Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kesa Hai Ye Rishta by Shiza Syed

ھاۓ ٹھنڈ پے گٸ جوس پی کے ۔رمنہ نے جوس کا گلاس خالی کرتے ہوۓ کہا
کھانے میں کیا بن رہا ھے آج رمنہ پوچھنے لگی
کڑی پکوڑے قیمہ مٹر ۔پنیر آلو پالک بواٸل چاول دال مسور ۔سری پأۓ لسی مکھن دیسی گھی کے پراٹھے ۔نوکرانی نے ایک ہی سانس میں بتایا
اف اتنا کچھ ایک ہی وقت میں سب کیسے کھا لیتے ہیں رمنہ نے پوچھا اسکی ساس اوپر سے آٸی وہ رمنہ کی بات سن کے ھنس کے بولی ھمارے یہاں ایسے ہی ہوتا ھے
اتنا سب کب کون کھاتا ہے چھوٹی بی بی تھوڑی تھوڑی چیزیں سب کھاتے ہیں نوکرانی نے بتایا
پہلی بات میں چھوٹی بی بی نہیں چھوٹی میم صاحبہ بولا کرو مجھے
ساسوں ممی ھمارے گھر تو ایک وقت میں ایک ھانڈی بنتی ھے وہ ھم دو ٹاھم کھاتے ہیں اور کبھی کبھی تو تیسرے ٹاھم بھی کھا لیتے ہیں رمنہ نے کہا
وہ تمارا فقیر خانہ ھے یہ ھماری حویلی ھے کیچن میں قدم رکھتے ہوۓ سمیر نے کہا
ویسے اس فقیر خانے کے داماد ہیں آپ بھی ۔ سمیر دورانی رمنہ نے کہا تو سمیر نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا اور کہا
یہ بدتمیزی یہاں نہیں چلے گٸ یہاں کی عورتیں اپنے شوہر کا نام نہیں لیتی سمیر نے فریج سے کھیرا نکالتے ہوۓ اسکی طرف دیکھ کر کہا
اچھا جی پھر کیا کہتی ہیں یہاں کی عورتیں اپنے شوہر کو ۔رمنہ نےسمیر سے کھیرا لے کے اسے دھو کر کھانے لگی تو سمیر کو حیرت ہوٸی
بتاٸیں نہ کیا کیتی ہیں یہاں کی عورتیں اپنے شوہر کو وہ بچا ہوا کھیرا سمیر کے ھاتھ میں دیتے ہوۓ بولی
اس سوال کا جواب تمیں یہاں کی نوکرانیاں دیں گی سمیر نے اسکا دیا کھیرا کچرے کے ڈبے میں پھینکتے ہوۓ کہا
کیوں میری شادی کیا انکے ساتھ ہوٸی ھے جو یہ بتاٸیں رمنہ نے کہا
دیکھو تمیں پہلے بھی یہ بات بتاٸی جا چکی ھے اور اب میں پھر بتا رہا ہوں یہاں صرف مردوں کی آواز گھونجتی ھے عورتیں صرف سنتی اور سر جھکاتی ہیں سمیر نے کہا
مگر یہاں اب سے میری آواز بھی گھونجے گی سمیر دورانی ۔وہ بولی
اپنا نام دوبارہ اسکے منہ سے سن کے اسے غصہ آیا
ایک بات مت بھولنا تم سے شادی میں نے اپنی خوشی سے نہیں مجبوری کی ھے سمیر نے اسے کہا
ھاں جیسے میں نے تو آپ کے گھر کے چکر کاٹے تھے پلیز مجھ سے شادی کر لو میں آپ کے لیے مری جا رہی ہوں مسٹر سمییییییییر دووووووورانی ۔رمنہ نے اسکےنام کو لمبا کر کے کہا تو وہاں کھڑی نوکرانیاں اور اسکی ساسوں ماں بھی ھنس دی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *