Mera Ishq Hai Tu by Anaya Jaffry NovelR50706 Mera Ishq Hai Tu (Episode 06)
Rate this Novel
Mera Ishq Hai Tu (Episode 06)
Mera Ishq Hai Tu by Anaya Jaffry
میں تمہیں کتنی دفعہ سمجھاؤں مجھے تم سے شادی نہیں کرنی،آخر کیوں نہیں سمجھتی تم،جان چھوڑ دو میری”آیان دھاڑا۔
“تم صرف میرے ہو،میں تمہیں کسی اور کا ہوتا نہیں دیکھ سکتی شادی تو تمہیں مجھ سے کرنی ہو گی،جو کوئ بھی ہمارے بیچ آیا جان لے لوں گی میں اسکی”آسمارہ آیان کو دھمکی دیتی کمرے سے باہر نکل گئ۔
وکی ملک چھوڑ کر بھاگ چکا تھا،آسمارہ اسکو بیس لاکھ روپے دے کر سارا کچھ اس سے حاصل کر چکی تھی۔اور آب مریم کی زندگی میں زہر گھولنے کی پلاننگ کر رہی تھی،کیونکہ وہ جانتی تھی جب تک مریم ہے آیان اسکا نہیں ہو سکتا۔
جعفری ہاؤس میں آجکل ہادیہ کی شادی کی بات چل رہی تھی،اور ڈیٹ بھی پکی ہو چکی تھی،اس رشتے سے سب مطمئن تھے،اسد بہت اچھا اور سلجھا ہوا لڑکا تھا اور آیان جانتا تھا کے ہادیہ اور اسد ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔اسد کو جاب کے سلسلے میں کینیڈا جانا تھا اس لیے سب چاہتے تھے کہ اس کے جانے سے پہلے ہی سب کچھ ہو جاۓ تاکہ وہ ہادیہ کو بھی اپنے ساتھ کینیڈا لے جا سگے۔ایک ہفتے بعد کی ڈیٹ رکھی گئ تھی ۔
مریم کی طبیت آب پہلے سے کافی بہتر تھی اور وہ گھر آچکی تھی،اس حادثے کے بعد سے مریم میں ایک تبدیلی آئ تھی اس نے زیادہ بولنا اور شرارتیں کرنا چھوڑ دیا تھا،رات میں سوتے ہوۓ بھی اکثر وہ ڈر جایا کرتی تھی۔
آج ہادیہ مریم کے گھر آئ ہوئ تھی اور شازیہ بیگم اس سے یہ سب بتا رہیں تھیں،کافی سوچنے کے بعد ہاریہ کے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا۔
“آنٹی کیوں نا آپ کچھ دنوں کے لیے مریم کو میرے گھر بھیج دیں اگلے ہفتے میری شادی ہے وہاں سب ہوں گے تو مریم کا دماغ بٹا رہے گا، میں اسی لیے ہی آج آئ تھی آپ کے گھر ،اور آپ اسکی طبیت کو لے کر بلکل بھی فکر منر نا ہوں اسکی ذمہداری میری،بےشک آپ میرے پاپا سے بھی پوچھ لیں۔
“نہیں نہیں بیٹا کیسی باتیں کرتی ہو مجھے بھروسہ ہے آپ پر لے جاؤ مریم کو آگر وہ مانتی ہے تو،آپ ٹھیک کہ رہی ہو ماحول برلے گا تو ہی مریم بھی کچھ بہتر ہوگی”شازیہ بیگم پرشفقت لہجے میں بولیں۔
“ارے انٹی مریم کو منانا میرا کام ہے،اپ اسکا سامان پیک کریں بسسس”۔
_____
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﺎ ﻭﮦ ﻧﺸﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ
ﺳﻨﺒﮭﻠﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﻣُﺸﮑﻞ![]()
ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﮔﺮ ﺗُﻤﮩﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﮔِﺮﺗﮯ
ﮔِﺮﺗﮯ ﻣُﺠﮭﮯ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﻮ![]()













ہادیہ نے کافی ضد کرکے مریم کو اپنے گھر چلنے کے لیے منا لیا تھا۔اور آب وہ دونوں گاڑی میں بیٹھیں “جعفری مینشن”کی طرف رواں دواں تھیں۔ہادیہ نے فون کرکے آیان اور بابا کو بتا دیا تھا۔آیان کو اس نے صرف یہی بتایا تھا اسکی کوئی دوست گھر رہنے آ رہی ہے،یہ نہیں بتایا تھا کون سی دوست۔وہ آیان کو سرپرائز دینا چاہتی تھی۔
مریم تھوڑی نروس ہو رہی تھی۔
“ارے یار اپنے سسرال میں جانا ہے اتنا کیوں شرما رہی ہو،بابا اور بھائی سے تم پہلے مل چکی ہو،مجھے بھی تم جانتی ہی ہو،تو ٹینشن کس بات کی”ہادیہ جھنجھلا کر بولی۔
“اچھا نا ٹھیک ہے آب غصّہ تو مت ہو” مریم معصوم سی شکل بنا کر بولی۔
ہادیہ اسکی حرکت پر مسکرا دی۔تب تک وہ پہنچ چکی تھی۔
“چلو اترو نیچے،گھر آگیا ہے” ہادیہ کہتے ہوئے اتر گئی۔
مریم بھی اتری۔
مین گیٹ پار کر کے جب وہ دونوں آندر پہنچیں تو دائیں طرف بنے جدید طرز کے لان کو دیکھ کر مریم مسمرائز سی ہو گئی،نیچر اسے شروع سے ہی اٹریکٹ کرتی تھی۔لان کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا تھا کے اسکی کتنی دیکھ بھال کی جاتی ہے،ہر قسم کے پھول پودے یہاں لگاۓ گۓ تھے۔
ہادیہ بولتی ہوئی آگے چلی جارہی تھی۔جب اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو مریم میڈم مبہوت سی گھڑی لان کو گھور رہی تھی۔ہادیہ چل کر اسکے پاس آئی۔
“یہ بھائی نے بنوایا ہے،انہیں عشق ہے نیچر سے ہمیں تو یہاں کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگانے دیتے”۔ہادیہ نے منہ بنا کر کہا۔
ہادیہ کی آواز سن کر مریم اپنے خیالوں کی دنیا سے باہر آئی۔
آب اندر بھی چلو گئ یا سارا دن یہیں کھڑے رہ کر گزارنا ہے،ہادیہ مریم کو گھورتی آگے ہو لی جبکہ مریم بھی اس کے پیچھے چل دی۔
چھٹی کا دن تھا۔سب گھر پر ہی تھے۔
ہادیہ جب آندر آئی تو اسے سب ہال میں بیٹھے نظر آۓ۔
“اہمممم اہمممممم،ہادیہ نے سب کو آپنی طرف متوجہ کیا اور مریم کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھ گئی۔ٹنٹنان یہ ہے میری بیسٹ فرینڈ مریم جس کا میں نے آپ سب کو بتایا تھا”
باری باری ہادیہ نے سب کا تعارف کرایا اور مریم سب سے بہت اچھے سے ملی۔مریم کو سب بہت اچھے لگے تھے سوائے آسمارہ آور ہادیہ کی مام کے اور ہادیہ کے،پاپا تو اسے بلکل اپنے پاپا جیسے لگے تھے”۔آن سب میں آیان موجود نا تھا مریم اداس ہو گئی۔
“ہادیہ بیٹا مریم، بیٹی کو روم میں لے جاؤ تھوڑا آرام کرلے۔کامران صاحب مریم کے چہرے پر تھکن کے آثار دیکھتے ہوئے بولے۔
ہادیہ مریم کو اپنے کمرے میں لے آئی۔
“تم فریش ہو کر چینج کرلو پھر تھوڑی دیر آرام کرلو میں تمہیں لنچ کے لیے بلا لوں گئ” ہادیہ مریم کو کہتی روم سے باہر چلی گئی اور مریم اپنا ڈریس اٹھاتی واش روم میں گھس گئ۔
تھوڑی دیر بعد وہ فریش ہوکر نکلی اور سب سے پہلے ماما سے بات کی،ان سے بات کرکے اسے سکون سا مل گیا۔پھر وہ آرام کی غرض سے بیڈ پر لیٹ گئی تھوڑی دیر بعد ہی وہ نیند کی وادی میں گم ہو گئی۔
آیان ہادیہ کے روم میں کچھ کام سے آیا تھا۔وہاں مریم کو سوتا دیکھ کر حیران رہ گیا۔اس نے فون کرکے ہادیہ کو روم میں بلایا۔
“ہادیہ یہ مریم یہاں کیسے”۔آیان نے حیرانی سے پوچھا۔
تو ہادیہ نے اسے شازیہ بیگم سے ہوئی تمام بات بتا دی۔
“ہممم یہ تو بہت اچھا کیا تم نے چھوٹی آیان نے پیار سے اسکے سر پر چپت لگائی۔چلو آب جاؤ یہاں سے آیان ہادیہ سے بولا اور مریم کا کھانا بھی ادھر ہی بھجوا دینا نیچے سب کے بیچ وہ ٹھیک سے کھا نہیں پاۓ گی۔
“اوکے بھائی میں آپ دونوں کا کھانا یہیں بھجوا دوں گی مریم کو کھانے کے بعد دوائی بھی دینی ہے وہ ٹیبل پر پڑی ہے۔ہادیہ بھائی کو تاکید کرتی روم سے باہر چلی گئی۔جبکہ آیان مریم کے پاس آگیا کتنی معصوم لگ رہی تھی وہ سوتے ہوئے۔آیان اس کے چہرے آۓ بال ہٹانے لگ گیا مریم نے جھٹ سے آنکھیں کھول دیں اس سے پہلے وہ چیخ مارتی آیان نے جلدی سے آسکے منہ پر ہاتھ رکھا۔
ریلیکس اٹس می آیان۔
آیان کو دیکھ کر مریم کی جان میں جان آئی۔
وہ ڈر گئ تھی اور اب آیان کے ساتھ لگی بلک بلک کر رو رہی تھی۔اور آیان اسکو چپ کرواتے کرواتے تھک چکا تھا لیکن وہ چپ ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔کچھ دیر بعد کمرے میں بلکل خاموشی چھا گئی آیان نے چونک کر مریم کو دیکھا۔
“مریم میری جان٫ آیان نے اسکو ہلایا۔پر تب تک وہ بےہوش ہو چکی تھی آیان ڈاکٹر کو فون کرنے کے لیے بھاگا-
میرے لفظ میرے اپنوں کو تکلیف دیتے ہیں
سوچتی ہوں خاموشی سے خاموش ہوجاؤں![]()
![]()
_______
ہادیہ کی شادی میں دو دن رہ گئے تھے۔اور وہ تینوں بیٹھے شاپنگ کا پلان بنا رہے تھے کہ آسمارہ آن ٹپکی۔
“ہیلو گائز کیا ہو رہا ہے” وہ آیان کے ساتھ بیٹھی مریم پر نفرت بھری نگاہ ڈالتے ہوئے بولی۔
“کچھ نہیں بس شاپنگ کا پلان بنا رہے تھے،مریم اور میں نے کچھ ڈریسز لینے ہیں”ہادیہ نے بتایا جبکہ وہ دونوں چپ ہی رہے۔
“اوہ واو پھر تو میں بھی چلوں گئ،مجھے بھی کچھ شاپنگ کرنی ہے”آسمارہ ایکسائٹڈ ہوتے ہوئے بولی کیونکہ وہ مریم اور آیان کو اکیلا جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔
آیان نے منت بھری نظروں سے ہادیہ کو دیکھا۔
“امممم آسمارہ تم اور میں پھر کسی ٹائم چلے جائیں گے” ہادیہ نے اسکو روکنے کی کوشش کی۔
“کیوں ابھی جانے میں کیا حرج ہے،میں ابھی ہی جاؤں گی۔
“میں باہر گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں،جلدی آجاؤ”آیان گاڑی کی چابی اٹھاتا باہر نکل گیا۔اس کے پیچھے ہی آسمارہ بھی باہر نکل گئی۔مریم نے ایک تاسف بھری نگاہ آسمارہ پر ڈالی تنگ جینز کے اوپر شارٹ شرٹ پہنے ڈاۓ شدہ بال کھولے ڈوپٹہ سے بے نیاز آسمارہ مریم کو اس وقت زہر لگ رہی تھی۔وہ دونوں بھی باہر نکل گئیں۔مریم کے بیٹھنے سے پہلے ہی آسمارہ آیان کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی،مریم خاموشی سے ہادیہ کے ساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی جبکہ آیان خود کو کنٹرول کر گیا کیونکہ وہ مریم کے سامنے کوئی بدمزگی نہیں چاہتا تھا۔
وہ سب مال پہنچ چکے تھے۔ہادیہ ضد کرکے آسمارہ کو اپنے ساتھ لے گئ تھی جبکہ آیان پچھلے دو گھنٹوں سے مریم کے ساتھ پھر پھر کر تنگ آچکا تھا۔لیکن اسے کچھ پسند نہیں آرہا تھا۔
“مریم آب کچھ لے بھی لو یار چل چل کر تھک گیا ہوں میں”آیان جھنجھلا کر بولا۔
“کچھ پسند ہی نہیں آرہا آپ خود ہی لے دیں”مریم معصوم سی شکل بنا کر بولی۔
“اوکے چلو”آیان اسکا بازو پکڑتا آیک شاپ میں کھس گیا۔
پچاس کے قریب ڈریس دیکھنے کے بعد آخر اسکو مریم کے لیے آیک ڈریس پسند آہی گیا۔یہ گرین اور گولڈن کلر کے امتزاج کا ایک خوبصورت سا فراک تھا۔ایان نے وہ پیک کروایا اور مریم کو لے کر شاپ سے باہر آگیا۔
“چلو آب جوتے لینے چلتے ہیں”۔”چلو بیٹھو ادھر” آیان شاپ میں ایک طرف اشارہ کرتے بولا،مریم خاموشی سے بیٹھ گئی۔آیان اسکے لیے گولڈن کلر کی ہیل پسند کرکے لایا۔اور نیچے مریم کے پاس بیٹھ کر اسکے پاؤں میں پہنانے لگا۔
“ارے یہ کیا کر رہے ہیں آپ اٹھیں میں خود پہن لوں گی”
“شششششش آیان نے مریم کو چپ کروایا اور أپنے کام میں لگ گیا”
اسی شاپ میں داخل ہوتی آسمارہ نے یہ منظر دیکھا تو جل بھن گئی۔
آیان جوتے پیک کروا کر مریم کو لیتا شاپ سے باہر آگیا۔پھر اسکے لیے جیولری بھی اسی نے پسند کی۔
“ہاں تو جان آب کیا ارادہ ہے”،شاپنگ مکمل کرنے کے بعد آیان نے مریم سے پوچھا.
ہادیہ اور آسمارہ کو آنے دیں پھر گھر چلتے ہیں میں بہت تھک گئی ہوں۔
اوکے بیٹھو ادھر تمہیں اچھا سا جوس پلاؤں۔آیان نے مریم سے کہا اور اسکے بیٹھنے کے لیے کرسی گھسیٹی۔تب تک ہادیہ اور آسمارہ بھی ان کے پاس پہنچ گئی۔
وہ سب لنچ کرکے گھر آگئے۔
شام کے وقت مریم لان میں بیٹھی چاۓ پی رہی تھی،جب آسمارہ اس کے پاس آکر بیٹھی۔
“کیا لو گئ آیان کو چھوڑنے کا”آسمارہ نے بغیر تمہید باندھے سیدھی بات کی۔
کیا مریم اسکی بات پر حیران ہوئی۔
وہی جو تم سن رہی ہو ویسے کتنی راتیں گزار چکی ہو اسکے ساتھ،آسمارہ نے بے شرمی کے تمام ریکارڈ توڑ دہے تھے۔
چٹاخ!!!!!مریم نے زوردار تھپڑ آسمارہ کے منہ پر رسید کیا۔
“آئندہ اپنے منہ سے میرے خلاف کچھ بھی برا نکالا نا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔مریم اسکو وارننگ دیتی وہاں سے چلی گئی۔
“اس تھپڑ کا حساب تو تم سے لے کر رہوں گی مس مریم،اس ایک تھپڑ کی تمہیں کیا قیمت چکانی پڑے گی تم سوچ بھی نہیں سکتی”آسمارہ نفرت سے کہتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
جبکہ یہ منظر اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑے آیان نے بھی دیکھا تھا۔
