Jungal by Jameela Nawab Readelle 50384 Jungal Episode 8
Rate this Novel
Jungal Episode 8
Jungal by Jameela Nawab
ماضی۔
“کیا بات ہے فیاض صاحب آپ کافی پریشان لگ رہے ہیں،کوئی مسئلہ ہے کیا ؟؟؟”
نسرین بيگم چاۓ کا کپ لے کر پاس بیٹھ گئی تھیں۔
“ہاں ۔۔علاقے کے لوگ کام میں بہت روکاوٹ ڈال رہے ہیں ۔۔۔۔دماغ کا دہی کر کے رکھا ہے ۔۔۔”
وہ سر کو مسلتے کرب سے بولے تھے۔
“کیا دھمکیاں دی ہیں ؟؟؟”
نسرین بيگم نے جگہ بدل کر غصے سے پوچھا تھا۔
“یہی سمجھ لو ۔۔۔انسانیت کی پٹی باندھنا چاھتے ہیں میری آنکھوں پر ۔۔۔وہ چاھتے ہیں کہ ہم یہ مشن روک دیں اور یہاں سے چلے جایئں ۔۔۔”
اس کے بعد فیاض چوہان نے سردار اور اس عورت کی ساری گفتگو بیوی کے گوش گزار کر دی۔وہ ان بیویوں میں سے ہرگز نہیں تھی جنہیں شوہر کے دنیا آخرت کی فکر ہوتی ہے ۔۔۔جو اپنے مشوروں میں حلال حرام اور گناه ثواب کا بھی خیال رکھتی ہے۔وہ تو ایک لالچی عورت تھی جسے پیسے سے زیادہ ایک بڑے آفسر کی بیوی کہلاوانا عزیز تھا۔
“ان کی تو ایسی کی تیسی ۔۔۔کوئی ضرورت نہیں کسی کے مگر مچھ کے آنسو دیکھ کر گمراہ ہونے کی ۔۔۔ہمارا بھی بیٹا ہے ہمیں اس کے لئے بھی کچھ بنانا ہے ۔۔۔کل کو ہم ہو نا ہو ۔۔۔تو کیا مستقبل ہے اسکا اس تھوڑی سی سركاری تنخوا میں کیا بنا سکتے ہیں آپ میرے کبیر کے لئے ؟؟؟؟؟
وہ لڑنے والے انداز میں ایک بار پھر جگہ بدل کر بولی تھی۔
“تم سمجھنے کی کوشش کرو میرے ساتھ کے لوگ اس پروجیکٹ سے ڈر کے مارے ہاتھ اٹھا چکے ہیں ۔۔کام بند ہو چکا ہے ۔۔ اس جنگل میں ہم اکیلے رہ گئے ہیں ۔۔۔میں کیا کروں ؟؟؟پورا جنگل کیسے اکھاڑ کر عمارت بنا دوں۔۔؟؟؟؟؟
چوہان نے بے بسی سے کہا تھا۔
“میں آپ کے ساتھ چلتی ہوں ۔۔۔ہم اپنے خرچے پر مزدور لاتے ہیں اور دن رات کام کروا کر اس پروجیکٹ کو کامیاب بناتے ہیں ۔۔۔یہ تو اور بھی اچھا ہوا ۔۔ سارا کا سارا کریڈٹ آپ کو ہی چلا جائے گا ۔۔۔زندگی سنور جائے گی ہماری ۔۔۔۔”
وہ چاۓ کا کپ پورا انڈیل کر خوشی سے بولی تھی۔
“چلو ٹھیک ہے ۔۔”
چوہان فیاض نے فورا ہار مانتے ہوۓ حامی بھر لی تھی۔
“وہ دونوں بستی میں گئے جہاں اس وقت تمام سانپ انسانی روپ میں تھے۔گندے مندے نيكر کے نام پر كپڑا باندھے ننگے بچے بارش کے انتظار میں کچے گھروں کے آگے بیٹھے منہ پر دونوں ہاتھ رکھے ہوۓ آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے۔جو بس آنے کو تھی۔
اتنے میں چوہان بیوی سميت وہاں پہنچا تھا۔وہ بچے حیرانگی سے انکو دیکھ کر اندر بھاگ گئے تھے۔
نسرین نے ہلکا سا دروازہ بجایا اور غرور سے اندر چلی گئی۔
وہ گھر بہت سے لوگوں سے بھرا ہوا تھا ایسا لگ رہا تھا پورا خاندان ایک ہی گھر میں رہتا ہے۔وہ لوگ شاید کوئی خوشی منا رہے تھے۔ہر کسی کے چہرے پر تشکر کے تاثرات تھے۔
“آجائیے اندر ۔۔۔بیٹھیں ۔۔۔”
ان میں سے ایک عورت محبت سے نیچے بھیچے ٹاٹ پر جگہ صاف کرتی ہوئی بولی تھی۔
“نہیں ۔۔۔میں بیٹھنے نہیں آئی ۔۔۔کیا میرے میاں بھی اندر آ سکتے ہیں ؟؟کچھ بات کرنی ہے ہم نے آپ لوگوں سے مل کر ؟؟؟”
نسرین بيگم نے ناک پر ہاتھ رکھ کر ان سے ناگواری کا نا چاھتے ہوۓ بھی تاثر دے دیا تھا۔
“جی ۔۔۔جی ۔۔۔بلکل ۔۔ “
اتنے میں ایک آدمی جلدی سے چوہان کو اندر لے آیا تھا وہ خوش تھے کہ کام روک دیا گیا ہے ۔۔۔مزدور ڈر کے مارے ادھر ہی سركاری مشینری چھوڑ کر جا چکے تھے۔کیوں کہ سردار نے ایک بستی کا آدمی بھیج کر انکو اس بستی کو موت کی وادی قرار دے دیا تھا کہ یہاں پر جن بھوت کا سایہ ہے ۔۔۔وہ محنت کش مزدور لوگ جن کے پاس ہارنے کو بس سانس ہوا کرتی ہے جان بچا کر بھاگ گئے تھے۔
“صاحب ہم آپ کے بہت شکر گزار ہیں ۔۔۔آپ نے کام روک کر ۔۔۔بہت اچھا کیا ۔۔۔”
ایک آدمی سرشاری سے بولا تھا۔
“دیکھو ۔۔۔میں نے کام نہیں روکا ۔۔۔میں تم سب کے ساتھ ایک ڈیل کرنے آیا ہوں ۔۔۔تم لوگ اس کام میں میری مدد کرو ۔۔۔میں وعدہ کرتا ہوں ۔۔۔میں تم لوگوں کو پكے گھر بنا کر پوری ایک کالونی بنا کر دوں گا ۔۔۔جہاں ہر سہولت ہوگی ۔۔۔۔”
چوہان نے پہلا پتہ پھینکا تھا۔
“صاجب اگر کوئی آپ کو آپ کے اپنے ہی گھر میں جگہ دینے کی بات کر کے احسان جتانے کی کوشش کرے تو یہ ٹھیک ہوگا ؟؟؟”
دوسرا ناگ سر نفی میں ہلاتا ہوا افسوس سے بولا تھا۔
“تم لوگ سمجھتے کیوں نہیں ہو ؟؟؟آخر کیا کروگے اس پورے جنگل کا ؟؟؟؟ہم نے تو سیاحت کے لئے استعمال کرنا ہے اس کا تم لوگ تو اتنی سی جگہ میں بھی خوشی خوشی رہ ہی رہے ہو ۔۔۔”
چوہان کا لہجہ تلخ ہوگیا تھا۔
“نہیں ۔۔۔۔آپ جا سکتے ہیں ۔۔۔”
ان سب کی آنکھیں غصے سے لال ہوگئی تھیں وہ ان دونوں کے گرد دائرہ بنا کر بولے تھے۔
وہ دونوں فورا اٹھ کر باہر آ گئے تھے۔
“چلو شہر سے لاتے ہیں مزدور ۔۔۔”
اب وہ شہر کی طرف جا رہے تھے۔ابھی وہ بیچ راستے میں تھے۔جب ان کو ایک آدمی ملا تھا۔
“فیاض اس سے کرو بات”
نسرین نے جلدی سے کہا تھا۔
چوہان نے اسے ساری بات بتا کر اپنے ساتھ اور لوگوں کو لانے کا اور بھاری رقم دينے کا لالچ دیا مگر وہ آدمی حیرانگی سے
سے نفی میں سر ہلاتا رہا۔
“صاحب ۔۔۔وہ بستی ناگوں کی ہے ۔۔۔وہ انسان اور جنگلی حیات دونوں بن کر رهتے ہیں ۔۔۔بہتر ہوگا آپ وہاں سے چلے جائیں ۔۔”
“کوئی تو حل ہوگا ؟؟؟”
چوہان نے بیوی کی طرف دیکھ کر بے بسی سے پوچھا تھا جو کم از کم اس آدمی کی بات پر کسی صورت یقین کرنے والی نہیں تھی۔
“ہاں ۔۔۔۔وہ بستی کے سانپ رات کے پہر ایک سے تین کے درميان انسانی شکل سے چاہ کر بھی اصلی شکل میں نہیں آ سکتے اور گہری نیند سوتے ہیں اگر اس دوران ان کو کسی طریقے سے مار دیا جائے ۔۔تو ۔۔۔اس جنگل میں باقی حیات کا زور ٹوٹ جائے گا ۔۔۔اور سردار جو کہ خود بھی ایک ناگ ہے ۔۔۔اس کی کوئی نہیں مانے گا ۔۔۔اس طرح وہ لوگ تفرقے میں پڑ جائے گے اور آپ کی بات ماننے والے بھی پیدا ہو جائے گے ۔۔۔”
وہ آدمی موسم کے خطرناک تیور دیکھ کر بات مکمل کر کے ہاتھ سے سلام کرتا وہاں سے چلا گیا تھا۔
کچھ ہی دور جا کر اس نے ایک چیل کی شکل اختیار کر لی تھی جو سانپ کی فطری دشمن ہوا کرتی ہے ۔۔۔یہ وہ ہی چیل تھی جسے سردار کی بات سے سخت اختلاف تھا۔
وہ اپنے خاندان کے بے رحمی سے قتل کا بدلا لینے کا بندوبست کر چکی تھی۔
صحیح کہتے ہیں ۔۔ڈرو اس بندے سے جو اپنا سب کھو چکا ہے ۔۔۔اس پر ترس کھانے کی بجاے اس سے خوف کھاؤ ۔۔۔کیوں کہ ایسا شخص بچھو کے ڈنگ سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے ۔۔۔جس کی اپنی زندگی برباد ہو چکی ہو اس کے لئے کسی کی زندگی کوئی معنی نہیں رکھتی پھر یہی وجہ ہے کہ اسلام میں کسی کی مصیبت پر اس پر ترس کھانے سے منع کیا گیا ہے بلکہ اس میں خدا کی مصلحت سمجھ کر آگے بڑھ جانا چاہیے ۔۔خدا کہتا ہے مجھ سے زیادہ میرے بندے سے کوئی محبت نہیں کرسکتا اور اگر سب اختیار میں ہو کر بھی میں کسی سے سب چھينتا ہوں تو کوئی نا کوئی وجہ ہوا کرتی ہے بے شک بندہ بے بس ہے اللّه نہیں لہذا کسی برباد شخص کو اس کی بربادی اور رب کی طرف سے زیادتی کا احساس اپنائیت میں بار بار مت دلاؤ یہ انجانے میں اسے بغاوت کی راہ دکھانا ہےاور پھر ۔۔۔۔حسد اور جلن میں اسے مزہ آنے لگتا ہے دوسروں کی زندگی سے کھیلنے کا ۔۔۔یہی یہاں ہوا تھا ۔۔۔ایک ذات کی حسد نے پورے جنگلی حیات کی زندگياں داؤ پر لگا دی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ رات کا کوئی پہر تھا جب نسرین بيگم اپنے بیٹے کبیر کو سلانے میں مصروف تھیں۔بار بار تیز ہوا سے کھڑکی کا پرده اٹھ رہا تھا۔ٹھنڈی ہوا پورے کمرے کو خنکی پہنچا رہی تھی۔چوہان باہر برآمدے میں بیٹھا ساری واردات ترتیب دے رہا تھا۔جب نسرین بیٹے کے گہری نیند میں تسلی کر لینے کے بعد آہستہ سے دروازہ بند کرتی باہر آئی تھی۔برآمدے میں جلتا پیلا بلب اور آسمان پر چمکتی بجلی نے اس رات کی پراسراریت کو چار چاند لگا رکھے تھے۔
“کیا سوچا ہے کیسے مارنا ہے ان کو ؟؟؟”
نسرین بيگم نے خراب موسم کا جائیزہ لیتے ہوۓ برآمدے سے باہر نکل کر صحن کا چکر لگا کر بیٹھتے ہوۓ راز داری سے پوچھا تھا۔
“بيگم اگر وہ واقعی انسان ہی ہوے ۔۔۔سانپ والی کہانی جھوٹی ہوئی تو اتنی تعداد میں اپنے ذاتی مفاد کے لئے انسانوں کا قتل ۔۔۔۔۔”
وہ سر نفی میں دھن گیا تھا۔
“وہ سانپ ہی ہیں چوہان ۔۔ “
نسرین بيگم نے یقین سے کہا تھا۔
“نہیں ۔۔۔۔آج رات ہم تسلی کریں گے ۔۔۔پھر ۔۔۔کل رات ان کو مار دے گے ۔۔”
چوہان نے فائل بند کرتے ہوۓ صحن میں دیکھا تھا جہاں بارش شروع ہو چکی تھی۔
“ایک بات یاد رکھیں ۔۔۔۔چوہان فیاض صاحب ۔۔ بہت مشکل سے اللّه نے مجھے اپنے بیٹے کی زندگی سنوارنے کا موقع دیا ہے ۔۔۔جو میں آپ کے ڈر کی وجہ سے کسی قیمت پر کھونے نہیں دے سکتی ۔۔۔وہ سانپ نا بھی ہوۓ تو میں ۔۔۔۔”
نسرین بيگم کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی طوفانی بارش میں ایک درخت صحن میں ٹوٹ کر نیچے گرا تھا۔اس کی ایک شاخ برآمدے میں آ کر گری تھی چوہان فوری جگہ نہ بدلتا تو وہ اس کی نوک سے موقعے پر ہی شدید زخمی ضرور ہو جاتا اگر بچ بھی جاتا تو ۔۔
“آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟”
نسرین بيگم اٹھ کر چوہان کے پاس آئی تھیں۔جس پر اس نے سر ہلا کر اس کی بات کا جواب دیا تھا۔چلیں پھر ؟؟؟؟”
نسرین بيگم کا انداز حکمیہ تھا۔چوہان جانتا تھا انکار کی صورت یہ جینا حرام کر دے گی وہ سر ہلا کر اندر سے برساتی لینے چلا گیا۔
“وقت دیکھو ابھی بارہ بج رہے ہیں۔مطلب وہ سانپ کے روپ سے انسانی روپ میں ایک گھنٹے تک آ جائے گے ۔۔۔تب تک ہم اپنی تسلی کر لیں گے ۔۔۔۔”
طوفانی بارش میں وہ دونوں سیاہ برساتی پہنے گھر سے چل پڑے تھے۔ہوا اتنی تیز کے کبھی ایسا لگتا ان کو ابھی اٹھا کر دور پھینک دے گی۔وہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ایک دوسرے کو سمنبهالنے میں لگے تھے۔ہوا کی آواز بھیانک ہوتی جا رہی تھی بارش کے قطرے ہوا کی وجہ سے تیز دھار تلوار کی طرح جسم کو لگ کر چھب رہے تھے مگر وہ دونوں لالچ میں موت کو فراموش کئے بس اپنی دھن میں چلے جا رہے تھے۔آخر پندرہ منٹ کا فاصلہ آدھ گھنٹے میں مکمل ہوا تھا۔
وہ بستی پہنچ چکے تھے۔
گہری انسا نی خاموشی ۔۔۔۔بس تیز بارش اور ہوا کا شور۔۔۔ایسا لگ رہا تھا کچھ ہونے والا ہے۔وہ دونوں ان سوے ہوۓ انسانی شکل کے سانپوں کے لئے موت کا فرشتہ بن کر بستی میں داخل ہوۓ تھے۔
“سنو یہ سب واقعی سانپ ہی ہیں ورنہ کون سا انسان اس طوفانی بارش میں کھلے صحن میں پوری فیملی سمیت سوتا ہےاب ہمیں مزيد دیر نہیں کرنی چاہیے ورنہ یہ لوگ جاگ گئے تو لینے کے دینے پڑ جائییں گے”
نسرين بيگم نے چمکدار چاکو کاغذ میں لپٹا ہوا باہر نکا لتے ہوۓ کہا تھا۔
فیاض چوہان کی طرف سے کوئی جواب نا پا کر اس نے ان کی طرف بد مزاجی سے دیکھا تھا۔ان کا پورا جسم کانپ رہا تھا جو یہ صاف بتا رہا تھا کہ وہ اس کام کے لئے ذہنی طور بلکل بھی تیار نہیں ہیں۔
“چوہان صاحب؟؟؟؟؟کیا سوچ رہے ہیں؟؟؟؟” ان کے جاگنے کے منتظر ہیں کیا؟؟؟؟”
وہ دبی دبی آواز میں چیخی تھیں۔
“نسرین بیگم جنگلی حیا ت کو مارنا آسان تھا اس طرح میں ان کو کیسے ماروں؟؟؟یہ سب انسان ہیں اپر سے بچے اور بوڑھے بھی شامل ہیں ان میں؟؟؟؟”
وہ بارش کی بوندوں کو سر سے الگ کرتا ہوا بے بسی سے منمنایا تھا۔
“اف۔۔۔۔میرے خدا یا۔۔۔۔۔سانپ ہیں یہ سب چوہان صاحب ۔۔۔۔آپ کو سانپو ں کو ماریں گے ۔۔۔۔سانپوں کو۔۔۔ یہی آخری حل ہے۔۔۔آخر ہم بھی کچھ ترقی کریں گے کہ میں ساری عمر آپ کے ساتھ ان جنگلوں میں۔۔ جنگلی جانوروں میں گزار دوں گی؟؟؟؟نہیں۔۔۔مسٹر چوہان۔۔۔ہر گز نہیں۔۔۔۔۔ناٹ آ ٹ آل۔۔۔۔”
لالچ کی آواز بلند ہوگئی تھی۔
“میں۔۔۔۔میں۔۔۔کوئی اور حل تلاش کر لوں گا۔۔۔شہر سے بندے منگوا لوں گا۔۔۔۔یہ کام ان کے خاتمہ کے بغیر بھی ہو جائے گا۔۔ “
اس کی آواز میں التجا اور لہجے میں لچک تھی شاید۔۔۔یہی وجہ تھی کہ اس کی لالچی بیوی پر اس کی بات کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا الٹا اس کی بات نے اسے ہتھے سے اکھاڑ دیا۔
“ڈر پوک انسان۔۔۔۔”
“ٹھیک ہے۔۔۔۔تم ابھی کے ابھی طلاق دو مجھے۔۔۔۔نہیں رہنا مجھے ایک جوہڑ نما انسان کے ساتھ جو بس ساکن رہنا چاہتا ہے۔۔۔۔جس کے وجود کو پھوپھوندی لگ گئی ہے ۔۔۔۔ڈر اور خوف کی۔۔۔۔یہ کیوں نہیں کہتے دم نہیں ہے تم میں؟؟؟؟یہ انسانیت کا جھوٹا راگ آلا پنا بند کرو۔۔۔”
نسرین نے غصے سے سیاہ بر سا تی اتار کر ہوا میں اچال کر چہرے پر آتی گیلی لٹوں کو بے رحمی سے پیچھے کرتے ہوۓ کہا تھا۔
چوہان نسرین کو حیران پریشان دیکھتا رہ گیا کچھ لمحے ایسے ہی گزر گئے تھے۔گہری خاموشی بس جھل تھل کا شور۔۔۔۔
فیصلہ کرنے کے لئے یہ لمحے چوہان کے لئے کافی تھے۔
“میں فیاض چوہان ولد اللّه بخش چوہان نسرین بیگم تمہیں اپنے پورے ہوش و حواس میں اپنی زوجیت کے حق سے آزاد کرتا ہوں۔۔۔۔آزاد کرتا ہوں۔۔۔۔آزاد کرتا ہوں۔۔۔ میں تمہیں طلاق ثالثہ دیتا ہوں۔۔۔”
وہ الفاظ نہیں تھے گرم چار کول تھی جو نسرین بیگم کے کانوں میں انڈیل دی گئی تھی ۔
وہ کسی زخمی ناگن کی طرح پھنکھا ری تھی۔اس طوفانی شور میں بھی اس کی آواز بہت واضح سنائی پڑی تھی۔اس نے وہ چمکدار خنجر اس کے پیٹ میں پیوست کرنا چاہا تھا مگر چوہان نے ہاتھ آگے کر کر اس فوری رد عمل سے اپنا بچاؤ ممکن کیا تھا مگر اس کا ہاتھ اس حملے سے زخمی ہوگیا تھا خون تیزی سے پانی میں پانی ہو رہا تھا۔
“تم بہت پچھتاو گی۔۔۔۔”
وہ اتنا ہی کہہ سکا تھا ہاتھ سے مسلسل خون بہہ جانے کی وجہ سے اس کی آنکھیں بند ہونے لگی تھی۔اس کو کمزور پڑتا دیکھ نسرین بیگم نے اس کے پیٹ میں چا کو کے پے در پے وار کئے تھے۔اس دوران اس کی نظر جیسے ہی ہاتھ پر بندھی گھڑی پر پڑی اس نے چا کو اس کے پیٹ میں چھوڑا اور وہ گھر کی طرف بھاگ گئی۔
ایک بج چکا تھا وہ سارے انسان جاگ گئے تھے۔ان کی نظر جیسے ہی آفیسر پر پڑی وہ اس کی جان بچانے میں لگ گئے۔
“میں نہیں بچ پاؤں گا۔۔ تم لوگ بیکار کی کوشش کر رہے ہو تم لوگ بس میری بات غور سے سنو۔۔۔وہ عورت میرے بیٹے کا استعمال کر کے یہ سب ضرور دوہرا ے گی۔۔۔وہ بہت لالچی ہے۔۔۔۔تم لوگ یہ سب ہونے مت دینا۔۔۔۔اور مجھے معاف کر دینا۔۔۔۔”
اب اس کی سانس اکھڑ نے لگی تھی۔
اتنے میں سرد ار وہاں آ چکا تھا جو رات کو سونے سے پہلے ایک چکر ضرور لگایا کرتا تھا۔وہ اس کی ساری بات سن چکا تھا۔اس نے اپنی خاص شکتی کا استعمال کیا اور وہاں موجود ایک سانولے پر کشش لڑکے میں اس کی نکلتی روح کو آنے کی دعوت دے دی۔چوہان کا جسم روح چھوڑ چکا تھا مگر اس کی روح اس نوجوان میں آ چکی تھی وہ کھڑا اپنے لال خون میں لت پت وجود کو کسی تماشبین کی طرح تاک رہا تھا۔سر دار نے ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے ساتھ آنے کا کہا تھا۔
دوسری طرف نسرین بیگم گھر پہنچی تو وہ رستے میں جلدی میں بھاگ کر آ نے کی وجہ سے گا رے میں اٹکی ہوئی تھیں۔اس نے جلدی سے گھر کا داخلی دروازہ بند کیا اور اس جگہ آ کر ڈھیر ہو گئی جہاں وہ کچھ دیر پہلے اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھی منصو بہ بندی کر رہی تھی۔اس کی سانس بری طرح ہانپ رہی تھی اس سرد موسم میں بھی اس کا جسم پسینہ پسینہ ہو رہا تھا۔
“یہ میں نے کیا کر دیا۔۔۔۔میں نے اپنے ہاتھ سے اپنے بیٹے کو یتیم کر دیا میرے اللّه۔۔۔۔میں تو بہت محبت۔۔۔۔میں تو جان دیتی تھی چوہان پر۔۔۔پھر میں نے اس کی جان۔۔۔۔اس کی جان کیسے لے لی میرے خدایا؟؟؟؟” یہ بھی تو ہو سکتا ہے وہ بچ گیا ہو؟؟؟؟اگر وہ بچ گیا ہوا تو مجھے جیل کی سلا خو ں سے کوئی نہیں بچا سکتا۔۔۔۔”
کرب اتنا کہ آنکھوں نے برسنے سے انکار کر دیا تھا وہ خشک آنکھوں سے مسلسل رو رہی تھی۔۔۔۔اس نے خود کو تکلیف دے کر رولا نے کے لئے خود کے چہرے پر تھپڑوں کی بارش کر دی تھی اس کا چہرہ لال سرخ ہو چکا تھا گارہ الگ سے اس کا چہرہ بھیانک بنا چکا تھا مگر آنکھیں تھیں کہ اس کے دل کے غم سے بیگا نی۔۔۔۔۔
یہ اندازہ لگانا مشکل ہو رہا تھا کہ آ سمان اور اس کی آنکھوں میں کس کا دکھ بڑا تھا۔۔۔ کس کے برسنے میں زیادہ شدت تھی۔۔ وہ اسی حالت میں جانے کب سو چکی تھی۔
اس وقت دن کے آٹھ بج رہے تھے جب اس کی آنکھ داخلی دروازے کے زور زور سے بجنے سے کھلی تھی۔آنکھ کھلتے ہی دماغ میں کسی فلم ڈرامے کے پری کیپ کی طرح رات کا پورا منظر آنکھوں کے سامنے آیا تھا۔اس نے جلدی سے کمرے میں جا کر صاف جوڑا نکال کر پہنا تھا کبیر اب بھی سو رہا تھا۔وہ نارمل انداز میں دروازے کی طرف آئی تھی۔
“کون ہے؟؟؟فیاض گھر پر نہیں ہیں”
وہ اپنی اندر کی کیفیت چھپاتی ہوئی دروازہ کھولتے ہوۓ بولی تھی جہاں اس علاقے کے چند لوگ جن میں سردار بھی شامل تھا ایک چار پائی کے ساتھ غم زدہ چہرے لئے کھڑے تھے۔
ان سب میں سردار وہ واحد بندہ تھا جس کی آنکھوں میں عجیب سی نفرت محسوس ہوئی تھی نسرین بیگم کو وہ اس کی موجودگی کی وجہ سے صدمے کا وہ رد عمل نہیں دے پا رہی تھی جو دے کر وہ خود کو اس سب سے انجان ظاہر کرنا چاہتی تھی۔
“کون ہیں آپ لوگ؟؟اور یہ سب کیا ہے؟؟؟کس ۔۔۔کس کی میت ہے یہ ؟؟؟؟”
وہ جھوٹی سی لرز تی آواز میں بولی تھی۔
“مشکل گھڑ ی ہے۔۔۔بیٹی۔۔۔”
ان میں سے ایک بزرگ آدمی نے نسرین بیگم کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ دکھی آواز میں کہا تھا۔اور ساتھ ہی یہ تفصیل بھی دی کہ وہ دور بستی سے کچھ لوگوں کے ساتھ جنگل سے جانوروں کے لئے گھاس لینے کے لئے حسب معمول صبح وہاں پہنچے تو وہاں ان کی لاش پڑی نظر آ گئی۔۔۔۔
“یہ تو جلدی آ جاؤں گا کہہ کر گئے تھے۔۔۔”
نسرین بیگم اتنا بول کر جھوٹی موٹی سر چکرا نے کی ایکٹنگ کرنے لگی۔۔۔
میت کو آبائی گاؤں دفنا نے کے بعد نسرین بیگم نے گھر والوں کے سامنے عجیب سی فرمائش رکھی۔۔۔محترمہ کا کہنا تھا وہ اپنی مکمل عدت اسی گھر میں جنگل میں اپنے بیٹے کے ساتھ گزارنا چاہتی ہے بڑوں نے بہت سمجھایا اور اس کی اس خواہش میں ساتھ رکنے پر بھی زور دیا مگر۔۔۔۔۔۔وہ نا مانی۔۔۔
دوسری طرف جنگل کی مخلوق سردار سے سخت بد ظن ہو چکی تھی۔۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میاں بیوی میں لڑائی نا ہوتی تو آج وہ سب اس دنیا سے جا چکے ہوتے۔۔ ان کا کہنا تھا سردار صرف باتیں کرتا ہے اصل میں وہ بھی بے بس ہے۔۔ خیر نسرین بیگم اپنے بیٹے کے ساتھ اسی گهر میں واپس آ چکی تھی۔
