489.8K
9

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Jungal Episode 1

Jungal by Jameela Nawab

“زینب؟؟؟؟”

“کہاں ہیں آپ؟؟؟”

نسرین بیگم نے اپنی نئی نویلی بہو کو آواز دے کر دوبارہ سے حکہ پھوکنا شروع کیا تھا۔

“جی آنٹی۔۔۔وہ میں نماز پڑھ رہی تھی”

زینب دوپٹہ ٹھیک کرتی مسکرا کر بولی تھی۔

“بیٹا میری چاۓ رکھ دیا کرو پھر پڑھ لیا کرو نماز”

وہ کش لیتی زبردستی مسکرا کر بولی تھیں۔

“جی آنٹی میں سو کر لیٹ اٹھی تھی تو بس نماز کا وقت نکل رہا تھا میں بس ابھی لا رہی ہوں۔”

“دیکھو بہو مہینہ بہت ہوتا ہے بستر توڑنے کے لئے اب ہر وقت سونا ۔۔۔۔۔۔۔تم خود سمجھ دار ہو۔۔۔میں نے کبیر کی شادی کی ہی اسی لئے تھی کہ مجھ بیچاری کے ساتھ بھی کوئی گھڑی وقت گزارنے والا ہوگا۔۔۔مگر نہیں۔۔۔۔ارے ادھر تو وہ ہی حکہ وہی تنہائی۔۔۔”

وہ سخت بد مزگی سے گویا ہوئی تھیں۔جس پر زینب جزر بزر ہوئی تھی۔وہ کچھ نا سمجھنے والے انداز سے جلدی سے کچن میں آئی تھی۔

“یہ رہی آپ کی چاۓ آنٹی”

وہ خوش دلی سے گرم گرم چاۓ نسرین بیگم کے پاس پڑی میز پر رکھ کر نرمی سے گویا ہوئی تھی۔

نسرین بیگم نے ایک طنز یہ نگاہ زینب پر ڈالی اور اپنی ساری نظریں ٹیوی پر مرکوز کردی۔کوئی ڈرامہ چل رہا تھا جیسے اب وہ پوری توجہ سے چاۓ کی چسکیوں کے ساتھ دیکھ رہی تھیں۔زینب بت بنی کبھی ٹیوی کو تو کبھی ساس کو دیکھ رہی تھی۔

اس پورے مہینے میں یہ بہت بار ہو چکا تھا جب وہ ایسے بی اپنی تنہائی کا رونا روتیں اور پھر زینب کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جاتیں۔۔۔زینب کو بس کبیر کی خوشی عزیز تھی جسے اپنی ماں سے اس پوری کائنات میں سب سے زیادہ محبت تھی نسرین بیگم اس سچ سے بخوبی واقف تھیں۔

اب زینب اس سرکاری گھر کا بے مقصد جائیز لے رہی تھی ساتھ ساتھ اپنی انگلیاں چٹخاتی وہ کبیر کی بے وقت راہ تاکنے لگی تھی۔

“آنٹی میں ذرا کیچن دیکھ لوں آپ ڈرامہ دیکھیں”

وہ ٹیوی میں مگن نسرین بیگم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر محبت سے گویا ہوئی تھی جس پر نسرین بیگم نے فقط اس کی طرف دیکھ کر اپنی نظر ٹی وی پر مرکوز کر دی تھیں۔

وہ کھانا بنا کر فارغ ہوئی تھی جب دروازے پر کبیر کی سرکاری گاڑی کا ہارن سنائی دیا تھا۔وہ گرم جوشی سے ہاتھ دوبٹے سے خشک کرتی جلدی سے گیٹ کی طرف آئی تھی۔

“السلام عليكم کبیر”

اس نے مسکرا کر بیگ لیتے ہوے کہا تھا۔

“وعليكم السلام میری جنت کہاں ہے؟؟”

کبیر نے حسب عادت ماں کا پوچھا تھا۔

“میں نے کہاں ہونا ہے بیٹا بس ریموٹ اور ٹی وی۔۔۔۔خیر توں سنا میرا بچہ آج بہت خوش لگ رہا ہے؟؟”

نسرین بیگم بیٹے کے گرد حصار بنا کر زینب کی موجودگی یکسر نظر انداز کرتی ہوئی بیٹے سے مخاطب ہوئی تھیں۔

“جی یہ ہوئی نا بات۔۔۔۔۔امی آج آپ کے بیٹے کا وہ خواب پورا ہو گیا ہے جس کے لئے میں نے برسوں محنت کی تھی۔”

وہ خوشی سے بولا تھا۔

زینب کو ان دونوں میں خود کا وجود غیر مناسب لگا تھا وہ گیٹ بند کرتی کچن کی طرف جانے کو تھی جب کبیر کی آواز نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔

“سب کا چھوڑ دو ادھر روم میں آؤ دونوں کے ساتھ میں اپنی خوشی شیر کرنا چاہتا ہوں”

نسرین بیگم کی مسکراہٹ پھیکی پڑی تھی۔جبکہ زینب خوشی خوشی روم کی طرف بڑھ گئی تھی۔

“امی میرا ہمیشہ سے یہ خواب تھا کہ کسی مووی کے سین کی طرح ایک خوفناک مگر بڑا سا بنگلہ کسی گھنے جنگل میں مجھے فارسٹ آفسیر کی حثیت سے ملے۔۔۔۔تو یہ خواب پورا ہوا۔۔۔۔۔”

آخری جملے میں اس کی آواز بلند ہوگئی تھی۔

“بس یہ سب میری دن رات کی دعا کا نتیجہ ہے بیٹا۔۔۔۔بھلے میں منافق لوگوں کی طرح دکھاوے کے سجدے نہیں کرتی مگر ہر وقت میری زبان پر درود کا ورد جاری ہوتا ہے۔۔۔۔۔”

نسرین بیگم کو زینب کی خوشی ہضم نہیں ہوئی تھی وہ ایک نظر اس پر ڈال کر بظاہر لحاظ سے کہہ رہی تھیں ۔مگر اس وقت ان کا نشان چونک گیا تھا کیوں کہ وہ دونوں بس اس خوشی میں ہی مگن تھے ۔

“جی امی بلکل یہ سب میری ماں اور میری بیوی کی دعا کا نتیجہ ہے،میں بہت خوش نصیب ہوں جو میری زندگی میں آنے والی دونوں عورتيں مجھ پر جی جان وارتی ہیں”

وہ دونوں کے ہاتھ اپنے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بولا تھا ۔

“خدا آپ کو ہمیشہ ایسے ہی خوش رکھے کبیر ۔۔۔۔اللّه آپ کو میری عمر بھی لگا دے ۔۔۔”

زینب نے سچائی سے کہا تھا ۔

“امین ۔۔۔۔اچھا بتاؤ آج کھانے میں کیا ملے گا زوجہ محترمہ ۔۔۔۔”

“آپ فریش ہو جایئں ۔۔۔میں بس آپ کی من پسند بریانی ٹیبل پر لگاتی ہوں “

زینب شرم سے لال پيلی ہوتی اٹھ کر کچن میں آئی تھی وہ جانتی تھی آج کبیر اس سے بہت سی پیار محبت کی باتیں کرے گا ۔۔۔وہ ہمیشہ جب بھی خوش ہوتا وہ رات دیر تک اپنے والد کی اچانک موت ،اپنی والدہ کی محنت اور اپنی کامیابی کی کہانی سنايا کرتا ۔۔۔اور زینب کے ساتھ روشن مستقبل کو پلان کرتا ۔۔۔

کھانا بہت اچھے ماحول میں کھایا گیا ۔۔

اگلے دن ہفتہ تھا ان کو آج ہی ضرورت کے سامان کے طور بس كپڑ ے رکھنے تھے کیوں کہ حکومت ان کو ہر بار ضرورت کا سارا سامان گھر میں ہی مہیا کر دیا کرتی۔

کبیر نے زینب کے ساتھ مل کر نسرین بيگم اور اپنی پیکنگ مکمل کی تھی ۔

شام کو ہی ان کو نکلنا تھا کیوں کہ کل اتوار تھا اور پير سے کبیر کو وہاں پر چارج سمبھالنا تھا ۔کیوں کہ اس علاقہ کی طرف سے حکومت کو بہت سی شکایات کا سامنا تھا نيز وہ علاقہ ایک عرصہ سے کسی سرکاری آفسیر سے محروم رہا تھا وجہ کم از کم کبیر کو کسی بندے کی عدم دستيابی بتائی گئی تھی۔

راستے کے لئے زینب نے چپس،چاول،پکوڑے اور تهرمس بھر کر چاۓ بنا لی تھی جبکہ کبیر بڑی مقدار میں بازار سے سنيك بھی خرید لایا تھا۔

شام کی نماز پڑھ کر زینب نے تیاری مکمل ہو جانے کا اشارہ دے دیا تھا۔

اب وہ تینوں سرکاری گاڑی میں آ کر بیٹھ گئے تھے جسے ڈرائیو کبیر نے خود ہی کرنا تھا وہ اس سفر سے دل کھول کر لطف اندوز ہونا چاہتا تھا اسے بتایا گیا تھا اس بنگلے تک کا راستہ بہت خوبصورت جگہوں سے ہوتا ہوا جاتا ہے وہ ان جگہوں پر رک کر مرضی کا وقت گزارنا چاہتا تھا یہی وجہ تھی کہ اس نے حکومتی ڈرائیور لینے سے معذرت کرلی تھی۔

اب سفر شہر کی پر رونق سڑکوں سے شروع ہوتا ہوا کچی سڑک پر اتر گیا تھا۔

اس دوران عشاء کی اذان بھی ہو چکی تھی زینب نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہی نماز پڑھ کر کھانے کا پوچھا تھا۔

کچی سڑک پر نیچے کی طرف ایک ڈھابہ نما بنی ہوئی تھی کبیر نے ادھر گاڑی روک دی تھی۔

اس نے اس ہوٹل پر موجود فقط دو آدمیوں سے اترکر مینو پوچھا تھا۔جس پر انہوں نے سر نفی میں ہلا کر کچھ بھی نا ہونے کا بتایا تھا ۔

وہ دونوں عجیب طرح سے کبیر کو دیکھ رہے تھے۔

“عجیب لوگ ہیں جب کچھ بنایا ہی نہیں تو رات کے اس پہر یہاں کیا کر رہے ہیں ۔۔۔”

کبیر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر غصے سے بولا تھا ۔

“کبیر کھانا ہاٹ پاٹ میں رکھ کر لائی ہوں،گرم بھی ہے اور آپ کا من پسند بھی ۔۔۔ آج کراچی بریانی بنائی ہے کل والی چکن تھی آج مٹن والی ہے ۔۔۔مرچیلی بھی ۔۔۔آپ بس ہاتھ دھلوا دیں ہمارے اور اپنے بھی ۔۔۔اس سے پہلے کے کھانا ٹھنڈا ہو جائے کھا لیتے ہیں”

زینب کھانے کو شاپر میں سے نکال کر سیٹ پر ترتیب دیتی مصروف سی بول رہی تھی۔جبکہ نسرین بيگم بیٹے کے ساتھ آگے والی سیٹ پر بیٹھ کر باہر کے موسم کے بگڑتے تيور کو جانچ رہی تھیں۔

“ہاں کبیر موسم خراب ہو رہا ہے ہمیں موسم کا حال دیکھ کر گھر سے نکلنا چاہیے تھا۔آگے راستہ بھی کچا ہے گاڑی پھنس گئی تو ؟؟؟بس جلدی سے کھانا کھا لیتے ہیں تا کہ باقی کی توجہ سفر کاٹنے میں لگائی جا سکے ۔۔”

وہ سیٹ بیلٹ کھول کر نیچے اتر گئی تھیں۔

بادل زور سر گرجے تھے۔وہ دونوں آدمی چہرے پر پراسرار سی مسکراہٹ لئے اس آسمانی بجلی کی چمک میں کچھ اور بھی عجیب لگ رہے تھے۔ساتھ ہی علاقے کی بجلی گل ہوئی تھی۔

وہاں لگے ہینڈز پمپ پر تینوں نے باری باری ہاتھ دھوے تھے۔

“اللّه یہ دونوں آدمی کتنے کمزور ہیں ایسا لگتا ہے رگ کٹنے پر خون کا ایک قطرہ بھی نہیں نکلے گا”

نسرین بيگم گاڑی میں بیٹھتے ہوۓ بولی تھیں۔

“کونسے آدمی آنٹی ؟؟؟نیچے تو ہر جگہ دھول مٹی کا راج ہے ایسا لگ رہا ہے یہ جگہ کبھی ہی آباد تھی شاید ۔۔۔ “

زینب نے نسرین بيگم کے لئے لوازمات کی تھال بھرتے ہوۓ دلچسپی سے پوچھا تھا۔اس سے پہلے کے کبیر ماں کی بات کی تصدیق کرتا،تیز آندھی چلنے لگی تھی۔اس نے جلدی سے گاڑی کو آٹو لاک پر لگا کر سارے شیشے بند کئے تھے۔

“شکر ہے مٹی کا ريلا اندر نہیں آ سکا ۔۔۔ورنہ اتنا لمبا سفر اس حالت میں کیسے کرتے ۔۔۔کھانا بھی ضائع ہو جاتا ۔۔۔”

نسرین بيگم نے چاولوں میں ایک بڑی بوٹی کو توڑتے ہوۓ کہا تھا۔

“زینب پکوڑے بہت مزے کے بناے ہیں تم نے اور ساتھ چٹنی بھی”

کبیر نے گرم پکوڑے کو چٹنی میں غوطہ دیتے ہوۓ کہا تھا”

جس پر زینب نے مسکرا کر کبیر کو دیکھا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کھانا کھانے کے بعد ان کو مزيد ادھ گھنٹہ وہاں مٹی کا طوفان تھم جانے کا انتظار کرنا پڑا تھا۔

اب نسرین بيگم کو غوندگی ہونے لگی تھی وہ زینب کو کبیر کے ساتھ آگے آ کر بیٹھ جانے کا حکم سنا کر خود پیچھے آ کر لیٹ گئی تھیں۔موسم میں خنکی بھی آ چکی تھی کیوں کہ باہر اب ہلکی ہلکی بارش ہونے لگی تھی مٹی کی سوندهی خوشبو زینب کو بھی سونے پر مجبور کرنے لگی تھی مگر وہ کبیر کو جگاے رکھنے کے لئے خود بھی جاگنا چاہتی تھی۔اس نے چاۓ کا تهرمس ساتھ ہی رکھا ہوا تھا۔وہ دونوں ایک ہی کپ سے چاۓ پیتے ہوۓ آگے بڑھ رہے تھے۔

“کہیں بھی سٹریٹ لائٹ نہیں ہے یار ۔۔۔۔۔اپر سے کچا راستہ ۔۔۔۔اور یہ خراب موسم جو کسی بھی وقت بد ترین ہو سکتا ہے ۔۔۔”

کبیر نے آخر پیچیدہ ڈرائیونگ سے تنگ آ کر کہا تھا۔

“اللّه خیر کرے گا کبیر میں مسلسل آیت لكرسی پڑھ رہی ہوں آپ بس سامنے راستے پر نظر رکھیں اور گاڑی کو اور بھی آہستہ چلائیں ۔۔۔”

زینب سر پر چادر تقريبأ لپيٹتے ہوۓ بولی تھی۔وہ خود بھی سامنے کا راستہ بہت توجہ سے دیکھ رہی تھی۔

باہر بارش تیز نہیں تھی مگر اس کے ساتھ جو آندھی چل رہی تھی اس کی آواز اس رات

کو بہت بھیانک بنا رہی تھی۔

اسی دوران زینب کی آنکھ لگ گئی تھی جب گاڑی ایک جھٹکے سے رک جانے پر زینب اور نسرین بيگم دونوں ہڑ بڑھا کر جاگ گئی تھیں۔

“کیا ہوا ؟؟؟؟”

دونوں نے ایک ساتھ آنکھیں ملتے ہوۓ پوچھا تھا۔

“آگے روڈ پر کوئی لیٹا ہوا ہے،وہ دیکھیں ۔۔۔”

کبیر نے تھوک نگلتے ہوۓ پریشانی سے کہا تھا۔

سامنے واقعی سفيد چادر میں لپٹا ہوا کوئی موجود تھا۔تینوں نے گھبرا کر ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔

“میں نیچے اتر کر دیکھتا ہوں آپ دونوں نے یہی میرا انتظار کرنا ہے ۔۔۔میں جتنا بھی وقت لوں نیچے نہیں اترنا نا ہی گاڑی کا لاک کھولنا ہے چابی اندر لگا کر جا رہا ہوں ۔۔۔۔یہاں ڈاکو قدم قدم پر ملتے ہیں ۔۔۔یہ کوئی چال ہو سکتی ہے ۔۔۔مگر میں فقط انسانیت کے ناتے اپنی تسلی کرنا چاہتا ہوں کیوں کہ راستہ بہت تنگ ہے نا گاڑی واپس لی جا سکتی ہے نا ہی سائیڈ سے نکال سکتا ہوں ۔۔اس طرح کسی ذی روح کے اپر سے گاڑی نہیں گزار سکتا ۔۔۔”

اس سے پہلے کے ان دونوں میں سے کوئی کبیر کو روک پاتا وہ تیزی سے گاڑی لاک کرنے کا زینب کو اشارہ کرتا اتر چکا تھا۔زینب نے فوری اس کے حکم کی تعمیل کی تھی۔