Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq Hai Tu (Episode 07)

Mera Ishq Hai Tu by Anaya Jaffry

آج ہادیہ کی مہندی کی رسم تھی صبح سے گھر میں رونق لگی ہوئی تھی. ہر کوئی کسی نا کسی کام میں مصروف دکھائی دے رہا تھا.

آیان بھی صبح سے لان کو سجانے میں مصروف تھا جہاں شام میں مہندی کا فنکشن رکھا گیا تھا، ہادیہ آیان کی لاڈلی اور اکلوتی بہن تھی وہ خوش ہونے کے ساتھ ساتھ اداس بھی تھا.

مریم ہادیہ کے کمرے میں بیٹھی اسکو صبح سے تنگ کر رہی تھی.اور آسمارہ آب تک نیند کے مزے لے رہی تھی.

آسمارہ بھی اٹھ کر ہادیہ کے روم میں آگی تھی اور خلاف معمول آج اس نے مریم سے کوئی غلط بات نہیں کی تھی، ہادیہ اور مریم بھی اس بات پر حیران تھیں (طوفان آنے سے پہلے کی خاموشی تھی شاید)

ہادیہ کی باقی کزنز بھی آگئی تھی اور وہ سب ایسے ہی بیٹھیں ہنسی مزاق میں لگی ہوئی تھی جب ہادیہ کی مما اسکا مہندی کا جوڑا لے کر آگیں.

“ہادیہ بیٹا فریش ہو کر چینج کر لو بیوٹیشن آنے ہی والی ہو گی، اور مریم بیٹا آپ ہادیہ کے ساتھ ساتھ رہنا آپ کے کپڑے بھی ریڈی ہو گئے ہیں میں بھجواتی ہوں” ہادیہ کی مام عجلت میں کہتی کمرے سے باہر نکل گئیں.

جبکہ آسمارہ اپنی چچی کو مریم سے پیار بھرے لہجے میں بات کرتے دیکھ کر ہی جل بھن گی، (” آج کا دن ہے تمہارے پاس جتنا پیار لینا ہے لے لو مریم بی بی کل یہی لوگ تمہیں اپنے گھر سے گھسیٹ کر نکالیں گے” آسمارہ نفرت سے سوچتی اپنے کمرے میں تیار ہونے چل دی).

مریم کے نہ نہ کرنے کے باوجود ہادیہ نے بیوٹیش سے اسکا بھی لائٹ نیچرل میک اپ کروا دیا تھا اور بال کھلے چھوڑ کر کرلز ڈلوا دیے تھے.

بیوٹیش کے جانے کے بعد ہادیہ مریم کو تنگ کرنے لگ گئی تھی.

” افففف یار مریم آج تو بھائی کی خیر نہیں لگتی” ہادیہ شوخی سے بولی

“تم اپنے بھائی کو چھوڑو جیجو کی سوچو کہیں آج ہی نا رخصتی کروا کر لے جائیں”

مریم نے بھی حساب برابر کیا، جبکہ ہادیہ جھینپ گئی اور مریم کا قہقہہ نکل گیا.

“چلو لڑکیوں دلہن کو نیچے لے آؤ” ہادیہ کی خالہ باہر سے کہتی واپس چلی گیں.

اپنی دوستوں کے جھرمٹ میں پیلی

چادر تلے سہج سہج کر قدم اٹھاتی ہادیہ کسی شہزادی سے کم نہیں لگ رہی تھی.مریم ہادیہ کا لہنگا سمبھال رہی تھی، جبکہ آسمارہ کو سیلفیز لینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی تھی. فرزانہ بیگم نے جھٹ سے بیٹی کی نظر اتار ڈالی.

آیان کی نظر تو سیڑھیوں سے آتی مریم پر ہی ٹک گئ تھی اس کے دلاۓ گولڈن فراک میں بال کھولے لائٹ میک اپ میں وہ آسمان سے آتری کوئی اپسرا معلوم ہو رہی تھی.اسکے چہرے پر چھائی معصومیت اسکی زات کا خاصا تھی.

آسمارہ بھی آج خوب تیاری کے ساتھ آئی تھی. گرین سلیو لیس لہنگے کے ساتھ میسی جوڑا بنائے ڈارک میک اپ کے ساتھ وہ بھی پیاری لگ رہی تھی.

ریحان آیان کا کندھا تھپتھپا کر اسکو ہوش کی دنیا میں واپس لایا.

“کیا کر رہے ہیں بھائی سب دیکھ رہے ہیں کیا سوچیں گے لوگ آپ دونوں کے بارے میں” ریحان نے بھائی کو سمجھایا.

“سوری یار وہ لگ ہی اتنی پیاری رہی ہے میرا کنٹرول نہیں رہا، چل آ سب سے مل کر آتے ہیں” آیان ریحان کو کھینچ کر آپنے ساتھ لے گیا کیونکہ اسکو پتا تھا جب تک وہ یہاں رہا مریم کو ہی دیکھتا رہے گا.

شازیہ بیگم بھی تقریب میں پہنچ چکیں تھیں اور مریم آپنی مما کے ساتھ لگی ان سے باتیں کر رہی تھی اپنی بیٹی کو بالکل ٹھیک اور خوش دیکھ کر شازیہ بیگم پرسکون ہو گیں تھیں. آیان جب شازیہ بیگم سے ملنے آیا تو مریم نے اسکا چور نظروں سے جائزہ لیا سفید شلوار قمیض کے اوپر گولڈن واسکٹ پہنے بال جیل سے سیٹ کیے وہ کسی ریاست کا شہزادہ معلوم ہو رہا تھا. مریم نے جلدی سے اپنی نظریں جھکا لیں مبادا اسکی نظر ہی نا لگ جائے آیان کو.

مہندی کی رسم کے بعد کھانے کا دور چلا کھانا کھا کر کچھ دیر بیٹھے کے بعد سب مہمان واپس چلے گئے تھے. جبکہ لڑکے اور لڑکی والوں نے خوب ہلا گلا مچایا ہوا تھا مریم بھی سب کچھ بہت انجوائے کر رہی تھی دیر رات تک یہ محفل جاری رہے اسکے بعد لڑکے والے واپس لوٹ گئے اور جعفری مینشن میں سب اپنے اپنے کمروں میں سونے چل دیئے.

مریم کا تھکن سے برا حال تھا اسلیے وہ کچھ بھی اتارے بغیر بستر پر لیٹتے ہی نیند کی وادی میں گم ہو گئ.

ہادیہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی اپنا میک اپ صاف کر رہی تھی جب اسکو آیان کا میسج آیا.

“ہادیہ روم سے باہر آؤ، مجھے مریم. کو دیکھنا ہے”

“بھائی وہ سو رہی ہے”

“مجھے اسے سوتے میں ہی دیکھنا ہے، جلدی میرے روم میں آؤ (آیان کا روم ہادیہ کے روم کے بالکل ساتھ ہی تھا).

ہادیہ آیان کے روم میں گی” دروازہ لاک کرلو اندر سے جب تک میں میسج نا کروں واپس مت آنا”

“اچھا اچھا بھائی جائیں اب”

آیان ہادیہ کے روم میں آگیا اور دروازہ آہستہ سے لاک کرتا اس دشمن جان کے پاس آ بیٹھا.

“پورے فنکشن میں تمہیں جی بھر کر دیکھا بھی نہیں کتنی پیاری لگ رہیں تھیں جان آیان اسی لیے تو آب دیکھنے آیا ہوں”

مریم نے کروٹ بدلی آیان نے دیکھا اتنی جیولری کے ساتھ وہ ڈسٹرب ہو رہی تھی تو اس نے احتیاط سے اسکی ساری جیولری اتار دی اور کچھ دیر بیٹھا اسکو یونہی دیکھتا رہا پھر اس پر کمبل درست کرتا اسکے ماتھے پر اپنی محبت کی مہر ثبت کرتا اپنے کمرے کی طرف چل دیا.

______

کانچ کی چوڑیاں لے کر میں جب تک لوٹا

اس کے ہاتھ میں سونے کا کنگن تھا🔥

آج ہادیہ کی بارات آنی تھی. سب خوش ہونے کے ساتھ ساتھ اداس بھی تھے.بارات آنے میں کچھ ہی دیر رہ گئی تھی اسلیے سب گاڑیوں میں بیٹھ رہے تھےشادی ہال جانے کے لیے چونکہ آسمارہ اور مریم، ہادیہ اور مہمانوں کی دیکھ بھال میں مصروف تھیں اسلیے وقت پر تیار نا ہو سگی تھیں، آیان کو ان دونوں کو ہال لانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی.

“مریم یار جلدی کرو، ہم لیٹ ہو رہے ہیں” آیان گھڑی دیکھتے ہوئے بولا.

“بس آ رہی ہوں، جوتے تو پہن لوں” مریم جوتے پہن کر باہر آئ. آیان نے دیکھا مریم نے ہیلز پہنی ہیں، تو جلدی سے اوپر گیا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر سیڑھیوں سے نیچے لایا.. اتنی فکر دیکھ کر مریم کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی.

“اب یہ پہن تو لی ہیں تم نے لیکن دھیان رکھنا اور زیادہ چلنا پھرنا نہیں ایویں کہیں گری پڑی ہو گی” آیان حکم دینے کے اندر میں بولا.

” ہاہاہاہا اوکے باس جو حکم آپ کا” مریم کھلکھلا کے ہنس دی.

“باس کی جان تو آج باس کا امتحان لینے پر تلی ہوئی ہے” آیان مریم کو اپنے نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے بولا.1

مریم کے گال شرم کے مارے دہکنے لگے اور لال ٹماٹر جسے ہو گئے.

“ہاہاہاہا مریم لال ٹماٹر” آیان مریم کو چھیڑ کر بھاگ گیا، اور مریم آیان کو پکڑنے کے لئے بھاگنے ہی لگی تھی کہ ہیل کی وجہ سے سلیپ ہو گئی. آیان نے جلدی سے آکر اسکو پکڑا…..”دھیان سے یار”….

“تم دونوں کا رومینس ختم ہو گیا ہو تو چلیں” آسمارہ تلخی سے کہتی گاڑی کی طرف بڑھ گئ.

” چلو… آیان مریم کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کی طرف چل دیا….. حیرانگی والی بات یہ تھی کہ آسمارہ آج اگلی سیٹ خالی چھوڑ کر پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھی.

آیان نے مریم کے لیے اگلی سیٹ کا دروازہ کھولا (آسمارہ نے یہ دیکھ کر منہ پھیر لیا) اور اسکو اندر بیٹھا کر خود ڈرائیونگ سیٹ پر آ گیا.

تقریباً پندرہ منٹ کی ڈرائیو پر وہ ہوٹل پہنچ گئے، سارا راستہ وہ دونوں آیک دوسرے کو چھیڑتے ہوئے آۓ تھے

“ایک منٹ رکو مریم” مریم اندر جانے لگی تھی کہ پیچھے سے آیان کی آواز آئی… مریم رک گئی.

آیان چل کر مریم تک آیا اور اسکی ٹیڑھی ہوئی، ہوئی بندیا ٹھیک کی.

پرفیکٹ!!!! “اب جاؤ اور سنو!!!! دھیان رکھنا آپنا”

مریم مسکراتی ہوئی اندر بڑھ گئی.

“جتنا خوش ہونا ہے ہو لو تم دونوں بس کچھ ہی پل ہیں تم دونوں کے پاس” آسمارہ جلتی کڑھتی مریم کے پیچھے چل دی.

جب بیٹیاں پرائ ہو جاتی ہیں وہ وقت آن پہنچا تھا…. نکاح کی سنت پوری کرنے کے لیے ہادیہ کو کھونگٹ اوڑھا دیا گیا تھا.. ایجاب و قبول کا لمحہ آن پہنچا. ہادیہ نے زور سے مریم کا ہاتھ پکڑ لیا تھا. پاپا کی لاڈلی اور بھائیوں کی گڑیا آج پرائ ہونے جا رہی تھی سب کی آنکھیں نم ہو گئی.

نکاح ہونے کے بعد ہر جگہ مبارک، مبارک کا شور ٰاٹھ گیا سب کا منہ میٹھا کروایا گیا.

ہادیہ کو سٹیج پر لے جایا جا رہا تھا…. جب وہ قریب پہنچی تو اسد نے اسکا ہاتھ تھام کے اسے سٹیج پر چڑھنے میں مدد دی.

پھر خوب ہلاگلا ہوا، مریم کا تو ہنس ہنس کے برا حال ہو گیا تھا.

ریحان کی طرف سے ہادیہ اور اسد کے لیے ایک سرپرائز تھا. اس نے ان دونوں کی بچپن سے لے کر اب تک کی تمام تصاویر اکھٹی کیں تھیں، اور انکی ایک خوبصورت ویڈیو بنائی گئی تھی.

ریحان نے اپنے دوست کو اشارہ کیا تو ہال کی تمام لائٹس بند کر دی گئی اور ہال میں لگی بڑی سکرین روشن ہو گئ.

آسمارہ کے چہرے پر مکروہ مسکراہٹ دوڑ گئی.

سب لوگ دلچسپی سے ہادیہ اور اسد کی بچپن کی تصویریں دیکھ رہے تھے کے اچانک سے مریم کی تصاویر شروع ہو گئیں ان تصویروں میں مریم مختلف لڑکوں کے ساتھ مختلف جگہوں پر تھی.کچھ تصاویر دیکھ کر سب کی نظریں جھک گئیں.

جبکہ مریم ایسے کھڑی تھی جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں. آیان کے چہرے کا رنگ بھی بدلا تھا ضبط کے مارے اس نے مٹھیاں بھینچ لیں تھی، ریحان نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے کچھ بھی کہنے سے روکا تھا. ویڈیو ختم ہو چکی تھی جبکہ سب لوگ یونہی ساکت کھڑے تھے.

سب سے پہلے مریم کو ہوش آیا وہ شازیہ بیگم کی طرف بھاگی….

“مما مما میری بات تو…………

چٹاخ…….چٹاخ……. چٹاخ………

شازیہ بیگم نے پے در پے مریم کو کئ تھپڑ دے مارے تھے اور وہ اوندھے منہ فرش پر جا گری تھی، ہادیہ نے آگے بڑھ کر اسکو سنبھالا….

” تم تم نے میری پرورش میرے لاڈ پیار کا یہ صلہ دیا مجھے، میری عزت مٹی میں ملا دی،تم چلو میرے ساتھ” شازیہ بیگم مریم کو گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ گھر لے آئیں اور اس سے اسکا موبائل چھین کر کمرے میں بند کر دیا.

جبکہ کامران صاحب نے سب سے معذرت کر کے کھانا کھلوا دیا تھا اور کھانے کے بعد ہادیہ کی سادگی سے رخصتی کر دی گئی، رخصت ہوتے وقت ہادیہ نے آسمارہ کے چہرے پر چھائی شاطرانہ مسکراہٹ بخوبی دیکھ لی تھی. جبکہ اس رات آیان گھر نہیں گیا تھا.

دو دن بعد……..

شازیہ بیگم مریم کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئیں.

“مریم یہ کپڑے پہن کر تیار ہو جانا، شام کو نکاح ہے تمہارا”

شازیہ بیگم کپڑے بیڈ پر پھینک کر جانے کے لیے مڑی ہی تھیں کہ مریم نے انکا ہاتھ پکڑ لیا.

“ماما، ماما پلیز ایسا نا کریں اتنا بڑا ظلم نا کریں میرے ساتھ، ماما میں پاک ہوں، پاپا کی عزت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی میں نے میری بات کا یقین کریں ، آپ جو کہیں گی میں کروں گی میں کالج بھی چھوڑ دوں گی گھر سے کبھی باہر نہیں جاؤں گی، پر پلیز یہ نکاح توڑ دیں ماما پلیز توڑ دیں،میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں” مریم بلک بلک کر رو دی.

“دیکھو مریم فضول بکواس سننے کا میرے پاس ٹائم نہیں یہ نکاح تو تمہیں ہر صورت ہی کرنا ہو گا ورنہ میری مری ہوئی شکل دیکھوں گی تم سمجھی”

یہ کہ کر شازیہ بیگم اپنا ہاتھ چھڑواتی کمرے کا دروازہ بند کرتی باہر نکل گئ.

پیچھے مریم نڈھال سی نیچے گر گئی.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *