Mera Ishq Hai Tu by Anaya Jaffry NovelR50706 Mera Ishq Hai Tu (Episode 05)
Rate this Novel
Mera Ishq Hai Tu (Episode 05)
Mera Ishq Hai Tu by Anaya Jaffry
ﻭﮦ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺑِﭽﮭﮍ ﮐﮯ ﻣُﺠﮫ سے
ﺍُﺩﺍﺱ ﺗﻨﮩﺎ ﺍُﺳﮯ ﻣﻨﺎ ﻟﻮ
ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺭﻭﮐﺎ ﺗﻮ ﺭﻭ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ, ﺍﺳﮯ
ﭘُﮑﺎﺭﻭ, ﺍُﺳﮯ ﺑُﻼ ﻟﻮ
ﺍُﺳﮯ ﺑﺘﺎ ﺩﻭ ﻣُﺤﺒﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻟﻤﺤﮯ ﺭﮨﺘﮯ
ﮨﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ
ﭼﺮﺍﻍ ﺑُﺠﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﮔﺮ ﺗﻮ ﻭﻓﺎ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﯽ
ﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﺟﻼ ﻟﻮ
ﻣﻼﻝ ﮐﯿﺴﺎ ﺷﮑﺴﺘﮕﯽ ﮐﺎ, ﺍُﺳﮯ ﺗﻮ ﮨﻮﻧﺎ
ﮨﯽ ﺗﮭﺎ ﮐِﺴﯽ ﮐﺎ
ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﮨﻮ ﺑﮭﯽ ﮔﯿﺎ ﮐِﺴﯽ ﮐﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﺎ
ﮨﻮﻧﮯ ﭘﮧ ﺧﺎﮎ ﮈﺍﻟﻮ
ﯾﮩﯽ ﺗﻘﺎﺿﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﻭﻓﺎ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ
ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﻭﻓﺎ ﮐﯽ
ﺟﻮ ﺭﻭ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﮨﻨﺴﺎﺅ ﺍُﺱ ﮐﻮ, ﺟﻮ ﻣﺮ ﺭﮨﺎ
ﮨﻮ ﺍُﺳﮯ ﺑﭽﺎ ﻟﻮ
ﭼﻠﻮ ﯾﮧ ﻗﺼﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﮐﺮ ﺩﻭ, ﻧﮧ ﺗُﻢ ﮨﻤﺎﺭﮮ
ﻧﮧ ﮨﻢ ﺗُﻤﮩﺎﺭﮮ
ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﯽ ﻓﺮﻕ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ
ﺭﮦ ﻟﻮ ﮐﮧ ﻏﻞ ﻣﭽﺎﻟﻮ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﺎ ﻭﮦ ﻧﺸﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ
ﺳﻨﺒﮭﻠﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﻣُﺸﮑﻞ
ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﮔﺮ ﺗُﻤﮩﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﮔِﺮﺗﮯ
ﮔِﺮﺗﮯ ﻣُﺠﮭﮯ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﻮ
ﻧﮩﯿﮟ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻣُﺠﮭﮯ ﮐِﺴﯽ ﮐﯽ, ﮐِﺴﯽ
ﻧﮯ ﻣُﺠﮫ ﮐﻮ ﺩﯾﺎ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺗﻮ ﮨﻮ ﮐﮯ
ﺗﻨﮩﺎ ﺧﻮﺩ ﺁﺯﻣﺎ ﻟﻮ
ﯾﮧ ﺗُﻢ ﮐﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﻮﺍﺭﮦ ﻣﯿﮟ ﺗُﻢ
ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮﮞ ﺟﺎﻥ ﻣﯿﺮﯼ
ﻣﯿﮟ بھٹک رھا ھوﮞ ﺗُﻤﮩﺎﺭﯼ ﺧﺎﻃﺮ, ﺗﻢ
ﺍﭘﻨﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻣُﺠﮭﮯ ﺑﭽﺎ ﻟﻮ
پولیس مطلوبہ جگہ پہنچ چکی تھی اور آب چاروں طرف سے جگہ کو گھیرے کھڑی تھی،یہ ایک بوسیدہ ٹوٹی پھوٹی عمارت تھی اور شہر سے کافی دور بھی تھی۔ اس لیے یہاں زیادہ آتا جاتا بھی کوئی نہیں تھا اور اسی بات کا فایدہ اٹھاتے وکی نے مریم کو یہاں رکھا تھا۔لیکن پولیس کے آنے سے کافی دیر پہلے وکی مریم کو کسی اور جگہ منتقل کر چکا تھا۔
“سر ہم نے چاروں طرف چیک کر لیا ہے،اندر کوئی بھی نہیں ہےمجرم مریم میم کو لے کر بھاگ چکے ہیں”۔
“ایک ایک کونا چھان مارو ہر جگہ کی تلاشی لو وہ لوگ کوئی نہ کوئی ثبوت ضرور چھوڑ کر گئے ہوں گے” انسپکٹر نے آرڈر دیا۔
“یس سر” اور سب اپنے کام میں مصروف ہو گئے۔
اور انسپکٹر آیان کو کال کرنے کے لیے ایک سائیڈ پر آ گیا۔
آیان اپنے کمرے میں لیٹا تھا،اسکا فون بجا جو کے اسنے فوراً اٹھا لیا۔
“ہیلو! ہاں مریم ملی،وہ ٹھیک ہے نا،اسے کچھ ہوا تو نہیں” آیان بےصبری سے بولا۔
“نو سر ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی وہ لوگ مریم میم کو لے کر فرار ہو گئے،لیکن آپ بھروسہ رکھیں ہمیں کچھ ثبوت ملے ہیں جن کی مدد سے ہم جلد ہی ان تک پہنچ جائیں گے۔
یہ سن کر آیان نے اپنی مٹھیاں بھینچ لی”تم لوگ کسی کام کے نہیں ہو مجھے مریم چاہیے جلد از جلد وہ بھی بلکل ٹھیک کان کھول کر سن لو تم سب اگر دو دن کے اندر اندر مریم نا ملی تو تم لوگ سوچ بھی نہیں سکتے میں تم لوگوں کا کیا حال کروں گا سمجھے تم”آیان دھاڑا اور غصے سے موبائل دیوار پر مار دیا۔
اس دن کے بعد سے آیان اپنے کمرے سے نہیں نکل تھا،اس نے آفس جانا بھی چھوڑ دیا تھا کھانا بھی اسکو ہادیہ کمرے میں ہی دے جاتی تھی۔
آیان کے کمرے کے باہر کھڑی آسمارہ یہ سب سن کر بہت لطف اندوز ہو رہی تھی۔”وہ مریم جس کے لیے تم اتنا تڑپ رہے ہو نا وہ تمہیں کبھی نہیں ملے گی مسٹر آیان جعفری،اور اگر ملی بھی سہی تو اس قابل نہیں ہوگی کے تم اسے اپنا سکو تم صرف میرے ہو اور جو چیز میری ہے وہ میں کسی کو نہیں دیتی”آسمارہ نخوت سے کہتی آگے بڑھ گئی۔
مریم کے گھر میں بلکل سوگ کا سا سماں تھا۔چار دن ہو گئے تھے مریم کو لاپتہ ہوے اور ان چار دنوں میں سب ہی خاموش ہو کر رہ گئے تھے ارسلان کی منگنی بھی روک دی گئی تھی اور شازیہ بیگم کو تو بلکل چپ ہی لگ گئی تھی نا کچھ بولتیں تھیں نا کچھ کھاتی تھیں،بس ہر وقت مریم کی تصویر دیکھ کر روتی رہتی تھیں۔
“باس اس چھوکری کا کیا کرنا ہے آب اسکو اتنے دن رکھنا ٹھیک نہیں ہے ہم کسی مصیبت میں بھی پڑھ سکتے ہیں”
جانسن نے وکی سے کہا۔
“ہاں کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو چلو آج اسکا قصہ بھی تمام کرتے ہیں،تم کیمرے کا بندوست کرو جلد سے جلد”
“اوکے باس”جانسن یہ کہتا باہر نکل گیا۔جبکہ وکی اس کمرے کی طرف چل دیا جہاں اس نے مریم کو رکھا تھا۔
مریم نیم بےہوشی کی حالت میں تھی،دروازا کھلنے کی آواز پر بھی اس نے آنکھیں نہیں کھولی تھی تب ہی وکی نے پانی کا گلاس بھر کے اس پر پھینکا۔مریم نے بمشکل آنکھیں کھولیں۔وکی اس کے چہرے پر ہاتھ پھیر رہا تھا مریم نے پیچھے ہونے کی کوشش کی تو وکی نے اسکو بالوں سے پکڑ لیا تکلیف کی شدت سے مریم کی آنکھوں میں آنسوں آگے۔”یااللہ مجھے اس درندے سے بچا،میری عزت کی حفاظت کر یا میرے رب،مجھے موت قبول ہے میرے اللّٰہ،پر میری عزت محفوظ رکھ”مریم دل ہی دل میں دعا مانگ رہی تھی اور شاید اسکی دعا قبول بھی ہوگی تھی۔وکی کا فون بجا اور وہ مریم کو ایک جھٹکے سے چھوڑتا باہر نکل گیا۔اور مریم اپنی بےبسی پر ایک بار پھر سے رو دی،مجھے ماما کے پاس جانا ہے میں،میں ان سے لڑائی بھی نہیں کروں گی انڈہ بھی کھا لوں گی انکی ساری باتیں مانو گی بس ایک بار ماما کے پاس چلی جاؤں۔مریم کی یہ خواہش جلد پوری ہونے والی تھی لیکن وہ نہیں جانتی تھی اس کے لیے اسے کتنی بڑی قربانی دینا پڑے گی۔
بہت خاموش رہتی ہوں !
مجھے کچھ بھی نہیں کہنا
نہیں شکوہ کوئی بھی اب !!
مجھے معلوم ہے اس سے نہیں اب فائدہ کوئی !!!!
آیان بیٹھا کچھ لکھ رہا تھا کہ اسکا فون بجا(آیان نیا فون لے چکا تھا) آیان بے بنا دیکھے ہی فون اٹھا لیا۔
“ہیلو سر”انسپکٹر بولا۔
“ہاں بولو”آیان کا لہجہ سپاٹ تھا۔
“سر ہمیں اس جگہ کا پتا چل گیا ہے جہاں مریم میم کو رکھا گیا ہے ہم وہاں ریڈ کی تیاری کر رہے ہیں” انسپکٹر ادب سے بولا۔
“میں بھی ساتھ جاؤں گا”۔
“اوکے سر ہم اپکو گھر سے پک کر لیں گے”۔
“نہیں گھر سے نہیں،میں تھانے آتا ہوں”آیان کچھ سوچ کر بولا۔
“اوکے سر”۔
اوکے”۔
آیان تیزی سے کہتا اپنا موبائل اور گاڑی کی چابی اٹھاتا باہر نکل گیا۔
“ہیلو وکی تم جلدی سے مریم کی تصویریں بناؤ اور بھاگو وہاں سے،آیان اور پولیس مریم کو ڈھونڈنے تمھارے ٹھکانے کی طرف آ رہے ہیں”آسمارہ پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ جلدی سے بولی۔
“اوکے” وکی نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا اور کیمرہ اور انجکشن اٹھاتا مریم کے روم کی طرف بڑھ گیا۔
آیان اور انسپکٹر اب اپنی منزل کی طرف بڑھ رہے تھے،تیز چلاؤ آیان کو وہاں پہنچنے کی جلدی تھی”یا اللّٰہ مریم ٹھیک ہو”وہ دل ہی دل میں دعا بھی مانگ رہا تھا۔دو گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد وہ اس جگہ پہنچ چکے تھے۔اور چوکنے انداز میں آندر کی طرف بڑھ رہے تھے کہ آیان کو ایک جگہ وہ دشمن جان زمین پر پڑی نظر آئ۔
“آیان بھاگ کر مریم تک پہنچا،مریم بےہوش پڑی تھی اور اسکی حالت بہت خراب تھی،آیان نے مریم کو اپنی باہوں میں سمیٹ لیا، مریم میری جان آنکھیں کھولو دیکھو میں آگیا ہوں آیان کی آنکھوں سے ایک آنسو پھسلا اور مریم کے گال پر جا گرا میری جان مجھے معاف کر دینا میں لیٹ ہو گیا لیکن آپکی قسم میں اس شخص کو زندہ نہیں چھوڑوں گا جس نے بھی کیا ہے یہ سب”آیان مریم کو اپنی باہوں میں کسی قیمتی متاع کی طرح سمیٹتا گاڑی کی طرف لے آیا۔
“جلدی چلو ہمیں ہاسپٹل جانا ہے”۔
“اوکے سر”
“ہم لوگ میم کو ہاسپٹل لے کر جارہے ہیں،تم لوگ ناکابندی کرواو اور ہر ایک گاڑی کو چیک کرو مجرم ابھی تک دور نہیں گیا ہوگا وہ کسی بھی صورت بچنا نہیں چاہیے” انسپکٹر ہدایات دیتا گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
آیان مریم کو لے کر ہاسپٹل پہنچ گیا تھا اور مریم کو آئی سی یو میں لے جایا جا چکا تھا۔
اور آیان بے چینی سے باہر ٹہل رہا تھا,جب اسکو ڈاکٹر باہر آتا دیکھائی دیا،وہ تیزی سے ڈاکٹر کی طرف لپکا۔
“ڈاکٹر مریم کیسی ہے آب وہ ٹھیک تو ہے نا”آیان بے چینی سے پوچھا۔
“مسٹر جعفری! مسلسل بوکا پیاسا رہنے کی وجہ سے بہت کمزوری ہو گئی ہے اینڈ پراپر آکسیجن نا ملنے ڈر اور ذہنی ٹارچر کی وجہ سے انکی یہ حالت ہو گئی ہے اور خطرے کی بات تو یہ ہے کہ انکو بےہوشی کے انجکشن کافی زیادہ مقدار میں دیے گئے ہیں،اگلے چوبیس گھنٹے ان کے لیے بہت اہم ہیں دعا کریں انکو ہوش آ جائے ورنہ ہم کچھ نہیں کہ سکتے”ڈاکٹر پیشہ ورانہ انداز میں کہتا آگے بڑھ گیا،جبکہ آیان کو لگا ہاسپٹل کی چھت اسکے اوپر آ گری ہے۔
انسپکٹر آیان کی طرف آیا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی”۔
“انسپکٹر آپ ایسا کریں مریم کے گھر والوں کو کال کر کے انفارم کر دیں،میرا زکر مت کیجئے گا میں نہیں چاہتا مریم کے کردار پر کوئی انکلی اٹھاۓ”
“یس سر میں سمجھ رہا ہوں آپ اطمینان رکھیں،اب آپ گھر جاکر آرام کریں”۔
“مریم کی فیملی آجاۓ گئ تو میں چلا جاؤں گا”۔
“سر میری مانے تو آپ جاکر میم کو ایک نظر دیکھ لیں انکی فیملی کے آنے سے پہلے”۔
“ہاں میں جاتا ہوں”۔آیان یہ کہ کر مریم کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
کمرے میں داخل ہوتے مریم کو مختلف مشینوں میں جکڑے دیکھ کر اسے ایسا لگا جیسے اسکا دل کسی نے مٹھی میں لے لیا ہو۔
“مریم میری جان آنکھیں کھولو نا دیکھو کون آیا ہے،آیان نے اسکے زخمی چہرے پر ہاتھ پھیرتے کہا،دیکھو نا آپ کے بغیر میں کتنا اداس ہوں جلدی سے ہوش میں آجاؤ پلیز”آیان مریم کے پاس بیٹھ کر اس سے باتیں کرنے لگ گیا۔
بھابھی بھابھی مریم کے چاچو شازیہ بیگم کو آوازیں دیتے انکے کمرے کی طرف آۓ۔
“جی بھائی صاحب”شازیہ بیگم انکی طرف متوجہ ہوئیں۔
“بھابھی اللّٰہ کا شکر ہے ہماری مریم مل گئی ہے،ابھی انسپکٹر کی کال آئی تھی اس نے بتایا ہے وہ لوگ مریم کو ہاسپٹل لے کر گئے ہیں”چلیں ہمیں بھی جانا ہے۔
شازیہ بیگم وہیں سجدہ میں گر گئیں”۔چلیں بھائی صاحب میں چادر لے کر آتی ہوں،مجھے جلدی سے آپنی بیٹی کے پاس لے چلیں”
“چلیے بھابھی”
________
مریم کی طبیعت آب قدرے بہتر تھی اور وہ ہوش میں بھی آ چکی تھی،آپنوں کو اپنے پاس دیکھ کر اسکی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے۔تبھی شازیہ بیگم اسکی طرف بڑھی اور اسکو اپنے سینے سے لگا لیا۔
“بس،میرا بچا بس اب اور نہیں رونا ماما اور باقی سب پاس ہیں نا اب آپکو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے”۔انہوں نے پیار سے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
“ماما میرے سر میں بہت درد ہو رہا ہے”۔مریم نے سر کو ہاتھوں سے دباتے ہوئے کہا۔
“بس ابھی آرام کرو ڈاکٹر نے زیادہ بولنے سے منع کیا ہے”شازیہ بیگم نے کہا۔
تبھی انسپکٹر اپنی ٹیم کے ساتھ اندر داخل ہوا،ہمیں انکا بیان ریکارڈ کرنا ہے اپ سب لوگ پلیز تھوڑی دیر کے لیے باہر چلے جائیں۔سب باہر چلے گئے۔
اور انسپکٹر مریم کی طرف بڑھا۔”گھبرائیں نہیں میم ریلیکس” انسپکٹر مریم کو گھبراتے دیکھ کر بولا۔
“آپکو آیان سر نے بچایا ہے اور جب آپکی فیملی آئی تب وہ اپنے گھر گئے ہیں”۔انسپکٹر نے مریم کو تفصیل بتائی۔
“آب آپ شروع سے لے کر آخر تک ہمیں سب بتائیں تاکہ ہم جلد سے جلد مجرم تک پہنچ سکیں”۔
“وہ سب یاد کر کے مریم کی آنکھوں میں آنسوں آگئے اور وہ خوف کے مارے کانپنے لگ گئی،تب آ گئے بڑھ کر لیڈی پولیس انسپکٹر نے اسکو حوصلہ دیا اور پانی پلایا پھر مریم سب بتاتی چلی گئی۔پولیس مریم کا بیان ریکارڈ کر کے باہر چلی گئی۔
انسپکٹر نے مریم کا ریکاڈ کیا بیان آیان کو بھی بھیج دیا تھا آیان بیٹھا سننے ہی لگا تھا کے ہادیہ چلی آئ۔
“بھائ چلیں اٹھیں مجھے بھابھی سے ملنے ہاسپٹل جانا ہے”۔ہادیہ بولی۔
“اچھا چلو اسی بہانے میں بھی مل لوں گا”،آیان نے شوخی سے کہا۔
“ہاں جی،چلیں بھائ”۔
وہ دونوں آب ہاسپٹل پہنچ چکے تھے،شازیہ بیگم ہادیہ کو جانتی تھیں وہ پہلے بھی مریم سے ملنے دو،تین دفعہ انکے گھر آچکی تھی۔ہادیہ شازیہ بیگم سے ملی اور آیان کا تعارف بھی کروایا،آیان بھی سب سے بہت اچھے سے ملا اور شفیق سی شازیہ بیگم تو اسکو بلکل اپنی ماں جیسی لگیں۔
آب وہ دونوں مریم کے کمرے میں داخل ہوچکے تھے،مریم آب ہوش میں تھی،آیان کو دیکھ کر مریم کی آنکھیں نمکین پانی سے بھر گئیں۔آیان کا حال بھی کچھ مختلف نا تھا وہ آگے بڑھا اور مریم کا ماتھا چوم کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
“اہمممم اہممممممم،لولی کپل ہم بھی یہاں ہیں کچھ تو خیال کریں”ہادیہ نے ماحول کو نارمل کرنے کی غرض کہا۔
مریم جھینپی اور پیچھے ہو گئ آیان بھی مریم کے بیڈ کے ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔
ہادیہ باہر چلی گئ وہ ان دونوں کو اکیلے میں کچھ ٹائم دینا چاہتی تھی،باہر آکر اس نے بہت ضد کرکے شازیہ بیگم کو آرام کرنے کے لیے گھر بھیج دیا،اورخود وہیں باہر صوفے پر ٹک گئ۔
“مجھے بہت ڈر لگا تھا،وہاں وہ بہت گندے لوگ تھے،انہوں نے مجھے کھانا بھی نہیں دیا تھا،تھپڑ بھی مارا تھا میں نے آپکو کتنا بلایا تھا،آپ آۓ بھی نہیں۔جائیں میں آپ سے بات نہیں کرتی” مریم روٹھی روٹھی آیان سے کہ رہی تھی،اور اسکی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے،جنکو آیان نے بہت پیار سے صاف کر دیا۔وہ مسکرا کر مریم کے شکوے سن رہا تھا،یہ سب سننے کے لیے تو وہ ترس گیا تھا۔بظاہر وہ مسکرا رہا تھا،لیکن اندر ہی اندر اسکا خون کھول رہا تھا اور وہ اسکو کڑی سے کڑی سزا دہنا چاہتا تھا جس نے بھی یہ سب کیا تھا مریم کے ساتھ۔
ابھی وہ دونوں باتیں کر رہے تھے کہ نرس اندر داخل ہوئ اس کے ہاتھ میں انجکشن دیکھ کر مریم نے زور سے آیان کا ہاتھ پکڑا آیان مسکرا دیا۔
“اس سے کہیں یہ دور کرے ” مریم نے انجکشن کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا۔
“ہاں،بھئ دور کرو اسکو ہمیں نہیں لگوانا،ہم اس کے بغیر بھی ٹھیک ہو جائیں گے،ایان نے مریم کو باتوں میں لگاتے نرس کو اشارہ کیا۔
“ہاں نا میں بھی تو یہی۔۔۔آہ،مریم نے مڑ کر اپنے بازو کی طرف دیکھا،نرس اپنا کام کرکے جا چکی تھی ،مریم نے حیران نظروں سے آیان کو دیکھا آپ،آپ نے میرےساتھ چیٹنگ کی مجھے انجکشن لگوا دیا،مجھے آپ سے بات نہیں کرنی جائیں آپ یہاں سے”مریم غم و غصے کی حالت میں بولی۔
آیان پھر بھی مریم کے پاس بیٹھا اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا رہا،وہ جانتا تھا مریم کچھ ہی دیر میں انجکشن کی وجہ سے سو جاۓ گی۔
مریم نے آیان کا ہاتھ جھٹک کر اسکی طرف سے منہ پھیر لیا،وہ اس سے ناراض ہو چکی تھی۔کچھ ہی دیر میں مریم نیند کی آغوش میں چلی گئ۔آیان نے آگے بڑھ کر مریم کے اوپر کمبل ٹھیک کیا اور اسکا ماتھا چومتا کمرے سے باہر نکل گیا۔
“ہو گئ بھابھی سے بات” Hadia نے شوخی سے پوچھا
آیان دھیرے سے مسکرا دیا،”ہاں ہو گئ تھوڑی ناراض ہوگئ وہ انجکشن لگوانے کی وجہ سے”آیان دھیرے سے بولا۔
“کوئ بات نہیں بھائ،آپ تو بھابھی کو منانے میں ماسٹر ہیں”
“اچھا،اچھا بس آب زیادہ مت بولو”۔
تب ہی ان دونوں کو شازیہ بیگم آتئ دیکھائ دیں۔
“مریم کیسی ہے،اسکی طبیت دوبارہ تو نہیں خراب ہوئ نا”انہوں نے آتے ہی پوچھا۔
“نہیں آنٹی مریم ٹھیک ہے،سو رہی ہے،اچھا آنٹی آب ہم چلتے ہیں آپ آپنا اور مریم کا بہت سارا خیال رکھیے گا”۔
وہ دونوں شازیہ بیگم سے مل کر گھر چلے گۓ،اور شازیہ بیگم مریم کے کمرے کی طرف چل دیں۔
آیان گھر آکر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا،دروازہ کھولا سامنے والا منظر اسکو طیش دلانے کے لیے کافی تھا،اسمارہ مزے سے صوفے پر لیٹ کر میز پر ٹانگیں پھیلاۓ نیل پالش لگانے میں مصروف تھی،دروازہ کھلنے پر آیان کو دیکھ کر مسکرا دی۔
“آسمارہ یہ کیا بدتمیزی ہے،آیان آسمارہ کو بازو سے کھینچ کر کھڑا کرتے ہوۓ بولا”۔
“ریلیکس میں بس یہ سوچ رہی تھی،شادی کے بعر روم کی سیٹنگ کیسی کرنی ہے،آسمارہ ایک ادا سے بولی۔
