Mera Ishq Hai Tu by Anaya Jaffry NovelR50706 Mera Ishq Hai Tu (Episode 02)
Rate this Novel
Mera Ishq Hai Tu (Episode 02)
Mera Ishq Hai Tu by Anaya Jaffry
خیالِ یار میں مجھ کو____ یونہی مدہوش رہنے دو ___**![]()
نہ پوچھو رات کا قصہ___ ، مجھے خاموش رہنے دو ___**![]()
سُنایا وصل کا قصہ______ ، تو میرے یار یوں بولے ___**![]()
کہاں تم ___اور کہاں اسکی حسیں آغوش، رہنے دو ___**![]()
مجھے معلوم ھے _____اس نے میرا ہونا نہیں لیکن ___**![]()
میری امید مت توڑو___ ، مجھے پر جوش رہنے دو ___**![]()
مریم کے پیپرز نزدیک تھے اس لیے اسے کالج سے چھٹیاں ہونے والی تھی اور مریم اس بات پر بہت خوش تھی کیونکہ اسے روز صبح جلدی اٹھنے پر موت پڑتی تھی۔دن کے بارہ بج گئے تھے لیکن وہ اب بھی پڑی سو رہی تھی “مریم اٹھو بارہ بج گئے ہیں دن کے کچھ خدا کا خوف کرو امتحان سر پر ہیں لیکن اس لڑکی کو کوئی پرواہ نہیں۔
“ماما سر پر تو بال ہیں پیپرز تو نہیں” مریم نے سر پر ہاتھ مارتے ہوۓ کہا۔تمہیں تو میں ابھی بتاتی ہوں شازیہ بیگم نے مریم کا کان پکڑ کر مڑوڑتے ہوے کہا۔ “اوی ماما چھوڑیں مجھے درد ہو رہا ہے۔
آیان مریم کو سرپرائز دینے کے لیے اسکو لینے اس کے کالج چلا گیا پر وہاں اسکو ایک لڑکے سے مسکرا مسکرا کر باتیں کرتا دیکھ اسکا خون کھول اٹھا اور وہ وہیں سے گھر واپس آگیا.
مریم نےگھر آکر اپنا موبائل چیک کیا “یہ کیا آیان نے کوئی میسج ہی نہیں کیا آج” ایسا پہلے تو کبھی نہیں کیا انہوں نے مریم پریشان ہو گئی مریم۔ نے ایان کو میسج کیا جسکا اسنے کوئی جواب نہیں دیا۔
مریم نے آیان کو دوبارا میسج کیا،جسکا اس نے جواب دےدیا۔
“جان کیا ہوا ہے آپ ناراض ہیں مجھ سے”
“ہممممممممم۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جان بتائیں نا”
“تمہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے تم جاکر اس لڑکے کے ساتھ مزے کرو جس کے ساتھ کالج کے باہر مسکرا کر باتیں کررہی تھی” تلخی سے کہا گیا۔
“میں تو بس اس سے نوٹس مانگ رہی تھی”مریم نے صفائی دی۔
“بس کر دو میں کوئی چھوٹا بچہ نہیں ہوں جسے تم بیواقوف بنا رہی ہو،تم اس قابل تھی ہی نہیں کے میں تم پر بھروسہ کرتا تم سے پیار کرکے غلطی کر دی میں نے (نازیبا الفاظ کہے گے) دفاع ہو جاؤ یہاں سے آیندہ مجھے میسج کرنے کی کوشش بھی مت کرنا”۔
مریم سے اپنی اتنی تذلیل برداشت نہیں ہوئی اور وہ گھنٹوں اکیلی بیٹھی روتی رہی اگلے دن وہ کالج بھی نہیں گی اس نے وقت گزرنے کے لیے فیسبک کھولی تو وہاں دیکھا کے ایان ہنس ہنس کر ایک لڑکی سے باتیں کر رہا تھا۔مریم سے یہ سب برداشت نہیں ہوا اس نے موبائل رکھ دیا اور پھر رونے بیٹھ گئی “میری کوئی غلطی بھی نہیں تھی پھر بھی میں نے سب کچھ چپ چاپ سن لیا کل سے رو رہی ہوں کچھ کھایا بھی نہیں اور وہ وہاں خوش ہے اسے اس بات سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا۔۔” مریم اور زور سے رونے لگ گئی یہی سب سوچتے سوچتے اس کا دماغ ماؤف ہو گیا اور اس نے اپنی نبض کاٹ لی۔۔۔۔۔
تایا ابو(ایان کے والد) میری گاڑی خراب ہو گئی ہے۔ایان کو بولے مجھے مارکیٹ تک چھوڑ دے اسمارہ نے ایک ادا سے کہا “اچھا بیٹا میں کہتا ہوں اسکو”تایا نے شفقت سے کہا۔
“ایان بیٹا اسمارہ کو مارکیٹ لے جاؤ ” اسکی گاڑی خراب ہے۔جی پاپا لے جاتا ہوں” چلو اسمارہ چلیں” ایان نے ضبط کرتے ہوئے کہا۔
“آیان مجھ میں کون سی کمی ہے جو تم مجھ سے اتنے دور ہو میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں بچپن سے تمھارے بغیر نہیں رہ سکتی،یقین کرو میں تمہیں اس تھرڈ کلاس مریم سے بہت زیادہ خوش رکھوں گی”۔
آیان کو مریم کے لیے اسمارہ کا ایسا بولنا بلکل بھی برداشت نہیں ہوا جھٹکے سے گاڑی روکی “شٹ آپ اسمارہ اینڈ گیٹ آؤٹ تم اس قابل بھی نہیں کے میں تمھاری شکل بھی دیکھوں” وہ غصے سے دھاڑا۔
بہت خاموش رہتی ہوں !
مجھے کچھ بھی نہیں کہنا
نہیں شکوہ کوئی بھی اب !!
مجھے معلوم ہے اس سے نہیں اب فائدہ کوئی !!!!
جو ہوں احساس سے عاری
وہ شکوے کب سمجھتے ہیں !!!
انہیں محسوس کب ہوتی ہے ؟؟؟؟؟
لہجوں میں نمی کوئی…..
انہیں لفظوں کے نوحے بھی
سنائی کب کہیں دیں گے ؟؟؟؟؟
بنا کر آئینے
دل میں وہ اپنے نصب رکھتے ہیں
انہی میں عکس لوگوں کے
بنا کر خوب ہنستے ہیں…
انہیں معلوم ہی کب ہے !
یہ آئینے
کبھی جب ٹوٹ جائيں گے
تو بکھری کرچیاں
دل میں ہی ان کے پھیل جائيں گی…
بہت تکلیف دے گا پھر
کسی کی یاد کا لمحہ !
مگر کب ہاتھ آئے گا
کوئی گزرا ہوا لمحہ !
محبت روٹھ جائے تو
کبھی واپس نہیں آتی….
یہی سب سوچ کر چپ ہوں

مریم تکالیف میں تڑپ رہی تھی آیان کی یاد اس کے سب جزبوں پر بھاری تھی۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گئی۔
__________
خود کو ڈانٹوں گا ساری باتوں پہ
جانے کس بات پر خفا ھو تم![]()
بھائی!!!! آیان بھائی۔۔۔”وہ جو اپنی ہی سوچوں میں گم تھا ہادیہ کی آواز پر چونکا “ہاں کیا بات ہے بولو”۔کیا بات ہے بھائی آپ کچھ اداس لگ رہے ہیں۔نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے تمہیں کوئی کام یے تو بولو ورنہ مجھے اکیلا چھوڑ دو یہ کہ کر وہ رخ پھیر گیا۔بھای اگر آپ بھابھی کی وجہ سے پریشان ہیں تو میرا یقین کریں وہ ایسی نہیں ہیں جیسا آپ سوچ رہے ہیں وہ آپ سے بہت پیار کرتی ہیں۔ایان بہن کی بات پر چونکا تمہیں کیسے پتا “اوہ ضرور مریم نے ہی بتایا ہوگا اسے ہی شوق ہے دوسروں کے سامنے مظلوم بننے کا،میں سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں مجھے مزید بیوقوف نہیں بنا پائے گی اب وہ” یہ بول دینا تم اسے۔ضروری نہیں بھائی جو آنکھوں سے دیکھا جائے وہی سچ ہو،غلط فہمیوں میں بہت سی زندگیاں تباہ و برباد ہو جاتی ہیں خدارا غلط مت سوچیئے۔اور مجھے بھابھی نے نہیں بتایا جب وہ آپکی برتھڈے پارٹی میں آئی تھی جلدی میں اپنا پرس یہی چھوڑ گئیں تو انکو میں نے وہی بتانے کے لیے فون کیا تھا جو انکی کزن سدرہ نے اٹھایا جب میں نے ان سے بھابھی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے تمام بات بتائی اور یہ بھی بتایا کے بھابھی نے اپنی نبض کاٹ کر اپنی جان لینے کی کوشش کی یہ تو شکر ہے وہ ٹائم سے آگئی اور بھابھی کی جان بچ گئی خدانخواستہ بھائی اگر بھابھی کو کچھ ہو جاتا تو آپ ساری زندگی پچھتاتے رہتے اللّٰہ نے اپکو ایک موقع اور دیا ہے منا لیں اپنی زندگی کو میں جانتی ہوں آپ بھی ان کے بغیر نہیں رہ سکتے،ہادیہ بھائی کو سمجھا کر چلی گئی جب کے آیان گہری سوچ میں پڑ گیا۔
مریم بیڈ پر لیٹی پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اسکا ذہن بار بار آیان کی طرف جارہا تھا مریم نے جھنجھلا کر کتاب رکھ دی اور باہر جاکر شازیہ بیگم کے پاس بیٹھ گئی جو پالک کاٹنے میں مصروف تھی۔(انکو مریم کی اس حرکت کا نہیں پتا تھا کیونکہ جب مریم نے یہ سب کیا تھا تب وہ گھر نہیں تھی اور مریم نے بھی پٹی کو کمال مہارت سے چھپا لیا تھا اس لیے انہیں پتا چل ہی نہیں سگا) آؤ بیٹا مریم ہو گئی تیاری پیپر کی،”جی ماما ہو گئی ہے”مریم نے فرمابرداری سے جواب دیا۔مریم کچھ کھا لیا کرو خدا کا واسطہ ہے تمہیں میں یہ سب تمہارے لیے ہی لاتی ہوں نا اور کون ہے میرا دیکو زرا خود کی شکل کو کیسے پیلی ہو رہی ہے تمہاری عمر کی لڑکیاں اپنا کتنا خیال رکھتی ہیں اور ایک تم ہو جسکے نخرے ہی ختم نہیں ہوتے یہ نہیں کھانا وہ نہیں کھانا۔۔۔شازیہ بیگم نے دہائی دی۔”اچھا نا ماما آب سے کھاؤں گی پکا” مریم نے جان چھڑائی۔
“اچھا کھانے میں کیا بنا رہی ہیں”مریم نے چٹخارے لیتے پوچھا،دل تو اسکا کچھ بھی کھانے کو نہیں کر رہا تھا لیکن ماں کو خوش رکھنا بھی تو ضروری تھا۔
“پالک گوشت بنا رہی ہوں” شازیہ بیگم نے مصروف انداز میں جواب دیا۔
“ماما نہیں مجھے بریانی کھانی ہے بریانی بنانے نا” مریم نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
“مریم ابھی پرسوں ہی تو کھائی ہے بریانی تم نے”
“ماما مجھے آج بھی کھانی ہے بس میرا دل کر رہا ہے آپ نے بریانی نہ بنائی تو میں کھانا بھی نہیں کھاؤں گی بس میں بتا رہی ہوں” مریم نے ماں کو تڑی (دھمکی) لگائی۔
“اچھا میں بنا لیتی ہوں بریانی بھی ضدی لڑکی”مریم کی دھمکی کام کرگئی اس نے اٹھ کر ماں کو پیار کیا “تھینک یو ماما یو آر دی بیسٹ ماما ان دا ورلڈ”(بے شک) مریم نے خوش ہوتے کہا،اچھا بس بس آب زیادہ مکھن مت لگاؤ مجھے اور جا کے پیپر کی تیاری کرو،”اوکے ماما” مریم یہ کہ کر اپنے کمرے میں بھاگ گئی۔
پیچھے سے شازیہ بیگم مسکرا دی”پاگل لڑکی”۔
مریم جب کمرے میں آئی اسکا فون بج رہا تھا “بیبو کالنگ”پہلے تو مریم جی بھر کے حیران ہوئی پھر ہمت کر کے فون اٹھا لیا۔
“ہیلو مریم،اسلام علیکم ” آیان پیار سے بولا۔
مریم کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی پر وہ چپ رہی۔
“مریم میں جانتا ہوں تم سن رہی ہو،پلیز کچھ بولو تو”
“جی” مریم صرف اتنا ہی بول پای آنسوؤں کا گولا بار بار اس کے گلے میں پھنس رہا تھا۔
“مریم میں بہت شرمندہ ہوں اپنے کیے پر پلیز مجھے معاف کر دو میں نے آپ پر شک کیا اپ کے لیے بہت برے لفظ استعمال کیے میں معافی کے قابل تو نہیں ہوں پر پھر بھی آپ سے معافی مانگتا ہوں ریلی سوری مریم پلیز مجھے معاف کردو مجھے آخری موقع دے دو میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا” آیان نے جذبات سے پر لہجے میں کہا،
یہ سن کر مریم کے دل کی کلی کھل اٹھی ٹھیک ہے آیان “میں نے آپ کو معاف کیا” مریم نے آہستہ سے کہا۔
“تھینک یو سو مچ مریم تم نہیں جانتی تم نے کتنا بڑا احسان کیا ہے مجھ پر” آیان کی خوشی سے چیختی آواز آئی اور وہ دونوں باتیں کرنے لگ گئے۔
“ہیلو وکی ڈارلنگ کیسے ہو” اسمارہ نخوت سے بولی۔
آگے سے کچھ کہا گیا ہاہاہا اسمارہ نے اونچا قہقہہ لگایا۔”اس لڑکی کی تصویر میں تمہیں بھیج چکی ہوں اور باقی سب پہلے ہی سمجھا چکی ہوں یہ کام جلد از جلد ہو جانا چاہئے غلطی کی کوئی گنجائش نہیں” اسمارہ نے نفرت سے کہا۔
“ویسے چیز تو بہت فٹ لای ہو میری تو عید کروا دی تم نے ہاہاہا” بےشرمی سے کہا گیا دونوں طرف سے اونچا قہقہہ بلند ہوا۔۔۔۔اسمارہ حسد کی آگ میں بہت آگے نکل چکی تھی اور بہت کچھ غلط کرنے جا رہی تھی لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتی تھی کے جب اللّٰہ اپنے بندے کی حفاظت کر رہا ہو تو دنیا کی کوئی بھی طاقت اسکا کچھ نہیں بگاڑ سکتی
__________
میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوں
مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو
مریم کی طبیعت کچھ بہتر ہوئی تو وہ آیان سے ملنے آگئی آب بھی وہ دونوں پارک میں بیٹھے تھے مریم سر جھکائے اپنے ھاتھوں کو دیکھ رہی تھی اور آیان کی نظروں کی تپش مسلسل اپنے اوپر محسوس کر رہی تھی۔
“کیا ہے ایسے کیوی گھور رہے ہیں کب سے ،کوئی لڑکی نہیں دیکھی کیا کبھی آپ نے” مریم آیان کے مسلسل دیکھنے سے زچ ہو کر بولی۔وہ میں یہ دیکھ رہا تھا تین ہی دن میں آپ کتنی کمزور ہو گئی ہیں کچھ کھاتی کیوں نہیں ہے آپ” ایان نے پیار سے کہا،اففففففففف آب آپ بھی ماما کی طرح شروع مت ہو جانا” مریم نے منہ بناتے ہوئے کہا،اچھااچھا نہیں ہوتا شروع چلیں کہیں چل کر کچھ کھاتے ہیں, ہاں چلیں مجھے بھی بھوک لگی ہے۔مریم جیسے ہی اٹھی اسکو زور سے چکر آیا وہ گرنے ہی لگی تھی کے اسکو آیان کے مظبوط بازوؤں نے تھام لیا آرام سے میری جان ابھی گر جاتی تو “آپ گرنے تھوڑی نا دیتے ہیں” مریم نے پیار سے کہا اور آنکھیں جھکا لی، “ہاے آپکا یوں آنکھیں جھکانا کسی دن جان لے لے گا میری” مریم نے جلدی سے آیان کے منہ پر ہاتھ رکھا “خبردار جو آیندہ ایسا کچھ سوچا بھی کہنا تو بہت دور کی بات ہے” مریم نے غصے سے کہتے آیان کے منہ پر سے ہاتھ ہٹایا اور روٹھ کر جانے ہی لگی تھی کہ آیان نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا “سوری نا بےبی اب کبھی ایسا نہیں بولوں گا پرامس”, “اوکے ٹھیک ہے معاف کیا، کیا یاد کریں گے کتنے بڑے دل کی لڑکی سے پالا پڑا ہے اپکا” مریم نے شوخی سے کہا۔”نوازش ہے آپکی میڈم ” آیان نے پیار سے کہتے ہوئے مریم کا ماتھا چوم لیا۔مریم بری طرح بوکھلا گئی اسکے دل کی دھڑکن بہت تیز ہو گئی تھی،”ریلیکس مریم آیں کھانا کھانے چلتے ہیں” آیان نے مریم کو نارمل کرنے کو کہا مریم جاکر گاڑی میں بیٹھ گئی آیان مسکرا دیا اور گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کر دی اور دونوں کھانا کھانے چل دیئے۔
وکی جو کے آسمارہ کے کہنے پر چوبیس گھنٹے مریم پر نظر رکھے ہوئے تھا اس وقت پارک میں بھی ان کے پیچھے آیا تھا اور ان دونوں کی تصویریں کھینچ کھینچ کر اسمارہ کو بھیج رہا تھا کچھ لمحوں بعد اسکا موبائل بجا دیکھا تو آسمارہ کی کال تھی۔
“ہیلو! ڈارلنگ کیسی ہو،آج کیسے یاد آگئی مجھ غریب کی”وکی شوخی سے بولا۔
“شٹ آپ اور مجھے بتاؤ کہ اب وہ دونوں کیا کر رہے ہیں”آسمارہ غصے سے چیخی۔
“کھانا کھانے گے ہیں،ویسے دونوں میں کتنا پیار ہے تم کیوں ان دونوں کے بیچ آ رہی ہو” وکی نے آسمارہ کو تپانے کی غرض سے کہا اور ہوا بھی یوں ہی۔
“شٹ آپ اپنی بکواس بند رکھو تم اور جو کہا ہے وہ کرو مجھے مشورے دینے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں،جی تو چاہتا ہے اس مریم کی گردن اپنے ہاتھوں سے دبا دوں،ایان صرف آسمارہ کا ہے،اگر وہ میرا نا ہوا تو میں اسے کسی اور کا بھی نہیں ہونے دوں گی جان لے لوں گی میں اس کی بھی”اسمارہ نے غصے سے پھنکارتے ہوئے فون بند کر دیا اور وکی بےشرمی سے ہنس دیا۔
مریم کا کل پیپر تھا اور وہ ابھی پیپر کی تیاری کر کے فارغ ہوئی تھی تب ہی شازیہ بیگم اس کے کمرے میں آئیں “مریم بیٹا کھانا کھالو آکر”،ماما میرے روم میں ہی بھجوا دیں میں تھکی ہوئی ہوں، “اچھا بیٹا میں بھجوا دیتی ہوں اور کھانا کھا کر ٹائم سے سو جانا صبح فجر کے لیے بھی اٹھنا ہے تم نے” شازیہ بیگم نے ہدایات جاری کی،”اوکے ماما جلدی سو جاوں گی” مریم نے سعادت مندی کا مظاہرہ کیا، اوکے میں کھانا بھجواتی ہوں کھالو،”اوکے ماما”۔
کھانا کھاکر مریم آیان سے باتیں کرنے لگ گئی۔ایان اس سے اسکی پیپر کی تیاری کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔
“چلو اب سو جاؤ صبح جلدی اٹھنا ہے نا اپکو” آیان نے کہا۔
“ایک شرط پر سوؤں گی” مریم نے کہا۔
“کون سی شرط جناب”
“کال پر سونا ہے،ورنا نہیں”
“ابھی بزی ہوں نا کال پر نہیں آسکتا” آیان نے اپنی مجبوری بتای۔
“مجھے نہیں پتا بس مجھے کال پر ہی سونا ہے ورنا نہیں”
مریم ضد پر اتر آئی۔
“اچھا کرو کال سلاؤ اپنی جان کو”
مریم نے آیان کو کال کی،ایان بول رہا تھا اور مریم سو گئی تھوڑی دیر میں ہی مریم کی سانسوں کی آواز ایان کے کانوں میں گونج رہی تھی۔مریم کی سانسیں سنتے سنتے آیان خود بھی نیند کی وادی میں کھو گیا۔
صبح مریم ماں کا پیار اور ڈھیر ساری دعائیں لے کر پیپر دینے چلی گئی اور اسکا پیپر بہت اچھا ہو گیا تھا وہ خوشی خوشی گھر آئی اور ماما سے لپٹ گئی۔”ماما ماما میں بہت خوش ہوں میرا پیپر بہت اچھا ہو گیا ہے”۔”شکر اللّٰہ کا شازیہ بیگم نے بیٹی کو پیار کیا چلو اب فریش ہو کر آؤ میں کھانا لگاتی ہوں۔”اوکے ماما”۔مریم چونکہ صبح جلدی اٹھی تھی اس لیے کھانا کھا کر سو گئی۔اور ایان اسکو کال کرتا رہ گیا۔
