Kesa Hai Ye Rishta by Shiza Syed NovelR50545 Kesa Hai Ye Rishta (Episode 07)
Rate this Novel
Kesa Hai Ye Rishta (Episode 07)
Kesa Hai Ye Rishta by Shiza Syed
رمنہ کوسمجھ آرہی تھی کہ سمیر کے دل میں رمنہ کی جگہ تو ھے مگر وہ اپنے بابا کی وجہ سے مجبور ھے
مگر اس نےبھی عہد کر لیا تھا کہ سمیر کوبھی احساس دلا کے رہے گی کہ اسکی بہن اور اسکے بھاٸی علی نے جو بھی کیا دونوں نے اپنی خوشی سے کیا اور وہ بالغ ہیں اپنی مرضی سے سب کر سکتے ہیں اور اس بات کا احساس وہ اپنے سسر کبیر کو بھی دلا کے رہے گی
یہی سوچ کے وہ اپنے سسر کے روم میں گٸ ان سے بات کرنے تب وہ فون میں کسی سے کہ رہے تھے
مجھےعلی زندہ یا مردہ ھر حال میں چاہیے اور اگر زندہ مل جاۓ تو میں خود سبکے سامنےاسے تڑپا کے ماروں گا یہ کہ کر فون بند ہو گیا
سسرنے فون رکھ کے پیچھے دیکھا تو بنا ڈرے کہا تم کیوں آٸی ہو یہاں
وہ میں رمنہ یہ کہ رہی تھی کہ سسر نے بات کاٹ کےکہا
چلو تم آ گٸ تو سن بھی لیا ہو گا کہ میں تمارے بھاٸی کے ساتھ کیا کرنے والا ہوں سسر نے کہا
آپ کیوں نہیں سمجھتے کہ وہ دونوں اپنی زندگی میں خوش ہیں انکو خوش رہنے دیں وہ بولی
تم سے یہ نہیں کہا تم ھمیں باتیں سناٶ اور ھاں اگر تمارا بھاٸی تین دن تک نہ آیا میری بیٹی کو لے کر تو تمارے ماں باپ کا وہ حشر کروں گا کہ زندگی بھر یاد رکھے گا تمارا بھاٸی اور تم ۔سسر نے دھمکی دے کر کہا
مانا آپ اس گاٶں کے بڑے زمیندار ھیں مگر اسکا یہ مطلب نہیں کہ سب کی زندگی کا فیصلہ آپ کریں سبکو اپنی مرضی سے جینے دیں کیوں سبکو اپنا غلام سمجھتے ہیں آپ رمنہ بنا ڈرے بولی
اے لڑکی اپنی حد میں رہو مجھ سے بدتمیزی کرنے کے انجام سے ابھی تک واقف نہیں ہو تم ۔سسرنے چیختے ہوۓ کہا
میں کسی بھی انجام سے نہیں ڈرتی ۔ڈرنا تو آپ کو چاہیے انکل ۔آپ جو کر رہے اب غلط کر رہے ہیں ھم سب جیتے جاگتے انسان ہیں جو زمین پے رینگنے والے کیڑے نہیں جو آپ جب چاہیے پاٶں تلے روند دیں نہ آپ کے غلام ہیں ۔رمنہ نے کہا
بکواس بندکرو اپنی اوقات سے زیادہ بول رہی ہو اسکا انجام بہت برا ہو گا ۔کبیر بہت غصے سےبولا
میری اوقات پہلے جو تھی وہ تھی مگر اب میں اس حویلی کی عزت ہوں اب میری بھی وہی اوقات ہے جو آپ کی ھے سسر جی یہ کہ کر وہ دروازہ کی اوٹ پار کر کے چلی گٸ
کبیر کا غصے سے برا حال تھا ۔تمارا علاج کرتا ہوں میں بلکہ سمیر سے کرواتا ہوں یہ کہ کر سسر نے فون ملا دیا






تماری بہت زبان چلنے لگی ہے اسے قابو میں رکھو ورنہ مجھے ایسی چلتی زبان کاٹنے بھی آتی ھے سمیر نے کیچن میں داخل ہوتے ہی کہا
میں نے کیا کیا وہ انجان بن کے بولی
تم جان کے انجان بن رہی ہو یا واقعی اس بات سےانجان ہو جس وجہ سے میں کہ رہا ہوں سمیر نے کہا
اب مجھے کوٸی خواب تو نہیں آیا کہ آپ یہ سب کیوں کہ رہے ہیں وہ پھر سے انجان ہو کے بولی
زیادہ سمارٹ بننے کی ضرورت نہیں ھے تمیں اچھے سے پتہ ھے میں کیاکہ رہا ہوں ۔سمیر کو پتہ تھا اسےسب پتہ ھے وہ جان کے انجان بن رہی ھےاس لیے کہنے لگا
سمارٹ بننےکی کیاضرورت ھے میں ہوں ہی سمارٹ آپ کی طرح موٹی نہیں ہوں نہ ہی میری ناک آپکی طرح ھے ۔۔رمنہ نے کہا
کیا مطلب میری ناک….
کیاہوا میری ناک کو ۔۔۔انسانوں جیسی نہیں ھے کیا ۔تمارا مطلب کیا ھے۔سمیر تپ چکا تھا اسلیے اسکے پاس جا کے کھڑا ھوگیا اسے بازو سے پکڑ کے اپنی طرف موڑ کے بولا
کو کچھ نہیں میں بس ویسے ہی کہ رہی ہوں ۔رمنہ نے اسکی طرف دیکھے بنا کہا
میری طرف دیکھ کے میرے سوال کا جواب دو ۔سمیر اصرار کرنے لگا
ارے میں تو بس مزاق کر رہی ہوں رمنہ نے بات کو ٹال کے کہا
جوبھی ہو آجکے بعد بابا سے بات کرتے ہوۓ تمیز کے داٸرے میں رہنا مجھے بدتمیزی بلکل نہں پسند۔۔سمیر نے کہا
میں نے نہ بدتمیزی کی اور کبھی کرتی ہوں میں بس سچ بات کہنے کی عادی ہوں رمنہ نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کے کہا
تم کتنی تمیز والی ہوں یہ میں بہت اچھے سے جانتا ہوں مس رمنہ ۔۔سمیر نے طنز کرتے ہوۓ کہا
ھاۓ مس رمنہ کتنا اچھا لگا آپکے منہ سے یہ سب ۔رمنہ نے کہا
سمیر اسکی بات نظرانداز کرتے ہوۓ بولا جو کہا اس پے عمل کرنا ۔یہ کہ کر وہ چلا گیا
جو کہا اس پے عمل کرنا رمنہ نے منہ بنا کے اسکی نقل اتارتے ہوۓ کہا اکڑو کہں کا پتہ نہیں خود کو سمجھتا کیا ھے وہ غصے سے پاٶں زمین پے مار کے باہر نکل گٸ







کیا ہوا رمنہ کیوں اتنے غصے میں ہو پھر سے کچھ ہوا ھے کیا سمیر نے کچھ کہا ھے کہا وہ باہر آکے صوفے پے بیٹھی اور ریموٹ لے کے ٹی وی کے بٹن چینج کرنے لگی تب اسکی ساس نے اسے دیکھ کے کہا
سمیر وہ مجھے کیا کہیں گے وہ بہت اچھے نیک اور شریف ہیں وہ بھلا مجھے کچھ کہ سکتے ہیں توبہ کریں ساسوں ممی ۔انکی مجال ۔رمنہ نے بنا نظریں ھٹاۓ ساس کو جواب دیا
تو اسکی جلی کٹی بات سن کے ساس کو ھنسی تو آٸی مگر ساس نے ھنسی روک لی
اور کہا مطلب اس نے کچھ کہا ھے ۔کیا کہا ھے اس نے ایسا جو میری بہو اتنے غصے میں ھے ۔۔
کچھ نہیں کہا وہ منہ بنا کے بولی
کچھ تو ہوا ھے ورنہ میری بہو کے چہرے پے ایسے ہی گیارہ نہں بج رہے اب بتاٶ کیا ہوا ہواھے ساس نے اسکے پاس جا کے کہا۔۔
اس نے رات والی بات ساس کو بتا دی جو سسر اور اسکے درمیان ہوٸی اور پھر سمیر نے جو کہا وہ بھی ساری بات بتادی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا تم پریشان نہ ہو اپنا خون نہ جلاٶ میں کان کھینچتی ہوں سمیر کے ۔ساس نے رمنہ کے سر پے ھاتھ رکھ کے کہا
ہاں ہاں آپ انکے کان کھنیچے پھر رات کو وہ میرے کان کھینچیں رمنہ منہ بنا کے بولی
کیوں کان کھینچیں گا میں پیار سے سمجھاٶں گی ساس نے کہا
آپ سمجتی ہیں آپ پیار سے سمجھاٸیں گی تو وہ مان جاۓ گے ۔رمنہ نے کہا
ہاں میری ھر بات مانتا ھے وہ ساس نے کہا
چلو دیکھ لیتے ہیں رمنہ نے کہا
اب اپنا موڈ سعی کرو ساس نے کہا
میرا موڈ سعی ھے رمنہ نے کہا
پکی بات ھے ساس نے پوچھا
رمنہ نے مثبت میں سر ھلا دیا اور دوبارہ ٹی وی کی طرف مخاطب ہو گٸ









علی کیا ہوا کیوں پریشان ہو ۔نیلم نے علی کو پریشان دیکھ کے پوچھا
ممی بتا رہی تھی کہ تمارے بابا کا رویہ رمنہ نے بہت برا ھے وہ اسے ممی کے گھر بھی آنے نہیں دیتے میں سوچ رہا ہوں کہ ھم واپس چلتے ہیں سب سے معافی مانگ لیتے ہیں ۔علی نے کہا
اور آپ کے خیال میں وہ ھمیں معاف کر دیں گے وہ بولی
کیسے بھی کر کے ھم انکو منا لیں گے علی نے کہا
ٹھیک ھے اگر اسی میں آپ کی خوشی ھے تو ھم واپس چلتے ہیں نیلم نے کہا
