Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq Hai Tu (Episode 04)

Mera Ishq Hai Tu by Anaya Jaffry

عشق کا “ع” تو عذاب تھا ہی صاحب

“ش” سے شدید ہوا تو “ق” سے قہر بن گیا.

ممانی جان ہم نے تقریباً پورے شہر میں ڈھونڈ لیا ہے مریم کہیں بھی نہیں ملی اسکو لاپتہ ہوے چوبیس گھنٹے گزر چکے ہیں میں اور پاپا پولیس سٹیشن جارہے ہیں رپورٹ لکھوانے آپ ہمت رکھیں اور دعا کریں انشاء اللہ مریم جلد مل جائے گی حمزہ ممانی کو تسلی دیتا باہر نکل گیا اسکی یہ ممانی کچھ ہی گھنٹوں میں کتنی بوڑھی ہو گئیں تھیں۔

آیان لاہور پہنچ چکا تھا وہ گھر جانے کی بجائے پولیس سٹیشن چلا آیا۔ انسپکٹر آیان کو دیکھ کر احتراماً کھڑا ہو گیا۔

“ارے سر آپ نے کیوں تکلیف کی آنے کی ہمیں بلا لیا ہوتا, ارے مجید جلدی سے صاحب کے لیے کچھ کھانے کو لے کر آ” انسپکٹر خوشامدی لہجے میں بولا۔(بہت تکلیف ہوئی یہ لکھتے ہوئے کاش ہماری پولیس غریبوں کو بھی اتنی ہی عزت دیتی جتنی امیروں کو دیتی ہے اتنا ہی تعاون کرتی جتنا لیڈرز اور امیر لوگوں کے ساتھ کرتی ہے رشوت کی جگہ حلال رزق کو ترجیح دیتی تو آج کے دور میں انصاف لینا اتنا مشکل نہ ہوتا)۔

“نہیں نہیں کچھ بھی مت لانا میں ایک رپورٹ لکھوانے آیا ہوں جلدی سے وہ لکھو اور اس پر کام شروع کر دو” آیان روب دار لہجے میں بولا۔

“جی جی سر لکھوائیں”

آیان نے مریم کی گمشدگی کی رپورٹ لکھوائی اور مریم کے متعلق تمام انفارمیشن پولیس کو فراہم کی۔

“ابھی اور اسی وقت سے اس پر کام شروع کر دو مجھے جلد از جلد مریم اپنے پاس چاہیے۔اگر مریم کو ذرا سا بھی کچھ ہوا نا یا پھر تم لوگوں نے اس معاملے میں کوئی لاپرواہی برتی تو اپنی اپنی نوکریاں ختم سمجھو تم سب انڈرسٹینڈ” آیان دھاڑا۔

“جی جی سر ہم اپکو شکایت کا کوئی موقع نہیں دیں گے”

“ہمممم مجھے پل پل کی رپورٹ ملنی چاہیے” یہ کہ کر آیان گاڑی میں بیٹھ گیا ضبط کرتے کرتے اسکی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں۔

“پتا نہیں میری مریم کدھر ہے وہ کسی ہو گی” آیان تڑپ کر رہ گیا۔اللّٰہ مریم کے حصے کی تمام تکلیف مجھے دے دے اسکو صحیح سلامت گھر پہنچا دے وہ بہت معصوم ہے اسے دنیا کی بری نظروں کا نہیں پتا” آنسو آیان کی آنکھ سے گر کر رخسار پر بہہ گئے۔

بھوک پیاس سے نڈھال مریم کا برا حال تھا۔سفید یونیفارم جگہ جگہ سے داغدار ہو چکا تھا۔آپنے آپکو رسیوں سے آزاد کروانے کی کوشش کر کر کے وہ تھک چکی تھی۔ابھی وہ آنکھیں موندے اپنی زندگی کے بارے میں سوچ رہی تھی تبھی دروازہ کھلنے کی آواز آئی، مریم نے آنکھیں کھول دیں۔وکی سیاہ نقاب پہنے کھانے کی ٹرے لیے اندر داخل ہوا۔لو کھا لو کھانا مریم کے سامنے رکھتے ہوئے بولا۔”مجھے نہیں کھانا،مجھے اپنے گھر جانے دو پلیز میری ماما پریشان ہو رہی ہوں گی میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے مجھ جانے دو پلیز” مریم گڑگڑائ۔

ہاہاہاہاہاہاہا وکی نے قہقہہ لگایا۔چلی جانا پرنسز اتنی بھی جلدی کیا ہے وکی نے مریم کے چہرے پر آئے بال پیچھے ہٹاتے ہوئے کہا۔

“دور رہو مجھ سے گندے غلیظ انسان اپنے گندے ہاتھ ہٹاؤ” مریم چلائی۔وکی نے مریم کا نازک چہرہ اپنے جنگلی ہاتھوں میں جکڑ لیا “خبردار جو چلائی تو منہ توڑ دوں گا میں تمہارا” وکی غرایا۔ تکلیف کی شدت سے مریم کی آنکھوں میں آنسوں آ گئے،مریم نے وکی کے چہرے پر تھوک دیا وکی طیش میں آگیا پے درپے کئ تھپڑ مریم کے منہ پر مار دیے۔”بھوکی مرو گی آب تم”وکی کھانے کی ٹرے اٹھاتا غصّے سے باہر نکل گیا۔مریم وکی کے ٹھپڑ برداشت نا کر سکی اور بے ہوش ہو گئی۔

‘بھائی مریم کا پتا چلا کچھ”. ہادیہ نے بھائی کو اندر آتے دیکھا تو جلدی سے پوچھا۔

“نہیں چھوٹی,کچھ پتا نہیں چل رہا پر میں نے پولیس کو انفارم کر دیا ہے مریم جلد ہی مل جائے گی” آیان نے بہن کو تسلی دی۔

“انشاء اللہ بھائی” چائے لاؤں آپ کے لیے۔۔۔۔؟

“ہاں لا دو پلیز سر میں بہت درد ہو رہا ہے”۔

“جی بھائی” ہادیہ یہ کہ کر کچن میں چلی گئی اور آسمارہ جو ان دونوں کی باتیں چھپ کر سن رہی تھی وکی کو بتانے چل دی۔

“ہیلو وکی ڈارلنگ” آسمارہ بولی۔

“ہاں کیا ہے جلدی بولو میں بزی ہوں”وکی بیزاری سے بولا۔

“ہاں آب تو تم بزی ہو گے ہی” آسمارہ معنی خیزی سے بولی۔

“شٹ آپ آسمارہ اگر کوئی کام کی بات ہے تو بولو ورنہ میں فون رکھ رہا ہوں”وکی کا موڈ سخت خراب تھا۔

“اچھا اچھا بتاتی ہوں غصّہ تو مت ہو، وہ بات دراصل یہ ہے کہ آیان نے مریم کو ڈھونڈنے کا کام پولیس کو دے دیا ہےاور وہ کبھی بھی تم تک پہنچ سکتے ہیں اس لیے جلد ازجلد اپنا کام ختم کرو اور کچھ دنوں کے لیے ملک سے باہر چلے جاؤ”۔آسمارہ نے وکی کو تفصیل سے آگاہ کیا۔

“اوکے کرتا ہوں کچھ تم فکر مت کرو اتنی جلدی پولیس مجھ تک نہیں پہنچ سکتی”۔

“میں آجاؤں مریم سے اپنے بدلے لینے”آسمارہ نے خوش ہوتے پوچھا۔

“نہیں تمہیں آنے کی ضرورت نہیں ہے،ہم کسی مشکل میں بھی پڑ سکتے ہیں”

“اوکے ٹھیک ہے”آسمارہ نے بےدلی سے کہا اور فون بند کر دیا۔

” بڑی ماما تھوڑا سا تو کھا لیں آپ نے کل سے کچھ نہیں کھایا” علینا کب سے انکو کھانا کھلانے کی کوشش کر رہی تھی پر وہ کچھ بھی کھانے سے انکاری تھیں۔

“میں کیسے کھا لوں میرے حلق سے کچھ نیچے نہیں اترے گا پتا نہیں میری بچی میری مریم نے کچھ کھایا ہو گا یا نہیں” شازیہ بیگم یہ کہتے ہی رونے لگ گئیں۔نصرت بیگم (مریم کی چاچی) نے آگے بڑھ کے انکو خود میں بھینچ لیا۔

“ہمت رکھیں بھابھی اور دعا کریں بسس”۔۔۔۔

آیان کروٹیں بدل بدل کر تھک گیا تھا۔ پر نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔اسکو مریم بہت شدت سے یاد آ رہی تھی۔گیلری کھول کر مریم کی پرانی تصاویر دیکھنے لگ گیا۔”مریم میری جان آب آ بھی جاؤ اور کتنا امتحان لو گی میرا جانتی ہونا میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا آجاؤ پلیز” آیان رو دیا۔۔۔

_______

کہتے ہیں نیند تو سولی پر بھی آجاتی ہے۔آیان بھی مریم کی تصویر دیکھتے دیکھتے سو گیا تھا۔فجر کی اذان سن کر وہ اٹھا وضو کیا اور جانماز بچھا کر اپنے رب کے حضور حاضری دینے کھڑا ہو گیا۔نماز پڑھ کر وہ نیچے آیا سب کو سلام کر کے کرسی گھسیٹ کر ناشتے کی میز پر بیٹھ گیا آ یان نے آسمارہ کو دیکھا وہ اسکو ہی دیکھ کے مسکرا رہی تھی آیان نے اسکو نظر آنداز کیا اور ناشتہ کرنے لگ گیا۔ناشتے سے فارغ ہو کر وہ اٹھ کر جانے ہی لگا تھا کہ اسکو پاپا کی آواز آئی۔

“آیان میرے کمرے میں آؤ ضروری بات کرنی ہے” یہ کہ کر وہ رکے نہیں اپنے کمرے میں چلے گئے۔

آیان بھی آن کے پیچھے چل دیا۔

دروازا کھٹکھٹا کر اندر داخل ہوا۔

“جی پاپا آپ نے بلایا تھا”۔

“ہاں بیٹھو کچھ بات کرنی ہے” کامران صاحب سنجیدگی سے بولے۔

“کیا بات ہے پاپا آپ کچھ کچھ پریشان لگ رہے ہیں” وہ بیٹھتے ہوئے بولا۔

کامران صاحب نے گلا صاف کرتے ہوئے بات کا آغاز کیا”تمھارے اسلام آباد جانے کے بعد تمھارے چاچو میرے پاس آئے تھے انہوں نے مجھ سے تمہارے اور آسمارہ کے رشتے کی بات کی مجھے تو اس میں کوئی برائی نظر نہیں آئی تو میں نے انکو ہاں بول دی آب تم بتاؤ کے نکاح کب کیا جائے” انہوں نے ایک ہی سانس میں ساری بات کہ ڈالی۔

جبکہ آیان باپ کی بات سن کر جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا “پاپا یہ آپ کیا کہ رہے ہیں کم از کم ایک دفع مجھ سے پوچھ تو لیتے میری زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ مجھ سے پوچھے بغیر کر لیا آپ نے” وہ دکھ سے بولا۔

“میں باپ ہوں تمہارا مجھے حق ہے تمہارے لیے فیصلہ کرنے کا میں تم سے بہتر جانتا ہوں تمہارا اچھا برا”کامران صاحب غصے سے بولے۔

“وہ بات آپکی بلکل ٹھیک ہے پاپا پر سوری میں آسمارہ سے شادی نہیں کر سکتا”وہ ضبط سے بولا۔

“کیوں نہیں کر سکتے،کیا برائی ہے اس بچی میں ہماری آنکھوں کے سامنے پلی بڑھی ہے شرم وحیاء والی ہے اور کیا چاہیے ہمیں”۔

“پاپا وہ ہوگی اچھی لیکن وہ میرے ٹائپ کی نہیں ہے بہت بولڈ ہے وہ میں اس سے شادی نہیں کر سکتا آپ چاچو کو انکار کر دیں پلیز پاپا”وہ منت بھرے لہجے میں بولا۔

“میں بھائی صاحب کو زبان دے چکا ہوں اور میں دی ہوئی زبان واپس لینے والوں میں سے نہیں ہوں شادی تو تمہیں آسمارہ سے ہی کرنی ہو گی اگر نا کی تو میرا مرا ہوا منہ دیکھو گے” آب جاؤ مجھے آرام کرنا ہے۔یہ کہ کر کامران صاحب نے منہ پھیر لیا۔

باپ کے کمرے سے نکل کر وہ گاڑی میں بیٹھا اور گھر سے ہی نکل گیا۔

“اسکو اٹھا کر ڈگی میں ڈالو میں سب ثبوت مٹا کر آتا ہوں” وکی نے بے ہوش پڑی مریم کی طرف اشارہ کرکے اپنے بندے جانسن کو کہا۔

“یس باس” جانسن یہ کہ کر مریم کو اپنے کندھے پر ڈالتا باہر نکل گیا۔

اور وکی وہاں اپنی موجودگی کے تمام ثبوت مٹانے لگ گیا۔

اپنا کام کرکے وکی باہر آکر گاڑی میں بیٹھ گیا اور ڈرائیونگ سیٹ سنمبھال لی۔وہ مریم کو اپنے خفیہ اڈے لے جا رہا تھا جہاں پولیس کا پہنچنا مشکل تھا۔ایک گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد وہ وہاں پہنچ چکے تھے۔

“تم جاکر گیٹ کھولو میں اسکو لےکر آتا ہوں” وکی نے جانسن کو کہا تو وہ سر ہلاتا گیٹ کھولنے چلا گیا۔جانسن نے گیٹ کھول دیا تو وکی مریم کو اپنی باہوں میں اٹھا کر اندر لے آیا۔

“تم اسکو اچھی طرح باندھ دو اور اسکا منہ بھی بند کر دینا بہت چیختی ہے یہ میں زرا ایک کال کرکے آتا ہوں”. وکی یہ کہتا باہر نکل گیا جبکہ جانسن اپنے کام پر لگ گیا۔

پوری رات گزر گئی لیکن آیان گھر نہیں آیا۔وہ وہاں سے اپنے ایک دوست کے گھر چلا گیا تھا۔کامران صاحب کی باتوں نے اسکا رہا سہا سکون بھی چھین لیا تھا اور وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا۔

“افففففف پاپا آپ نے مجھے یہ کس مشکل میں ڈال دیا ہے اس گھٹیا لڑکی سے شادی کرنے سے بہتر ہے جان لے لوں میں اپنی،میں صرف مریم سے پیار کرتا ہوں اور شادی بھی اسی سے کروں گا میں مریم سے بےوفائ نہیں کر سکتا”۔وہ اپنی سوچوں میں گم تھا کہ اسکا موبائل بجا دیکھا تو انسپکٹر کی کال آ رہی تھی اس نے جلدی سے کال اٹینڈ کی۔

“ہیلو کچھ پتا چلا مریم کا” وہ ایک ہی سانس میں بول گیا۔

“یس سر کافی انویسٹیگیشن کے بعد ایک ٹھکانے کا پتا چلا ہے جہاں مریم میم کے ملنے کے چانسز ہیں ہم وہیں پر ریڈ کی تیاری کر رہے ہیں سوچا پہلے اپکو انفارم کر روں”

“اوکے میں بھی چلوں گا ساتھ”۔

“نو سر وہاں خطرہ ہو سکتا ہے آپکا جانا ٹھیک نہیں ہے میں اپکو سب تفصیل بتاتا رہوں گا”انسپکٹر ادب سے بولا۔

“اوکے مجھے اپڈیٹ دیتے رہنا”۔

“اوکے سر” یہ کہ کے فون بند ہو گیا۔

یا اللہ بس مریم وہاں صحیح سلامت مل جائے”آیان کے دل سے آواز آئی۔

جب تم کو میری یاد آیا کرۓ گئی

تو ان تاروں کو دیکھ لیا کرنا

ان تاروں کے ساۓتلے تم ہوا کروں گۓ

اور تاروں کے ساۓتلے میں ہوا کروں گئی

مریم ہوش میں آچکی تھی اور مندی مندی اکھیوں سے اس نئی جگہ کو دیکھ رہی تھی تب ہی جانسن اندر داخل ہوا۔مرہم بولنے کی کوشش کرنے لگ گئی جانسن مریم کے قریب آیا اور مریم کے منہ سے ٹیپ ہٹا دی۔

“پانی” مریم اتنا ہی بول سکی۔جانسن پانی کے کر آیا اور مریم کو پلا دیا۔اسکے بعد اسکے منہ پر ٹیپ لگاتا کمرے سے باہر نکل گیا۔

“بابا”مریم کے دل میں درد اٹھا۔

“بابا آ کر بچا لیں مجھے ورنہ میں مر جاؤں گی دیکھیں آیان بھی نہیں آۓ ماما بھی نہیں سب مجھے بھول گئے ہیں لیکن مجھے پتہ ہے آپ اپنی پرنسز کو نہیں بھول سکتے بابا مجھے بچا لیں مجھے اپنے مضبوط بازوؤں میں چھپا لیں بابا بابا پلیز۔۔۔۔”وہ نڈھال سی بولی اور سسک سسک کے رونے لگی دو دن سے بھوکا رہ کر اسکی حالت خراب ہو رہی تھی اس سے سانس لینا مشکل ہو رہا تھا موت اسکو اپنے بہت قریب لگ رہی تھی اس نے آنکھیں موند لیں۔۔۔۔

میری کہانی کے اختتام سے زرا پہل

اے مصنف! اک بار سہی، اسے میرا لکھنا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *