Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq Hai Tu (Episode 03)

Mera Ishq Hai Tu by Anaya Jaffry

یہ جو سلسلہ ہے اک درد کا، یہ تحفہ یوں ہی ملا نہیں۔….!!!!

میرا جرم ہے میری سادگی، میری اور کوئی خطا نہیں۔۔۔۔!!!!!

وکی اور آسمارہ ایک ہوٹل میں بیٹھے مریم کے بارے میں ڈسکس کر رہے تھے۔ ہاں تو آسمارہ ڈارلنگ آگے کا کیا پلان ہے،کیا کرنا ہے اس مریم کے ساتھ……؟وکی نے جوس کا سپ لیتے پوچھا۔”کرنا کیا ہے یار بس جیسے میں نے تمہیں سمجھایا تھا ویسے ہی کرنا ہے سب شام تک یو ایس بی تیار کر کے دے دو مجھے تاکہ میں اگلی تیاری کرلو اور ہاں پرسوں اسکا آخری پیپر ہے چھٹی کے ٹائم اٹھا لو اسے” اور یاد رکھنا کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اسکے بعد کیا کرنا ہے یہ میں تمہیں یہ سب ہونے کے بعد بتاؤں گی اوکے آب میں چلتی ہوں بابا کی بار بار کال آ رہی ہے ٹیک کیر وکی بےبی اسمارہ مکاری سے کہتی اپنے گھر چلی گئی۔اس مچھلی کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے اسکے کام تو کرنے پڑھیں کے نا ہاہاہاہاہاہاہا وکی خباثت سے ہنس دیا۔

مریم سارا دن پیپر کی تیاری میں مصروف رہتی تھی اس لیے وہ آیان سے بات نہیں کر پاتی تھی آب رات میں وہ آیان سے کال پر بات کر رہی تھی۔

“مریم یار میں کب سے بول رہا ہوں لیکن تم کچھ بول ہی نہیں رہیں کیا بات ہے طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمھاری” آیان نے پریشانی سے پوچھا۔

“جی ٹھیک ہوں میں بس تھک گئی ہوں سر میں درد ہو رہا ہے بہت”۔

“اچھا تم سو جاؤ میں نے بس یہ بتانا تھا کہ میں کام کے سلسلے میں تین دن کے لیے اسلام آباد جا رہا ہوں وہاں جاکر شاید بات نا ہو اس لیے تم خیال رکھنا اپنا”۔

“میں کیسے رہوں گی تین دن آپ کے بغیر مریم نے روہانسی ہوتے ہوئے کہا”

“میری جان رہ تو میں بھی نہیں سکتا پر مجبوری ہے آب کام بھی تو کرنا ہے نا تم کہتی ہو تو نہیں جاتا”

“جی میں سمجھ سگتی ہوں آپ جائیں،مریم نے اداسی سے کہا”۔

“مریم یار اداس تو مت ہو ورنہ میں نہیں جاؤں گا”۔

“مریم یار کچھ بولو تو،مریم۔۔۔۔۔۔۔”شاید سو گی پاگل۔

“مریم بیٹا کل ارسلان (مریم کا کزن) کی منگنی ہے تیار رہنا آج آپکے چاچو کا فون آیا تھا انہوں نے بلوایا ہے”،شازیہ بیگم نے بیٹی کو بتایا۔

“پر ماما کل تو میرا پیپر ہے آپ نے چاچو کو بتایا نہیں…؟”

“بیٹا پیپر صبح ہے اور ہم نے شام میں جانا ہے”۔شازیہ بیگم نے کہا۔

“اوکے ماما چلے جائیں گے،آپ میرے لیے کوئی ڈریس نکال دیجیۓ گا پلیز”۔

“اوکے بیٹا میں نکال دوں گی آب آپ پیپر کی تیاری کرو”

“جی ماما میں کر رہی ہوں”۔

مریم پیپر کی تیاری کر کے سو گئی تھی۔کل اسکا پیپر تھا۔پر وہ نہیں جانتی تھی کل اسکے ساتھ کیا ہونے والا ہے وہ گھر پہنچ بھی پائے گی یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔؟

“بھائی آپ ابھی تک سوے نہیں”۔ہادیہ جو اپنے کمرے سے پانی لینے نکلی تھی رات کے دو بجے آیان کو باہر بیٹھا دیکھ کر اسکی طرف آی۔

“کچھ نہیں چھوٹی بس دل گھبرا رہا ہے ایسا لگ رہا ہے جیسے کچھ برا ہونے والا ہے نیند نہیں آ رہی سوچ رہا ہوں مریم کو کال کرلوں”۔

“بھائی بھابھی اس ٹائم سو رہی ہوں گی آپ بھی اپنے کمرے میں جائیں دو رکعت نماز نفل پڑھ کر سو جائیں انشاء اللہ سب کچھ ٹھیک ہوگا اپنے صبح اسلام آباد بھی جانا ہے”

“ٹھیک ہے چھوٹی میں جاتا ہوں تم بھی سو جاؤ،

“اوکے بھائی گڈ نائٹ”

“گڈ نائٹ”

_________

چھوٹی میں اسلام آباد کے لیے نکل رہا ہوں مریم سے بات کرنا چاہتا تھا لیکن اسکا فون آف جارہا ہے تم اسکو بتا دینا کے وہ پریشان نہ ہو میں جلدی واپس آجاؤں گا۔

“ٹھیک ہے بھائی میں بتا دوں گی بھابھی کو”۔

“اوکے اللّٰہ حافظ،اپنا اور بابا کا خیال رکھنا”

“اوکے بھائی اللّٰہ حافظ”

آیان آکر گاڑی میں بیٹھ گیا،وہ جانا نہیں چاہتا تھا ناجانے کیوں اسکا دل کل رات سے گھبرا رہا تھا۔ اللّٰہ میری مریم کی حفاظت فرما۔اس نے ان سب سوچوں کو جھٹکا اور گاڑی سٹارٹ کر کے اسلام آباد کے لیے نکل گیا۔

“مریم بیٹا اٹھو کالج کے لیے لیٹ ہو رہی ہو” شازیہ بیگم مریم کو چھ بجے سے اٹھا رہی تھی اور اب سات بج گئے تھے لیکن مریم اٹھنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔

“کونسا کالج ماما کالج سے تو چھٹیاں ہے جھوٹ مت بولیں مجھے اٹھانے کے لیے” مریم نیند میں بڑبڑای ۔

“اففففف خدایا مریم آج اپکا آخری پیپر ہے بیٹا”

“مریم جھٹکے سے اٹھی ماما آپ نے مجھے جلدی کیوں نہیں اٹھایا میں نے رات کو آپ کو بولا بھی تھا”مریم یہ کہتی جلدی سے واشروم بھاگ گئی۔

لو جی میں تو دو گھنٹے سے اٹھا رہی تھی اٹھی خود نہیں اور آب سارا الزام ماں پر ڈال دیا،یا اللّٰہ اس لڑکی کو ہدایت دے۔(آمین)۔یہ کہ کر شازیہ بیگم مریم کے لیے چاۓ بنانے کچن میں چلی گئیں۔

مریم جب تیار ہو کر ناشتے کے میز پر آی چائے کے کپ کے ساتھ پڑے اپنے ازلی دشمن کو دیکھا تو ماں سے پوچھا”یہ انڈہ کس کا ہے”۔

“مرغی کا ہی ہے اور کس کا ہو سکتا ہے”۔شازیہ بیگم نے بیٹی کو تپانے کی غرض سے کہا۔

“افف ماما یہ میری چاۓ کے ساتھ کیوں رکھا ہے” مریم نے جھنجھلا کر پوچھا۔

“کیونکہ یہ کھانا ہے اپکو اس لیے”

“ماما اپکو پتا ہے نا مجھے بوائل انڈہ نہیں پسند”

“مریم کھا لو صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے”

“اوکے ماما کھا لیتی ہوں”مریم نے گندہ سا منہ بناکر کہا اور جلدی سے آنڈہ کھایا،زردی سائیڈ پر کردی۔

“مریم آب اس زردی سے کیا دشمنی ہے تمہاری” شازیہ بیگم نے غصہ دیکھتے پوچھا۔

“ماما یہ میرے گلے سے نیچے نہیں اترتی بس میں نے نہیں کھانی”

“اچھا ٹھیک ہے ضد تو اپنی ہی پوری کرنی ہے نا تم نے”

“ماما میں جا رہی ہوں”

“اوکے بیٹا پیپر دھیان سے کرنا”

“جو حکم اپکا سرکار”

“شرارتی لڑکی آب جاؤ لیٹ ہو رہی ہو” شازیہ بیگم نے بیٹی کو پیار کیا اور ڈھیر ساری دعائیں دے کر رخصت کیا۔

مریم کے گھر سے نکلتے ہی وکی نے بھی اسکا پیچھا کرنا شروع کر دیا مریم تو کالج کے اندر چلی گئی جبکہ وکی کالج کے باہر چھٹی ہونے کا انتظار کرنے لگ گیا۔

“ہاں وکی پہنچ گئے ہو کالج” اسمارہ نے پوچھا۔

“ہاں پہنچ گیا ہوں بس اب چھٹی کا انتظار ہے”

“گڈ آب میں اس مریم سے اپنے سارے بدلے لے لوں گی اس سے آیان کو چھین کر بہت دور لے جاؤں گی بےچاری ترسے گی آیان کو دیکھنے کے لیے بھی” ہاہاہاہاہاہاہا دونوں نے اونچا قہقہہ لگایا۔

“اوکے آب میں تمہیں کام ہو جانے کے بعد کال کرتا ہوں”وکی نے کہا اور فون کاٹ دیا۔

مریم کا آخری پیپر بھی بہت اچھا ہو گیا تھا وہ خوش خوش ہال سے باہر آئی اور دوستوں کے ساتھ بیٹھ گئی۔

“مریم آب چھٹیوں میں کیا کرنے کا ارادہ ہے تمہارا” آمنہ نے پوچھا۔

“کرنا کیا ہے یار مزے سے جی بھر کر نیند پوری کروں گی گھوموں گی پھروں گی مزے کروں گی”مریم نے چپس ٹھونستے جواب دیا۔

“توبہ ہے جو یہ لڑکی کبھی سیریس ہو جائے”علیزہ نے تاسف سے کہا

“تم ہو سیریس کیونکہ تم بڈھی ہو گئی ہو، میں کیوں ہوں”مریم نے حساب برابر کیا۔

“چھٹی ہو گئی ہے چلو سب اپنے اپنے گھر دفع ہو” علینا بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھی۔

مریم اپنی سب دوستوں سے مل کر گیٹ پر آی اسی وقت وکی بھی مریم کے پاس آیا (اس نے ایک شریف آدمی کا بھیس بدلا ہوا تھا اس لیے مریم کو اس پر شک نہیں ہوا)

“بیٹا آپ مریم ہیں…..؟” نہایت نرم لہجے میں پوچھا۔

“جی،لیکن آپ کون ہیں۔۔۔؟” مریم نے حیران ہوتے پوچھا

“میں آپ کے چاچو کے آفس میں کام کرتا ہوں وہ میٹنگ میں بزی تھے تو انہوں نے مجھے اپکو لینے بھیجا ہے” آب چلیں۔۔۔؟ نرمی سے پوچھا گیا۔

“نہیں! پہلے آپ میری چاچو سے بات کروا دیں پھر میں آپ کے ساتھ چلوں گی” مریم آب بھی بھروسہ کرنے کو تیار نہیں تھی۔

“بیٹا وہ میٹنگ میں بزی ہوں گے آپ چاہتی ہیں میں اس ٹائم کال کر کے انکو ڈسٹرب کروں” آخری حربہ آزمایا گیا۔

“نہیں ٹھیک ہے چلیں” مریم راضی ہو گئی۔

وکی مریم کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی تک لایا ڈرائیو کو اشارہ کیا اور مریم کو پچھلی سیٹ پر بٹھا کر خود بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔مریم نے اسکو اشارہ کرتے دیکھ لیا تھا اس سے پہلے کے وہ کوئی مزاحمت کرتی یا وہاں سے بھاگتی وکی نے رومال مریم کے ناک پر رکھ دیا اور پھر چند ہی سیکنڈز میں مریم ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گئی۔۔

________

شازیہ بیگم ظہر کی نماز ادا کر کے فارغ ہوئی ٹائم دیکھا تو پریشان ہوئی یا اللّٰہ خیر مریم کو اب تک گھر آ جانا چاہیے تھا بارہ بجے اسکو چھٹی ہوتی ہےاور اب تو ایک سے بھی اوپر ٹائم ہو گیا ہے۔ بھائی صاحب (مریم کے چاچو) سے فون کرکے پوچھتی ہوں۔

“آسلام علیکم بھائی صاحب اپنے مریم کو لے لیا ہے کالج سے….؟ اتنی لیٹ وہ پہلے کبھی نہیں ہوی تو مجھے پریشانی ہو رہی تھی”۔شازیہ بیگم نے ایک ہی سانس میں سب بول دیا۔

“اوہ بھابھی مریم کو بھی لینا تھا میٹنگ کے چکر میں یہ بات میرے دماغ سے ہی نکل گی آپ پریشان مت ہوں میں ابھی جاتا ہوں مریم کے کالج” اسلم صاحب نے یہ کہہ کر فون کاٹ دیا اور مریم کے کالج کے لیے نکل گئے۔

شازیہ بیگم اللّٰہ سے اپنی بیٹی کی سلامتی کی دعا مانگنے لگ گئیں۔ناجانے کیوں ان کا دل کچھ دنوں سے بہت گھبرا رہا تھا۔

اسلم صاحب جب مریم کے کالج پہنچے تو انہیں مریم کہیں بھی نظر نہیں آی چوکیدار سے پوچھا تو وہ بولا”مریم تو کافی دیر پہلے کسی کے ساتھ جا چکی ہے” “ایسے کیسے وہ کسی کے ساتھ جا سکتی ہے آپ پلیز ٹھیک سے چیک کریں وہ اندر ہی ہوگی”اسلم صاحب پریشانی سے بولے۔”سر وہ اندر نہیں ہیں میں نے ٹھیک سے ہی چیک کیا ہے” اسلم صاحب کی پریشانی مزید بڑھ گئی انہیں رہ رہ کے اپنی لاپرواہی پر غصّہ آ رہا تھا۔

“یہ سب میری لاپرواہی کی وجہ سے ہوا ہے خدانخواستہ اگر مریم کو کچھ ہو گیا تو میں بھابھی کو کیا جواب دوں گا آخرت میں بھائی کے سامنے کس منہ سے جاؤں گا”اسلم صاحب اپنا سر پکڑ کر گاڑی میں بیٹھ گئے۔

انہوں نے کالج کے آس پاس سب جگہ دیکھ لیا مریم کہیں نا ملی تھک ہار کے انہوں نے گاڑی مریم کے گھر جانے والے راستے پر ڈال دی۔

“بھائی صاحب مریم کدھر ہے” شازیہ بیگم نے اسلم صاحب کو دیکھتے ہی پوچھا۔

“بھابھی وہ نہیں ملی”اسلم صاحب نے جھکے سر کے ساتھ جواب دیا۔

“کیا مطلب نہیں ملی” شازیہ بیگم نے حیرانی سے پوچھا۔

تو اسلم صاحب نے انہیں ساری بات تفصیل سے بتا دی۔شازیہ بیگم صوفے پر گر گئیں۔”بھائی صاحب میری بچی ایسی نہیں ہے کے وہ کسی کے ساتھ بھی چلی جائے،ضرور وہ کسی مشکل میں ہے” شازیہ بیگم نے روتے ہوئے کہا۔

بھابھی صبر رکھیں مل جائے گی مریم ہوسکتا ہے وہ اپنی کسی فرینڈ کے گھر چلی گئی ہو آپ اسکی فرینڈز سے فون کرکے پوچھیں۔

“جی بھائی صاحب میں پوچھتی ہوں”

مریم کی سب فرینڈز کو فون کرکے پوچھ لیا گیا مریم کسی کے گھر بھی نہیں گئی تھی۔

مریم سب کی لاڈلی تھی۔سب کا پریشانی سے برا حال تھا رو رو کر شازیہ بیگم کی حالت غیر ہو رہی تھی۔ مرد سارے مریم کو ڈھونڈنے میں مصروف تھے۔مگر مریم نے نہیں ملنا تھا سو وہ نہیں ملی۔

“ہادیہ یار مریم سے تمہاری بات ہوئی۔میں کب سے اسکو کال کر رہا ہوں پر اسکا نمبر آف جارہا ہے ایسا پہلے تو کبھی نہیں ہوا” آیان پریشانی سے بولا۔

“بھائی وہ دراصل بات یہ ہے کے۔۔۔۔۔۔۔” اتنا کہ کے ہادیہ چپ ہو گئی۔

“کیا بات ہے چھوٹی تم پریشان لگ رہی ہو،مریم ٹھیک تو ہے نا” آیان نے بے چینی سے پوچھا۔

“بھائی مریم لاپتہ ہے کالج سے وہ گھر نہیں آی کالج میں بھی نہیں ہے اسکا کچھ پتا نہیں چل رہا۔ سب اسکو ڈھونڈ رہے ہیں۔آ نٹی کا فون آیا تھا وہ مجھ سے بھی پوچھ رہیں تھیں مریم کا ہادیہ نے روتے ہوئے بھائی کو بتایا۔

“کیا اتنا کچھ ہو گیا اور تم نے مجھے بتانا ضروری بھی نہیں سمجھا حد ہے ویسے میں ابھی نکل رہا ہوں کچھ گھنٹوں میں گھر پہنچ جاؤں گا خود ہی ڈھونڈ لوں گا اپنی مریم کو” آیان نے غصے سے چیختے ہوئے کال کاٹ دی۔

“کام ہو گیا” آسمارہ نے وکی کو میسج کیا۔

“ہاں ہو گیا چڑیا آپنی قید میں ہے ہاہاہاہاہاہاہا” وکی خوشی سے بولا۔

“واہ یار تونے تو کمال کر دیا” آسمارہ خوشی سے چہکی۔

“وکی نام ہے میرا جو کہتا ہوں وہ کر کے دیکھاتا ہوں”وکی اکڑ کر بولا۔

“یہ بات تو ہے۔ویسے کس حال میں ہے چڑیا”اسمارہ نے مزے لیتے ہوئے پوچھا۔

“بے ہوش ہے” وکی نے مریم کے گال پر ہاتھ پھیرتے جواب دیا۔

“چلو تم انجوائے کرو میں بعد میں کال کرتی ہوں” ہاہاہا آسمارہ نے خباثت سے بولتے فون کاٹ دیا۔

وکی کا موبائل بجا اور وہ کمرے سے باہر آگیا۔

مریم آنکھیں کھولنے کی کوشش کر رہی تھی پر اس سے آنکھیں کھولیں نہیں جا رہی تھی۔آخر کافی جدوجہد کے بعد وہ آنکھیں کھولنے میں کامیاب ہو گئی آنکھیں کھلنے پر خود کو اندھیرے کمرے میں پایا۔

“یہ میں کہاں ہوں” مریم نے خود سے پوچھا۔ذہن پر زور دیا تو سب یاد آتا گیا۔اوہ خدایا یہ کیا ہو گیا ہے میرے ساتھ کون ہیں یہ لوگ اور مجھے یہاں کیوں لاے ہیں ماما پریشان ہو رہی ہوں گی۔اللہ مجھے ماما کے پاس پہنچا دے، آیان مجھے بچا لیں،ادھر بہت اندھیرا ہے آور آپکو تو پتا ہے نا مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے،مجھے درد بھی ہو رہا ہے مریم چیخ پڑی۔اس نے اپنے ہاتھ کھولنے کی کوشش کی پر نہیں کھول پای اس کے جسم میں درد کی لہریں اٹھ رہی تھی۔ماما میری ماما پتا نہیں کیس ہوں گی مریم بےبسی سے رو دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *