Kesa Hai Ye Rishta by Shiza Syed NovelR50545 Kesa Hai Ye Rishta (Episode 02)
Rate this Novel
Kesa Hai Ye Rishta (Episode 02)
Kesa Hai Ye Rishta by Shiza Syed
دوسری طرف علی اور نیلم شہر میں جا بسے تھے علی وہاں ایک ادارے میں سرکاری جاب کر رہا تھا اور نیلم گھر سبھال رہی تھی دونوں اپنی چھوٹی سی دنیا میں بہت خوش تھے وہاں آس پاس کی عورتیں نیلم کے گھر آتی جاتی تھی نیلم ان میں گھل مل گٸی
انکا چھوٹا سا کرایے کا مکان تھا علی اور نیلم تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کر رہے تھے کہ اپنا ذاتی مکان لیں گے
نیلم نے ایف اے کر رکھا تھا وہ پاس ہی کسی پراٸیویٹ سکول میں جاب کرنا چاہتی تھی مگر علی اسکو اجازت نہیں دیتا تھا کیوں اسے یہ بات پسند نہ تھی کہ اسکی بیوی چند پیسوں کی خاطر باہر کے دھکے کھاۓ ویسے بھی علی کی تنخواہ اچھی تھی جس سے گزارہ ہو رہا تھا مگر نیلم جاب کرنا چاہتی تھی وہ چاہتی تھی جلدی سے جاب کرے اور پیسے جمع کر کے اپنا ذاتی مکان خرید لے تبھی اس نے علی کو منا لیا
علی سات بجے جاب پے جاتا تھا نیلم بھی گھر کے کام جلدی ختم کر کے چلی جاتی تھی سکول گھر کے پاس ہی تھا ![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
دوسری طرف سمیر اور رمنہ کی تکرار جاری تھی ایک دوسرے کو باتیں سنانا ان دونوں کی عادت بنتی جا رہی تھی آج بھی جب سب شام کی چاۓ پے بیٹھے تھے
رمنہ نے سب کے سامنے چاۓ رکھی آج معمول کے مطابق ٹیبل پے سمیر کے من پسند سموسے نہیں تھے ٹیبل پے نظر پڑتے ہی سمیر بول پڑا
سموسے دکھاٸی نہیں دے رہے ?
سموسے اس لیے دیکھاٸی نہیں دے رہے کیونکہ آج سموسے بنے ہی نہیں آج میرے من پنسد پکوڑے بنے ہیں جبکہ پکوڑے سمیر کو نا پسند تھے
جیسے ہی سمیر نے ٹرے کے اوپر سے کور ھٹایا سامنے پکوڑے
ممی یہ کیا بکواس ھے آپ کو اچھے سے پتہ ھے کہ مجھے پکوڑے نہیں پسند پھر بھی ۔سمیر نے منہ بناتے ہوۓ کہا
کوٸی بات نہیں بیٹا کبھی کبھی ناپسندیدہ چیز بھی کھانی پڑھ جاتی ہے اس کی ممی نے کہا
اور کتنی ناپسندیدہ چیزیں میری لاٸف میں آتی رہیں گی آپ کو اچھے سے پتہ ھے اس گھر میں ہر چیز میری مرضی کی آتی ھے سمیر نے یہ کہتے ہوۓ پکوڑوں کی ٹرے اٹھاٸی اسے پھیکنے لگا تھا کہ رمنہ نے اسکا ھاتھ پکڑ لیا
چیزوں کو ایسے پھیکنا غلط ہے آپ کو سب کچھ میسر ھے تبھی قدر نہیں جنکے پاس نہں ھے ان سے پوچھیں رمنہ کہنے لگی
تم ہوتی کون ہو مجھے یہ سب کہنے والی سمیر کی اب برداشت سے باہر ہوچکا تو وہ بولا
جب سے یہاں آٸی ہو اپنی مرضی چلا رہی ہوگھر کی ھر بات میں ٹانگ اڑا رہی ہو میں نے تمیں پہلے بھی کہا اب بھی کہ رہا ہوں اپنی حد میں رہو ورنہ اچھا نہیں ہو گا
کیا اچھا نہیں ہو گا ہاں بتاٶ وہ بولی
زبان بند کرو اپنی لڑکی وہاں بیٹھے کبیر دورانی کی جب برداشت سے باہر ہوا تو وہ کہنے لگا
دیکھیں سسر جی میں نے کچھ غلط نہیں کہا اور آپ سب کیوں مجھے پرایا سمجھ رہے ہیں ٹھیک ھے میرے بھاٸی نے آپ کی بیٹی سے بھاگ کے شادی کی مگر وہ دونوں بالغ تھے اپنا اچھا برا سمجھ سکتے تھے اب جو ہونا تھا ہو گیا میں بھی یہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی مگر اب میں نے دل کو منا لیا ھے آپ سب بھی مجھے اس گھر کا حصہ مان لیں ۔ بہو بھی بیٹی جیسی ہوتی ھے وہ بھی انسان ہوتی ھے آپ کی بیٹی میرے بھاٸی کے ساتھ خوش ھے پھر کیوں آپ لوگ یہ دوشمنی چھوڑ دیتے رمنہ بولنے پے آٸی تو اپنی بات سنا کے ہی چپ ہوٸی
دیکھو لڑکی اپنے کام سے کام رکھو ھمیں کیا کرنا چاہیے کیا نہیں یہ ھمیں اچھے سے پتہ ھے کبیر دورانی نے کہا
میری باتوں پے غور ضرور کرنا سسر جی وہ یہ کہ کر اٹھ کر جاتے جاتے ایک نظر سمیر کو دیکھنے لگی جو چپ چاپ بہت دھیان سے اسکی باتیں سن رہا تھا
سمیر اس لڑکی کو سمجھا دو میرے ساتھ بحث مت کیا کرے اپنے کام سے کام رکھے ورنہ زبان کاٹ دوں گا میں اس کی کبیر دورانی اب غصے میں آچکا تھا جب کہ رمنہ جا چکی تھی سمیر بھی اپنے روم میں گیا تو رمنہ شیشے کے سامنے کھڑی اپنے بال سعی کر رہی تھی
دیکھو میں تمیں آج صاف الفاظ میں سمجھا رہا ہوں اپنے کام سے کام رکھو بابا کے ساتھ بحث مت کرنا آج کےبعد ۔سمیر نے کہاظہار
میں نے کچھ غلط نہیں کہایہ کہ کر وہ الماری سے کپڑے نکالنے لگی
تو سمیر اسکے پاس جا پہنچا
میں نےیہ نہیں پوچھا تم نے غلط بات کی کی سعی جو کہ رہا اس پے عمل کرو اور اپنی زبان بند رکھو سمیر نے الماری کا دروازہ پکڑ کے کہا پھر واش روم نہانے چلا گیا
رمنہ الماری سے کپڑے نکال کے پریس کرنے لگی اس نے چار پانچ سوٹ پریس کیے ہی تھے جب سمیر روم میں آیا تو بیڈ پے ھر طرف کپڑے بکھرے تھے
بیڈ پے یوں کپڑے پھیلے دیکھ کے سمیر کو چڑ ھونے لگی یہ کیا طریقہ ھے کوئی کام ڈھنگ سے کرنا تمیں آتا ھے کہ نہیں سمیر نے کہا
اب میں نے کیا کیا ھے رمنہ نے ماتھے پے آیا پسینہ صاف کرتے ھوئے کہا
تمیں اچھے سے پتہ ھے مجھے روم بلکل صاف ستھرا پسند ھے یہ کیا تماشا ھے ۔سمیر نے بیڈ پے سے کپڑے اٹھا کے پھر وہی پھینک دیے
یہ کیا بدتمیزی ھے اتنی دیر اور اتنی مشکل سے میں نے پریس کیے ہیں آپ نے خراب کر دیے رمنہ نے منہ بنا کے کہا
اچھا تو یہ بدتمیزی ھےسمیر نے کہا
نہیں نہیں میرا مطلب ھے آپ مجھے کہ دیتے میں اٹھا دیتی اتنی مشکل سے تو میں نے پریس کیے ہیں اب دیکھیں سارے خراب ھو گئے اب مجھے پھر سے استری کرنے پڑیں گے سمیر وہی پاس پڑے صوفے پےبیٹھتی ھوئی بولی
ہاں تو کر دو ۔سمیر نے ایک ڈریس اٹھایا اور واش روم چلا گیا
وہ سر پکڑ کے صوفے پے بیٹھ گٸ پھر کچھ دیر بعد اٹھی کپڑے پریس کرنے لگیا
