Koyel Anghothi Chor by Uzma Mujahid NovelR50611

Koyel Anghothi Chor by Uzma Mujahid NovelR50611 Last updated: 5 April 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Koyel Anghothi Chor by Uzma Mujahid

نوفل نے جیسے ہی آئی۔پیڈ آن کیا ڈرائنگ روم کا منظر واضع ہوا تھا جہاں پہ کوئل سیاہ رنگ کا لباس پہنے سامنے تھی اور اسی دن والی عورت اس پہ چیختی چلاتی نظر آرہیں تھیں نوفل کچھ بھی سن نہیں سکا تھا کیونکہ حمزہ جب ڈئیوائیس انسرٹ کررہا تھا وہ وائس ریکارڈر آن کرنا بھول گیا اسے رہ رہ کے اس پہ غصہ آرہا تھا وہ جانتا تھا یہ ان پروفیشنل حرکتیں ہیں مگر شاید وہ پہلی لڑکی تھی جس کی ذات میں وہ دلچسپی لے رہا تھا تھا تبھی وہ چونکا جب سامنے اک اور خاتون نے اسے تھپڑ لگایا تھا اور وہ چپ چاپ سب سہہ رہی تھی وہ جو اسے کوئی افلاطون لڑکی سمجھے بیٹھا تھا بزدلی سے مار کھاتے حیران ہوا پھر وہی سیاہ ڈائری اسکے سامنے لہرائی گئی اور وہ اسے لیتی اوپر کی طرف بڑھ گئی شاید اسکا کمرہ ہی اوپر تھا نوفل نے ٹھنڈی سانس بھرتے سکرین آف کردی اسکے دماغ میں ان گنت سوال ابھر رہے تھے بیشک اس لڑکی کی خوبصورتی ایسی تھی جو مقابل کو زیر کرنے کی طاقت رکھتی تھی مگر آج کی رنگین دنیا میں بھی اسکا سیاہ لبادہ اسے اس میسٹری کی سمجھ نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ۔پھر سے حبہ خاتون کے سر ہوا تھا وہ اسکی کی ضد پہ پریشان ہو اٹھیں ٹھیک ہے میں جاؤنگی مگر مجھ اس اتاؤلے پن کی وجہ بتا دو نوفل تم جس لڑکی کو جانتے نہیں پہلی نظر میں اسے ساری زندگی کیلئے کیسے چن سکتے ہو شادی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ حبہ خاتون کی بات پہ وہ تھوڑا سراسیمہ انداز میں سر کھجانے لگا پھر سے ہوا مما اس گھر کو بھی تو اک عورت کی ضرورت ہے نا حمزہ اور منہہ کو اک ماں کی اور وہ لڑکی منہہ سے کافی اٹیچ بھی مجھے اندر سے فیلنگز آرہی ہیں کہ وہ ان کیلئے اک بہت اچھی ماں ثابت ہوگی(جبکہ خدا جانتا تھا کہ وہ اپنی ماں قائل کرنے کیلئے کیسے جھوٹ بول رہا تھا اسے منہ پھٹ کوئل کہیں سے بھی نا اس گھر کیلئے پرفیکٹ لگی تھی نا منہہ اور حمزہ کیلئے) حبہ خاتون نے شک بھری نگاہ اس پہ ڈالی وہ گڑبڑایا لاحولہ مما میں آپکو ایسا لگتا ہوں۔۔۔۔
لگتے تو نہیں مگر اب حرکتیں ہی ایسی ہیں تمہاری حبہ خاتون کا نروٹھا انداز وہ بخوبی سمجھ رہا تھا چھوٹے بابا منہہ کی آواز پہ دونوں اسکی طرف متوجہ ہوئے جو سر کو پکڑے اسکی طرف آرہی تھی یقیناً اسکا سر کا زخم دکھ رہا ہوگا۔۔۔۔
حمزہ اور منہہ جب کوئل ٹیچر سے مل کے واپس آئے اسی دن وہ کھیلتے ہوئے سٹئیرز سے گر کے زخمی ہوگئی تھی روتی ہوئی منہہ کو بہلانے کیلئے نوفل نے حمزہ کو کہا اسکی فیورٹ ٹیچر کو انفارم کرے کیا پتا وہ اسکی محبت میں چلی آئی جبکہ حمزہ کی ادھوری بات سن کے منہہ سٹئیرز سے گری ہے کوئل اپنے جرم میں اک اور اضافہ کرچکی تھی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *