Jungal by Jameela Nawab Readelle 50384 Jungal Episode 5
Rate this Novel
Jungal Episode 5
Jungal by Jameela Nawab
وہ دونوں بہت مشکل سے کبیر کو اندر کمرے میں لے آئی تھیں۔وہ بری طرح ڈرا ہوا تھا۔نسرین بيگم کی ہوائیاں اڑھی ہوئی تھیں۔ان کی خود کی طبعیت خراب ہو رہی تھی وہ مسلسل ٹھنڈے پسینے صاف کر رہی تھیں۔
“بيگم صاحبہ خیریت ہے آپ بہت پریشان لگ رہی ہیں ؟؟؟”
سلطان جو ابھی ابھی اپنے گھر کا چکر لگا کر رات کے لئے آیا تھا زینب کو کچن کی طرف بھاگتا دیکھ پوچھ رہا تھا۔
“وہ ۔۔۔کبیر کی طبیعت خراب ہے ۔۔۔جب سے آے ہیں عجیب عجیب باتیں کر رہے ہیں ۔۔آپ آؤ میرے ساتھ دیکھ کر بتائیں کیا وجہ ہوگی ۔۔۔کہہ رہے ہیں آج وہ بستی گئے تھے ۔۔۔”
زینب پانی کا گلاس بھرتی ہوئی پریشان سی بولی تھی۔
وہ اثبات میں سر ہلاتا اندر آیا تھا۔
“امی یہاں بہت عجیب ہے سب ۔۔۔۔ایسا لگتا ہے یہاں کوئی انسان نہیں رہا کبھی شاید ۔۔۔”
کبیر ماں کا ہاتھ پکڑے خوف زدہ سا بول رہا تھا۔
“سلام صاحب ۔۔۔۔میرا نام سلطان ہے ۔۔۔۔مجھے آپ کی خدمت کے لئے یہاں شہر والوں نے تعینات کیا ہے ۔۔۔میں آپ کے سب مسلے حل کرنے میں آپ کی مدد کروں گا ۔۔۔ میں ۔۔۔۔میں کل آپ کے ساتھ بستی جاؤں گا ۔۔۔آپ ان لوگوں کو نہیں جانتے یہ غیر مقامی دوست کے بھی دشمن اور مقامی دشمن بھی ہو تو اس کو غیر مقامی پر ترجیع دیتے ہیں ۔۔ میں ان تک آپ کی بات اپنے طریقے سے پوہنچاؤں گا ۔۔۔”
کبیر جو پہلی ملاقات میں ہی اس شخص کے خلوص پر حیران تھا اس کی اس نان اسٹاپ همدردی پر فقط خاموشی سے صورت حال بھانپنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“معاف کیجئیے گا صاحب ۔۔۔۔میں شاید کچھ زیادہ ہی جذباتی ہوگیا ۔۔ اگر آپ کی اجازت ہو تو ۔۔۔ میں آپ کی مدد کے لئے تیار ہوں”
سلطان کبیر کی خاموشی پر شرمندہ ہوا تھا۔
“نہیں ۔۔۔ٹھیک ہے ۔۔۔صبح ساتھ چلنا میرے ۔۔۔بلکہ تمہاری باتوں سے تو میرا دل کافی بہتر محسوس کر رہا ہے ۔۔۔۔مجھے خوشی ہوئی بہت تم سے مل کر سلطان ۔۔۔۔”
کبیر نے سلطان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا جیسے سلطان نے گرم جوشی سے تھام لیا تھا۔
“چلو بھئ زینب کھانا لاؤ بہت بھوک لگی ہے کیا بنایا ہے ؟؟؟”
اب کبیر عام انداز سے زینب سے مخاطب ہوا تھا۔
“ارے صاحب میں آپ کی خدمت کے لئے یہاں بھیجا گیا ہوں ۔۔۔میں لاتا ہوں کھانا ۔۔۔میں نے ہی شکار کا گوشت پکایا تھا دن میں ۔۔۔میں ابھی گرم ۔۔ “
“شکار کا گوشت ؟؟؟؟؟میں فارسٹ آفیسر ہو کر خود شکار کا گوشت کیسے کھا سکتا ہوں زینب ؟؟؟کیا تم نہیں جانتی یہ بات ؟؟؟”
کبیر چلایا تھا جس پر وہاں موجود لوگ سب ہی حیران ہو گئے تھے۔
“میرا کام جنگلات اور اس کے چرند پرند کی بقا کا ہے اور تم نے میرے کچن میں شکار کا گوشت پكنے دیا ؟؟؟؟”
وہ اٹھا اور کچن میں جاکر سالن والا برتن اٹھا کر باہر نکل گیا اس نے برتن کو نیچے زمین پر خالی کرنے کی بجاے غصے کی وجہ سے ہوا میں اوچال دیا اس نے دیکھا ہوا میں پکا ہوا گوشت نہیں تھا بلکہ بہت سے جنگلی حرام پرندے زندہ حالت میں ہوا میں اڑنے لگے۔وہ خاص آوازیں نکالتے ہوۓ ہوا میں چکر کاٹنے لگے۔
وہ تینوں کبیر کے پیچھے باہر آ گئے تھے۔زینب نے جلدی سے برتن اٹھایا تھا جس میں کچھ سالن اب بھی موجود تھا ۔سب کی نظر برتن پر تھی مگر کبیر اوپر آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا جس کی وجہ سے اس کی ذہنی حالت پر ان تینوں کو شبہ ہونے لگا تھا۔
“کون ہو تم سلطان ؟؟؟؟؟کیوں حرام کا گوشت کھلایا میری ماں اور بیوی کو ؟؟؟؟”
اب کبیر کا ہاتھ سلطان کے گريبان پر تھا۔
“کبیر میں نے خود گوشت دھویا تھا وہ حلال پرندے ہی تھے۔۔۔آپ چھوڑ دیں ان کا گريبان پلیز ۔۔ اس طرح مزيد تماشہ مت لگائیں خدا کے لئے ۔۔۔”
اب زینب روہانسی ہوگئی تھی۔وہ کبیر کا ہاتھ پکڑے اسے اندر کی طرف کھینچ رہی تھی۔
“میں ؟؟؟؟میں تماشہ لگا رہا ہوں ؟؟؟یہ بڑے بڑے مردار کھانے والے جنگلی پرندے تمہیں حلال لگتے ہیں ؟؟؟؟”
وہ آسمان کی طرف خوفزده نظروں دیکھتا ہوا دکھ سے بول رہا تھا۔
“کچھ نہیں ہے وہاں کبیر ۔۔ آخر ہو کیا گیا ہے آپ کو ایک ہی دن میں ؟؟؟آپ اتنے چھوٹے دل کے مالک تھے تو کیوں چنا اتنا خطرناک پیشہ ؟؟؟”
زینب اب باقاعده رونے لگی تھی جبکہ نسرین بيگم پتھرائی آنکھوں سے دم سادھے یہ سب دیکھ رہی تھیں۔جبکہ سلطان کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔
“میں ڈرپوک نہیں ہوں یار ۔۔۔”
کبیر کو اس جملے سے ٹھيس پوھنچی تھی۔آخر زینب نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر اسے ہاتھ جوڑ کر اندر آنے پر راضی کیا تھا۔اب کبیر بلکل خاموش ہو گیا تھا اس نے چپ چاپ بریڈ کے دو پيس دودھ کے ساتھ زینب کے ہاتھ سے کھاکر نیند کی دوا لی اور منہ پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں موند لیں جبکہ زینب اس کے بالوں میں ہلکے ہاتھ انگلیاں پھیرتی اسے پر سکون کر رہی تھی۔کچھ ہی دیر میں دوا نے اپنا اثر کیا تھا کبیر گہری نیند میں جا چکا تھا۔
زینب بے آواز روتی ہوئی اسکا ہاتھ پکڑے بس دیکھ رہی تھی۔اس کا دل کبیر کو اس طرح بے بس دیکھ کر خون کے آنسو رو رہا تھا۔اتنے میں آندھی سے
کھڑکیاں بجنے لگی تھیں۔وہ جلدی سے اٹھی اور کھڑکیاں بند کرنے لگی۔نسرین بيگم کے کمرے کی لائٹ اب تک آن تھی جس کا مطلب تھا وہ بھی اب تک جاگ رہی ہیں وہ کھڑکیاں بند کر کے ان کے کمرے کی طرف چل پڑی وہ ابھی ناک کرنے ہی والی تھی کہ اس کے سماعتوں سے عجیب عجیب آوازیں ٹکرانے لگی ایسا لگ رہا تھا بہت سے لوگ ایک ساتھ غصے میں بول رہے ہیں مگر ان کی زبان سمجھ سے باہر تھی۔
“آنٹی ؟؟؟”
زینب نے گھبرا کر غیر ارادی طور کمرے کا دروازہ کھول کر اندر جھانکا تھا۔اندر نسرین بيگم کرسی پر بیٹھی دروازے کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھیں ایسے جیسے وہ کسی کی منتظر ہو۔زینب کو دیکھ کر ان کے چہرے پر ناگواری واضح طور عیاں ہوئی تھی انہوں نے فورا سے آنکھیں بند کر لی تھیں۔
“اس وقت تمہیں اپنے کمرے میں،میرے بیمار بیٹے کے پاس ہونا چاہیے زینب نا کہ یہاں میرے سر پر سوار ہونا۔۔۔جاؤ یہاں سے ۔۔۔”
وہ بند آنکھوں سے چلا کر بولی تھیں۔
“آنٹی آپ کے کمرے سے شور آ رہا تھا ۔۔۔میں تو بس آپ کو دیکھنے آئی تھی”
وہ کمرے میں چاروں طرف دیکھتی ہوئی بول رہی تھی۔جس روشنی کو دیکھ کر زینب نسرين بيگم کے کمرے کی طرف متوجہ ہوئی تھی اس کا اندر نام و نشان نہیں تھا۔وہ موم بتی جلاے بیٹھی ہوئی تھیں جبکہ ان کے کمرے کی کھڑکیاں بھی تیز ہوا سے کھل بند ہو کر اچھا خاصہ ناگوار شور پیدا کر رہی تھیں۔
“آنٹی میں کبیر کی وجہ سے بہت پریشان ہوں،آپ سے دلاسہ چاہتی ہوں،ہم دونوں کا ان کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے ۔۔۔۔مجھ سے ۔۔۔مجھ سے ان کی یہ حالت دیکھی نہیں جا ر ہی ۔۔۔”
وہ کھڑکیاں بند کرتی مسلسل بول رہی تھی اس کا لہجہ دکھ سے لبریز تھا۔
“آنٹی بتائیں نا اب کیا ہوگا ؟؟؟”
وہ آخری کھڑکی کا دروازہ بند کرتی ہوئی نسرین بيگم کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی تھی۔نسرین بيگم کی چیئر ہل رہی تھی جبکہ وہ وہاں نہیں تھیں۔زینب نے جیسے ہی کھڑکی کی طرف دیکھ وہ اس میں کھڑی مسکرا رہی تھیں جبکہ ان کی آنکھوں کی پتلیاں سیاہ اور چہرہ جگہ جگہ نيلا تھا۔
زینب نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھ کر اپنی چیخ روکی تھی جبکہ اس کی آنکھیں خوف سے لال ہو چکی تھیں۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو اس وقت ؟؟؟”
نسرین بيگم کی آواز سے زینب نے جلدی سے پیچھے دیکھا تھا۔اب کمرے میں زیرو بلب جل رہا تھا اور نسرین بيگم واش روم کے دروازے میں کھڑی تولیے سے ہاتھ سکھا رہی تھیں۔
“آنٹی وہ ؟؟؟”
زینب نے کھڑکی کی طرف اشارہ کیا تھا جو ہوا سے بری طرح بج رہی تھی اور اب وہاں کوئی نہیں تھا۔
“تم کبیر کی وجہ سے بہت ڈسٹرب لگ رہی ہو جاؤ سو جاؤ ۔۔۔زینب میں بھی سونے لگی ہوں صبح کرتے ہیں کچھ”
وہ اپنا بستر ٹھیک کرتی ہوئی بولی تھیں۔
“جی امی”
زینب بمشکل اتنا ہی بول سکی تھی۔وہ کمرے کا دروازہ بند کرکے کچن میں آئی تھی۔جہاں کی کھڑکی کھلی تھی اور باہر کا منظر بہت صاف دکھا رہی تھی۔بجلی تیز تیز چمک رہی تھی طوفانی بارش ہونے لگی تھی۔بہت سے سانپ آپس میں گهتم گهتا تھے۔ایک بہت بڑا سانپ جو بار بار ان کو الگ کر رہا تھا۔آخر ان کے عتاب کا شکار ہوا تھا وہ سب سانپ مل کر اسے جگہ جگہ کاٹنے لگے تھے اس کا خون کڑکتی بجلی میں لال سرخ دور سے ہی نظر آ رہا تھا۔وہ سانپ کسی قسم کی مزاحمت کرنے کی بجاے پھن پھیلاے زینب کو دیکھ رہا تھا زینب نے جلدی سے کھڑکی بند کی اور منہ میں دوپٹہ ڈال کر اپنے خوف کی آواز کو دباے اپنے کمرے کا رخ جیسے ہی کیا سلطان اس کے آگے کھڑا تھا۔
“سلطان آپ ۔۔۔ “
وہ لمبی سانس لے کر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر خود کو نارمل کرنے لگی۔
“میں تهک گئی ہوں ۔۔ آپ صبح کبیر کی مدد ضرور کیجئے گا پلیز ۔۔۔”
وہ لمبے لمبے سانس لیتی بند آنکھوں سے بول رہی تھی۔جس کے جواب میں کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔مگر اس لمس سے اسے بے چینی ہوئی تھی اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دی تھیں۔وہاں کوئی نہیں تھا۔وہ اب برستی بارش میں گیٹ کے ساتھ بنے گارڈ روم کی طرف آئی تھی جہاں سلطان ہاتھ میں بندوق پکڑے گرم چادر اڑے گہری نیند سو رہا تھا۔
ایک دم زینب کو شدید خوف کا احساس ہوا تھا وہ دل منہ میں دباے اپنے کمرے کی طرف بھاگی تھی۔بارش اب بھی بہت تیز تھی۔رات کے دو بج رہے تھے۔وہ کمرے میں کبیر کے ساتھ چپک کر آنکھیں موند گئی تھی۔وہ دوائی کے اثر میں دهت پر سکون گہری نیند میں تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اباں میں نے بھی شہرجانا ہے اس بار تیرے ساتھ
۔
فینو نے گندی سے گڑیا کے بال سہلاتے ہوۓ باپ سے محبت اور مان میں اٹی ہوئی فرمائش کی تھی۔
“نہیں میری دھی ۔۔۔یہ شہر والے بہت نفرت کرتے ہیں ہم سے ۔۔وہ فورا ہمیں مار دیا کرتے ہیں ۔۔۔۔تم ابھی بہت چھوٹی ہو خود کو کنٹرول نہیں کر سکتی اگر تم ادھر اپنی اصلی شکل میں آ گئی تو اسی وقت لاٹھیوں سے کچل کر مار دی جاؤگی ۔۔ یہ شکتی بہت مشکل سے ملتی ہے ۔۔۔ورنہ زیادہ تر بستی کے سانپوں کو خود پر کوئی اختیار نہیں ۔۔۔وہ کب انسان اور کب سانپ بن جاتے ہیں
وہ یہ خود بھی جان نہیں پاتے ۔۔۔۔یہ جنگل وہ واحد جگہ ہے جہاں کا ہر جاندار دونوں شکل میں آ کر آزادی سے زندگی جی سکتا ہے ورنہ اللّه کی اس پوری کائنات میں اور ایسا کوئی ٹھکانہ نہیں ۔۔۔جہاں ہم جیسوں کا رہنا ممکن ہو ۔۔۔”
وہ خوشی اور بے بسی کے ملے جلے جذبات لئے بولا تھا۔
“مگر اباں اگر کبھی ایسا ہوا کہ یہاں بھی کوئی انسان آ گیا تو ؟؟؟پھر کیا وہ ہمیں مار دے گا ؟؟؟”
فینو کا خدشہ فطری تھا۔
“ایسا کبھی نہیں ہوگا بیٹا ۔۔۔۔میرے رب تو سب جانتا ہے نہ کہ ہم بے بس مخلوق ہیں ۔۔۔”
فقیرے کے جواب میں تسلی نام کا کچھ نہیں تھا۔یہ فقط لفاظی جواب تھا۔
“اباں جب ہم بھی انسان بن سکتے ہیں تو وہ اور ہم برابر کیوں نہیں ؟؟؟ہم بھی طاقت ور ہیں پھر ۔۔ “
وہ مسكرائی تھی۔جس پر فقیرے نے خالی آنکھوں سے اسے دیکھا تھا۔
“اباں توں تو پریشان ہی ہوگیا ہے ۔۔۔چل نہیں جاتی تیرے ساتھ ۔۔۔۔”
فینو سے باپ کا یوں پریشان ہونا برداشت نہیں ہوا تھا وہ گڑیا چھوڑ کر اس کے کندھے دبانے لگی تھی۔
“تیری ماں بھی ایسی ہی باتاں کرتی تھی ۔۔۔میں نے بہت سمجھایا تھا مگر اک نا مانی ۔۔۔آخر چڑھ گئی ظالم انسان کے ہتھ ۔۔۔۔مار دیا ۔۔۔۔۔”
فقیرے کی آنکھیں تکلیف سے لال ہوگئی تھیں۔
“اباں میں اپنی ماں کا بدلہ ضرور لوں گی ۔۔۔بس تو مجھے بڑا ہونے دے ۔۔۔”
فینو کے لہجے میں انتقام کا عنصر واضح تھا۔
“ایسا کبھی مت کرنا پتر ورنہ بستی سے سردار ہمیں نکال دے گا ۔۔۔ہم اس کی اجازت کے بغیر کسی انسان کو نہیں ڈس سکتے ۔۔۔۔نا ہی کھا سکتے ہیں ۔۔ اللّه نے جو ہمیں صلاحیت دے رکھی ہے اس کے تقاضے بہت بھاری ہیں ۔۔۔جس دن ہم نے اس کی لاڈلی مخلوق کی برابری کی ۔۔۔۔ہماری قوم نست و نابود ہوجاے گی ۔۔۔اور یہ سردار کبھی نہیں ہونے دے سکتا۔۔۔”
فقیرے نے بیٹی کی سرزنش اور اصلاح ایک ہی جملے میں کی تھی۔
“اچھا اباں میں باہر کھیلنے جا رہی ہوں”
وہ کہہ کر باہر آ گئی تھی۔جہاں تعمیراتی سامان سے لدھے ٹرک اسے جنگل کی طرف جاتے نظر آے تھے۔
