Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kesa Hai Ye Rishta (Episode 06)

Kesa Hai Ye Rishta by Shiza Syed

سمیر کا رویہ اب رمنہ سے کافی اچھا ہو چکا تھا رمنہ اسکے دل میں اترتی جا رہی تھی وہ اب رمنہ کا خیال رکھنے لگا تھا اسکی پرواہ کرنے لگا تھا یہ شک جب سمیر کے بابا کبیر کو ہوٸی تو وہ غصے سے آگ بگولا ہوا اسے اپنا انتقام اور بدلہ ناممکن نظر آنے لگا ۔

نہیں میں ایسا نہں ہونے دوں گا سمیر کو اگر رمنہ سے پیار ہو گیا تو میرا سارا منصوبہ ناکام ھو جاۓ گا اور ایسا میں کبھی نہی ھونے دوں گا

سمیر کے دل سے رمنہ کا پیار نکالنا پڑے گا اسکے لیے چاہۓ مجھے کچھ بھی کرنا پڑے وہ دل ہی دل میں کہنے لگا

رمنہ کی ساس خوش ہو رہی تھی کہ چلو ان دنوں کے درمیان سب سعی ہو گیا مگر اسے کیا پتہ تھا اسکا شوہر کبیر دورانی کیا کھیل کھیلنے والا ھے کبیر دورانی کو جب سے پتہ لگا کہ رمنہ اور سمیر کے درمیان سب ٹھیک ہو رہا ھے وہ دونوں قریب آرہے ہیں تو وہ دل ہی دل میں انکو پھر سے دور کرنے کے منصونے بنانے لگا

دن گزرنے لگے رمنہ اور سمیر دونوں کے درمیان سب سعی ہوتا ھے اس میں زیادہ تر کوشش رمنہ کی ہی تھی

یہ بات کبیر دورانی کو کھاۓ جا رہی تھی تبھی اس نے سمیر کو آج اپنے روم میں بلا یا سمیر کھانا کھا کےمیرے روم میں آنا مجھے تم سے کچھ کہنا ھے کبیر نے رات کھانے کی میز پے سمیر کو کہا

جی اچھا بابا سمیر نے کہا

تبھی وہ کھانے کے بعد بابا کے روم میں تھا

جی بابا کہیں سمیر نے ھمیشہ کی طرح اس بار بھی نہایت احترام سے کہا

تم شاھد بھول رہے ہو تماری شادی اس لڑکی سے مجبورا کر دی گٸ ھے یا یاد ہو ۔اسکے بابا نے کہا

جی بابا یاد ھے اس نے جواب دیا

مگر تماری حرکتیں دیکھ کے نہیں لگتا کہ تماری شادی مجبورا کی دی مجھے تو لگتا ھے تم اس شادی سے بہت خوش ہو بابا کی باتیں سن کے اس نے خاموشی سے بابا کو دیکھا اور پھر بولا

بابا ایسی بات نہیں ۔

تو پھر کیسی بات ھے جو اس گھر میں ہو رہا ھے میری ان سب پے نظر ھے بابا کہنے لگے

نہں ایسی کوٸی بات نہیں وہ کہنے لگا

ایسی بات نہ ہی ہو تو اچھا ھے تم یاد رکھنا ھماری نازوں پلی نیلم کو ورغلا کے لے گیا اس کا بھاٸی ۔۔ایک بار ھاتھ لگ جاۓ کاٹ کے کتو ں کو ڈال دوں گا ۔کبیر کہنے لگا۔

میری بات تمیں سمجھ آرہی ھے نہ ۔باپ نے بیٹے کو چپ پا کے کہا

جی بابا اچھا میں جاتا ہوں نیند آٸی ھے بہت یہ کہ کر وہ اٹھ کے جانے لگا

ٹھیک ھے جاٶ مگر میری باتیں یاد رکھنا بابا نے کہا

جی کہ کر وہ چلا گیا

وہ روم میں گیا رمنہ اپنے ھاتھوں اور پاٶں میں لوشن لگا رہی تھی وہ بیڈ پے پاٶں پھیلاۓ بیٹھی تھی سمیر خاموشی سے آیا اور بیڈ پے سے تکیہ لیا اور صوفے کی طرف بڑھ گیا وہ اسے دیکھ کر بولی

یہ کیا کر رہے آپ۔

کیا مطلب کیا کر رہا ہوں ۔سونے کی تیاری کر رہا ہوں سمیر نے بنا دیکھے جواب دیا

وہ تو مجھے بھی دیکھ رہا ھے مگر صوفے پے کیوں ۔رمنہ نے لوشن کی بوتل بند کرتے ہوۓ کہا

کیوں صوفے پے سو نہں سکتے کیا اچھا مجھے بہت نیند آٸی ھے سوتا ہوں گڈ ناٸٹ سمیر یہ کہ کر صوفے پے لیٹ گیا اور آنکھوں پے ھاتھ رکھ دیا

اس مرد کی مجھے سمجھ نہیں آتی گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ھے وہ بھی لوشن رکھ کے لاٸٹ اوف کر کے لیٹ گٸ

صبع وہ کیچن میں گٸ تو ساس نوکرانی کے ساتھ ناشتے میں مصروف تھی

ساسوں ممی یہ آپکا بیٹا گرگٹ کی طرح رنگ کیوں بدلتا ھے پل میں تولہ پل میں ماشا ۔رمنہ نے فریج سے پانی کی بوتل نکالتے ہوۓ کہا

کیوں کیا ہوا ساس اسکی طرف دیکھ کےبولی

کل رات پھر جناب کا موڈ خراب تھا صوفے پے سوۓ تھے رمنہ نے پانی گلاس میں ڈالتے ہوۓ کہا اور پھر بات ختم کر کر غٹا غٹ پے گٸ

بیٹا ایک ہی سانس میں پانی نہیں پیا کرو اچھا نہیں ہوتا تین سانسوں میں پیا کرو ساس نے اسے یوں تیزی سے ایک سانس میں پانی پیتے دیکھ کے کہا

یہاں تو رات سے میری سانس اٹکی پڑی ھے ساسوں ممی ۔اس کے بات مکمل ہونے تک سیمر وہاں آ چکا تھا

ساس نے اسکی طرف حیرت سے دیکھ کر کہا

کیا مطلب سانس اٹکی ہوٸی ھے

مجھےایک بات بتاٸیں ساسوں ممی اس نے کہا

ہاں پوچھو ساس نے کہا

آپ کے بیٹے بچپن سے ایسے عجیب ہیں یا ابھی شادی کے بعد ایسے ہوۓ ۔رمنہ نے سمیر کی موجودگی کی پرواہ کیے بنا کہا

کیامطلب میں سمجھی نہیں ساس نے نہ سمجھتے ہوۓ کہا

میرا مطلب ھے آپ کے بیٹے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں ایسا یہ بچپن سے کرتے آرہے ہیں کہ مجھ سے شادی کے بعد یہ سعادت انکو حاصل ہوٸی ھے رمنہ نے کچھ اس انداز سے کہا کہ سمیر نے عجیب نظروں سے اسے

ساس نے پہلے اسے پھر سمیر کو اور پھر سے اسے دیکھا پھر کچھ سوچنے لگی

تھوڑی دیر بعد بولی اسکا جواب تمیں سمیر ہی دے سکتا ھے

یہ مجھے جواب دیں گے انکو تو خود نہیں پتہ یہ دو منٹ پہلے کیسے تھے اور دو منٹ بعد کیسے ۔اس بار رمنہ نے طنزیہ لہجے میں کہا پھر سمیر کی طرف سے مکمل خاموشی تھی ۔

اچھا ساس ممی مجھے ممی کے گھر جانا ھے ممی پاپا بہت یاد آ رہیں ہیں رمنہ نے کہا

اس سے پہلے ساس جواب دیتی سمیر کا جواب

کہیں نہیں جاٶ گی تم اور تمیں اس حویلی سے باہر جانے کی اجازت نہیں ھے ۔سمیر نے سختی سے کہاظہار

کیوں اجازت نہیں ھے میرے ماں باپ نے مجھے بیچا نہیں ھے شادی کر کے یہاں بیجا ھے ۔رمنہ نے اسی لمعے جواب سمیر کے منہ پے مارا

تم شاہد بھول رہی ہو مگر کوٸی بات نہیں میں تمیں یاد دلا دیتا ہوں کہ تماری شادی پنجہت کے فیصلے سے ہوٸی ھے اور پنجہت کے فیصلے کے مطابق تم وہی کرو گی جو ھم چاہیں گے اور ھماری مرضی کے خلاف تم گھر سے باہر قدم بھی نہں رکھ سکتی سمیر نے اسکے سامنے کھڑے ہو کے اسکی آنکھوں میں جھانک کے کہا

اگر گھر سے باہر قدم رکھ دوں تو ۔رمنہ نے اسکا جواب جاننے کو پھر سے سوال کیاظہار

تو ھم تماری ٹانگیں توڑ کے اپنے شکاری کتوں کو کھلا دیں گے ۔باہر سے آتے ہوۓ اسکے سسر نے کہا

میرے بھاٸی کی غلطی نہیں ھے صرف آپکی بیٹی بھی برابر کی جرم دار ھے ایسے کیوں نہیں سزا ملی ۔رمنہ نے بنا ڈرے ملک کبیر سے کہا

اسکی کوٸی غلطی نہیں تمارے بھاٸی نے اسے ورغلایاھے ۔سمیر نے کہا

ھاں وہ تو جیسے دودھ پیتی بچی تھی ۔رمنہ نے طنز سے کہا

تم اپنی زبان بند کرو سمیر نے اتنے پرزور طریقے سے کہا کہ رمنہ چپ ہو گٸ

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *