Mera Ishq Hai Tu by Anaya Jaffry NovelR50706 Mera Ishq Hai Tu (Last Episode)
Rate this Novel
Mera Ishq Hai Tu (Last Episode)
Mera Ishq Hai Tu by Anaya Jaffry
ﻗﮩﻘﮩﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﻮﻧﺞ ﻣﯿﮟ۔۔۔
ﺳﺴﮑﯿﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﺘﺎ۔۔
وہ رات سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی تھی اب تو اسکا جوڑ جوڑ درد کرنے لگ گیا تھا مگر اسے پرواہ کب تھی، ان دو دنوں میں اسنے پانی کے چند گھونٹ کے سوا کچھ کھایا پیا نہیں تھا.
وہ بیٹھی اپنی قسمت کے بارے میں سوچ رہی تھی.
“یا اللہ ایسا کیوں ہوتا ہے میرے ساتھ ہی ہمیشہ، میں جس سے بھی پیار کروں وہ مجھ سے چھین کیوں لیا جاتا ہے، پہلے پاپا اور اب آیان…. یا اللہ میں نہیں رہ سکتی آیان کے بغیر آپ تو جانتے ہے نا کہ میری محبت پاک ہے میں نے کبھی کوئی حد پار نہیں کی.آپکو تو پتا ہے نا کہ میں بےقصور ہوں ..آپ تو مجھ سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتے ہیں نا تو میری دعا کیوں نہیں سنتے…. یا اللہ مجھے آیان لوٹا دیں… لوٹا دیں….
وہ تکیہ میں منہ چھپا کر رو دی.
آیان اس دن کے بعد سے گھر نہیں گیا تھا. مریم کے گھر کے پاس ہی اسکے دوست کا اپارٹمنٹ تھا وہ اس میں رہ رہا تھا. اسکا دل یہ ماننے سے انکاری تھا کہ مریم ایسا کچھ کر سکتی ہے. انہی سوچوں میں گم اسکے ذہن میں جھماکا ہوا اور وہ گاڑی کی چابی لیتا باہر نکل گیا.
اس دن کے بعد سے شازیہ بیگم مریم کے سامنے نہیں آئی تھیں شام کو مریم کا نکاح تھا گھر میں سب مہمان آچکے تھے اور تیاریاں زوروشور سے جاری تھی.
اور جس بدبخت کا نکاح تھا اسکو تو یہ تک نہیں معلوم تھا کہ اسکا نکاح کس سے ہو رہا ہے. وہ بے جان مجسمے کی طرح بیڈ پر بیٹھی تھی ملازمہ کھانا رکھ کر جا چکی تھی لیکن اسنے ایک نظر بھی کھانے کی طرف نہیں ڈالی تھی.
وہ ایسے ہی گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی کہ اسے کھڑکی کی طرف آہٹ محسوس ہوئی اسنے پردہ ہٹا کر دیکھا تو وہاں آیان کھڑا تھا چند لمحوں کے لیے تو وہ ساکت ہو گئی، اسنے آیان کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے اور پردہ جلدی سے آگے کر دیا.اس میں ہمت نہیں تھی آیان کا سامنا کرنے کی.
شام کو شازیہ بیگم آئیں اور اسے جھنجھوڑ کر اٹھایا وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی.
“یہ کپڑے اور زیور جلدی سے پہن لو بیوٹیش آنے والی ہے تمہیں تیار کرنے، مجھے کوئی تماشہ نہیں چاہیے سمجھیں شازیہ بیگم اسکے بازو پر دباؤ ڈالتے ہوئے سختی سے بولیں. اسنے جلدی سے سر ہلا دیا اور مردہ قدم اٹھاتی باتھ روم کی طرف بڑھ گئی.
بیوٹیش نے اسے تیار کر دیا تھا اور وہ کسی اسٹیچو کی طرح سوفے پر بیٹھی تھی اسکی حسیات مر چکیں تھیں دماغ کام کرنا چھوڑ چکا تھا اسے کچھ پتا نہیں چلا کب کسی نے اسے گھونگھٹ کروایا اور کب کسی نے اسے کمرے سے اٹھا کر سٹیج پر بٹھایا. قاضی صاحب آچکے تھے اور نکاح کی رسم شروع ہو چکی تھی.
“مریم سے پوچھا جا رہا تھا، اور اسکو لگ رہا تھا جیسے اسکے کانوں میں کسی نے پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا ہے شازیہ بیگم نے اسکے کندھوں پر دباؤ مزید بڑھا دیا تھا.
اسکے لب کھلنے ہی لگے تھے…
_________
مریم کے لب کھلے تھے
“قبو……..
رکیں!!!
آیان کی دھاڑ نے سب کو اپنی اپنی جگہ ساکت کر دیا اور مریم کا تو جیسے سانس ہی رک گیا ہو اسنے اپنے دوپٹے پر گرفت مضبوط کر لی.
” کیا بدتمیزی ہے یہ آیان کیوں میرا تماشا بنا رہے ہو دنیا کے سامنے پہلے مریم نے کوئی کسر چھوڑ دی ہے جسکو تم پورا کرنے آئے ہو” شازیہ بیگم غصہ سے چیخیں
“آنٹی یہ نکاح نہیں ہوسکتا، مریم بے قصور ہے، میں اپنے جیتے جی مریم کے ساتھ اتنی بڑی زیادتی نہیں ہو نے دوں گا “
” یہ تم کہ رہے ہو، جبکہ تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا سب تم بھی وہاں موجود تھے اب اور تماشا مت کرو مریم کا نکاح ہونے دو” شازیہ بیگم تلخی سے بولیں اور وہاں سے جانے لگیں
” آنٹی وہ سب تصویریں نقلی تھیں مریم کے خلاف کسی کی شازش تھی، اگر مجھے بھی ہادیہ نا بتاتی تو شاید میں بھی آپکی طرح یقین کر لیتا اور بہت سی زندگیاں تباہ ہو جاتیں، میرے پاس ثبوت ہیں ” آیان جلدی سے شازیہ بیگم کے سامنے آتے ہوئے بولا
“کون سے ثبوت” شازیہ بیگم کی آواز کسی گہری کھائی سے آئی تھی
” لے آؤ اندر “
آیان کے آواز دینے پر دو اہلکار ہتھکڑیوں میں جکڑے وکی کو اندر لاۓ.
وکی کو دیکھتے ہی مریم اپنے چاچو کے پیچھے چھپ گئ، جسکو تقریباً سب نے ہی نوٹ کیا.
“یہ، یہ کون ہے” شازیہ بیگم حیرانگی سے بولیں.
“آنٹی یہ وہی ہے، جس نے میری کزن آسمارہ کے کہنے پر مریم کو اغواء کیا تھا، آسمارہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی تھی لیکن میں مریم کو پسند کرتا تھا،اسی لیے اس نے یہ سب کیا، اس واقعہ کے بعد مجھے ہادیہ نے کال کی تھی اسے آسمارہ پر شک تھا، اسکے بعد میں نے آسمارہ پر نظر رکھنی شروع کر دی اور آخر آیک دن میں نے ان دونوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ” آب آگے کی کہانی آپکو یہ سناۓ گا.
” جی میں نے ہی پیسوں کے لالچ میں مریم کو اغواء کیا تھا اور وہ تصاویر بھی میں نے ہی ایڈٹ کر کے آسمارہ کو دی تھیں وہ سب نقلی تھیں”
وکی سر جھکا کر بولا، آیان کے اشارہ کرنے پر پولیس اہلکار اسکو باہر لے گئے.
وکی کی بات سنتے ہی شازیہ بیگم دھپ سے کرسی پر گر گئی آیان نے آگے بڑھ کر انہیں سنبھالا.
” اور وہ آسمارہ کہاں ہے ” مریم کے چاچو نے پوچھا
” انکل اسکو، اس کے کیے کی سزا اللہ نے خود ہی دے دی، پولیس کو وہاں دیکھ کر وہاں سے بھاگ رہی تھی آچانک آگے سے آتی کار سے ٹکرا کر موقع پر ہی دم توڑ گئی”
شازیہ بیگم اٹھ کر مریم کے پاس آئیں اور اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے، مریم نے انکو گلے لگا لیا.
اسکے بعد وہ آیان کی طرف مڑیں
” اپنے پیرنٹس کو کل بھیجنا کچھ ضروری بات کرنی ہے ” اور مسکرا کر آگے بڑھ گئیں.
دو سال بعد
” مریم یار جلدی کرو، ہادیہ کال پر کال کیے جا رہی ہے”
“آیان یار یہ اپنی چھوٹی چڑیل کو سنبھالیں مجھے تیار نہیں ہونے دے رہی سب چیزوں میں ہاتھ مار رہی ہے” مریم ایک سال کی دعا کو آیان کو پکڑاتے ہوئے بولی.
ہووووو پاپا کی پرنسس کو مما چڑیل بول رہی ہیں، کوئی بات نہیں مما خود بھی تو بڑی چڑیل ہیں نا” آیان دعا کا ماتھا چومتے ہوئے بولا
“اور آپ جن” مریم نے بھی اپنا حصہ ڈالا
“جن کی جان چلیں اب دیر ہو رہی ہے”
مریم سیڑھیاں اترنے لگی تو آیان نے جھٹ سے آگے آکر اسکا ہاتھ پکڑا
“آرام سے یار میرے علی کو کچھ ہو نا جاۓ “آیان نے مریم کا ماتھا چوما
” اپنے نام بھی سوچ لیا ” مریم مسکرائ
” ہاں نا میرے ببر شیر کا نام علی ہی ہو گا، بس تھوڑا سا ہی وقت رہ گیا ہے پھر میں اسکو اپنی گود میں کھلاؤں گا، ہیں نا پرنسس ” آیان نے دعا کی ناک دبا کر کہا تو وہ کھلکھلا کر ہنس دی، اور مریم نے دل ہی دل میں ان دونوں کی نظر اتاری.
بہت سی مشکلات اور آزمائشوں کے بعد بالآخر آیان کو اسکی مریم اور مریم کو اسکا آیان مل ہی گۓ تھے کیونکہ ٖاس دربار میں کوئی بھی دعا رد نہیں کی جاتی
ختم شد
