Kesa Hai Ye Rishta by Shiza Syed NovelR50545 Kesa Hai Ye Rishta (Last Episode)
Rate this Novel
Kesa Hai Ye Rishta (Last Episode)
Kesa Hai Ye Rishta by Shiza Syed
ملک جی ملک جی وہ نیلم بی بی ۔ملک کبیر کا وفادار نوکر جو ھر وقت اسکے ساتھ رہتا ھے ملک کبیر جو فون پے کسی سے بات کر رہا تھا اسکی بات سن کے فون بند کر کے بولا
کیا ہوا کیوں اتنا شوہر کر رہے ہو اسکے مالک نے پوچھا۔۔
مالک جو وہ چھوٹی بی بی آٸی ھیں ۔وہ تھرتھراتے ہوۓ بولا
چھوٹی بی بی تو تم نیلم کو کہتے ہو نہ وہ کہنے لگا
جی مالک وہی آٸی ہیں وہ بولا
کیا کہ رہے ہو وہ یہاں مالک بولا
جی مالک جی وہ اور علی صاحب بھی آٸیں ہیں نوکر نے کہا
اچھا وہ گھٹیا بھی ساتھ آیا ھے میں نہیں چھوڑوں گا اسے۔مالک پسٹل نکالنے لگا
مالک جی چھوڑ دیں ان دونوں کو معاف کر دیں نوکر نے کہا
تم چپ رہو اور ھٹو یہاں سے ۔مالک نےاسے پیچھے دھیکیلتے ہوۓ کہا اور خود باہر چلا گیا
نیچے اسکی بیوی بیٹی نیلم علی اور رمنہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے
کبیر کو اسے ھاتھ میں پسٹل لے کر آتے دیکھ کےوہ سب ڈر گۓ
تو نیلم فورا باپ کےپاٶں پڑھ گیی
پلیز بابا جانی ھمیں معاف کر دیں میں ان سے بہت پیار کرتی ہوں مجھے یہ زبردستی لے کر نہیں گۓ میں اپنی مرضی سے انکے ساتھ بھاگی ہوں وہ پاٶں پڑتے ہی کہنے لگی تب ۔اسکے باپ نے بیٹی کو اٹھایا اور زور دار تھپڑ اسکے منہ پے مارا سب حیران و پریشان ایک دوسرے کو دیکھنے لگے
مجھے تم سے زیادہ اپنی عزت پیاری ھے اپنی عزت کے لیےمیں تمیں بھی قربان کر دوں گا ھٹو یہ کہ کر اس نے بیٹی کو دھکا دیا
اور پسٹل کا رخ علی کی طرف کر دیا پلیز بابا ایسا نہ کریں وہ رو کے کہنے لگی اسکی بیوی بھی اپنے شوہر سے انتجإ کرنے لگی ۔۔مگر کبیر دورانی نے پسٹل کا رخ پھر سے سیدھا کر کے علی کی طرف کیا اور پسٹل چلا دی تبھی نیلم اور اسکی ماں کی چیخیں نکلی ساتھ ۔انکی چیخیں سن کے اوپر روم میں سویا سمیر بھی نیچھے آگیا ۔۔اس وقت شام کے چار بج رہے تھے سمیر تھکا ہوا تھا روم میں جا کے سو گیا تھا
چیخوں کے ساتھ ساتھ گولی چلنے کی آواز بھی سمیر کے کانوں میں پڑی تبھی وہ فورا نیچے آیا تو کیا دیکھا ۔رمنہ خون سے لت پت اپنے بھاٸی کی گود میں پڑی ھے جب کہ اسکی ممی رمنہ کو آوازیں دے رہی تھی
سمیر وہی بت بنا کھڑا رہ گیا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کیا کرے تبھی اسکی ممی نے کہا سمیر بیٹا رمنہ کو ھوسپٹل لے جاٶ جلدی
سمیر تبھی ہوش میں آیا رمنہ کی طرف بڑھ ہی رہا تھا کہ کبیر دورانی کی گرج دار آواز پے رک گیاظہار
رک جاٶ خبر دار جو اس دو ٹکے کی لڑکی کو ہوسپٹل لے جانے کا سوچابھی ورنہ یہاں اور بھی لاشیں گریں گی ۔کبیر دورانی نے کہا
سمیر کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کرے
تبھی اسکی ممی نے کہا سمیر ھم سب کی فکر نہ کرو ان دونوں کی فکر کرو ان دونوں کی جان بچاٶ تمیں اپنی ماں کی قسم ۔۔اسکی ماں انتجإ کرنے لگی ۔۔۔
دونوں?… سمیر نے نہ سمجھتے ہوۓ پوچھا
رمنہ تمارے بچےکی ماں بننےوالی ھے ماں نے کہا تبھی سمیر کو جھٹکا لگا ۔۔
کیا سوچ رہے ہو جلدی کرو ممی بولی
یہ سمیر کا نہیں کسی اور کا بچہ ھے بد چلن ھے یہ لڑکی ۔کبیر دورانی نے کہا
میرا بیٹا تو اس سے نفرت کرتا ھے پھر یہ بچہ سمیر کا کیسے ہوا ۔۔بدچلن ھے یہ لڑکی ۔اسکا کام ہی تمام کر دیتا ہوں میں ۔کبیر دورانی نے کہا
پہلے آپ میرا کام تمام کریں بابا ۔۔۔سمیر نے کہا تبھی کبیر دورانی حیرت سے بیٹے کو دیکھنے لگا۔۔۔
تبھی سمیر رمنہ کی طرف بڑھا جو مشکل سے چند سانسیں لے رہی تھی سمیر نے اسے اپنے ھاتھوں میں اٹھایا علی کے کپڑے خون سے بھر چکے تھے
۔۔ سمیر نے رمنہ کو ایک نظر دیکھا تبھی رمنہ نے کہا پلیز میرے بھاٸی اور بھابھی کو کچھ نہ ہونے دینا وعدہ کریں آپ انکو کچھ نہیں ہونے دیں گے ۔۔
کچھ نہیں ہو گا تمیں کچھ نہیں ہو گا ان دونوں کو سمیر نے کہا۔۔۔
وعدہ کریں رمنہ نے اپنا خون سے بھرا ھاتھ اسکی طرف بڑھا کے کہا
تبھی سمیر نے اسکا ھاتھ پکڑ کے کہا
میں وعدہ کرتا ہوں ان دونوں کو کچھ نہیں ہونے دوں گا ۔سمیر کے ھاتھ بھی خون سے بھر چکے تھے
تبھی رمنہ کی آخری اٹکی ہوٸی سانس کو بھی چھٹکارا مل گیا اس نے لمبی سانس لی اور پھر اپنی آنکھیں بند کر لی ۔۔۔![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
ابھی تو کچھ اظہار باقی تھا
کرنا تمیں اے صنم پٕیار باقی تھا
تم نے ابھی سے ہی ساتھ چھوڑ دیا
ابھی تو کرنا اقرار باقی تھا
خفا ہو کے اس نے آنکھیں ہی موند لی
ابھی تو صدیوں کا انتظار باقی تھا
آج اسے یوں دور جاتے دیکھ کے خیال آیا
سب تھا پاس مگر میرا نہ یار باقی تھا
رمنہ کی روح پرواز کر چکی تھی ساتھ میں ایک ننھی سی جان بھی دنیا میں آنے سے پہلے دم توڑ چکی تھی
۔۔علی اور نیلم واپس شہر جا چکے تھے کبیر دورانی کو اسکی کیے کی سزا مل چکی تھی ایک حادثے میں اسکی جان چلی گٸ
سمیر اب تک خود کو رمنہ کی موت کا زمہدار سمھجتا تھا اور کہں وجویات پے یہ سچ بھی ھے کیونکہ اس نے شروع سے ان رویات کی خلاف ورزی کی ہوتی باپ کے سامنے کھڑا ہو جاتا یا رمنہ سے شادی نہ کرتا یا پھر شادی کے بعد اسے اپنی بیوی تسلیم کرتا تو شاہد یہ سب نہ ہوتا
سمیر نے ممی کے ھزار کہنے پے بھی شادی نہیں کی وہ آج بھی رمنہ کی یادوں کے سہارے جی رہا تھا دوسری طرف وہ وجود جو دنیا میں آیا ہی تھا اسکے نہ ہونے کا احساس بھی سمیر کو خود کے ادھورہ ہونے کا احساس دلاتا تھا
وہ روز شام کو رمنہ کی قبر میں جا کے دیر تک اس سے باتیں کرتا تھا ۔۔
اپنی باپ کی ساری زمین اور جاٸیداد اس نے بیچ کے گاٶں میں سکول اور ھوسپٹل بنا لیے اور باقی زمینیں غریبوں کو دے دی خود اپنی حویلی بیچ کر ایک چھوٹے سے گھر میں وہ اور اسکی ممی رہنے لگے تھے علی اور نیلم واپس اپنے گھر آچکے تھے ۔سمیر کی لاٸف میں رمنہ کی کمی تھی جو ساری زندگی رہنی تھی
