Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kesa Hai Ye Rishta (Episode 05)

Kesa Hai Ye Rishta by Shiza Syed

سمیر ابھی چپ چاپ رمنہ کو دیکھے جا رہا تھا مگر اس نے کوٸی بھی حرکت نہیں کی تھی جب کہ رمنہ کی قربت اسے اکسا رہی تھی ۔رمنہ ایک خوبصورت لڑکی تھی اسکا قد بھی اچھا خاصا تھا اسکی آنکھیں بڑی بڑی اسکے کالے ساہ بال جو شانے تک بکھرے رہتے تھے ۔

تیز لگی پرفیوم کی خوشبو سمیر کے جزبات کو غافل کر رہی تھی اکسا رہی تھی مگر وہ پھر بھی چپ تھا ۔شاہد وہ رمنہ سے دور رہنا چایتا تھا یا پھر اب بھی اسکے دل میں سارہ بسی تھی یا پھر وہ رمنہ کی نیند خراب نہیں کرنا تھا کوٸی بھی حرکت کر کے

مگر رمنہ بھی جاگ چکی تھی مگر اس نے آنکھیں بند کر رکھی تھی وہ سمیر کی طرف سے کسی رد عمل کے انتظار میں تھی مگر سمیر نے اب تک ایسا کچھ نہیں کیا کون سی چیز تھی جو سمیر کو روک رہی تھی یا کچھ تو تھا ایسا اب کیا تھا یہ نہیں پتہ

وہ ابھی تک گم سم ہی تھا کہ رمنہ اور سمیر کے درمیان جو تھوڑی سی دیوار تھی وہ بھی رمنہ نے توڑ دی اس نے اپنے ہونٹ سمیر کے ہونٹوں پے جا رکھے

نہ چاہتے ہوۓ بھی سمیر کی سانسیں رمنہ کے قبضے میں جانے لگی سمیر نے خود کو ان جزبات سے آزاد کرنے کی بہت کوشش کی مگر وہ بہک چکا تھا اسکی سانسوں میں الجھتا چلا گیا اس نے لاکھ کوشش کی رمنہ کو پیچھے کرنے کی مگر وہ خود جزبات کے ھاتھوں ھارتا جارہا تھا اس کا ھاتھ رمنہ کی کمر تک جا چکاتھا ۔رمنہ پے بھی اس سحر کا اثر ھو گیا تھا پہلے تو سمیر نے اپنی گرفت ڈھیلی کرنےکی کوشش کی مگر وہ جزبات میں بہ گیا رمنہ کی سانسوں کی تیز رفتار سے سمیر کے اندر بھی کچھ ہونے لگا تھا تبھی سمیر نے ھتیار پیھنک دیے اور رمنہ کے کانپتے وجود کو مکمل اپنی گرفت میں لیتے ہوۓ اپنے ہونٹ اسکی گردن پے رکھ دیے

رمنہ نے بولنے کو لب کھولے ہی تھے کہ سمیر نے اپنے داٸیں ھاتھ کی فنگر اسکے لبوں پے رکھ دی

سمیر کا دوسرا ھاتھ رمنہ کی کمر پر پڑھ چکا تھا اسکے ھونٹوں کو اپنے ھاتھوں سے آزار کر دیا اور اسکے بال کھول دیے اسکے سلکی کالے سیاہ بالوں میں دھیرے دھیرے انگلیاں پریس کرنے لگا رمنہ تیزتیز سانسیں لینے لگی ۔

سمیر کا ٹارگٹ اب رمنہ کے گلابی ھونٹ تھے سمیر نے جیسے ہی رمنہ کے ہونٹوں پے اپنے ہونٹ رکھے رمنہ کا سانس لینا مشکل ہو گیا

رمنہ کے وجود میں کپکپاٸٹ ہونے لگی ۔۔اسے سمیر کی قربت میسر آتے ہی سکون سا آنے لگا

سمیر بھی اپنے پورے حوش و حواس میں تھا ۔

یہ شاہد سمیر کے ضمیر کی ملامت کا اثر تھا یا پھر رمنہ کی دلکش اداٶں کا نتیجہ جو سمیر پوری طرح اسکی محبت میں ڈوب چکا تھا پتہ ہی نہں چلا صبع کے چار بج گۓ دونوں نیند کی وادی میں سو گۓ

صبع سمیر کی آنکھ کھلی نو بج چکے تھے رمنہ ابھی تک اسکے پہلو میں سوٸی تھی اسکا سر سمیر کے بازو پے تھا اور رمنہ کا ایک ھاتھ سمیر کے اوپر تھا اس نے فون اٹھا کے ٹاھم دیکھا نو بج رہے تھے اس نے پاس سوٸی رمنہ کو دیکھا جو سکون سے سو رہی تھی جیسے صدیوں کی تھکاوٹ آج دور ہوٸی ہو

سمیر نے اسکے چہرے پے آۓ بال پیچھے کیے اس کا سر آرام سے اپنے بازو سے ھٹا کے تکیے پے رکھا اور واش روم چلا گیا جب نہا کے نکلا رمنہ جاگی تھی سمیر کے واش روم سے آتے ہی رمنہ واش روم چلی گٸ

سمیر نے شیشے کے پاس کھڑے ہو کے بال۔سیٹ کیے پرفیوم لگاٸی اور نیچے چلا گیا

ناشتے کی میز خالی تھی ۔سمیر ٹیبل پے بیٹھ کے ممی ناشتہ دیں کہنے لگا

اسکی ممی آٸی کہنے لگی انتظار کرو لاتی ہوں یہ کہ کر چلی گٸ

تھوڑی دیر تک ناشتہ آگیا تب تک رمنہ بھی آ گٸ

ساس نے رمنہ کو دیکھا تو اسکے چہرے پے عجیب تاثرات تھے جیسے ساس نے پڑھ لیے اور انکے چہرے پے ھلکی مسکراٸٹ آگی ۔وہ سمجھ چکی تھی سمیر اور رمنہ کے درمیان سب ٹھیک ہوتا جا رہا ھے

دونوں نے ناشتہ کیا ناشتے کے دوران وہ دونوں بار بار ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے

سمیر کی ممی ان دونوں کو دیکھ رہی تھی

کیا دیکھ رہی ہیں بڑی بی بی جی اس کے ساتھ کھڑی نوکرانی نے کہا

مجھے لگ رہا دونوں کے دل میں ایک دوسرے کے لیے پیار کی شمع جل چکی ہۓ وہ بولی

جی بی بی جی مجھے بھی یہی لگتا ھے نوکرانی جسکا نام ہاجرہ تھا کہنے لگی

آپ سے ایک بات پوچھ سکتی رمنہ نے جب سمیر کو اٹھتے دیکھا تو پوچھا

ھاں پوچھو وہ بھی نہایت نرمی سے بولا

کل اور آج کے سمیر بھی کچھ تبدیلی آٸی کہ نہیں اس کی بات سمیر کی سمجھ میں نہیں آٸی تو وہ بولا مطلب?

مطلب اب تو آپ کو کوٸی مسٸلہ نہں ھے مجھ سے ۔رمنہ نے اب کی بار صاف بات کی

۔سمیر پہلے چپ چاپ اسے دیکھنے لگا پھر بولا کیا اب بھی تمیں کچھ پوچھنے کی ضرورت ھے یا اب بھی تمیں کسی ثبوت کی ضرورت ھے سمیر نے جھک کے اسکی آنکھوں میں جھانک کے کہا

رمنہ کے پاس جواب نہیں تھا وہ چپ رہی سمیر جا چکا تھا اسکی ممی سمیر کے جواب سے کافی مطمٸن ہو چکی تھی

رمنہ کے پاس آ کے اسکے سر پے ھاتھ رکھ کے بولی سمیر بدل چکا ھے رمنہ ۔اس کے دل میں تھوڑی بہت جگہ تمارے لیے بن چکی ھے باقی جگہ بنانا بھی تمارا کام ھے ۔ساس نے کہا

رمنہ سوچ میں پڑھ گٸ

جاری ھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *