Kesa Hai Ye Rishta by Shiza Syed NovelR50545 Kesa Hai Ye Rishta (Episode 01)
Rate this Novel
Kesa Hai Ye Rishta (Episode 01)
Kesa Hai Ye Rishta by Shiza Syed
ممی میں کیوں کروں سمیر دورانی سے شادی یار بھاٸی نے اسکی بہن سے بھاگ کے شادی کی اسکی زمہ دار میں نہیں جو اس سے شادی کروں ۔رمنہ نے فریج سے پانی کی بوتل نکالتے ہوۓ کہا
دیکھو بیٹا اگر تم نے شادی نہ کی تو یا تو وہ تمارے بھاٸی کو ڈھونڈ کےمار دینگے یا پھر تمارے بابا کو اس حویلی میں موجود پاگل عورت سے شادی کرنی پڑے گی ممی نے دونوں باتیں اسکے سامنے رکھ دی
کیا معصیبت ھے ممی مجھے کیوں پھنسا رہی ہیں آپ کو پتہ بھی ھے میں احمر کو پسند کرتی ہوں ۔رمنہ نے کہا
میں نے جو کہنا تھا کہ دیا اب آگے تماری مرضی بھری جوانی میں بھاٸی کی لاش دیکھنی ھے یا اس عمر میں ماں پے سوتن ۔فیصلہ تمارے ھاتھ میں ھےممی یہ کہ کر چلی گٸ
کیا معصیبت ھے اب میں کیا کروں وہ وہی کرسی پے بیٹھتے ہوۓ بولی
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
رمنہ اور علی دو بہن بھاٸی تھے عارف علی انکے باپ اور شازیہ انکی ماں تھی
جب کہ اسی گاٶں میں ایک وڈیرہ رہتا تھا جسکا نام کبیر دورانی اسکا بھی ایک بیٹا سمیر دورانی اور بیٹی نیلم تھی ۔علی اور نیلم ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے جبکہ کبیر دورانی بڑی فیملی میں نیلم کی شادی کرنا چاہتا تھا اسی لیے ان دونوں نے بھاگ کے شادی کر لی جب پنجہت کو بلایا گیا تو انہوں نےکہا علی کو پکڑ کے مار دیا جاۓ یا اسکے باپ عارف کی شادی کبیر کی پاگل بہن کے ساتھ کر دی جاۓ یا پھر تیسرا یہ کہ علی کی بہن رمنہ کی شادی سمیر سے کر دی جاۓ جب کہ سمیر احمر کی بہن سارہ کو چاہتا تھا ۔احمر اور سارہ بھی دو بہن بھاٸی تھے احمر رمنہ کے دور کے رشتے دار کا لڑکا تھا مگر سب وہی ریتے تھے احمر کے بابا نہیں تھے ماں تھی سعدیہ
علی خود تو نیلم سے شادی کر کے شہر بھاگ گیا جبکہ رمنہ پھنس چکی تھی![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
بابا میں کیوں کروں اس فقیرنی سے شادی انکا حلیہ دیکھا ھے کبھی آ پ نے ۔انکے جیسے کپڑے تو ھماری حویلی کے نوکر بھی نہیں پہنتے سمیر نے کہا
تم جانتے ہو بیٹا یہ ھمارے گاٶں کا رواج ھے جب کوٸی کسی لڑکی کو بھگا لے جاتا ھے تو جو فیصلہ پنجیت کرتی ھے وہ سبکو ماننا پڑتا ھے ۔کبیر دورانی نے بیٹے کو سمجھایا
اور تم چاہے جیسے بھی اس لڑکی کو رکھنا نوکرانی بنا کے رکھو یا پاٶں کی جوتی جس حال میں رکھو تماری مرضی ۔اسکے بابا نے کہا تو وہ چپ ہی رہا
رمنہ اور سمیر کی خاموشی کا صاف مطلب تھا کہ وہ دونوں گاٶں کے رسوم کےسامنے ھار مان چکے تھے
وہاں سے احمر اور سارہ کو پتہ لگا تو وہ بھی چپ رہے کیوں کہ وہ جانتے تھے انکے بولنے یا شور کرنے کا کوٸی فاٸدہ نہیں ہو گا وہی جو پنجیت نے کہا سو وہ دونوں چپ رہے
پنجہت کے فیصلے کے مطابق دونوں کا نکاح پڑھا دیا گیا ۔رمنہ کچے مکان سے ماربل کے بنے محل میں آ چکی تھی
رک جاٶ لڑکی ۔رمنہ نے جب پہلا قدم سمیر کے ساتھ حویلی میں رکھا تو کبیر دورانی نے کہا
تمارا مقام اس گھر میں موجود ایک فالتو اور بے کار چیز جٕسا ھے جسکی ھم سب کی نظر میں کوٸی اہمیت نہیں اسلیے ھمارا مقابلہ کرنے کی کوشش بھی نہ کرنا
مجھے مقابلہ کرنے کی کیا ضرورت ھے میرا نام تو اس حویلی کے ساتھ جڑ چکا ھے اس لیے ھم میری انسلٹ آپ سبکی انسلٹ میری عزت آپ سبکی عزت ۔جواب دینے کی معافی چاہتی ہوں مگر جو سچ تھا وہ آپ کے زہین نشین کر دیا رمنہ کی اس بات پے سمیر اور کبیر کو تو بہت برا لگا مگر سمیر کی ماں کے چہرے پے رونق پھیل گٸ
اے لڑکی اتنی لمبی زبان ھمیں نہیں پسند اور نہ کوٸی عورت ھمارے سامنے اونچی آواز میں بول سکتی ھے زبان کاٹ کے رکھ دیں گے ھم اسکی کبیر دورانی نے کہا
نہیں آپ غلط سمجھ رہے ہیں مجھے زبان چلانے کی عادت نہیں ھے سچ بولنے کی عادت ھے رمنہ نے پھر سے کہا
بس سمیر نے ھاتھ کا اشارہ کر کے کہا
اس گھر میں عورتوں کی نہیں ھم مردوں کی آواز گھونجتی ھے آواز نیچے ورنہ مجھے ھتھیار چلانے کا بہت شوق بھی ھے اور تجربہ بھی بہت سمیر نے کہا
اب آپ لوگ باتیں ہی سناتے رہیں گے کہ مجھے میرا روم بھی دیکھاٸیں گے دراصل پورے اٹھاٸیس منٹ کا فاصلہ طے کر کے آٸی ہوں بہت تھک گٸی ہوں رمنہ نے پوری حویلی کو دیکھتے ہوۓ کہا تو کبیر اور سمیر کو اسکی اتنی بہادری پے حیرت ہونے لگی جب کہ سمیر کی ممی کے چہرے پے ابھی بھی مسکراٸٹ تھی
ساسوں ماں آپ ہی بتا دیں کدھر ھے میرا روم ۔رمنہ نے پوچھا تو ساسوں ماں نے نوکرانی کو کہا انکو سمیر کے روم تک لے جاٶ نوکرانی اسکے ساتھ چلنے لگیا
تو رمنہ رک کے دوسری وہاں کھڑکی نوکرانی سے بولی میرے لیے ٹھنڈا یخ جوس لاٶ اور گلاس میں جوس کم برف زیادہ ہو ۔وہ یہ کہ کر اوپر چلی گٸ تو دونوں باپ بیٹا ایک دوسرے کو دیکھنے لگے جب کہ سمیر کی ماں مشکل سے اپنی ھنسی روک رہی تھی






ھاۓ ٹھنڈ پے گٸ جوس پی کے ۔رمنہ نے جوس کا گلاس خالی کرتے ہوۓ کہا
کھانے میں کیا بن رہا ھے آج رمنہ پوچھنے لگی
کڑی پکوڑے قیمہ مٹر ۔پنیر آلو پالک بواٸل چاول دال مسور ۔سری پأۓ لسی مکھن دیسی گھی کے پراٹھے ۔نوکرانی نے ایک ہی سانس میں بتایا
اف اتنا کچھ ایک ہی وقت میں سب کیسے کھا لیتے ہیں رمنہ نے پوچھا اسکی ساس اوپر سے آٸی وہ رمنہ کی بات سن کے ھنس کے بولی ھمارے یہاں ایسے ہی ہوتا ھے
اتنا سب کب کون کھاتا ہے چھوٹی بی بی تھوڑی تھوڑی چیزیں سب کھاتے ہیں نوکرانی نے بتایا
پہلی بات میں چھوٹی بی بی نہیں چھوٹی میم صاحبہ بولا کرو مجھے
ساسوں ممی ھمارے گھر تو ایک وقت میں ایک ھانڈی بنتی ھے وہ ھم دو ٹاھم کھاتے ہیں اور کبھی کبھی تو تیسرے ٹاھم بھی کھا لیتے ہیں رمنہ نے کہا
وہ تمارا فقیر خانہ ھے یہ ھماری حویلی ھے کیچن میں قدم رکھتے ہوۓ سمیر نے کہا
ویسے اس فقیر خانے کے داماد ہیں آپ بھی ۔ سمیر دورانی رمنہ نے کہا تو سمیر نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا اور کہا
یہ بدتمیزی یہاں نہیں چلے گٸ یہاں کی عورتیں اپنے شوہر کا نام نہیں لیتی سمیر نے فریج سے کھیرا نکالتے ہوۓ اسکی طرف دیکھ کر کہا
اچھا جی پھر کیا کہتی ہیں یہاں کی عورتیں اپنے شوہر کو ۔رمنہ نےسمیر سے کھیرا لے کے اسے دھو کر کھانے لگی تو سمیر کو حیرت ہوٸی
بتاٸیں نہ کیا کیتی ہیں یہاں کی عورتیں اپنے شوہر کو وہ بچا ہوا کھیرا سمیر کے ھاتھ میں دیتے ہوۓ بولی
اس سوال کا جواب تمیں یہاں کی نوکرانیاں دیں گی سمیر نے اسکا دیا کھیرا کچرے کے ڈبے میں پھینکتے ہوۓ کہا
کیوں میری شادی کیا انکے ساتھ ہوٸی ھے جو یہ بتاٸیں رمنہ نے کہا
دیکھو تمیں پہلے بھی یہ بات بتاٸی جا چکی ھے اور اب میں پھر بتا رہا ہوں یہاں صرف مردوں کی آواز گھونجتی ھے عورتیں صرف سنتی اور سر جھکاتی ہیں سمیر نے کہا
مگر یہاں اب سے میری آواز بھی گھونجے گی سمیر دورانی ۔وہ بولی
اپنا نام دوبارہ اسکے منہ سے سن کے اسے غصہ آیا
ایک بات مت بھولنا تم سے شادی میں نے اپنی خوشی سے نہیں مجبوری کی ھے سمیر نے اسے کہا
ھاں جیسے میں نے تو آپ کے گھر کے چکر کاٹے تھے پلیز مجھ سے شادی کر لو میں آپ کے لیے مری جا رہی ہوں مسٹر سمییییییییر دووووووورانی ۔رمنہ نے اسکےنام کو لمبا کر کے کہا تو وہاں کھڑی نوکرانیاں اور اسکی ساسوں ماں بھی ھنس دی
