Jungal by Jameela Nawab Readelle 50384 Jungal Episode 6
Rate this Novel
Jungal Episode 6
Jungal by Jameela Nawab
زینب کی آنکھ کھلی تو کبیر کو پاس ہی سر پر ہاتھ رکھے بیٹھا پایا۔وہ پریشان تھا۔
“کبیر آپ نہا لیں اس سے آپ بہتر محسوس کریں گے میں مزیدار سا ناشتہ بنا کر لاتی ہوں”
زینب بال کیچر میں مقید کرتی ہوئی اٹھ گئی تھی۔منہ ہاتھ دھو کر وہ کچن میں آ گئی تھی۔سلطان صحن میں رات کی آندھی کی وجہ سے جو پتوں کا کوڑا تھا اسے جھاڑو سے سميٹنے میں مصروف تھا زینب کو جاگتا دیکھ اس نے اپنا کام جلدی سے مکمل کیا اور کچن میں آ گیا۔
“زینب بيگم صاحبہ ۔۔۔۔کبیر صاحب کی طبیعت اب کیسی ہے ؟؟؟”
سلطان فریج سے چاۓ کا دودھ نکالتا ہوا پوچھ رہا تھا۔
“پریشان ہیں ۔۔۔۔۔بہت ۔۔۔۔ سلطان میں ان کو ناشتہ دے دوں پھر آپ ان کے ساتھ چلے جائیں ۔۔۔شاید حالات کچھ سمجھ میں آنے لگیں ۔۔۔اور ہاں میں ناشتہ بنا لوں گی آپ کوئی اور کام دیکھ لیں”
زینب نے اس کے ہاتھ سے دودھ کا جگ لیتے ہوۓ نرمی سے کہا تھا۔
“جی بہتر ۔۔۔صحن میں ایک سانپ مرا پڑا ہے شاید رات طوفان کی ذد میں آ گیا ۔۔۔میں اس کو دفنا کر آتا ہوں ورنہ بو الگ پهيلے گی اور چیل كوے الگ جمع ہو جائے گے”
سلطان اتنا کہہ کر نکل گیا تھا مگر زینب جو رات کے پورے منظر کو خواب سمجھ کر بھول گئی تھی سانپ کا ذکر سن کر پھر سے اس کی ريڑ کی ہڈی میں ٹھنڈ سی لگی تھی۔وہ چاۓ میں ڈونگا مارتی ہوئی سلطان کو صحن میں سانپ کو ڈنڈے سے باہر کی طرف لے جاتی دیکھ رہی تھی یہ انہی میں سے تھا جو رات کو آپس میں الجھے ہوۓ تھے۔
“اس کا مطلب ہوا وہ سب ۔۔۔۔۔ خواب نہیں حقیقت تھا۔۔۔”
“یا اللّه خیر کر ۔۔۔۔میرے شوہر کو اپنے حفظ و امان میں رکھنا ۔۔۔”
وہ سلطان کو دیکھتی ہوئی مسلسل کبیر کے حق میں دعا مانگ رہی تھی۔
وہ ناشتے لگا کر کبیر کو بلانے کمرے کے دروازے تک پوہنچی تھی جب کبیر کی آواز اس کے کانوں سے ٹکڑائی تھی۔وہ بہت آہستہ سے کسی سے بات کر رہا تھا۔
“پلیز اس بار کچھ کر دیں پھر نہیں کہوں گا”
اس کے بعد کبیر کی آواز آنا بند ہو گئی۔زینب اندر گئی تو کبیر موبائل ہاتھ میں پکڑے پریشان بیٹھا تھا۔زینب کو دیکھ کر وہ بنا کچھ کہے موبائل ٹیبل پر رکھ کر ناشتے کی ميز پر آ کر بیٹھ گیا تھا۔زینب نے اس کا موبائل اٹھا کر دیکھا تو اس وقت میں ڈائل اور ریسیو میں کوئی کال نہیں تھی۔وہ موبائل رکھ کر باہر آ گئی تھی ۔
کبیر چپ چاپ ناشتہ کر رہا تھا خلاف معمول اس نے ماں کی غیر موجودگی پر کچھ نہیں کہا تھا۔
“زینب سلطان کو کہو میں گاڑی میں اس کا منتظر ہوں”
وہ چاۓ کا آخری گھونٹ بھرتا اٹھ گیا تھا۔جہاں سلطان پہلے ہی موجود تھا۔اب وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ چکے تھے۔
“میں آفس ہو آؤں پھر بستی چلتے ہیں سلطان”
کبیر نے خاموشی توڑ کر بات کا آغاز کیا تھا۔
“صاحب ۔۔۔برا نا مانے تو ایک بات پوچھ سکتا ہوں ؟؟؟”
سلطان نے کبیر کی طرف گہری نظر ڈال کر پوچھا تھا۔کبیر نے سر کو جنبش دے کر اجازت دی تھی۔
“آپ نے یہ شعبہ کیوں چنا؟؟؟”
سوال میں ایک عجیب سا گلہ تھا۔
“کیا مطلب ؟؟؟کیا پوچھنا چاھتے ہو کھل کر پوچھو ۔۔۔”
کبیر نے گاڑی کو دفتر کی طرف موڑتے ہوۓ سلطان کی طرف سرسری سا دیکھ کر کہا تھا۔
“میرا مطلب بہت واضح ہے کبیر صاحب ۔۔۔۔آپ نے یہ شعبہ کیوں چنا؟؟؟؟کیا واقعی آپ کو جنگل اور اس کی مخلوق کی بقا عزیز ہے ؟؟؟؟”
سلطان نے ہر لفظ بہت وزن سے ادا کیا تھا۔کبیر نے گاڑی کو بريک لگا کر سلطان کی طرف غور سے دیکھا تھا۔کچھ وقت ایسے ہی گزرا تھا۔
“کون ہو تم ؟؟؟اور کیا جانتے ہو میرے بارے ؟؟؟کس نے بھیجا ہے تمہیں یہاں ؟؟؟”
کبیر کی آواز میں لغزش تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زینب نسرین بيگم کو ناشتے کے لئے کہنے آئی تو ان کو اپنے بستر پر گہری سوچ میں بیٹھا پایا۔وہ ان کے کمرے کی بند کھڑکیاں کھولنے لگی۔
“آنٹی ناشتہ تیار ہے آپ باہر ۔۔۔”
“زینب ۔۔۔۔کیا جانور بھی انتقام لے سکتے ہیں؟؟؟کیا جیسے فلموں میں دیکھایا جاتا ہے ویسے ہی وہ کچھ نہیں بھولتے ؟؟؟”
نسرین بيگم اٹھ کر زینب کے پاس آ گئی تھیں۔
“آنٹی ۔۔۔ظلم تو ظلم ہوتا ہے ۔۔۔اسے کون بھول سکتا ہے اور پھر جانوروں کو ہم انسانوں کی طرح جھوٹ بولنا ۔۔ دھوکہ دینا ۔۔۔ سیاست اور منافقت تھوڑی آتی ہے ۔۔۔وہ تو بس محبت،نفرت ۔۔۔احساس اور ناپسندیدگی کی زبان سمجھ سکتے ہیں ۔۔ وہ تو بس اپنا کھا کر سو جاتے ہیں ۔۔۔صبح کچھ ملے گا بھی یا نہیں وہ تو یہ سوچ کر ذخیرہ بھی نہیں کرتے ۔۔۔ جہاں چھت ملے وہ ہی ان کا گھر ۔۔ انسان کی طرح سب ہو کر بھی زیادہ کی دوڑ میں دوسروں کی زمین اور چھت پر نظر نہیں رکھتے ۔۔۔اللّه نے ان کو بہت محدود حقوق دیے ہیں جس میں انسان کو بس ان کو جینے دینا ہے بس ۔۔۔۔وہ بے ضرر سی مخلوق کیا بدلہ لے گی ؟؟؟؟جو اپنے فرائض تک نہیں پورے کروا سکتی انسان ۔۔۔ دی اشرف المخلوقات سے؟؟؟”
زینب نے کھڑکی کا پٹ زور سے بند کرتے ہوۓ نسرین بيگم کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔
“یہ تو بس اللّه ہی ہے جو کسی انسان کی رسی
کھینچ لے ۔۔۔اور اس کے ظلم کو لگام ڈال دے ۔۔۔۔ہاں یہ بات ضرور ہو سکتی ہے کہ تب پتھر بھی بولنے لگے ۔۔۔۔یا پھر ۔۔۔۔ اس رسی کی ڈور اللّه اس جانور کے ہاتھ میں دے کر اسے وسیلا بنا دے ۔۔۔۔رب تو رب ہے نہ ۔۔۔ وہ کچھ نہیں بھولتا ۔،۔پھر جانور یاد رکھتے ہیں یا نہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔ . آنٹی ؟؟؟”
نسرین بيگم کو زینب کی نظروں سے ڈر لگنے لگا تھا۔وہ گھبرا کر نظر چرا گئی تھیں۔
“ہاں ۔۔۔۔ایک سوال کیا کر لیا تم تو لگی پھانسی دینے مجھے ۔۔۔جج ہی بن گئی ہو ۔۔۔میں اپنی بات تھوڑی کر رہی وہ تو بس ویسے ہی خیال آ گیا مجھے تو منہ لگا لیا تمہیں ۔۔۔”
نسرين بيگم کے الفاظ واضح طور ڈگمگارہے تھے۔
“آنٹی ۔۔۔میرے حساب سے کسی انسان کا نا حق قتل شاید معاف کروانا آسان ہوتا ہے کیوں کہ اس کے وارث انسان کو لالچ دینا ممکن ہوتا ہے مگر کسی جانور کا نا حق قتل معاف کروانا نا ممکن ۔۔۔وجہ جانتی ہیں آپ ؟؟؟؟”
زینب نسرین بيگم کے بہت پاس آ کر ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر شدت سے بولی تھی۔نسرین بيگم نے اسے پیچھے کو دکھا دیا تھا۔
“کیا بک رہی ہو زینب ؟؟؟”
وہ اس وقت کوئی چور لگ رہی تھیں جس کی چوری پکڑی گئی ہو۔
“کیوں کہ جانوروں کا وارث اللّه ہے ۔۔۔اللّه جسے نا تو کوئی لالچ دیا جا سکتا ہے نا ہی ڈرایا جانا ممکن ہے ۔۔۔۔۔اور وہ کچھھھھھ ۔۔۔۔۔نہیں بھولتا ۔۔۔۔۔جانور اگر ہماری طرح بول نہیں سکتے تو کیا ان کو تکلیف نہیں ہوتی ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ان کی سانس اور ہماری سانس میں کوئی فرق ہے ؟؟؟؟؟؟نہیں نا ۔۔۔۔ تو انسان کیوں یہ بات سمجھ کر جانور کو ذی روح نہیں سمجھتا ؟؟؟؟؟؟کیوں وہ اپنی دو اور اس کی چار ٹانگوں کے غرور میں اس پر ظلم کرتا ہے اور نتیجے سے ڈرتا بھی نہیں ؟؟؟؟؟حساب ہوگا ۔۔۔ ہوگا حساب ہر ناحق قتل کا ۔۔۔پھر وہ چاہے کسی جانور کا ہی کیوں نا ہو ۔۔۔ اصل حساب کسی ذی روح سے زندگی چھیننے ۔۔۔اور اس کی زندگی اجيرن کرنے کا ہوگا ۔۔۔جلد یا بدیر ۔۔۔کیوں کہ رب نہیں بھولتا ۔۔۔”
زینب چلائی تھی ۔
“بند کرو اپنی بکواس ۔۔۔۔آ لینے دو آج کبیر کو تم ۔۔۔تمہاری زبان کٹواتی ہوں میں ۔۔۔”
نسرين بيگم کی آواز کانپنے لگی تھی جیسے انہوں نے بلند کر کے چھپانے کی ناکام کوشش کی تھی۔
“آخر انسان اپنے گناہ پر وقت کی دھول ڈال کر یہ کیوں بھول جاتا ہے دھول مٹی کی وفادار ہوا کرتی ہے ۔۔۔۔اور مٹی میں ہر بیج اگ کر درخت یا پودا بن جایا کرتا ہے ۔۔۔وہ چھپتا نہیں ۔۔۔۔نہیں چھپتا وہ ۔۔۔گناہ اللّه فاش کرنے پر آے تو کوئی نہیں چھپا سکا کبھی ۔۔۔۔سنا تم نے نسرین فیاض ۔۔۔۔”
زینب جنونی انداز میں دھاڑی تھی۔نسرین بيگم ننگے پاؤں باہر بھاگ آئی تھیں۔جہاں زینب پر سکون سی بیٹھی ناشتہ کررہی تھی۔
“مطلب اندر جو ہے وہ زینب نہی ۔۔۔۔۔”
نسرین بيگم حواس باختہ کبھی کمرے کی طرف دیکھتی کبھی ناشتہ کرتی زینب کو جو مسکرا کر انھیں ناشتے کے لئے بلا رہی تھی۔آخر ان کا سر بری طرح چکرایا اور وہ بیہوش ہوگئی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنگل کے تمام جانور،چرند پرند چوپاے اور سانپ جو انسان کی شکل میں رہ رہے تھے۔وہ اس تعمیر سے بہت پریشان تھے کیوں کہ انسانوں کی اس بستی میں حیوان کی آمد ہو چکی تھی جسے لالچ میں کچھ نہ دکھائی دیتا ہے نا سجائی دیتا ہے ۔۔۔
بہت سی جدید بھاری مشینری وہاں لائی گئی اور دیکھتے ہی دیکهتے بہت سے قد آور درخت جن پر سینکڑوں پرندوں کے انڈے،بچے اور گھونسلے تھے ان کی پروا کیے بغیر گرا دیے گئے ۔۔۔وہ پرندے اپنی زبان میں التجا کرتے اوپر چکر کاٹ رہے تھے۔آخر ان میں سے ایک مادہ پرندے نے ہمت پکڑی وہ انسانی شکل میں آئی اور ان میں سے ایک آدمی جو ان سب کو ہدایت دیتا تھا اس کے پاس آئی ۔
“سلام صاحب ۔۔۔۔”
اس کا پیوند زدہ لباس اس کی معاشی حالت کی نمائندگی کر رہا تھا۔مگر وہ تھی کافی خوبصورت۔
“وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔وعلیکم السلام ۔۔۔۔جی جی ۔۔ “
وہ آفسر اس پر سر تا پير نظر ڈال کر دلچسپی سے بولا تھا۔
“یہ جنگل ہمارا گھر ۔۔۔۔ہمارا سب کچھ ہے صاحب ۔۔ ہمارے بچوں کی زندگی ان سے جڑی ہے ۔۔۔آپ ۔۔۔آپ نے ان کو کاٹ کر اچھا نہیں کیا ۔۔ کم از کم ہم سے پوچھ ۔۔۔۔۔ بتا دیا ہوتا ۔۔۔۔ہم کوئی اور جگہ دیکھ لیتے ۔۔۔یوں میرے بچے ۔۔۔۔۔میرے بچے ۔۔۔۔مجھے چھوڑ کر نا جاتے ۔۔۔۔”
وہ ہچکیوں سے رو دی تھی۔
“میں حکومت کا بندہ ہوں ۔۔اور یہ جنگل حکومت کی ملكيت ہے ۔۔۔مجھے صرف اس کی اجازت دركار ہے یہاں کچھ بھی کرنے کے لئے ۔۔ اور آخری بات کون سے بچے ؟؟؟یہاں تو کوئی بچے نہیں تھے ورنہ میرے کارکن ان کو ضرور بچا لیتے ۔۔ “
وہ بدمزگی سے بولا تھا۔
“اگر کوئی آپ کے اس گھر میں جو آپ نے تنکا تنکا جوڑ کر بنایا ہو کوئی اس پر اپنی ملكيت کا دعوہ کر کے آپ کے معصوم بچوں سميت مسمار کر دے تو آپ کو کیسا لگے گا صاحب ؟؟؟”
وہ دبی دبی آواز میں روتے ہوۓ بولی تھی۔
“یہ تو شروعات ہے بی بی ۔۔بہت بڑا پروجیکٹ ملا ہے حکومت کو باہر کی کمپنی سے ہمیں نقشہ بھیجا گیا ہے
“آخر کیا گناہ تھا ان کا ؟؟؟؟میں ان کو کبھی معاف نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔میں رب سے شکایت کروں گی ۔۔۔جب ہمیں اختیار نہیں انسان کو ڈسنے کا تو انسان کیوں بے رحمی سے مار دیتا ہے ہمیں ؟؟؟؟”ہم بھی تو اس رب کی مخلوق ہیں ۔۔۔ہم بھی اس کی عبادت کرتے ہیں ۔۔۔ممتا تو ہم میں بھی رکھی ہے اللّه نے ۔۔۔ہمیں مار دینے کا حکم تب ہے جب ہم ان کی حدود میں داخل ہو ۔۔۔جنگل تو ہمارے لئے ہے نہ پھر کیوں برباد کیا میرا گھر ؟؟؟؟ ہاے اللّه میرے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے ۔۔۔۔کتنا یاد کیا ہوگا مجھے ۔۔۔۔”
وہ بلک بلک کر رو دی تھی۔سردار کی آنکھیں بھی اس کی حالت پر نم ہوگئی تھیں۔
“میں مجبور ہوں ۔۔۔۔۔یہی تو آزمائش ہے ہماری تم لوگ آخر کیوں نہیں سمجھ رہے ۔۔اللّه نے کسی بھی حالت میں ظلم کرنے کی اجازت نہیں دی ۔۔۔اگر تو ہم نے بدلے میں انسان پر ظلم کیا تو اللّه ہمیں ختم کردے گا ۔۔۔یہ جو طاقت ہمیں انسان بن کر رہنے کی دے رکھی ہے نا یہ بھی چھين لے گا ۔۔۔۔ہمارا نام و نشان مٹا دے گا ۔۔
کوئی نہیں رہے گا ہمارا نام ليوا ۔۔۔ “
وہ مجبور سا بول رہا تھا اس کا لہجہ تھکا ہوا اور شکستہ تھا۔
“سردار اگر تو مزيد ہمارا ذرہ برابر بھی نقصان ہوا تو ان میں سے کوئی بھی یہاں سے بچ کر نہیں جائے گا ۔۔۔نسل ان کی بھی تباہ ہوگی ۔۔۔”
ان میں سے ایک بڑی چیل سخت برہمی سے بولی تھی۔
“تم میں سے کسی ایک کی جلد بازی ہم سب کو کڑے امتحان میں ڈال سکتی ہے ۔۔۔بس اتنا یاد رکھو ۔۔۔مجھے وقت دو ۔۔ میں کرتا ہوں بات ۔۔ اس آفسر سے ۔۔۔”
سردار نے اٹھتے ہوۓ یہ کہا تھا جس کا مطلب تھا یہ نشست برخاست ہوئی ۔
