دیکھا ہی تھا کہ پانی نے اسکا استقبال کیا ۔شامی نے سارے بالٹی اس پہ انڈیل دی تھی۔جو بھری ہوئی تھی۔وہ جو بلکل تیار کھڑی تھی اب بلکل بھیگ گئی تھی۔اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتی پاس پڑی ہوئی ایک اور بالٹی کے پانی کا نذرانہ پیش کیا گیا تھا ملیحہ کو احتشام کی طرف سے ۔
“بھیگی بلی تو دیکھی تھی مگر بھیگی بھینس آج دیکھی ہے ۔”شامی نے تبصرہ کیا تھا۔اور ملیحہ کا تو غصے سے برا حال تھا۔
“شامی اللّٰہ کرے تم فیل ہو جاؤ ۔تمہارے پودے مرجھا جائیں ۔نہیں یہ تو بےجان ہیں ۔تم ۔۔تمہارے کپڑے جل جائیں ۔وہ بھی مہنگے مہنگے برینڈڈ۔
اللّٰہ کرے تمہارے پیٹ میں مڑوڑ اٹھیں۔”ملیحہ بد دعائیں دینے میں مگن تھی۔
“ہائے ملیحہ یہ کیا ہوا؟”اندر سے آتی ثمن نے اسے بھیگا
دیکھا تو پوچھا تھا۔
“ثمن تمہارے گینڈے بھائی نے دیکھو کیا کیا؟”ملیحہ روہانسی ہوئی تھی۔
“اللّٰہ کرے شامی تمہاری گرل فرینڈ توتلی نکلے۔اس کے بھائی غنڈے ہوں جو تمہیں کپڑوں کی طرح دھوئیں ۔”ملیحہ نے اور بھڑاس نکالی۔شامی اور ثمن دونوں ہنس رہے تھے۔
“ثمن تم بھی ۔۔”وہ روہانسی ہوئی۔
“شامی دفعہ ہو جاؤ تم۔اور تم میرے ساتھ آو چینج کرو۔”ثمن نے شامی کو لتھاڑا اور ملیحہ کو اندر لے آئی۔فی الوقت ملیحہ کو بدلہ بھولنا تھا کیونکہ ابھی یونی جانا زیادہ اہم تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اسلام علیکم جی مما کہیں ۔؟”فہام نے کال اٹھاتے ہوئے کہا تھا۔وہ اس وقت سیٹ پہ تھا۔
“بیٹا تم کب تک فری ہو گے؟”فاطمہ بیگم نے پوچھا تھا۔
“کیوں خیریت ہےناں۔؟”فہام نے فکرمندی سے پوچھا تھا آج سے پہلے کبھی اس سے اس طرح استفسار جونہیں کیا گیا تھا۔
“ہاں بیٹا وہ دراصل ثمن کی گاڑی خراب ہو گئی ہے ۔موسم بھی اوپر سے خراب ہے۔شامی تمہارے بابا اور ضیاء بھائی شہر سے باہر گئے ہوئے ہیں ۔عمیر نرمین کو اسکے میکے لے کے گیا ہے ۔ثمن کو پک کرنا ہے تمہیں پتہ ہے ناں وہ بادلوں سے کتنی ڈرتی ہے ۔”فاطمہ بیگم نے اسے اصل بات بتائی۔
“جی مما آپ فکر نہ کریں میں ابھی نکلتا ہوں ۔آپ ثمن کو بول دیں وہ کالج سے نہ نکلے ۔”فہام نے کہتے ہوئے کال بند کی تھی۔
اور اپنے ڈائریکٹر کو ضروری کام کا بولتے وہاں سے نکل آیا تھا۔
گرمی کا زور ٹوٹا تھا ۔موسلادھار بارش ہو رہی تھی۔بادل بھی خوب گرج رہے تھے۔
کم از کم اسے کالج تک جاتے بیس منٹ تو لگ جانے تھے۔موسم کی وجہ سے گاڑی چلانے میں بھی دشواری ہو رہی تھی۔اللّٰہ اللّٰہ کر کے دس منٹ بعد بارش کم ہوئی تھی۔وہ رفتار تیز کرتا بلاآخر پہنچ گیا تھا۔یہاں نسبتاً بارش کم تھی ۔ہلکی ہلکی پھوار تھی اور ساتھ ٹھنڈی ہوا ۔چھٹی کا ٹائم ہو چکا تھا۔کچھ سٹوڈنٹس موسم سے لطف اندوز ہوتی گارڈن میں نظر آ رہی تھیں۔کچھ کو لینے آنے والوں کا گیٹ پہ رش تھا ۔کچھ کلاسز ے نکلتے نظر آ رہے تھے۔آغا انکل سے انکے مراسم پرانے تھے تو وہ پہلے بھی یہاں ایک دو بار آیا تھا۔ابھی بھی آفس جانے کا سوچا اور گاڑی سے نکل آیا تھا۔آف وائٹ سوٹ پہ گرے واسکٹ پہنے ہوئے تھا۔بال نفاست سے بنائے ہوئے تھے۔دراز قد ۔دلکش نقوش ۔جیسے ہی وہ اندر آیا لڑکیوں نے فہام درانی کو پہچان کے ایک شور مچا دیا تھا۔
“اوہ شٹ ۔یہ لوگ آج میرے استانی کے ہاتھوں پکا میری بینڈ بجوا دیں گے ۔”فہام نے دل میں دہائی دی تھی۔لڑکیوں نے اسے آفس کے راستے میں ہی گھیرے میں لے لیا تھا۔اب آٹوگراف کا شور اٹھا تھا۔سوشل میڈیا کی دیوانیاں سیلفیاں لینے میں مگن تھی۔
تبھی فہام کے نظر ثمن پہ پڑی جو لیب میں سے کسی میل ساتھی کولیگ کے ساتھ نکلی تھی۔ہاتھ میں فائلز تھیں ۔ہینڈ بیگ کندھے پہ تھا ۔اتفاقاً وہ بھی آج وائٹ لباس پہنے ہوئے تھی ۔ڈوپٹہ ہمیشہ کی طرح سر پہ جما ہوا تھا۔ہاتھ میں گھڑی۔
“یہ لڑکی بہت ہی مہذب ہے ۔اور خدا کا شکر ہے کہ یہ میرا نصیب ہے۔”فہام سوچتے ہوئے مسکرایا تھا۔
ساتھ چلنے والا ساتھی کولیگ ہی بولتا نظر آیا تھا وہ صرف ہوں ہاں میں سر ہلا رہی تھی۔ثمن نے جب سر اٹھایا تو نظر ہجوم پہ پڑی۔غور پہ اپنا عجوبہ نظر آیا تھا۔فہام بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔دونوں کی نظریں ملی تو دلکشی سے مسکراتے ہوئے فہام نے ہاتھ ہلایا تھا۔ثمن کا دل جلا ۔
“یا اللّٰہ اب یہ کون سا امتحان بھیج دیا ۔”ثمن رو دینے کو تھی۔کیسے سب اس کے اردگرد اکٹھے تھے ۔
“دیکھو ذرا ہجوم میں کیسے خوش ہیں مسٹر فہام درانی ۔بس یہ ہی تو چاہتے ہیں لوگ انکے آگے پیچھے رہیں ۔ہونہہ میں کون سا مری جا رہی ہوں۔”ثمن مراقبے میں چلی گئی تھی ۔
“مس درثمن میں آپکو ڈراپ کر دوں پھر ۔آپکی گاڑی تو خراب ہے ۔اور موسم کے حالات بھی کچھ ٹھیک نہیں ۔”ساتھی کولیگ رضا نے پیشکش کی تھی۔پچھلے گھنٹے سے رضا ثمن کے سر پہ سوار تھا۔ابھی اسے جوائن کیے چھ ماہ کا عرصہ ہوا تھا ۔اور تب سے لے کے اب تک ثمن کے لیے زیادہ ہی مہربان بنا پھرتا تھا۔مگر ثمن ہنس کے بات تو دور کام کے علاوہ بات نہیں کرتی تھی۔
“میں ضرور چلی جاتی مگر۔۔۔”ثمن کے دل میں نا جانے کیا سمائی تھی اب ہنس کے بولی تھی۔دیکھ فہام کی طرف رہی تھی۔جو اب وہاں سے نکلنے کو مچل رہا تھا۔
“ارے اگر مگر کیا ۔چلتے ہیں راستے میں باتیں بھی ہو جائیں گی۔موسم بھی اچھا ہے۔”رضا نے اسے ہنستے دیکھا تو گویا کھل اٹھا ساتھ ہی کافی کی پیشکش کی۔
“ہیلو ثمن درانی صاحبہ ۔”اس سے پہلے کے رضا مزید پھیلتا فہام کے آنے پہ اسنے بریک پہ پاؤں دھرا۔
“ہیلو ۔میں کزن ہوں مس درثمن کا ۔اور۔۔”فہام نے رضا سے مصافحہ کرتے ہوئے تعارف کروایا ۔
“اور اور کیا ۔اور میرےفہام ۔نہیں میرا مطلب ہے کہ یہ ہیں میرے کولیگ رضا احمد ۔۔”ثمن نے فہام کا اور اچک لیا تھا۔فہام اسکی گھبراہٹ سے محفوظ ہوا تھا۔اوپر سے “میرے فہام “وہ خاصا لطف اندوز ہوا تھا۔
“میرے فہام بھی ٹھیک ہی ہے۔آپکا ہی ہوں۔”فہام نے اسکی طرف جھکتے ہوئے بال سنوارتے ہوئے ہلکی آواز میں کہا تھا۔ثمن رضا کے سامنے اس حرکت پہ شرمندہ ہوتے ہوئے کھانستے ہوئے اسکی حرکت کا اثر زائل کرنے لگی۔
“موسم بھی ناں ۔۔۔۔ایک دم سے بدل جاتا ہے۔یو نو بدلتا موسم کھانسی بخار۔۔۔انفیکشن ۔۔۔۔”ثمن جھٹ بولی۔
“وغیرہ وغیرہ ۔۔۔”فہام نے جملہ مکمل کیا ۔
“چلیں مسٹر رضا بارش پھر تیز ہو رہی ہے ۔آپ سے مل کے اچھا لگا۔چلیں ثمن ۔۔”فہام نے رضا کو کہا تھا۔رضا جان کے بد مزہ ہوا ۔
“مجھے بھی۔اوکے خدا حافظ ۔”رضا ہاتھ ہلاتاآفس کے جانب بڑھا۔
“آپ کو آنے کی کیا ضرورت تھی ۔شامی ،ضیاء بھائی یا عمیر بھائی لوگ آ جاتے ۔”ثمن نے اب اسے آڑے ہاتھوں لیا تھا۔
“سنو تم اپنے بھائیو کی ذمہ داری نہیں ہو سمجھی میری ہو۔اور ویسے بھی تمہارے راج دلارے سب کے سب مصروف تھے۔”فہام نے اب کے طنزیہ کہا تھا۔
“ہونہہ ذمہ داری جلدی نہیں یاد آ گئی۔”ثمن نے نہ چاہتے ہوئے بھی شکوہ کیا ۔
“مجھے یاد تو کیا حفظ ہو ۔وہ تو اپنے والد صاحب کا لحاظ ہے ورنہ کب کا تمہیں لے کے نو دو گیارہ ہوا ہوتا ۔”فہام نے اسکا تپا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
“فہام آپ۔۔”ثمن نے غصے سے انگلی دیکھائی۔
“آں نہیں ۔میرے فہام زیادہ اچھا ۔۔۔۔”فہام نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔
“میں۔۔میں کہی بھی نہیں جا رہی آپ کے ساتھ۔۔۔”ثمن نے عاجز آکے کہا تھا۔
“اچھا اچھا بس۔دیکھو لوگ ہمیں شک بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں ۔آدھی دنیا کو تو پہلے ہی ہماری شادی کا پتہ چل چکا ہے ۔آدھوں کو اب لگ گیا ہونا تم ایویں نہ پہرے ڈالا کرو۔اگر پبلسٹی چاہیے تو یوں ہی کھڑی کرتی رہو بحث ۔۔۔”فہام نے کندھے اچکائے۔
“آپ گاڑی میں جا کے بیٹھیں میں آ رہی ہوں۔””ثمن نے آخر ہار مانی۔اور اندر کو بڑھی۔ٹھیک پانچ منٹ بعد وہ باہر تھی۔فہام وہی ٹہل رہا تھا۔رش بھی اب کم تھا۔
“آپ کو کہا تھا آپ گاڑی میں جا کے بیٹھیں ۔”ثمن نے آ کے تیکھے چتونوں سے پوچھا ۔
“ارے اب اپنی دلہن کو لینے آیا تھا تو ساتھ لے کے جانا تھا ناں گاڑی تک بھی ۔دوسری رخصتی تو ابا حضور کی وجہ سے نصیب نہیں ہوئی ۔”فہام نے دئائی دی۔
“ڈراموں میں تو تین چار کروا ہی لیں ہیں ۔”ثمن نے جھٹ طعنہ دیا ۔
“اللّٰہ اللّٰہ میری بیوی کا حساب کتاب ۔وہ تو ڈرامہ ہے ناں ۔۔”فہام نے اسکا موڈ خراب ہونے کے خیال سے آخر میں کہا تھا۔ثمن کچھ نہ بولی۔۔
“اچھا تمہارا وہ چپکو کو لیگ کیا کہہ رہا تھا۔فہام نے گاڑی کا ڈور اسکے کے لیے کھولا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہوئے پوچھا۔
“ڈراپ کرنے کی آفر کی تھی ۔اور ساتھ میں موسم انجوائے کرنے اور کافی کی۔آپ کی بے وجہ آمد نے ہمارا پلان خراب کر دیا۔”ثمن نے مبالغہ آرائی سے کہا تھا۔
“خدا کا نام لو ثمن ۔یوں کہہ رہی ہو جیسے میں تمہیں جانتا نہیں ۔اول تو یہ کہ تم اس سے بات بھی نہیں کرتی ۔مجھے جیلس فیل کروانے کو تم نے تھوڑی سی بات کی ۔
دوم روزے میں تم نے کون سے کافی پینی تھی۔”فہام نے اسکے جھوٹ پکڑے تھے۔ثمن یوں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پہ شرمندہ ہوئی

“نہ۔نہیں ۔وہ تو میں ۔”ثمن منمنائی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *