Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq Hai Tu by Anaya Jaffry

گرمیوں کا اختتام تھا اور سردیاں ہلکا ہلکا اپنا رنگ دکھانا شروع ہو گئی تھی۔مریم جو رات کے دو بجے تک آیان سے باتیں کرتی رہی تھی اب پڑی مزے سے سو رہی تھی۔
تب ہی شازیہ بیگم اس کے کمرے میں آئی "مریم بیٹا اٹھو کالج نہیں جانا کیا" ماما سونے دیں مجھے نہیں جانا کالج مریم منہ بنا کے بولی کیوں نہیں جانا کالج اٹھو اور تیار ہو شازیہ بیگم غصّے سے بولی ماما پلیز نا میں کل چلی جاؤں گی پرومس، حد ہے ہر دوسرے دن کالج سے چھٹی میں تو تنگ آگئی ہوں اس لڑکی سے شازیہ بیگم غصّے سے کہتی اس کے کمرے سے نکل گئ اور مریم میڈم دوبارہ مزے سے سو گئ۔
آیان بیٹا کدھر ہو کامران جعفری جو کے ایان کے پاپا تھے اسکو آوازیں دے رہے تھے" جی پاپا آیا" ایان جو کے ابھی اٹھا تھا جلدی سے باپ کے پاس آیا جی پاپا "بیٹا یہ کچھ سامان اپنے چاچو کے گھر دے آنا یہ بات سنتے ہی ایان کا موڈ خراب ہو گیا کیوں کے اسکو ابھی مریم سے ملنے جانا تھا پر باپ کے سامنے ایان کچھ نہیں کہ سکا "جی پاپا دے اتا ہوں " یہ کہ کر ایان وہاں سے اٹھ گیا اور منہ بناتا چاچو کے گھر کی طرف گاڑی موڑ لی۔
مریم یار سوری نا یار پاپا نے کام سے بھیج دیا تھا تو نہیں آسکا مریم جو کہ آ یان کا ایک گھنٹہ انتظار کرتی رہی اور اس کے نہ آنے پر گھر آگئی تھی۔ایان کی کال آنے پر اس سے لڑ رہی تھی۔"ہاں میں تو پاگل ہوں نا جو ہر دفع آپ کا انتظار کرتی رہتی ہوں اپ کے تو کام ہی ختم نہیں ہوتے جائیں جاکر اپنے کام کریں مجھے نہیں بات کرنی اپ سے" مریم نے غصے سے جواب دیا اود فون بند کر کے رونے بیٹھ گئی"میری تو کوئی ویلیو ہی نہیں ھے ایان کے سامنے جب دیکھو میں ہی انتظار کروں پھر بھی نہیں آتے دیکھنا اب میں بھی بات نہیں کروں گی ھاہ"
ایان نے بھی دوبارہ مریم کو کوئی کال یا میسج نہیں کیا کیونکہ اسکو پیار سے زیادہ اپنی آنا پیاری تھی "میں کیوں مناؤں جب یاد آئی خود ہی کرلے گی میسج" تب ہی ایان کے کمرے کا دروازہ کھول کر آسمارہ اندر آئی "ہیلو ڈارلنگ کیسے ہو "بے باکی سے کہتی ہوئی آیان کے پاس آکر بیٹھ گئی آسمارہ تمہیں کتنی دفع کہا ہے میرے کمرے میں ایسے منہ اٹھا کر مت آجایا کرو او کم آن بےبی ہم میں کیسی دوری کیسا پردہ آسمارہ نے بےشرمی سے کہتے ہوئے آیان کا ہاتھ پکڑ لیا تب ہی آیان کا دماغ گرم ہوا تڑاخ آیان کا بھاری ہاتھ آسمارہ کے گال پر پڑا دفع ہو جاؤ میرے کمرے سے آیندہ اپنی شکل مت دیکھنا تم جیسی بےشرم لڑکی میں نے آج تک نہیں تم چاچو کی بیٹی نہ ہوتی تو پتا نہیں میں تمہارے ساتھ کیا کرتا گیٹ آوٹ آیان نے غصے سے چیختے ہوئے کہا اتنی تذلیل پر آسمارہ کا چہرہ سرخ ہو گیا "میں تم سے محبت کرتی ہوں تم صرف میرے ہو تمہیں پانے کے لیے میں کچھ بھی کر سکتی ہوں یہ بات یاد رکھنا تم مسٹر آیان جعفری" یہ کہ کر آسمارہ وہاں رکی نہیں ۔ اور وہ اپنا سر ہاتھوں میں گرا گر بیٹھ گیا
آسمارہ آیان کے چاچو کی بیٹی تھی اور ایک مہینہ پہلے ہی لندن سے پاکستان شفٹ ہوئی تھی۔ 20 سال کی گندمی رنگ اور تھوپے ہوئے میک آپ والی آسمارہ آ یان کو بچپن سے پسند کرتی تھی پر آیان نے اسکو اس نظر سے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
مریم بیٹا کیا ہوا ایسے اکیلی کیوں بیٹھی ہو صبح سے کمرے سے باہر بھی نہیں آئی شازیہ بیگم نے بیٹی کو اداس دیکھا تو بیٹی کے پاس آگئی "کچھ نہیں ماما بس سر میں درد تھا اس لیے ایک کپ چائے پلا دیں اچھا میں بھجواتی ہوں چائے تم آرام کرو وہ اسکو پیار کر کے چلی گئیں تب ہی اسکے موبائل کی میسج ٹیون بجی اس نے یہ سوچ کر جلدی سے موبائل اٹھایا کہ شاید آیان کا میسج آیا ہوگا پر اسکو یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی آیان کی جگہ نمرہ کا میسج تھا۔نمرہ آیان اور مریم دونوں کی مشترکہ بیسٹ فرینڈ تھی اور مریم سے ایک سال بڑی جبکہ آ یان سے تین سال چھوٹی تھی۔"ہیلو بےبی کیسی ہو" (نمرہ مریم کو پیار سے بےبی کہتی تھی)
"ٹھیک ہوں آپی کیس ہو سکتی ہوں" مریم نے اداسی سے جواب دیا۔
"کیا ہوا کوجی اداس لگ رہی ہو" نمرہ نے لاڈ سے پوچھا۔
"کچھ نہیں آ پی آیان سے لڑائی ہوئی ہے" مریم نمرہ سے کچھ نہیں چھپاتی تھی۔
"کس بات پر"۔
تو مریم نے اسکو تفصیل بتائی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *