489.8K
9

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Jungal Episode 7

Jungal by Jameela Nawab

جنگل کے تمام جانور،چرند پرند چوپاے اور سانپ جو انسان کی شکل میں رہ رہے تھے۔وہ اس تعمیر سے بہت پریشان تھے کیوں کہ انسانوں کی اس بستی میں حیوان کی آمد ہو چکی تھی جسے لالچ میں کچھ نہ دکھائی دیتا ہے نا سجائی دیتا ہے ۔۔۔

بہت سی جدید بھاری مشینری وہاں لائی گئی اور دیکھتے ہی دیکهتے بہت سے قد آور درخت جن پر سینکڑوں پرندوں کے انڈے،بچے اور گھونسلے تھے ان کی پروا کیے بغیر گرا دیے گئے ۔۔۔وہ پرندے اپنی زبان میں التجا کرتے اوپر چکر کاٹ رہے تھے۔آخر ان میں سے ایک مادہ پرندے نے ہمت پکڑی وہ انسانی شکل میں آئی اور ان میں سے ایک آدمی جو ان سب کو ہدایت دیتا تھا اس کے پاس آئی ۔

“سلام صاحب ۔۔۔۔”

اس کا پیوند زدہ لباس اس کی معاشی حالت کی نمائندگی کر رہا تھا۔مگر وہ تھی کافی خوبصورت۔

“وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔وعلیکم السلام ۔۔۔۔جی جی ۔۔ “

وہ آفسر اس پر سر تا پير نظر ڈال کر دلچسپی سے بولا تھا۔

“یہ جنگل ہمارا گھر ۔۔۔۔ہمارا سب کچھ ہے صاحب ۔۔ ہمارے بچوں کی زندگی ان سے جڑی ہے ۔۔۔آپ ۔۔۔آپ نے ان کو کاٹ کر اچھا نہیں کیا ۔۔ کم از کم ہم سے پوچھ ۔۔۔۔۔ بتا دیا ہوتا ۔۔۔۔ہم کوئی اور جگہ دیکھ لیتے ۔۔۔یوں میرے بچے ۔۔۔۔۔میرے بچے ۔۔۔۔مجھے چھوڑ کر نا جاتے ۔۔۔۔”

وہ ہچکیوں سے رو دی تھی۔

“میں حکومت کا بندہ ہوں ۔۔اور یہ جنگل حکومت کی ملكيت ہے ۔۔۔مجھے صرف اس کی اجازت دركار ہے یہاں کچھ بھی کرنے کے لئے ۔۔ اور آخری بات کون سے بچے ؟؟؟یہاں تو کوئی بچے نہیں تھے ورنہ میرے کارکن ان کو ضرور بچا لیتے ۔۔ “

وہ بدمزگی سے بولا تھا۔

“اگر کوئی آپ کے اس گھر میں جو آپ نے تنکا تنکا جوڑ کر بنایا ہو کوئی اس پر اپنی ملكيت کا دعوہ کر کے آپ کے معصوم بچوں سميت مسمار کر دے تو آپ کو کیسا لگے گا صاحب ؟؟؟”

وہ دبی دبی آواز میں بولی تھی۔

“یہ تو شروعات ہے بی بی ۔۔بہت بڑا پروجیکٹ ملا ہے حکومت کو باہر کی کمپنی سے ہمیں نقشہ بھیجا گیا ہے۔

آفسر کی آواز میں کاٹ تھی۔

“آپ۔۔۔خدارا یہ سب روک دیں بھائی ۔۔۔میں ہاتھ جوڑتی ہوں ۔۔۔ہم بے بس ہیں ۔۔۔آپ ہمارے گھروں میں خوشی سے آ کر دن گزارتے ہیں ۔۔۔ہم کچھ نہیں کہتے ۔۔۔مگر ہم آپ کے علاقے میں آ کر نہیں رہ سکتے ۔۔۔آپ لوگ ہمیں مار کر بہادر سمجھتے ہیں خود کو ۔۔۔۔خدا کے لئے ہم سے ہماری آخری پناہ گاہ مت چھینے ۔۔۔ہمیں اللّه نے بہت محدود علم سے نوازا ہے ۔۔ ہمیں اپنے حق کے لئے لڑنا نہیں آتا ۔۔۔ بس التجا کر سکتی ہے یہ دکھی ماں ۔۔۔۔”

وہ ڈر ڈر کر ہچکیوں سے روتی ہوئی،لال آنکھیں ملتی وہاں سے چل دی تھی۔

“یہ عورت لگتا ہے پاگل تھی ۔۔ خود کو جنگلی حیات سمجھ رہی تھی ۔۔۔”

آفسر اس کو جاتا دیکھ خود كلامی میں بڑبڑایا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنگل کے سارے جاندار ۔۔۔چرند،پرند،چوپاے،کیڑے مکوڑے،ہر طرح کی سانس لیتی مخلوق اور ہر نسل کے سانپوں کی ایک بڑی تعداد انسانی شکل میں ایک خاص جگہ پر سردار کے آگے جمع تھی۔

وہ تمام لوگ جن کا اب تک جانی یا گھر بار کا نقصان ہو چکا تھا وہ بری طرح سر دھن دھن کر بین ڈال کر رونے میں مگن تھے وہ اپنے غم میں بے حال تھے۔سردار ہی ان کی آخری امید تھا جس کی اجازت کے بغیر وہ بس سانس ہی لیا کرتے تھے ورنہ ہر حکم اسی کا مانا جاتا تھا۔انسان بننے کی طاقت کا یہی تقاضہ رکھا گیا تھا کہ وہ اس کی حکم عدولی نا کریں ورنہ ان سے یہ شکتی واپس لے لی جاتی ۔۔۔اور سردار پر ان سب کو متحد رکھنے اوراصل حيوان( انسان)کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچانے کی بہت بڑی ذمہ داری رکھی گئی تھی جو وہ اب تک بخوبی نبها رہا تھا مگر آج کے واقعے کے بعد اسے مزيد بطریقے احسن نبهانا مشکل لگ رہا تھا۔۔۔۔کیوں کہ جنگل میں انسان تھوڑی تھے جو اپنے ہی محسن کے لئے چالیں چلتے ۔۔اس کی جگہ پر بیٹھنے کے لئے فسادات کرتے ۔۔۔وہ تو جانور تھے ۔۔۔جانور ۔۔۔جن میں اللّه نے وفا اور اپنے محسن سے محبت سکھائی تھی۔۔مگر اب جنگل کے اس پر سکون ماحول میں فتنے ۔۔۔ یعنی انسان کی آمد ہو چکی تھی ۔۔۔جسے ہمیشہ ہم وزن اور ایک جیسی چیز بھی اپنے ہاتھ میں کم اور دوسرے کے ہاتھ میں زیادہ اور پرکشش لگتی ہے ۔۔۔جسے دوسرے کا سکون اپنی بے سکونی کی وجہ اور دوسرے کی تکلیف میں اپنی خوشی نظر آتی ہے ۔۔۔جسے دوسرے کی پریشانی اس کے اعمال کا نتیجہ ۔۔۔یا اکثر اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی سزا لگتی ہے جبکہ وہی معملہ اپنی ذات کے ساتھ پیش آجائے تو وہ تو بس آزمائش ہوا کرتی ہے ۔۔ کیوں کہ اپنی ذات تو فرشتہ ہوتی ہے اسے کسی کی بد دعا تھوڑی لگ سکتی ہے ۔۔۔

اس سب میں فقیرے کی بیٹی فینو بھی لا پتہ تھی وہ زندہ تھی یا مار دی گئی یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔وہ ایک خاص قسم کی ناگن تھی جو نا صرف خوبصورت اور جوان تھی بلکہ اس کے زہر کو بہت سے زہرلیے سانپوں اور ديگر زہریلے جانداروں کا زہر فوری کاٹنے کے لئے بھی انسان استعمال کرسکتا تھا ان حالات میں اس کو زندہ پکڑ کر قید کرنے کے بھی قوی امقانات تھے۔اس جنگل کے تمام جاندار کسی بھی وقت انسان اور اپنے اصلی روپ میں ڈھل سکتے تھے۔انسان کا روپ دهارنے کے بعد وہ انسان کی طرح ہی پکا کر کھانا کھاتے اور اپنے جسم کے خاص حصوں کو ڈھانپتے ۔۔۔۔

“تم سب جانتے ہو ، آپ سب كی طرح میرے بھلے میرے بیوی بچے نہیں ہیں ۔۔۔اور اس کی وجہ بھی میری اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ محبت ہی ہے ۔۔۔ لیکن میں پھر بھی آپ سب کی تکلیف محسوس کر سکتا ہوں ۔۔سمجھ سکتا ہوں ۔۔۔کیوں کہ میری فیملی آپ سب ہو ۔۔۔کیا مجھے اس بات کو ثابت کرنے کی ضرورت ہے ؟؟؟”

“نہیں سردار ۔۔۔۔”

سردار نے سب کی طرف دیکھا تھا جو آنسو صاف کرتے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولے تھے۔

“میں چاہتا ہوں کہ ہم باوضو ہو کر رب کے حضور شکرانے کے نوافل پڑھ کر اس کا شکر ادا کريں”

سردار کی اس بات سے سب نے اس کی طرف ایسے دیکھا جیسے انکو اس کی ذہنی حالت پر شبہ ہو۔مگر احترام کا پاس رکھتے ہوۓ وہ خاموش رہے۔

“مجھے یہ بتاتے ہوۓ بہت خوشی ہو رہی ہے کہ انسان اور حیوان کی اس دنیا میں اللّه کی لاڈلی مخلوق ہم ہیں ۔۔۔انسان نہیں ۔۔۔بے شک خدا جس سے محبت کرتا ہے اسے دنیا میں تنگی اور محدود اختیارات کی آزمائش سے گزارتا ہے ۔۔۔جہاں حد لا محدود ہو وہی گناہ کی گنجائش نكلتی ہے ۔۔۔۔مجبوری اکثر ہمیں اس کی نا فرمانی سے روک لیا کرتی ہے ۔۔۔اگر یہ کہا جائے کہ ہماری رسی اب بھی اس نے اپنے ہی ہاتھ میں رکھی ہے کیوں کہ وہ نہیں چاہتا کہ ہم رستہ بھٹک جائیں تو یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا ۔۔۔جبکہ انسان نے اپنے نفس کی تسكين کے لئے آج ہمارے گھر بار اجاڑ کر جو حرکت كی ہے اسی بات کا اشارہ ہے کہ خدا ان سے ناراض ہے یہی وجہ ہے کہ رب نے ان سے ہدایت چھين لی ۔۔۔نتیجہ ان کی رسی چھوڑ دی ۔۔۔۔چھوٹ دے دی ۔۔۔۔یا شاید دراز کردی ہے ۔۔۔

ورنہ خدا کی مرضی کے بغیر تو پتا بھی نہیں ہل سکتا پھر یہ انسان کیا سمجھتا ہے یہ سب اس نے خود کیا ہے ؟؟؟؟؟ تو آج جب ہم مجبور ہیں ۔۔۔تو ہمیں اپنی اس بے بسی میں بھی اس کا شکر ادا کرنا چاہیے کیوں کہ وہ سب کرنے پر قادر ہے ۔۔۔۔اصل میں یہ حد ہمارے اور اس جہنم کے درميان ہے جو دنیا میں بے بسی کی لائن کے طور رب نے کھینچ رکھی ہے ۔۔ “

سردار کی آنکھوں میں رب سے محبت کی سرشاری میں آنسو آ گئے تھے۔وہ سب حیوان اس بات کو پل بھر میں سمجھ گئے تھے سواۓ چند کے ۔۔۔۔کیوں کہ جہاں نيكی ہو وہاں شر کا ہونا لازم و ملزوم ہوا کرتا ہے۔اس سے دامن کا بچ جانا ہی تو کمال ہے ۔۔۔

“سردار میں بچوں کے لئے خوراک لینے گئی تھی واپس آئی تو میرا گھر ۔۔۔میرے بچے سب مر چکے تھے،میں کیسے صبر کروں ۔۔۔اس تکلیف پر شکر کیسے ادا کروں ؟؟؟اتنا ظرف کہاں ۔۔۔۔کہاں ۔۔۔سے ۔۔۔۔لاؤں ۔۔۔۔۔”

ایک سیاہ ناگن جو خود بھی زخمی تھی ہچکیوں سے روتی ہوئی بولی تھی۔

“تو کیا ہم بھی انسان کی طرح زرہ سی تکلیف پر اس رب سے بغاوت کر لیں سانس بھی جس کی دی ہوئی ہے ،احسان فراموش ہو جائیں،جس ہستی کے خلاف محاذ کھولنے کے لئے شیطان تمہیں ورغلا رہا ہے اس سے جیتنے کا دم بھی رکھتے ہو تم لوگ ؟؟؟؟”

سردار نے سب کا قبلہ درست کرنے کی آخری کوشش کی تھی۔

“خون کا بدلہ خون ۔۔۔۔۔ہی ہوا کرتا ہے سردار ۔۔۔۔”

ان میں سے ایک ناگ جس کا بیٹا انہوں نے کچل کر مار دیا تھا وہ سفاکی سے بولا تھا۔

ان لوگوں نے زہریلے جدید سپرے کی مدد سے ان گنت سانپوں اور جنگلی حشرات کو چند منٹوں میں موت کی گھاٹ اتار دیا تھا یہی وجہ تھی کہ جنگل کا زرہ ذرہ ان کے خلاف ہو چکا تھا۔

“دیکھو اس جنگل کے چند معمولی کیڑوں کا زہر ہی ان کو موت کی گھاٹ اتار سکتا ہے مگر ۔۔۔۔۔ہم خدا کی نافرمانی نہیں کر سکتے ۔۔۔۔پھر ان میں اور ہم میں کیا فرق رہ جائے گا ۔۔۔وہ بھی اپنی طاقت کا استعمال کر رہے ہیں اور اگر ہم بھی کریں تو ۔۔۔۔۔سب ختم ہو جائے گا ۔۔۔دوستو۔۔۔۔ہم ۔۔۔۔ایسا نہیں کر سکتے ۔۔۔ہم خدا کے آگے مجبور ہیں ۔۔۔۔انسان کے آگے نہیں ۔۔۔جب بندہ معاف کرتا ہے تو اللّه بہترين بدلہ لے لیا کرتا ہے ظالم سے ۔۔۔۔یہ میرا ایمان ہے ۔۔۔وہ ہماری مدد کرے گا جلد یا بدیر ۔۔۔۔”

سردار اب کھڑا ہو کر سب کے پاس جا جا کر بات مکمل کر رہا تھا

“آخر کیا گناہ تھا ان کا ؟؟؟؟میں ان کو کبھی معاف نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔میں رب سے شکایت کروں گی ۔۔۔جب ہمیں اختیار نہیں انسان کو ڈسنے کا تو انسان کیوں بے رحمی سے مار دیتا ہے ہمیں ؟؟؟؟”ہم بھی تو اس رب کی مخلوق ہیں ۔۔۔ہم بھی اس کی عبادت کرتے ہیں ۔۔۔ممتا تو ہم میں بھی رکھی ہے اللّه نے ۔۔۔ہمیں مار دینے کا حکم تب ہے جب ہم ان کی حدود میں داخل ہو ۔۔۔جنگل تو ہمارے لئے ہے نہ پھر کیوں برباد کیا میرا گھر ؟؟؟؟ ہاے اللّه میرے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے ۔۔۔۔کتنا یاد کیا ہوگا مجھے ۔۔۔۔”

وہ سیاہ ناگن بلک بلک کر رو دی تھی۔سردار کی آنکھیں بھی اس کی حالت پر نم ہوگئی تھیں۔

“میں مجبور ہوں ۔۔۔۔۔یہی تو آزمائش ہے ہماری تم لوگ آخر کیوں نہیں سمجھ رہے ۔۔اللّه نے کسی بھی حالت میں ظلم کرنے کی اجازت نہیں دی ۔۔۔اگر تو ہم نے بدلے میں انسان پر ظلم کیا تو اللّه ہمیں ختم کردے گا ۔۔۔یہ جو طاقت ہمیں انسان بن کر رہنے کی دے رکھی ہے نا یہ بھی چھين لے گا ۔۔۔۔ہمارا نام و نشان مٹا دے گا ۔۔

کوئی نہیں رہے گا ہمارا نام ليوا ۔۔۔ “

وہ مجبور سا بول رہا تھا اس کا لہجہ تھکا ہوا اور شکستہ تھا۔

“سردار اگر تو مزيد ہمارا ذرہ برابر بھی نقصان ہوا تو ان میں سے کوئی بھی یہاں سے بچ کر نہیں جائے گا ۔۔۔نسل ان کی بھی تباہ ہوگی ۔۔۔”

ان میں سے ایک بڑی چیل سخت برہمی سے بولی تھی۔

“تم میں سے کسی ایک کی جلد بازی ہم سب کو کڑے امتحان میں ڈال سکتی ہے ۔۔۔

“تم میں سے کسی ایک کی جلد بازی ہم سب کو کڑے امتحان میں ڈال سکتی ہے ۔۔۔بس اتنا یاد رکھو ۔۔۔مجھے وقت دو ۔۔ میں کرتا ہوں بات ۔۔ اس آفسر سے ۔۔۔”

سردار نے اٹھتے ہوۓ یہ کہا تھا جس کا مطلب تھا یہ نشست برخاست ہوئی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“تم کہنا کیا چاھتے ہو سلطان ؟؟؟؟”

کبیر نے آفس سے کچھ ہی فاصلے پر گاڑی روک دی تھی۔

“میں بس یہ پوچھنا چاہتا ہوں ۔۔کیوں کہ بعض اوقات ہم خود بھی اپنی نیت سے بے خبر ہوتے ہیں ۔۔۔ہم جو دکھا رہے ہوتے ہیں ہم اصل میں اس کے برعکس چل رہے ہوتے ہیں ۔۔۔ایسا کہہ لیں ہم اپنی زبان سے بول کر پہلا دوکھا اپنے ہی کانوں کو دے رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔”

سلطان نے ہر لفظ ٹھہر ٹھہر کر کبیر کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تھا۔کبیر شش و پنج میں فقط اس کے الفاظ کو ہضم کرنے میں مصروف تھا اس کے پاس اس سوال کا جواب تھا ہی نہیں تو وہ کیا برا مانتا اور کیا قبول کرتا ۔۔۔۔

“کبیر صاحب ۔۔۔۔ضروری نہیں کہ غلطی ہم نے ہی کی ہو اور جان بوج کر کی ہو ۔۔۔۔۔بس میری بات پر سوچھیے گا ضرور ۔۔۔آپ کا آفس آ گیا ہے آپ کام نپٹا لیں پھر بستی چلتے ہیں،میں تب تک ایک کام ختم کر کے آتا ہوں”

وہ بات مکمل کر کے کبیر کو حیران پریشان چھوڑ کر گاڑی سے اتر چکا تھا۔

کبیر اس کے جانے کے ادھ گھنٹے تک اسی حالت میں اس سمت دیکھ رہا تھا جس سمت وہ اتر کر گیا تھا۔

پھر وہ آفس آیا تو رہی سہی کسر سامنے نظر آنے والے منظر نے پوری کردی۔

“بہت سے سانپ اس کی ٹیبل پر پھن پھیلا کر اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔وہ نقشہ جس کو دیکھ کر اسے غیر قانونی درختوں کی کٹائی رکوانی تھی وہ اس پر ڈنگ مار مار کر اس کو نیلا کر چکے تھے۔

کبیر الٹے قدموں وہاں سے بھاگا تھا۔وہ جیسے ہی واپس آیا سلطان کو گاڑی کے پاس اپنا منتظر پایا۔

“جلدی بیٹھو”

کبیر نے پھولتی ہوئی سانس کے ساتھ گاڑی سٹارٹ کی اور وہاں سے بهگا دی۔جبکہ سلطان بنا کوئی سوال جواب یا تاثر کے چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ چکا تھا۔کبیر نے تھوڑی آگے جا کر گاڑی روکی اور وہاں بہتی ندی سے پانی پینے کے لئے نیچے اتر گیا۔اس نے جیسے ہی ندی میں ہاتھ ڈالا ایک بڑا سانپ اس کے ہاتھ پر لپٹ گیا کبیر نے بہت آواز نکالنے کی کوشش كی مگر آواز اس کے حلق میں ہی مقید رہی ۔۔۔سانپ اس کے ہاتھ پر لپٹ کر اس کے چہرے کے بہت پاس آ کر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا ایسا لگ رہا تھا وہ کچھ کہنا چاہتا ہے۔بہت سا وقت ایسے ہی گزر گیا تھا۔وہ سانپ بہت آرام سے وہاں سے اتر کر پانی میں غائب ہوگیا۔کبیر نے پانی پيا اور نارمل انداز میں گاڑی میں جا کر بیٹھ گیا۔

“ہم نے تو بستی جانا تھا نا صاحب پھر آپ گھر کی طرف گاڑی کیوں لے کر جا رہے ہیں ؟؟؟”

سلطان نے عجیب سے انداز میں بنا کبیر کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا تھا۔

“کیوں کہ اب اس كی ضرورت نہیں ۔۔۔۔سلطان سب جان گیا ہوں میں”

کبیر نے سلطان کا چہرہ اپنی طرف موڑتے ہوۓ اس كی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تھا جبکہ سلطان کے چہرے پر پراسرار سی مسکراہٹ تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“السلام علیکم سر آپ کا کچھ وقت دركار ہے ۔۔کیا آپ میری بات سن سکتے ہیں؟؟؟”

سردار انسانی روپ میں جنگل کے اس آفسر کے پاس آیا تھا جو رات کے اس پہر بھی اپنے ٹینٹ میں بیٹھا نقشہ دیکھنے میں مگن تھا جس کے حساب سے اسے وہاں کٹائی کروانی تھی۔

“ہوں ۔۔۔آ جاؤ ۔۔۔یار موسم دیکھ رہے ہو کتنا خراب ہو رہا۔۔۔۔صبح آ جاتے ۔۔۔خیر ۔۔۔آؤ اور بولو کیا بات ہے ۔۔ “

وہ ایک نظر سردار پر ڈال کر دوبارہ پینسل سے نقشے پر حدبندی کرنے میں مصروف ہوگیا تھا۔

“سر ۔۔۔یہاں کیا بنے گا یہ سب درخت کاٹ کر ؟؟؟”

سردار نے بارش كی بوندوں سے اپنے کپڑے جھاڑتے ہوۓ دوستانہ انداز میں پوچھا تھا۔

“امتزاج ۔۔۔حسن ،سکون اور سہولت کا انتظام ۔۔۔۔دنیا دیکھے گی ۔۔۔ایسا شاہکار بناے گا چوہان ۔۔۔۔”

آفسر کو جواب دینے میں بہت مزہ آیا تھا۔وہ خیالوں میں ہی سب بنا کر لطف اندوز ہو رہا تھا۔

“آہاں ۔۔۔۔۔لیکن سر آپ یہ سب میدانوں میں بھی تو کر سکتے ہیں نا ۔۔۔وہاں درخت لگا کر ۔۔۔پھر اس طرح جنگل جو کہ رب نے جنگلی حیات کی ملكيت میں رکھا ہے اس میں آ کر ان کے گھر بار اجاڑ کر اس طرح اپنا محل تعمیر کرنا ۔۔۔۔مناسب تو نہیں لگتا ۔۔۔۔کم از کم میرے لحاظ سے ۔۔۔”

سردار نے باہر ہولے ہولے زور پکڑتی بارش کو دیکھتے ہوۓ بظاہر عام سے انداز میں محظ اپنی راے دی تھی۔

“انسان کے لئے ہی اللّه نے اس پوری کائنات کو بنایا ہے ۔۔۔اس پر پہلا حق ہمارا ہے ۔۔۔یہ جنگلی حیات فقط اس کی خوبصورتی کے لئے بنائی گئی ہے ۔۔ حقوق و فرائض سے اس کا کیا لینا دینا ؟؟؟”

آفسر کے لہجے میں چھبن واضح تھی۔

“کیوں جنگلی حیات سانس نہیں لیتے انسان كی طرح ؟؟!ان کی نسل نہیں ہوتی ؟؟؟ان میں ماں،باپ، اولاد ،ممتا ؟؟؟کیا نہیں ہوتا انسان کی طرح ؟؟؟؟؟؟؟؟ان کا پیٹ نہیں ہوتا؟ان کو بھوک،پیاس نہیں لگتی ؟؟؟گرمی،سردی میں گھر بار کی عقل نہیں ہوتی؟؟؟آخر کیا مختلف ہے انسان اور دوسرے جاندار میں ؟؟؟؟”

سردار کے الفاظ کسی تیز آری کی طرح آفسر کے دل کو لگے تھے جس کا اثر اس کی لال آنکھوں میں غصے کی شکل میں ابهر آیا تھا۔

“جواب دیں ؟؟؟جب اللّه نے انسان کو میدان اور ان

کے لئے جنگل کی جگہ الگ الگ رکھ دی ہے پھر انسان ان سے کا گھر چھين کر،ان کو ان کی ہی حدود میں ناحق مار کر، جلا کر ،خوفزده کر کے آخر ثابت کیا کرنا چاہتا ہے ؟؟؟؟کیا وہ واقعی اس سب کے بعد بھی خود کو اشرف المخلوقات سمجھتا ہے ؟؟؟؟

سردار نے پہلی بار سختی سے بات کی تھی۔