Kesa Hai Ye Rishta by Shiza Syed NovelR50545 Kesa Hai Ye Rishta (Episode 03)
Rate this Novel
Kesa Hai Ye Rishta (Episode 03)
Kesa Hai Ye Rishta by Shiza Syed
رمنہ کیچن میں گٸ وہاں اسکی ساس اور نوکرانی دونوں باتیں کر رہی تھی
پتہ ھے کل انہوں نے کیا کیا ساسوں ممی وہ کہنے لگی
میں نے انکے سب کپڑے الماری سے نکال کے پریس کیے انہوں نے سب خراب کر دیے اور کہنے لگے پھر سے کرو پریس ۔رمنہ نے جس انداز سے منہ بنا کے کہا ساس کو ھنسی آگٸ
یہ کیا ساسوں ممی آپ ھنس رہی ہیں وہ کہنے لگی
میں اس لیے نہیں ھنس رہی کہ اس نے دوبارہ کپڑے استری کرواۓ بلکہ اس لیے ھنس رہی کہ تم نے بات کرتے ہوۓ منہ اتنا عجیب بنایا کہ مجھے ھنسی آگٸ ساس کی بات پے وہ کہنے لگی ساسوں ممی آپ انکو سمجھا لیں پلیز ورنہ میں ان سے لڑوں گی
ارے لڑنے سے مسٸلے حل نہیں ہوتے تم اسے خود پیار سے سجھا دیا کرو سمجھ جاۓ گا ساس نے کہا
پیار ۔آپ پیار کی بات کر رہی وہ سواۓ لڑنے اور بے عزتی کرنے کے اور کچھ نہیں کر سکتے رمنہ نے کہا
تم کوشش تو کرو سب سعی ہو جاۓ گا ساس نےکہا
نہیں ہوں گے وہ سعی انکا نخرہ اور غصہ اتنا ھے کہ وہ کسی کی اور خاص گر میری بات توسنتے ہی نہیں رمنہ کے اس بات کے مکمل ہوتے ہی سمیر نے کیچن میں قدم رکھتے ہی پوچھا
ممی کیا بن رہا ھے دن کے کھانے میں
دن کے کھانے میں ٹینذے ۔توری بینگن ۔پودینے کی چٹنی ۔ساس کے بولنے سے پہلے ہی رمنہ بول پڑی ساس ھکہ بکہ اسکا منہ دیکھنے لگی
ممی آپ کو اچھے سے پتہ ھے مجھے یہ سب نہیں پسند اور کب سے آپ میری ناپسند کے کھانے بنانے لگی وہ یہ کہ کر رمنہ کو دیکھنے لگا
جب سے آپکی لاٸف میں آپ کی ناپسندیدہ لڑکی آٸی تب سے رمنہ نے ی کہ کر منہ دوسری طرف کر لیا سمیر نے پہلے ممی پھر اسے دیکھا اور کہا
میری ھر بات کا جواب تم کیوں دیتی ہو ھاں میں بات ممی سے کر رہا ہوں جواب تم دے رہی ہو سمیر نے کہا مگر رمنہ چپ رہی
میں تم سے ہوں سمیر اسکے پاس گیا اسکو بازو سے پکڑ کے بولا
او اچھا آپ مجھ سے ہیں بڑی بات ھے ویسے آج مجھے کیسے مخاطب کر لیا وہ انجان بن کے بولی
زیادہ سمارٹ بننے کی ضرورت نہیں ھے ۔میری تیسری اور آخری بار سمجھا رہا ہوں اپنے کام سے کام رکھو میرے میرے بابا اور ممی کے کسی بھی معاملے میں مت پڑھو ورنہ سمیر یہ کہ کر رک گیا
ورنہ کیا سمیر دورانی میری زبان کاٹ دو گے یا میرا گل ھاں آج بتا ہی دیں رمنہ نے کہا
اپنی زبان بند کرو اور مجھ سے بہانےبہانے سے بات کرنا بند کردو تم ۔ سمیر کا غصہ اب بڑھ چکا تھا
بہانے سے کیوں میں تو کروں گی بات شوہر ہیں آپ میرے بیوی ہوں آپکی ھر بات میں بولوں گی رمنہ بھی اب ضد پےآگی
اچھا تو زبان چلاٶ گی سمیر نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کے کہا
اگر آپکی نظر میں اسے زبان چلانا کہتے ہیں تو یہی سمجھ لیں رمنہ نے بھی اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ کہا
سمیر بنا کچھ کہے اس ھاتھ سے پکڑ کے لے گیا اسکی ممی کہتی رہی کہاں جا رہے چھوڑو اسے میں سمجھا دوں گی مگر وہ اسکا ھاتھ پکڑے وہاں سے نکل گیا
اپنے روم میں لے جا کر اسکا ھاتھ چھوڑا دروازہ اندر سے بند کیا
الماری کے پاس گیا وہاں سے بیلڈ نکالی ۔
اچھا تو میرے ساتھ زبان چلاٶ گی سمیر نے بیلڈ کو اپنے ھاتھ پے لپیٹتے ہوۓ کہا
میں کوٸی زبان نہیں چلا رہی تھی سچ بات کہ رہی تھی جو ھمیشہ کہتی رہوں گی وہ بولی
آج تماری چیخیں اس گھر کے وہ سب لوگ سنیں گے جن جنکے سامنے تماری زبان چلتی ھے اس گھر کے درو دیواروں کو بھی تماری چیخیں سناٸی دیں گی سمیر نے اپنا جملہ ختم ھوتی ہی ھاتھ پے پکڑی بیلڈ کو گھمویا بیلڈ کا رخ رمنہ کی طرف کرتے ہی اسکا ھاتھ چلنے لگا وہ بنا رکے رمنہ پے برسنے لگا مگر رمنہ کے منہ سے آف تک کا لفظ بھی نہیں نکلا دروازے سے باہر کھڑی سمیر کی ماں اسے آوازیں دیتی رہی مگر وہ نظر انداز کرتا رہا
سمیر اسے بیلڈ کے ساتھ جانوروں کی طرح پیٹ رہا تھا مگر رمنہ کے وجود نے آگے پیچھے ہونے کے لیے حرکت بھی نہیں کی
جتنا مارنا ھے مار لیں سمیر دورانی مگرمیں بھی آپ کی ہی بیوی ہوں حد سے بڑھ کےضدی کبھی ھار نہیں مانوں گی
دیکھتی ہوں آپ کےمردانے بازو میں زیادہ طاقت ھے یا ایک عورت کے کمزور جسم میں زیادہ برداشت ھے ویسے آج کی عورت اتنی کمزور نہیں جتنا آپ مرد اسے سجھتے ہیں رمنہ نےکہا
سمیردورانی تھک چکا تھا مگر رمنہ کےمنہ سے غلطی سے بھی کوٸی آہ زر نہیں ہوٸی سمیر کا ھاتھ رک چکا تھا
اور ایک اور بات میں نےیہ سب اس لیے برداشت نہیں کیا کہ میرا بھاٸی آپ کی بہن کو لے گیا بلکہ اس لیے برداشت کیا ھے کہ میں آپ سےبہت پیار کرتی ہوں آپ میرے مجازی خدا ہیں اس لیے چپ چاپ یہ سب سہ لیا وہ چپ ہو گٸ اور یہی سچ تھا رمنہ کے دل سے احمر نکل چکا تھا شادی کی پہلی رات ہی سمیر اسکے حواسوں پے چھا چکا تھا سمیر کو بھی رمنہ کی قربت میں قرار آنے لگا تھا جبکہ وہ احمر کی بہن سارہ سے پیار کرتا تھا
رمنہ کو سمجھ آچکی تھی کہ احمر سے تو اسکا جزباتی رشتہ تھا اصل رشتہ اور پیار تو سمیر کے قریب آکے اسے ملا سمیر کے قریب جا کے اسے پتہ لگا کہ پیار کیا ہوتا ھے
دوسری طرف سمیر کی ملاقاتیں سارہ کے ساتھ کم ہوتی جا رہی تھی کیونکہ جب سے اسکی بہن نے گھر سے بھاگ کے شادی کی تھی تب سے وہ اپنی پریشانی میں تھا اس نے زمینوں پے بھی جانا چھوڑ دیا تھا کیونکہ اسکی ایک ہی اکلوتی بہن تھی جس پے وہ جان دیتا تھا اسکی ھر خواھش پوری کرتا تھا ۔بہن بھی بھاٸی پے صدقے واری جاتی تھی ھر خواہش پوری کرنے کے باوجود اسکی اپنی پسند کی شادی کے خلاف تھے
جاری ھے
