Mera Ishq Hai Tu by Anaya Jaffry NovelR50706 Mera Ishq Hai Tu (Episode 01)
Rate this Novel
Mera Ishq Hai Tu (Episode 01)
Mera Ishq Hai Tu by Anaya Jaffry
“میں آپ سے پیار نہیں کرتی”۔آج پھر وہ روٹھی روٹھی آیان سے کہ رہی تھی. اود وہ ہمیشہ کی طرح اس کی بات سن کر مسکرا رہا تھا۔ اس کو مسکراتا دیکھا کر وہ غصے سے پیر زمین پر مارتی وہاں سے چلی گئی اور وہ اسکو آ وازیں دیتا رہ گیا۔
آ یان جس کا تعلق لاہور سے تھا۔اچھی پڑھی لکھی فیملی سے بیلونگ کرتا تھا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک سیاسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر گیا تھا۔24 سال کا خوبرو سا آیان اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ مریم کے دل کو اپنا بنا گیا تھا اور اپنا دل بھی مریم کے نام کر بیٹھا تھا۔
“مریم اب اٹھ بھی جاؤ بیٹا کتنا سو گی” شازیہ بیگم بیٹی پر سے کمبل کھینچتے ہوئے بولیں۔”
سونے دیں نا ماما پلیز”، مریم کمبل ٹھیک کرتے ہوئے بولی۔
“اف اس لڑکی کا میں کیا کروں” شازیہ بیگم سر پیٹ کر رہ گئیں۔
مریم جس کا تعلق گجرانوالہ سے تھا جو کے لاہور سے کچھ ہی فاصلے پر واقع ہے۔مریم اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔کچھ سالوں پہلے باپ کے دست شفقت سے بھی محروم ہو چکی تھی۔اب مریم اپنی والدہ شازیہ بیگم کے ساتھ اکیلی ہی رہتی تھی۔18 سال کی خوبصورت سی مریم آ یان کے دل کو بہت بھاتی تھی۔
“مریم جلدی سے تیار ہو کر آؤ کالج سے لیٹ ہو رہی ہو” شازیہ بیگم ناشتہ کی میز پر بیٹھی مریم کو آوازیں لگا رہی تھیں.مریم ٹس سے مس نہ ہوئی اور بستر پر پڑی رہی۔کالج جانے میں جب پندرہ منٹ رہ گئے تب مریم جلدی سے بستر سے اٹھی تیار ہوکر نیچے آئی ماں کو سلام کرتی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی اور چائے پینے لگی۔
” مریم بیٹا تھوڑا سا ناشتہ کرلو”
“نہیں ماما مجھے نہیں کرنا میرا دل نہیں کر رہا” ۔شازیہ بیگم گہری سانس لے کر رہ گئی کیونکہ ان کی یہ بیٹی بہت ضدی تھی۔مریم چائے پی کر فارغ ہی ہوی تھی کے کالج وین کا ہارن سنائی دیا جلدی سے بیگ اٹھاتی ماں کو پیار کرتی باہر بھاگ گئی۔
آ یان بھائی کب سے اٹھا رہی ہوں آب اٹھ بھی جائیں۔ہادیہ جو کے پچھلے آدھے گھنٹے سے آیان کو جگا رہی تھی اس کے نہ جاگنے پر تنگ آ کر اس پر چیخ رہی تھی۔اور وہ بھی بہن کو غصے میں دیکھ کر جلدی میں اٹھ بیٹھا۔اٹھ گیا ہوں نا اب چیخو تو مت بہت احسان ہے آپکا وہ کہتی ہوئی کمرے سے چلی گئی اور وہ موبائل اٹھا کر چیک کرنے لگا یہ کیا مریم کا ایک بھی میسج نہیں آیا کہیں وہ ناراض تو نہیں لیکن ایسا کچھ ہوا تو نہیں ہاں یاد آیا اس نے مجھے کل بتایا تھا کہ اس نے آج کالج جانا ہے اففففف میں بھی کتنا بھلکڑ ہوں
وہ جو کالج میں ایک برا دن گزا کر تھکی ہوئی گھر آئی تھی گھر میں آئی پھپھو کو دیکھ کر اسکا موڈ اور بگڑ گیا بیگ پھینک کر کمرے میں اکر بیٹھ گئی ابھی اس نے موبائل اٹھایا ہی تھا کہ شازیہ بیگم غصے میں اس کے کمرے میں آئی مریم یہ کیا بدتمیزی ہے کون سی بدتمیزی ماما وہ جو سب جانتی تھی کمال اداکاری سے منہ پر معصومیت سجائے ماں سے پوچھ رہی تھی تم اپنی پھپھو سے ملے بغیر ہی آ گئی باہر وہ کتنی باتیں بنا رہیں ہیں کیا میں نے تمھاری یہی تربیت کی تھی ماما مجھے نہیں ملنا ان سے مجھے وہ پسند نہیں مریم فضول بکواس مت کرو اور ایک منٹ کے اندر تم پھپھو کے پاس ہونی چاہیے ہو آئی سمجھ اس کی ماں اسکو غصے سے کہتی چلی گئیں چارو ناچار وہ بھی منہ کے زاویے بگاڑتی باہر چل دی۔
اسلام علیکم پھپھو ارے وعلیکم السلام کافی جلدی نہیں خیال آ گیا پھپھو کو سلام کرنے کا عافیہ بیگم طنز سے بولیں اس سے پہلے کے مریم بولتی شازیہ بیگم نے اسکو آرام کرنے کے لیے کمرے میں بھیج دیا
_______
گرمیوں کا اختتام تھا اور سردیاں ہلکا ہلکا اپنا رنگ دکھانا شروع ہو گئی تھی۔مریم جو رات کے دو بجے تک آیان سے باتیں کرتی رہی تھی اب پڑی مزے سے سو رہی تھی۔
تب ہی شازیہ بیگم اس کے کمرے میں آئی “مریم بیٹا اٹھو کالج نہیں جانا کیا” ماما سونے دیں مجھے نہیں جانا کالج مریم منہ بنا کے بولی کیوں نہیں جانا کالج اٹھو اور تیار ہو شازیہ بیگم غصّے سے بولی ماما پلیز نا میں کل چلی جاؤں گی پرومس، حد ہے ہر دوسرے دن کالج سے چھٹی میں تو تنگ آگئی ہوں اس لڑکی سے شازیہ بیگم غصّے سے کہتی اس کے کمرے سے نکل گئ اور مریم میڈم دوبارہ مزے سے سو گئ۔
آیان بیٹا کدھر ہو کامران جعفری جو کے ایان کے پاپا تھے اسکو آوازیں دے رہے تھے” جی پاپا آیا” ایان جو کے ابھی اٹھا تھا جلدی سے باپ کے پاس آیا جی پاپا “بیٹا یہ کچھ سامان اپنے چاچو کے گھر دے آنا یہ بات سنتے ہی ایان کا موڈ خراب ہو گیا کیوں کے اسکو ابھی مریم سے ملنے جانا تھا پر باپ کے سامنے ایان کچھ نہیں کہ سکا “جی پاپا دے اتا ہوں ” یہ کہ کر ایان وہاں سے اٹھ گیا اور منہ بناتا چاچو کے گھر کی طرف گاڑی موڑ لی۔
مریم یار سوری نا یار پاپا نے کام سے بھیج دیا تھا تو نہیں آسکا مریم جو کہ آ یان کا ایک گھنٹہ انتظار کرتی رہی اور اس کے نہ آنے پر گھر آگئی تھی۔ایان کی کال آنے پر اس سے لڑ رہی تھی۔”ہاں میں تو پاگل ہوں نا جو ہر دفع آپ کا انتظار کرتی رہتی ہوں اپ کے تو کام ہی ختم نہیں ہوتے جائیں جاکر اپنے کام کریں مجھے نہیں بات کرنی اپ سے” مریم نے غصے سے جواب دیا اود فون بند کر کے رونے بیٹھ گئی”میری تو کوئی ویلیو ہی نہیں ھے ایان کے سامنے جب دیکھو میں ہی انتظار کروں پھر بھی نہیں آتے دیکھنا اب میں بھی بات نہیں کروں گی ھاہ”
ایان نے بھی دوبارہ مریم کو کوئی کال یا میسج نہیں کیا کیونکہ اسکو پیار سے زیادہ اپنی آنا پیاری تھی “میں کیوں مناؤں جب یاد آئی خود ہی کرلے گی میسج” تب ہی ایان کے کمرے کا دروازہ کھول کر آسمارہ اندر آئی “ہیلو ڈارلنگ کیسے ہو “بے باکی سے کہتی ہوئی آیان کے پاس آکر بیٹھ گئی آسمارہ تمہیں کتنی دفع کہا ہے میرے کمرے میں ایسے منہ اٹھا کر مت آجایا کرو او کم آن بےبی ہم میں کیسی دوری کیسا پردہ آسمارہ نے بےشرمی سے کہتے ہوئے آیان کا ہاتھ پکڑ لیا تب ہی آیان کا دماغ گرم ہوا تڑاخ آیان کا بھاری ہاتھ آسمارہ کے گال پر پڑا دفع ہو جاؤ میرے کمرے سے آیندہ اپنی شکل مت دیکھنا تم جیسی بےشرم لڑکی میں نے آج تک نہیں تم چاچو کی بیٹی نہ ہوتی تو پتا نہیں میں تمہارے ساتھ کیا کرتا گیٹ آوٹ آیان نے غصے سے چیختے ہوئے کہا اتنی تذلیل پر آسمارہ کا چہرہ سرخ ہو گیا “میں تم سے محبت کرتی ہوں تم صرف میرے ہو تمہیں پانے کے لیے میں کچھ بھی کر سکتی ہوں یہ بات یاد رکھنا تم مسٹر آیان جعفری” یہ کہ کر آسمارہ وہاں رکی نہیں ۔ اور وہ اپنا سر ہاتھوں میں گرا گر بیٹھ گیا
آسمارہ آیان کے چاچو کی بیٹی تھی اور ایک مہینہ پہلے ہی لندن سے پاکستان شفٹ ہوئی تھی۔ 20 سال کی گندمی رنگ اور تھوپے ہوئے میک آپ والی آسمارہ آ یان کو بچپن سے پسند کرتی تھی پر آیان نے اسکو اس نظر سے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
مریم بیٹا کیا ہوا ایسے اکیلی کیوں بیٹھی ہو صبح سے کمرے سے باہر بھی نہیں آئی شازیہ بیگم نے بیٹی کو اداس دیکھا تو بیٹی کے پاس آگئی “کچھ نہیں ماما بس سر میں درد تھا اس لیے ایک کپ چائے پلا دیں اچھا میں بھجواتی ہوں چائے تم آرام کرو وہ اسکو پیار کر کے چلی گئیں تب ہی اسکے موبائل کی میسج ٹیون بجی اس نے یہ سوچ کر جلدی سے موبائل اٹھایا کہ شاید آیان کا میسج آیا ہوگا پر اسکو یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی آیان کی جگہ نمرہ کا میسج تھا۔نمرہ آیان اور مریم دونوں کی مشترکہ بیسٹ فرینڈ تھی اور مریم سے ایک سال بڑی جبکہ آ یان سے تین سال چھوٹی تھی۔”ہیلو بےبی کیسی ہو” (نمرہ مریم کو پیار سے بےبی کہتی تھی)
“ٹھیک ہوں آپی کیس ہو سکتی ہوں” مریم نے اداسی سے جواب دیا۔
“کیا ہوا کوجی اداس لگ رہی ہو” نمرہ نے لاڈ سے پوچھا۔
“کچھ نہیں آ پی آیان سے لڑائی ہوئی ہے” مریم نمرہ سے کچھ نہیں چھپاتی تھی۔
“کس بات پر”۔
تو مریم نے اسکو تفصیل بتائی۔
“اوہو تو تم خود میسج کرلو بھائیو کو (نمرہ پیار سے آیا کو بھائیو کہتی تھی) نمرہ نے مشورہ دیا”۔
“میں کیوں کروں آپی میری تو کوئی غلطی بھی نہیں ہے۔مریم نے منہ بنا کر کہا”۔
دیکھو چندا آپ پیار تو کرتی ہو نا آیان سے تو آپ کرو یا وہ کون سا فرق پڑتا ہے ویسے بھی پیار میں اتنی دیر کی ناراضگی اچھی نہیں” نمرہ نے پیار سے مریم کو سمجھایا۔
“اچھا آپی میں کر دو کی”
“گڈ گرل ” اچھا میں بعد میں بات کرتی ہوں ابھی مجھے کچھ کام ہے اللّٰہ حافظ۔
“اوکے آپی اللّٰہ حافظ”
_____________
(ایان برتھ ڈے شپیشل)
تمہارے گرد دائرہ ہے میری دعاؤں کا—
تم میرے انتخاب کی مقدس لکیر ہو![]()
![]()
مریم نے آیان کو منا لیا تھا اور ان کی لو سٹوری دوبارہ سے چل پڑی تھی۔ان کو ایک دوسرے کا ہوئے آج ایک مہینہ ہو چکا تھا اس ایک مہینہ میں انھوں نے پیار کم اود لڑائی زیادہ کی تھی۔ان کی ملاقات فیس بک پر ہوئی تھی رفتہ رفتہ پیار بھڑھتا جا رہا تھا ایک دہ ملاقاتیں بھی ہوئی تھی۔ایان نے اپنی تمام فیملی سے بھی مریم کو ملوایا تھا ان سب کو بھی مریم بہت پسند آئی تھی سواے فائزہ بیگم کے(ایان کی سوتیلی امی۔کیونکہ ایان کی والدہ کا تب ہی انتقال ہو گیا تھا جب ایان بہت چھوٹا تھا تو ایان کے والد نے بچوں کی پرورش کے لیے دوسری شادی کرلی ایان کی فائزہ بیگم سے کچھ خاص نہیں بنتی تھی).
ابھی بھی مریم اور ایان میسج پر بات کر رہے تھے۔
“بیبو جان” مریم نے پیار سے کہا۔
“جی بیبو کی جان” ایان نے بھی پیار سے کہا۔
“آپ مجھ سے کتنا پیار کرتے ہیں” لاڈ سے پوچھا گیا
“امممممممم سوچ کے بتاؤں گا ” تنگ کیا گیا۔
“جائیں میں آپ سے خفا ہوں” مریم نے روٹھتے ہوئے کہا۔
“میں جانتا ہوں میری جان مجھ سے کبھی خفا نہیں ہو سکتی” مان سے کہا کیا۔
“مجھے نیند آی ہیں۔سونے دیں نا صبح کالج بھی جانا ہیں۔گڈ نائیٹ آپ بھی ٹائم سے سو جانا”
“اوکے جو حکم میری جان کا گڈ نائیٹ”
مریم سو رہی تھی جب اسکا موبائل بجا اس نے بنا دیکھے ہی کال اٹینڈ کرلی “ہیلو بھابھی میری ہادیہ بول رہی ہوں” “اوہ اسلام علیکم آپی آپ! کیسی ہیں”
“میں ٹھیک ہوں بھابھی آپ سے کچھ ڈسکس کرنا تھا”۔
“جی جی بولیں آپی میں سن رہی ہوں”
“وہ اصل میں پرسوں آیان بھائی کا برتھ ڈے تو میں اور ریحان بھائی ان کو مل کر سرپرائز دینا چاہتے ہیں جو آپ کے بنا ادھورا ہے۔ ہمیں آپ کی ہیلپ چاہیے اس میں بھابھی”
“گریٹ آیان کا برتھ ڈے آ رہا ہیں۔تو آپ دونوں کا کیا پلین ہے آپی”
“بھابھی باقی سب تو ہم نے کرلیا ہے آپ نے بس آنا ہے اور ایک دن بھائی کے نام کرنا ہے پک آپکو ریحان بھائی کرلیں گے تو پرسوں تین بجے تیار رہیے گا اللّٰہ حافظ”
پر میری بات تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے ہی ہادیہ نے فون کاٹ دیا اور مریم اپنی ہی سوچوں میں گم ہو گئی۔
“ماما آج میں کالج سے تھوڑا لیٹ آؤں گی”۔وہ ناشتے کی میز پر اپنی ماں سے کہ رہی تھی۔”کیوں بیٹا” شازیہ بیگم نے پوچھا “ماما کل میری فرینڈ کا برتھ ڈے ہیں اس کے لیے گفٹ لینے جاؤں گی”۔اچھا بیٹا خیال سے جانا”۔”تھینکیو ماما یو آر دی بیسٹ”۔ ماں کو پیار کرتی خوشی جوشی کالج چلی گئی”۔
ردا یار پلیز مان جاؤ نا گفٹ لے کر واپس آجائیں گے ہم۔مریم جسکو آیان کے لیے گفٹ لینا تھا صبح سے ردا کی منتیں کر رہی تھی۔”اچھا یار آجاؤ گی تمھارے ساتھ آب چپ کر کے سر کا لیکچر سنو ورنا کلاس سے باہر نکال دیں گے”۔مریم بھی چپ ہو گئی اور لیکچر سننے لگی۔
کیا لوں یار کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہی۔مریم جو کے ردا کے ساتھ مال آی تھی آیان کے لیے گفٹ لینے اسکو کچھ پسند ہی نہیں آ رہا تھا۔جلدی کرو یار مجھے گھر بھی جانا ہیں ردا ناگواری سے بولی “اپنا ایٹیٹیوڈ اپنے پاس رکھو اور جاؤ گھر تم میں خود ہی لے لوں گی” مریم تڑخ کر بولی۔ایم سوری یار تم گفٹ پسند کرو ردا جیسی بھی تھی مریم کی دوست تھی اور مریم کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی تھی۔مریم نے آیان کے لیے ٹائی پرفیوم اور گھڑی پیک کروائی اور گھر چل دی۔
دنیا میں ایسا کوئی شخص نہیں پایا جاتا جو اپنی سالگرہ کا دن بھول جائے لیکن ایان جعفری کو یہ ہنر بھی حاصل تھا۔”ہادیہ میں سلمان کے گھر جارہا ہوں لیٹ اوں گا”.جی بھائی ٹھیک ہے۔
دو بجے کے قریب مریم کالج سے گھر آئی کھانا کھایا اور جلدی سے تیار ہوئی۔تب تک ریحان بھی اسکو لینے آگیا۔
“ماما میں جا رہی ہوں لیٹ آؤں گی آپ کھانا کھا لیجئے گا” ماں کو ملتی مریم ریحان کے ساتھ گاڈی میں بیٹھ گئی۔
ایان گھر میں سب سے بڑا تھا۔اس سے چھوٹا ریحان تھا جو کے ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کرتا تھا۔اس سے چھوٹی ہادیہ تھی جو گریجویشن مکمل کرنے کے بعد گھر سنبھال رہی تھی۔ایان کے والد کا اپنا بزنس تھا۔
تین بجے ایان کے موبائل پر ایک انجان نمبر سے کال آئی جو کے اس نے اٹینڈ کرلی۔
“ہیلو”
“جی میں آیان جعفری ہی ہوں”
آگے سے نجانے کیا کہا گیا
“کیا یہ آپ کیا کہ رہے ہیں”۔”کونسی جگہ پر”۔”جی میں ابھی پہنچ رہا ہوں”۔
مریم کا ایکسیڈینٹ کیسے ہو سکتا ہیں۔ایان کو لگا جیسے اس کی دنیا ہی ختم ہو گئی ہیں۔15 منٹ کی ریش ڈرائیو کر کے وہ اس جگہ پہنچا۔
یہاں بہت اندھیرا تھا اچانک لایٹ آؤن ہوئی۔
“ہیپی برتھڈے ٹو یو”
“ہیپی برتھڈے ٹو یو”
“ہیپی برتھڈے ڈیر آیان،ہیپی بر تھڈے ٹو یو”
اس پر گلاب کی پتیوں کی بارش ہو گئی اور وہ حیران پریشان کھڑا سب دیکھ رہا تھا۔
سب سے پہلے نظر اس دشمن جان پر پڑی اور اس کی جان میں جان آئی۔اس نے شوخ نگاہوں سے مریم کا جائزہ لیا بلیک کرتے اور چوڑی دار پاجامے میں بال کھولے نیچرل سے میک اپ میں غضب ڈھا رہی تھی۔ایان کو اپنا دل قابو میں رکھنا مشکل لگا۔
“بھائی اب بھابھی کو ہی گھوریں گے کیا یا کیک بھی کاٹیں گے ریحان نے بھائی کو چھیڑا۔”تو چپ کر میں آرہا ہوں ایان نے کہا۔
“”جان ایان آئیں چل کر کیک کاٹتے ہیں” آیان نے مریم کے کان میں سرگوشی کی اور وہ بری طرح جھینپ گئی۔بس بھی کریں اود چلیں گلابی ہوتے چہرے کے ساتھ اگے چل پڑی۔
اسمارہ جوکہ آیان کو بڑے غور سے دیکھ رہی تھی ان دونوں کو اتنے قریب دیکھ کر جل کر رہ گئی اور دل ہی دل میں منصوبہ بناتی بولی مسٹر ایان اس تھپڑ کا بدلہ تو میں لے کر رہوں گی دل ہی دل میں کہتی سب کی طرف چل دی۔
آیان جب کیک کاٹتے لگا اس نے جان بوجھ کر مریم کا ہاتھ پکڑ لیا اوووووے ہووؤووووے سب نے نارا لگا یا۔اتنے لوگوں کے سامنے ںاتھ پکڑنے پر مریم کی حالت شرم کے مارے خراب ھو رہی تھی۔ایان نے مریم کی حالت سمجھتے ہوئے مریم کا ہاتھ چھوڑ دیا۔کیک کاٹتے اور کھانا کھانے کے بعد ایان مریم کو ایک خاموش کونے میں لے آیا۔
یہ کیا کر رہے ہیں آپ” مریم نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔ریلیکس یار کیا ہو گیا ہے ڈر کیوں رہی ہو۔مریم تھوڈی ریلیکس ہوئی۔”ویسے آج بہت پیاری لگ رہی ہو” ایان نے مریم کا ھاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔شکریہ! پر “میرا ہاتھ تو چھوڑیں سب دیکھ رہے ہیں” مریم نے گلابی ہوتے چہرے کے ساتھ کہا۔اوہوں چھوڑنے کے لیے تھوڑی پکڑا ہیں جان مریم ایان نے روٹھتے ہوئے کہا۔”بہت برے ہیں آپ مریم منہ بنا کر بولی اور ایان کے کندھے پر سر رکھ لیا ایان نے مسکراتے ہوئے مریم کے بال بگاڈ دیے ہاہ یہ کیا کیا آپ نے مریم منہ کھول کر بولی اب لگ رہی ہو نا میری کیوٹ چڑیل ایان مزے سے بولا اور دونوں کھلکھلا کر ہنس دیئے۔
دور ہی ان دونوں کا اتنا پیار دیکھ کر کوئی اندر ہی اندر جل رہا تھا اور ان دونوں کو برباد کرنے کے منصوبے بنا رہا تھا..
