Jungal by Jameela Nawab Readelle 50384

Jungal by Jameela Nawab Readelle 50384 Jungal Episode 9 (Last Episode)

489.8K
9

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Jungal Episode 9 (Last Episode)

Jungal by Jameela Nawab

آج موسم کچھ بہتر تھا۔نسرین بیگم رات کا کھانا بناتی گہری سوچ میں کچن میں کھڑی تھیں۔جب موبائل پر کسی انجان نمبر سے فون آنا شرو ع ہوا تھا۔اس نے ہاتھ دھو کر خشک کئے اور دوبارہ آنے پر کال اٹینڈ کرلی۔

“آپ مسز چوہان بات کر رہی ہیں؟؟؟”

سلام کے بعد اس آدمی نے پوچھا تھا۔

“جی۔۔۔بول رہی ہوں”

نسرین بیگم ڈائنگ کی چیئر کو کھینچ کر اس پر بیٹھتے ہوۓ بولی تھیں ۔

“آپ کی سی وی موصول ہوئی۔۔۔آپ اپنے میاں کی آن ڈیوٹی موت کے بدلے ان کی جگہ پر جاب چاہتی ہیں۔۔۔لیکن دوسری طرف آپ نے ان کے بے رحمانہ قتل کی نا تفتیش ہونے دی اور نا ہی پوسٹ مارٹم۔۔۔لہذا ان کی اس موت کو آن ڈیوٹی موت نہیں کہا جا سکتا کیو نکہ رات کے اس پہر ان کے وہاں ہونے کی وجہ کم از کم ڈیوٹی نہیں تھی ہاں کوئی ذاتی وجہ ہو سکتی ہے۔۔۔آپ تفتیش ہونے دیتیں اور ان کی موت طبعی ثابت ہو جاتی تو کچھ سوچا جا سکتا تھا۔۔۔اب چونکہ یہ ایک حادثہ نہیں رہا تو۔۔۔۔ہم وہاں ایک اور آ فیسر بھیج کر اس کی جان خطرے میں کیوں ڈالیں۔۔۔دوسری بات۔۔۔ان کے موت کے دو دن بعد ہی ان کی طرف سے بھیجا گیا خط موصول ہوا تھا جس میں انہوں نے اس پروجیکٹ کو فوری بند کروانے کا کہا تھا۔۔تو۔۔”

“تو۔۔۔کیا؟؟؟؟؟میری بات سنیے۔۔۔اس پر بس میرے جنتی شوہر کے دستخط تھے۔۔۔۔وہ سب ان کی منشا سے نہیں تھا ہوا۔۔۔ان کے ساتھ جو لوگ تھے اصل میں وہ انکی مرضی سے ہوا تھا۔۔۔دراصل وہ اسی سلسلے میں اس رات وہاں گئے تھے۔۔اور موسم خراب ہوگیا۔۔وہ پھنس گئے تھے وہ بارش رکنے کے انتظار میں وہاں ٹھہرے تھے اور ان کے ساتھ وہ سب ہوگیا۔۔۔۔یہ پروجیکٹ مکمل ہو ۔۔۔یہی ان کی دلی خواہش تھی جو میں پوری کرنا چاہتی ہوں۔۔۔”

وہ فخر سے بولی تھی۔

“دیکھیں۔۔محترمہ۔۔۔وہاں کے لوگ اس بات کے حق میں نہیں ہیں۔۔۔”

وہ اس بار تنگ آ کر بولا تھا۔

“اگر وہ لوگ خود اس بات کی حامی بھر دیں تو مل جائے گی مجھے یہ جاب اور پروجیکٹ؟؟؟”

نسرین بیگم پر اعتمادی سے گویا ہوئی تھیں۔

“جی۔۔۔اب اجازت دیں۔۔۔”

اس آدمی نے جان چھوڑا تے ہوۓ کہا تھا وہ جانتا تھا یہ ممکن نہیں ہے۔۔۔۔ کیوں کہ چوہان چوتھا آفیسر تھا جو اس میشن میں ناکام ہوا تھا۔۔اس سے پہلے کے تین لوگ ایک ہفتہ بھی نہیں ٹک سکے تھے۔

نسرین بیگم نے کبیر کو ساتھ لیا اور بستی چلی آئی۔

وہ اسی گھر میں اندر آئی تھی۔جہاں وہ اس رات آئی تھی وہ سمجھی تھی یہ سب تب سو رہے تھے تو یہ کچھ نہیں جانتے ہونگے۔۔۔مگر اس کے اندر آتے ہی ان کی آنکھیں لال ہوگئی تھیں۔۔ وہ بنا کچھ کہے الٹے پاؤں واپس آ چکی تھی۔

اب وہ نئی حکمت عملی پر سوچ کے گھوڑے ڈال چکی تھی جیسے جیسے وہ سب ترتیب دے رہی تھی اس کے چہرے پر مسرت نمایاں ہو رہی تھی

رات کا کوئی پہر تھا جب نسرین بیگم کبیر کو گہری نیند کی بچوں کی دوائی دے کر گھر سے باہر نکل آئی تھیں۔آج اما وس کی رات تھی کالا اندھیرہ ہر جگہ ڈیر ے جماے بیٹھا تھا۔ وہ تیز قدم چلتی ہوئی بستی پہنچی تھی۔وہ اسی گھر میں پہنچی تھی جہاں وہ چوہان کو موت کی نیند سلا چکی تھی حسب معمول وہ انسانی روپ میں صحن میں گہری نیند سو رہے تھے۔

“تم لوگ کیا سمجھ رہے تھے میں تم لوگوں کو اپنی من مانی کرنے دوں گی ہاں؟؟؟؟جب میں نے اپنے شوہر کو اپنی اس خواہش میں روکاوٹ نہیں بننے دیا تو تم سانپوں کا سوچھو گی میں ؟؟؟”

وہ بری طرح غرائی تھی۔اس کے ساتھ ہی اس نے تیز چا کو سے وہاں موجود ہر انسان کے گلے تن سے جدا کر ڈالے تھے۔۔

“میرے خیال سے تم لوگوں کا یہ حال دیکھ کر اب کوئی بھی میری راہ میں رخنہ نہیں ڈالے گا۔۔۔”

وہ ایک معصوم چند دن کے سانپ کے بچے جو کہ انسانی شکل میں نومولود بچہ تھا اس بے رحمی سے موت کی گھاٹ اتارتی ہوئی بد حواسی سے بولی تھی۔

وہاں موجود لگ بھگ پچاس تک سانپوں کو وہ چاکو کے وار سے مار کر وہ دوسرے گھر میں داخل ہونے کو تھی جب اس کی نظر سردار پر پڑی تھی جو ساتھ والے گھر میں داخل ہوا تھا جہاں وہ موت کا کھیل کھیل کر آئی تھی۔

وہ مزید تباہی ملتوی کرتی ہوئی گھنے جنگل میں چھپ گئی تھی جہاں سے وہ ساری کاروائی با آسانی دیکھ پا رہی تھی۔اب وہاں سے شدید جھگڑ ے کی آوازیں آنے لگی تھیں۔

“تم کچھ نہیں سمبھال پائے سردار۔۔ان سب کی موت کے ذمہ دار تم ہو صرف تم۔۔۔”

وہ سانپ جو سردار کے زیادہ مخالف تھے ان میں سے ایک غصے سے چیخا تھا۔

“غلطی ان کی نہیں۔۔۔غلطی ہماری ہے جو ایک ایسے شخص پر اپنی اور اپنے گھر والوں کی حفاظت کی ذمہ داری چھوڑی دی جس کا خود کا گھر بار ہے ہی نہیں۔۔۔”

ایک اور باغی بولا تھا۔

“اس میں سردار کی کوئی غلطی نہیں۔ وہ بس امن چاھتے تھے۔۔۔”

سردار کے ساتھی میں سے ایک جلدی سے بولا تھا۔

اسی ‘توں توں’ میں میں’ میں بات بڑھ گئی۔۔ پورا جنگل آ منے سامنے آ چکا تھا۔۔۔بدقسمتی سے سردار کے حق میں جو گرو تھا ان کی تعداد کم اور مخالفین کی زیادہ تھی۔۔۔۔ اسی دوران بات ہاتھا پائی سے شروع ہو کرقتل و غارت تک پہنچ گئی۔سردار کو بہت بچایا مگر وہ زخموں سے چور بیہوش ہو چکے تھے۔

دوسری طرف ان شر پسند سانپوں نے غم و غصہ میں آ کر اس جنگل اور اس کیے آس پاس موجود انسانوں کو ناحق ڈسنا شروع کر دیا تھا۔جس سے وہ جنگل موت کی وادی سے جانا جانے لگا۔۔۔لوگو ں کے دلوں میں سانپوں کو لے کر نفرت جس قدر زیادہ ہوگئی تھی اتنا ہی خوف میں بھی اضافہ ہوگیا تھا۔۔۔طرح طرح کی باتیں اس جنگل اور علاقے کے بارے میں مشہور ہونے لگی۔۔۔وہ کہا جاتا ہے نا۔۔۔

“جتنا بڑا منہ۔۔۔۔اتنی بڑی بات۔۔۔ “

جو بھی وہاں جاتا۔۔ یا تو اس کی لاش نا ملتی۔۔ یا زہر سے نیلی ملتی۔۔۔جن انسانوں کو نسرین بیگم نے اس رات درندگی سے مار دیا تھا۔ان کی روحیں ہر جگہ بٹھک رہی تھیں وہ اکثر لوگوں کو نظر آتیں اور ان کو جنگل میں جانے سے منع کرتیں۔۔۔ہوٹل میں نظر آنے والے دونوں آدمی اور چونکی پر بیٹھا آدمی بھی انہی میں سے تھے۔ان سب کو اجتماعی قبروں میں دفنا کر چھوٹے چھوٹے پتھر رکھ کر ان کی موجودگی کی نشان دہی رکھی گئی تھی۔کبیر اسی جگہ ہوش میں آیا تھا اور اس کو ہاتھ پکڑا نے والا اس کا باپ تھا۔۔۔وہی آدمی جس میں چوہان کی روح قید تھی۔

سردار کے ذمہ اس جنگل میں سکون بنائے رکھنا تھا جس میں ناکام ہو گئے تھے نتیجہ یہ نکلا کہ سردار اور اس بستی کے تمام حیات سے ان کی انسان اور بولنے ک شکتی اٹھا لی گئی۔۔

سردار سانپ کی شکل میں زخمی حالت میں ایک درخت کے ساتھ لٹکا ہوا تھا اس کے ساتھی مسلسل اس کے گرد بیٹھے غمگین روتے رہتے تھے۔

سردار کی تکلیف کم کرنا صرف چوہان کی روح کے ہاتھ میں تھا وہ کبیر کو یہاں بلا تا اور وہ سب سے نا صرف معافی مانگتا بلکہ مستقل یہاں اپنی

تعیناتی کروا کر رہتا اور اس علاقے کو کوئی ترقی نا کرنے دیتا۔۔۔قصہ مختصر۔۔۔یہاں کوئی انسان نا آتا۔۔۔کوئی پروجیکٹ نہیں لایا جائے گا جس سے سیاحت کو فروغ ملتا۔۔۔۔ جنگل کے لوگ سکون سے وہاں رہتے۔۔ جنگل مکمل طور صرف انہی کا رہتا۔

نسرین بیگم جو ایک لمبے عرصے سے اس جگہ کبیر کے تبادلے کے لئے چھپ چھپ کر کوشاں رہی تھیں وہ نہیں جانتی تھیں کہ وہ ایسا کر کے اپنے گلے کے لئے خود پھندا تیار کر رہی ہیں۔۔۔وہ نہیں جانتی تھیں ساری گیم اس بار الٹی پڑ نے والی ہے۔۔۔

ہوا اس بار مخالف سمت میں چلنے والی تھی۔۔۔وہ چاھتے تو نسرین بیگم کو اسی رات مار کر بدلہ لے سکتے تھے مگر ان کو لوگوں کو ڈس کر مزہ آنے لگا تھا۔۔۔انسان بنے رہنے کی قیمت میں وہ ایک لمبے عرصہ سے اپنی فطرت کو بھولے ہوۓ تھے وہ نہیں چاھتے تھے کہ وہ نسرین بیگم کو مار کر اپنا غصہ کم کریں۔۔۔وہ اپنا ڈر بناے رکھنا چاھتے تھے۔۔ جب لوگ ان کے ڈر سے ان کو پوجتے یا اپنی بیٹیوں کو ان کے نکاح میں باندھتے تو وہ

خوش ہوتے اور ان کو کچھ نا کہتے۔۔۔

سردار سخت پریشان تھا وہ مرنے سے پہلے پہلے یہ موت کاکھیل ختم کرنا چاہتا تھا۔۔۔پہلے اس نے زینب کو اشارے دینے کی کوشش کی مگر کوئی فائدہ نا ہوا آخر اس نے صاف صاف کبیر کو وہ سارا سچ دکھا دیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حال۔۔۔

(کبیر سلطان کے ساتھ گھر واپس آیا تھا جب وہ سب جان چکا ہے کہتا ہے یہ سین تب کے بعد کے ہیں)

“زینب؟؟؟؟؟”

وہ سلطان کو شام میں آنے کا کہہ کر اندر آیا تھا۔

زینب ظہر ادا کرنے میں مصروف تھی اس کی طرف سے کوئی جواب نا پا کر وہ ایک نظر ٹی وی دیکھتی ماں پر ڈال کر اپنے کمرے میں آیا تھا۔اسے نظر انداز کرتا دیکھ نسرین بیگم کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے وہ دل ہی دل میں آنے والے طوفان کا اندازہ لگا رہی تھیں۔

“آپ آ گئے۔۔۔ میں کھانا لگاتی ہوں”

وہ دعا مانگ کر چہرے پر ہاتھ پھیر کر جائے نماز فولڈ کرتے ہوۓ بولی تھی۔

“نہیں۔۔۔ مجھے سکون چاہیے زینب۔۔۔ایسا لگ رہا ہے میں کہیں کھو جاؤں گا۔۔ “

وہ زینب کو ہاتھ سے منع کرتا ادھر ہی جائے نماز پر اس کی گود میں سر رکھ کر بولا تھا ۔

“کبیر۔۔۔کیا بات ہے آپ ابھی تک پریشان ہیں شکار کے گوشت کو لے کر؟؟؟”

وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر تی ہوئی محبت سے بولی تھی۔

“زینب۔۔۔تم کبھی نماز نہیں چھوڑتی۔۔۔اور میں کبھی پڑھ ہی نہیں پایا۔۔ میں نے ایسا کیا کیا ہے جو ایک سجدہ بھی ادا نہیں کر پاتا میں؟؟؟اللّه مجھے کیوں اس قابل نہیں سمجهتا؟؟؟؟”

آنسو اس کی آنکھوں سے بہہ کر گال پر آیا تھا۔

“اس سوال کا جواب آپ کے اندر موجود ہے کبیر۔۔ میں نہیں بتا سکتی۔۔۔آپ کو کتنا ٹائم ہوا خود سے ملے؟؟؟”

زینب کے سوال پر کبیر کے رونے میں شدت آئی تھی۔

“مجھے سکون دو زینب ورنہ میں پاگل ہوجاؤں گا۔۔۔”

وہ زینب کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر تڑپ کر بولا تھا۔

“اپنے اندر کا سکون خود کھوجنا پڑتا ہے کبیر۔۔ یہ وہی ملے گا جہاں آپ نے اس کا سودا کیا تھا۔۔۔”

زینب کی بات پر کبیر کا رنگ اڑ گیا تھا۔

“تم کیا جانتی ہو زینب؟؟؟”

وہ گھبرا کر بولا تھا۔

“میں بس اتنا جانتی ہوں کبیر۔۔ جب آپ جانتے تھے اس جنگل میں آنے کے لئے کوئی بھی راضی نہیں ہو رہا تھا تو آپ نے دو گنی تنخوا کی لالچ میں اپنے سکون کا سودا کیوں کیا؟؟؟؟ وجہ کیوں نہیں جانی اس بات کی؟؟؟؟”

زینب نے بہت پیار سے پوچھا تھا۔

“ماں نے کہا تھا۔۔۔۔۔جنگل گھنا ہے بس اس لئے ۔۔۔۔مجھے وجہ پوچھنے سے منع کیا۔۔۔”

وہ دکھی سا بولا تھا۔

“کبیر بیٹا۔۔۔تم سیدھے بیوی کی گود میں آ بیٹھے۔۔۔ماں نہیں نظر آئی انتظار کرتی؟؟؟”

وہ چاہ کر بھی اپنے الفاظ سے اپنے اندر کا خوف نہیں چھپا پائی تھی۔۔

“زینب ان سے کہو میں ان سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔۔۔یہ یہاں سے چلی جائیں۔۔”

وہ بد لحاظی سے چیخا تھا۔

“یہ کیا کہہ رہا ہے زینب کیا پٹی پڑھائی ہے تم نے اس کو ؟؟؟”

نسرین بیگم نے ساس ہونے کا ازلی ثبوت دیا تھا۔

“آنٹی۔۔۔۔میں نے۔۔۔م۔۔م۔۔۔م۔۔۔میں۔۔۔نے کچھ نہیں کہا کبیر کو۔۔۔”

وہ گھبرا کر کھڑی ہو کر بولی تھی۔

“آپ نے کیوں مارا میرے باپ کو؟؟؟؟” آپ میری مجرم ہیں۔۔۔۔ماں ہوتیں تو مجھے یتیم نا کرتیں۔۔۔”

وہ بری طرح رو دیا تھا۔

نسرین بیگم بنا کچھ کہے کمرے سے باہر آ گئی تھیں۔

زینب جو بنا آواز کے رو رہی تھی۔اب ششدر کھڑی کبیر کو دیکھنے لگی تھی۔

کبیر نے ساری بات جائے نماز پر بیٹھے بیٹھے ہی اسے بتا دی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ جواب میں کچھ کہتی سلطان کی آواز نے ان دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ وہ دونوں جلدی سے باہر آ گئے تھے جہاں وہ بیہوش نسرین بیگم کو پکڑ ے کھڑا تھا جو اپنی نبض کاٹ چکی تھیں خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے وہ بیہوش ہو چکی تھیں۔

ان کو فوری طور شہر لے جایا گیا۔جہاں خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے اور فشار خون بہت نیچے آ جانے کی وجہ سے ان کے دل و دماغ نے کام چھوڑ دیا تھا وہ مفلوج ہو گئی تھیں ۔کچھ عرصہ کے علاج سے اتنا ضرور ہوا تھا کہ وہ آنکھیں کھول کر ہاں ناں کرنے لگی تھیں۔۔

کبیر نے وہی کیا جو سلطان نے کہا۔۔۔اس نے ان سب سے معافی مانگی۔۔۔

پورا جنگل جمع تھا۔

“میں یہی ساری زندگی گزار دوں گا۔۔۔ کوئی آپ لوگوں کا استحصال نہیں کرے گا۔۔۔میں یہاں کوئی ایسا پروجیکٹ نہیں لاؤں گا۔۔ جس کا مطلب ۔۔۔ہے۔۔۔میری کبھی پرومو شن نہیں۔۔۔۔۔نہیں ہوگی۔۔۔”

وہ ایک لمبی سانس کھینچ کر بولا تھا۔۔۔

“بدلے میں آپ سے بس امن چاہتا ہوں”

وہ رو دیا تھا۔۔۔

وہ سب سردار کے گرد جمع ہو کر اس سے لپٹ گئے تھے جس کا مطلب اس سے معافی مانگنا اور اسے سرداری واپس دینا تھا۔۔۔سردار نے ایک لمبے عرصے سے اپنے زخموں کو مندمل نہیں ہونے دیا تھا۔۔۔اسے جب بھی کسی انسان کی ڈس کر مرنے کی خبر ملتی وہ خود کو خود ڈس کر خود کو اذیت دیتا۔۔۔اور پھر فیکے کی ناگن بیٹی اپنی خوبی کی بنا پر اس کا اثر ختم کرتی اور اسے موت نا آتی۔۔ وہ یہ کام سردار کے حکم سے ہی کرتی وہ زندہ رہنا چاہتا تھا۔۔۔تب تک جب تک امن نا قآئم ہو جاتا۔۔۔

نسرین بیگم فالج کی وجہ سے بگڑی صورت کے ساتھ مڑے ہاتھ پاؤں کے ساتھ وہاں رال ٹپکا تی سب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔سلطان کی روح جسم سے آزاد ہو کر آسمان میں جا چکی تھی۔

سردار کے زخم اب زیادہ تکلیف دینے لگے تھے۔۔۔وہ اپنا خواب پورا ہوتا دیکھ اب سکون چاہتا تھا وہ اب پر سکون موت چاہتا تھا۔۔

وہ وہاں موجود سب پر ۔۔۔۔اس جنگل کے اس سکون کو محسوس کر کے آنکھیں بند کر چکا تھا۔۔۔۔ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو سال بعد۔۔۔۔۔

“زینب۔۔۔”

کبیر اپنے بیٹے کو گود میں لئے محبت سے بولا تھا۔

“ہمممم۔۔۔۔”

وہ ندی کے کنارے پانی میں پاؤں ڈالے سرور سے بولی تھی۔۔۔

“تم جانتی ہو میرا پروموشن ہوگیا ہے۔۔۔ “

وہ گول مٹول موسیٰ کے نرم گال چوم کر بولا تھا

“اچھا۔۔۔”

وہ نارمل سے انداز میں بولی تھا۔۔۔

“اور۔۔۔۔”

اس سے پہلے کے وہ بات مکمل کرتا زینب بولی تھی۔

“اور آپ نے حسب وعدہ انکار کر دیا۔۔۔جانتی ہوں میں۔۔۔۔کیوں کہ دوسری جگہ جانا شرط تھا۔۔۔آئ لو یو کبیر فار داٹ۔۔۔آپ اپنے وعدے پر ڈٹے ہیں۔۔۔”

وہ چہک کر بولی تھی۔۔۔

“نہیں اس بار میری پروموشن کو تبا دلے سے منصوب نہیں کیا گیا۔۔۔بلکہ جب سے میں یہاں آیا ہوں لوگوں کے روز روز سانپ کے ڈنگ سے مرنے کے حادثات کا خا تمہ ہونے کی وجہ سے مجھے بہترین امن کے سفیر کے اعزاز سے نواز کر پروموٹ کر دیا گیا ہے۔۔۔میں بہت خوش ہوں زینب۔۔۔”

وہ مسکرا کر بتا رہا تھا۔۔۔

“سچ کہتے ہیں کبیر اللّه نے جو رزق لکھ دیا وہ مل کر ہی رہتا اب وہ ہم پر ہے کہ ہم کس طریقے سے اسے حاصل کرتے ہیں۔ ۔۔حلال یا حرام۔۔۔۔”

وہ موسیٰ کو اس کی گود سے لیتی بولی تھی۔

“کاش آج امی زندہ ہوتیں تو میں ان کو بتاتا۔۔۔وہ جہاں مجھے دیکھنا چاہتی تھیں آج میں وہی ہوں۔ بنا کسی کو تکلیف دیے۔۔۔۔میں ان کو بتاتا۔۔ نصیب سے زیادہ اور وقت سے پہلے کچھ نہیں ملتا۔۔”۔

کبیر نے آنکھوں کی نمی کو زینب سے چھپاتے ہوۓ کہا تھا۔۔

” میں ان کو بتاتا کسی کی جڑ یں کاٹ کر ہم تناور درخت نہیں بن سکتے ۔۔۔۔میں بتاتا۔۔۔۔میں۔۔۔بڑا افسر ۔۔۔۔ویسے بھی بن سکتا تھا۔۔۔۔ان کو ۔۔۔۔ان کو۔۔۔۔وہ سب۔۔۔نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔”

وہ بری طرح رو دیا تھا۔۔۔

“کبیر ہر انسان یہی سمجھتا ہے وہ جو دوسروں سے چھین کر حاصل کرتا ہے اسے لگتا ہے وہ اس کی اپنی وجہ سے ہے مگر۔۔۔اصل میں وہ ۔۔۔وہ تو اس کا اپنا نصیب ہوتا ہے۔۔

وہ آپ کی ماں ہیں۔۔۔اور والدین کافر بھی ہو تو ان کی اطاعت اولاد پر لازم ہے فرض ہے۔۔۔آپ بس ان کےحق میں دعا کر دیا کریں۔۔۔وہ اب نہیں رہی۔۔۔آپ جانتے ہیں ان کا آخری وقت بہت۔۔۔۔بہت مشکل تھا۔۔۔اتنا مشکل کے۔۔۔کبھی کبھی مجھے لگتا ہے وہ اپنی آدھی نہیں تو کچھ سزا دنیا میں ہی معاف کروا چکی ہیں۔۔ آپ ان کو معاف کر دیں۔۔ “

زینب نے کبیر کے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا تھا۔۔

“یہی تو تکلیف ہے مجھے ۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ ان پر ۔۔۔۔ان پر ۔۔۔عذاب۔۔”

وہ کرب سے بولا تھا۔۔

“بہت آسان ہے کبیر۔۔ نیک اولاد صدقہ جاریہ ہوتی ہے۔۔۔وہ اپنے نیک اعمال سے والدین کو اس دنیا سے جانے کے بعد بھی بخشوا سکتے ہیں۔۔۔آپ بس ان کے لئے دعا کیا کریں”

زینب کی بات سے کبیر آنسو صاف کر کے مسکرا دیا تھا۔۔

وہ دونوں موسیٰ کو پیار کرتے گھر کی طرف روانہ ہوۓ تھے۔۔

ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔۔۔پورا جنگل پر سکون تھا۔۔چڑیا چہچہا رہی تھیں۔۔