Kesa Hai Ye Rishta by Shiza Syed NovelR50545 Kesa Hai Ye Rishta (Episode 04)
Rate this Novel
Kesa Hai Ye Rishta (Episode 04)
Kesa Hai Ye Rishta by Shiza Syed
کیا ہوا سارہ کیوں اتنی پریشان لگ رہی ہو تماری طبیعت تو ٹھیک ھے علی نے اپنی بہن کو یوں چپ دیکھ کر پوچھا
کچھ نہیں بھاٸی بس ویسے ہی ۔سارہ نےٹالتے ہوۓ کہا مگر وہ اسکا بھاٸی تھا جو ایک بات کے پیچھے پڑھ جاۓ تو پتہ کروا کے رہتا ھے
مجھے جھوٹ نہں سننا علی نے کہا
بھاٸی آپ ایک بار رمنہ سے مل لیں ۔سارہ نے کہا
میں اس سے کیسے مل لوں وہ مجھ سے ملنا ہی نہیں چاہتی علی نے کہا
کیوں ملنا نہیں چاہتی وہ تو آپ سے پیار کرتی ھے نہ سارہ نے کہا
کرتی تھی اب اسکی شادی سمیر دورانی سے ہو چکی ھے اور تم اچھے سے جانتی ہو وہ لوگ کیسے ہیں عزت کی خاطر قتل کر دیتے ہیں اور ویسے بھی رمنہ نے مجھے ملنے سے منع کر دیا ھے کہتی ھے کہ میں اسے بھول جاٶں علی نے صاف صاف بات بتا دی سارہ کے پاس کوٸی جواب نہ تھا وہ چپ ہی رہی













رات کے کھانے میں رمنہ نہیں آٸی اسکی ساس کو فکر ہونے لگی مگر وہ بول سکتی تھی اور نہ اٹھ کے اسکے روم میں جا سکتی تھی ساس نےبھی سعی کھانا نہ کھایا
سمیر اٹھ کے اپنے روم میں گیا
جب وہ روم میں گیا تو رمنہ وہی زمین پے گھٹنوں کے بل بیٹھی تھی سمیر کے روم میں داخل ہوتے ہی سمیر کی نظر اس پے پڑھ گٸ
اس نے بنا رمنہ کو دیکھے کہا
کھانا کھا لو جا کے ۔مگر رمنہ نے جواب نہیں دیا
میں تم سے کہ رہا ہوں جا کے کھانا کھا لو ممی بلا رہی ھے سمیر دوسری بار بھی نرمی سے بولا مگر دوسری طرف مکمل خاموشی پا کے اب کی بار سمیر کے نرم لہجے میں تھوڑی کرواٹ آٸی
تمیں سمجھ نہیں آرہی میں کیا کہ رہا ہوں بہری ہو گٸ ہو کیا سمیر اب غصے سے بولا مگر اب کی بار بھی خاموشی تھی
سمیر نے رمنہ کے قریب جا کےاسے بازو سے پکڑ کے ایک بار پھر سے کہا
سناٸی نہیں دے رہا کیا میں اتنی دیر سے کیا بکواس کر رہا ہوں
تب جا کے رمنہ کے کانوں میں سمیر کی آواز پڑھی یا یوں بھی کہ سکتے ہیں آواز تو وہ پہلی بار میں ہی سن چکی تھی بس جان بوجھ کے چپ تھی
سمیر کے جھنجوڑنے پے رمنہ اسکی طرف دیکھنے لگی
کھانا کھا لو جا کے سمیر نے اسکا ھاتھ چھوڑتے ہوۓ کہا
نہیں کھانا مجھے کھانا رمنہ نے کہا
مجھے انکار سننے کی عادت بلکل نہیں ھے ھو کہا اس پے فورا عمل کرو سمیر یہ کہتے ہوۓ بیڈ کی طرف بڑھ گیا
اور میں اپنی مرضی کی مالک ہوں وہی کرتی ہوں جو میرا دل کہتا ھے کسی کے حکم کی پابند نہں اور نہ کسی کی غلام ہوں میں ۔رمنہ نے بنا سوچے جواب دے دیا
سمیر نے اپنی گھڑی اتارتے ہوۓ اسکیطرف پلٹ کر دیکھا جب کہ رمنہ دوسری طرف دیکھ رہی تھی
تمیں کسی نے تمیز نہیں سکھاٸی سمیرنے کہا
تمیز تو سیکھاٸی گٸ تھی مگر اس گھر میں آ کے سب بھول گٸ رمنہ نے ٹکہ سا جواب دیا
مجھے فضول میں تم سے کوٸی بعث نہیں کرنی جا کے کھانا کھاٶ یہ کہ کر سمیر بیڈ پے لیٹ گیا فون نکال کے اس پے گیم کھیلنے لگا
رمنہ خاموشی سی اٹھی صوفے پے آکے لیٹ گٸ لیٹتے ہی اسکی آنکھ لگ گٸ سمیر بھی نیند کی وادی میں کھو چکا تھا
رات کے دو بج رہے تھے رمنہ ایک زور دار چیخ کے ساتھ اٹھ گٸ سمیر بھی جاگ چکا تھا ھاتھ بڑھا کے اس نے روم کی لاٸٹ اون کی ۔رمنہ صوفے پے سے تیزی سے اٹھی بھاگ کے سمیر گلے جا لگی
سمیر اسکی اس حرکت سے حیران ہوا اور چونکا
وہ وہ کاکروج ۔رمنہ تیزی سے کہنے لگی
سمیر نے اسے خود سے آزاد کرنے کی کوشش کی مگر رمنہ نے سمیر کو بہت مظبوطی سے پکڑ رکھا تھا
کہاں ھے کاکروج سمیر نے اسے پھر سے خود سے دور کرتے ہوۓ کہا مگر خوف کے مارے رمنہ کی گرفت سمیر پے بہت مظبوط تھی
ویسے تو وہ بہت بہادر تھی کسی سے نہ ڈرنے والی سچاٸی کے لیے ثابت قدم رہنے والی اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے والی اور جہاں کسی دوسرے کے حق کے لیے بھی بولنا پڑھ جاۓ تو وہ بھی بولنے سے پیچھے نہیں ھٹتی تھی مگر چیکیلی فروغ کاکروج سے مکڑی سے بہت ڈرتی ۔
کاکروج ھے کوٸی سانپ یا بچھو نہیں جو ڈر لگ رہا ھے تمیں
ویسے تو بہت بہادر بنتی ہو زبان قینچی کی طرح چلتی ھے تماری رکنے کا نام ہی نہیں لیتی اب کیا ہوا سمیر اس کی اس کمزوری کا فاٸدہ اٹھا کے اسے باتیں سناۓ جا رہا تھا
ھٹو یہاں سے سمیر نے اسے خود سے الگ کرتے ہوۓ کہا مگر وہ ساتھ چپکی رہی
ھٹو گی تو میں جا کے کاکروج کو ماروں گا نہ سمیر نے کہا تو اس نے سمیر کو چھوڑا
ڈرپوک پتہ نہیں کہاں سے میری پلے پڑھ گٸ وہ دل ہی دل میں بڑبڑانے لگا
وہ کاکروج ڈھونڈنے لگا مگر کہیں نہ ملا
کہاں ہے کاکروج ہاں یہاں کہیں ھے ویسے تمیں وہم ہوا ہوگا سمیر نے روم کے چاروں طرف نظر ڈالتے ہوۓ کہا
ہے نہ آپ اچھے سے دیکھیں وہ بولیا
کہا نہ نہیں ھے سمیر نے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ کہا تو اسکی نظر رمنہ کے شولڈر پے پڑی
ھاں سعی کہ رہی ہو کاکروج تو واقعی ھے مگر یہاں نہیں تمارے شولڈر پے ۔سمیر نے کہا تو رمنہ وہی بیڈ پے کودنے لگی
بچاٶ بچاٶ کہتے ہوۓ اسکا پاٶں بیڈ کے کونر سے نیچے آنے کو تھا وہ گرنے لگی تھی سمیر نے اسے پکڑ لیا وہ سمیر کے بازو سے جھولنے لگی کاکروج شولڈر سے ھٹ کے اوپر فین پے جا بیٹھا تھا رمنہ سمیر کے بازو سے ھٹ کے اس کے گلے جا لگی کہاں ھے کاکروج کہاں ھے اس نے سمیر کو دونوں طرف سے پکڑ رکھا تھا
نہیں ھے کاکروج یہاں وہ اوپر ھے تم ہٹو میں مارتا ہوں اسے سمیر نے اسے یوں اتنا ڈرے دیکھ کے نرم لہجے میں کہا تو وہ پیچھے ہو گٸ سمیر بیڈ کے اوپر چڑھا پھر اسے کچھ خیال آیا اس نے رمنہ سے کہا فین اون کرو
کیونکہ انکے روم میں اے سی اون تھا تب فین کی ضرورت نہیں تھی رمنہ نے فین اون کیا فین کے چلتے ہی کاکروج اڑ کے دیوار پے جا بیٹھا سمیر نے اسے پاس پڑی رمنہ کی چپل سے مار دیا تب جا کے رمنہ کی سانس میں سانس آٸی
اب سو جاٶ جا کے سمیر نے واش روم جاتے ہوۓ کہا
وہ ھاتھ دھو کے واپس آیا تو رمنہ وہی کھڑی تھی
اب رات یہی کھڑے کھڑے گزارنی ھے کیا وہ ٹاول سے ھاتھ صاف کرتے ہوۓ بولا
وہ میں بھی بیڈ پے سو جاٶں وہ ڈرتے ہوۓ بولی
کیوں اب کیا سمیر اتنا کہ کر اسے دیکھنے لگا پھر بولا اچھا ٹھیک ھے سو جاٶ رمنہ کا ڈرا اور سہمہ چہرہ دیکھ کے اس نے کہا رمنہ خوش ہو گٸ
رمنہ بیڈ پے لیٹ گٸ سمیر لاٸٹ آف کرنے لگا تو رمنہ نےکہا
پلیز لاٸٹ لگی رہے سمیر چپ کر کے لیٹ گیا
رمنہ لیٹ گٸ اسکا مطلب ھے سمیر صاحب دل کے برے نہیں ہیں بس اپنی بہن کی وجہ سے ایسے ہو گۓ ہیں مطلب انکے دل میں پیار کی شمع جلانا کوٸی مشکل نہیں رمنہ سمیر کو دیکھتے ہوۓ دل میں سوچنے لگی
اب ایسے کیا دیکھ رہی ہو کہیں میرے چہرےپے کاکروج تو نہں آگیا سمیر نے خود پے رمنہ کی نظریں جمے دیکھ کے کہا
نہیں نہیں ایسے ہی دیکھ رہی رمنہ نے یہ کہ کر منہ دوسری طرف کر لیا
میں آپ کے دل میں اپنے لیے پیار ڈال کے ہی رہوں گی اب سمیر دورانی ۔رمنہ نے دل میں عہد کر لیا
![]()
جگا کے رہیں گے تیرے دل میں ھم شمع پیار کی
![]()
خرید لیں گے ایک دن تجھی سے تجھے ھم
بات سنیں ۔رمنہ نے دھمے سے کہا
ھوں ۔سمیر نے بنا دیکھے کہا
وہ کاکروج پھر سے تو نہیں آجاۓ گا رمنہ نے کہا
آجاۓ گا کیوں میں نے اسے تمارے کہنے پے جو مارا ھے اب اسکا بھوت آۓ گا تمیں ڈرانے سمیر نے رمنہ کی طرف منہ کر کے کہا
بھو بھوت ۔وہ ڈرتے ہوۓ بولی
سمیر نےاسکے صاف شفاف چہرے پے ڈر دیکھتے ہوۓ کہا مزاق کر رہا ہوں نہیں آۓ گا سو جاٶ
پلیز آپ ابھی نہ سونا پہلے میری آنکھ لگ جاۓ پھر سو جانا رمنہ نے کہا
رمنہ کی زبان کے ساتھ ساتھ آنکھوں میں بھی ریکوسٹ دیکھ کے سمیر کہنے لگا اچھا ٹھیک ھے یہ کہ کر سمیر نے اپنا فون نکالا اس میں ویڈیو دیکھنے لگا
غزل
#![]()
خوابوں سے نہ جاؤ کہ ابھی رات بہت ہے![]()
پہلو میں تم آؤ کہ ابھی رات بہت ہے![]()
جی بھر کے تمہیں دیکھ لوں تسکین ہو کچھ تو![]()
مت شمع بجھاؤ کہ ابھی رات بہت ہے![]()
کٹ جائے یوں ہی پیار کی باتوں میں ہر اک پل![]()
کچھ جاگو جگاؤ کہ ابھی رات بہت ہے![]()
تھوڑی ہی دیر تک رمنہ سوچکی تھی سمیر نےبھی فون رکھ دیا اور منہ دوسری طرف کر کے سونے لگا مگر اس کی نیند اڑ چکی تھی وہ کروٹ پے کروٹ لے رہا تھا مگر نیند نہیں آرہی تھی
کروٹ لیتے لیتے اسکی نظر رمنہ کے بازو پے پڑی جہاں سرخ نشان بہت گہرے واضع دیکھاٸی دے رہے تھے
اسے دن والا واقعہ یاد آ گیا
تم کیسے اتنے بے حس اور ظالم ہو سکتے ہو سمیر تم تو جانوروں کو بھی کبھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے تھے کوٸی بھی دوسرا جانوروں یا کسی بھی انسان کو مارتا تھا تم اسے روکتے تھے آج تم نے خود ایک عورت پے ھاتھ اٹھایا اتنی بے دردی سے اسے مارا یقین نہیں آتا تم ایسا کیسے کر سکتے ہو ۔سمیر کا ضمیر اسے ملامت کرنے لگا
اس میں اس لڑکی کا کیا قصور تماری طرح اسکی شادی بھی تو زبردستی ہوٸی ھے مگر یہ بھی تو نبا رہی ہے پھر تم ایک مرد ہو کے اتنے بزدل اور کمزور کیوں ہو ۔۔
ایک لڑکی اپنا سب کچھ چھوڑ کےماں باپ بہن بھاٸی گھر چھوڑ کے جب سسرال جاتی ھے تو اسکی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ سب کو اپنا بنا لے اور وہ بنانےکی کوشش بھی کرتی ھے مگر اس کے باوجود اسے سسرال میں سب رشتوں کا پیار اور توجہ نہ ملے تو وہ مایوس ہو جاتی ھے چھوڑ دو ضد اور بدلہ سب بھول کے اسے اپنا لو ۔اسکا ضمیر اسے سمجھا رہا تھا
اسکی نظریں مسلسل رمنہ پے جمی تھی جو سکون سے سو تو رہی تھی مگر اسکے چہرے پے ابھی بھی ڈر کے رنگ بکھرے پڑے تھے اسے اس گھر میں آۓ آج تیرواں دن تھا
اسکے ضمیر کی آواز کا اس پے اثر ہو رہا تھا تبھی وہ رمنہ کے بازو پے بنے نشان کو اپنی انگلی کے پوروں سے سہلانے لگا
یوں سہلاتے سہلاتے اسکی انگلیاں رمنہ نے بازو سے اوپر گردش کرنے لگی رمنہ کے وجود میں حرکت ہوٸی تو اس نے اپنا ھاتھ پیچھے کھینچ لیا رمنہ نے سوۓ سوۓ سمیر کی طرف کروٹ لی اور اپنا بایاں ھاتھ سمیر کے سینے پے جا رکھا اس کا منہ اب سمیر کے منہ کے ساتھ ٹچ ہو رہا تھا
رمنہ کے ھونٹ سمیر کے ھونٹوں کے بلکل قریب تھے اور اسکے بال سمیر کے چہرے کو چھوتے ہوۓ سمیر کو اکسا رہے تھے مگر سمیر نے ابھی تک کوٸی حرکت نہیں کی تھی وہ چپ ہی تھا ![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
جاری ھے
