Jungal by Jameela Nawab Readelle 50384 Last updated: 18 November 2025
Rate this Novel
Jungal by Jameela Nawab
کھانا کھانے کے بعد ان کو مزيد ادھ گھنٹہ وہاں مٹی کا طوفان تھم جانے کا انتظار کرنا پڑا تھا۔
اب نسرین بيگم کو غوندگی ہونے لگی تھی وہ زینب کو کبیر کے ساتھ آگے آ کر بیٹھ جانے کا حکم سنا کر خود پیچھے آ کر لیٹ گئی تھیں۔موسم میں خنکی بھی آ چکی تھی کیوں کہ باہر اب ہلکی ہلکی بارش ہونے لگی تھی مٹی کی سوندهی خوشبو زینب کو بھی سونے پر مجبور کرنے لگی تھی مگر وہ کبیر کو جگاے رکھنے کے لئے خود بھی جاگنا چاہتی تھی۔اس نے چاۓ کا تهرمس ساتھ ہی رکھا ہوا تھا۔وہ دونوں ایک ہی کپ سے چاۓ پیتے ہوۓ آگے بڑھ رہے تھے۔
"کہیں بھی سٹریٹ لائٹ نہیں ہے یار ۔۔۔۔۔اپر سے کچا راستہ ۔۔۔۔اور یہ خراب موسم جو کسی بھی وقت بد ترین ہو سکتا ہے ۔۔۔"
کبیر نے آخر پیچیدہ ڈرائیونگ سے تنگ آ کر کہا تھا۔
"اللّه خیر کرے گا کبیر میں مسلسل آیت لكرسی پڑھ رہی ہوں آپ بس سامنے راستے پر نظر رکھیں اور گاڑی کو اور بھی آہستہ چلائیں ۔۔۔"
زینب سر پر چادر تقريبأ لپيٹتے ہوۓ بولی تھی۔وہ خود بھی سامنے کا راستہ بہت توجہ سے دیکھ رہی تھی۔
باہر بارش تیز نہیں تھی مگر اس کے ساتھ جو آندھی چل رہی تھی اس کی آواز اس رات
کو بہت بھیانک بنا رہی تھی۔
اسی دوران زینب کی آنکھ لگ گئی تھی جب گاڑی ایک جھٹکے سے رک جانے پر زینب اور نسرین بيگم دونوں ہڑ بڑھا کر جاگ گئی تھیں۔
"کیا ہوا ؟؟؟؟"
دونوں نے ایک ساتھ آنکھیں ملتے ہوۓ پوچھا تھا۔
"آگے روڈ پر کوئی لیٹا ہوا ہے،وہ دیکھیں ۔۔۔"
کبیر نے تھوک نگلتے ہوۓ پریشانی سے کہا تھا۔
سامنے واقعی سفيد چادر میں لپٹا ہوا کوئی موجود تھا۔تینوں نے گھبرا کر ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔
"میں نیچے اتر کر دیکھتا ہوں آپ دونوں نے یہی میرا انتظار کرنا ہے ۔۔۔میں جتنا بھی وقت لوں نیچے نہیں اترنا نا ہی گاڑی کا لاک کھولنا ہے چابی اندر لگا کر جا رہا ہوں ۔۔۔۔یہاں ڈاکو قدم قدم پر ملتے ہیں ۔۔۔یہ کوئی چال ہو سکتی ہے ۔۔۔مگر میں فقط انسانیت کے ناتے اپنی تسلی کرنا چاہتا ہوں کیوں کہ راستہ بہت تنگ ہے نا گاڑی واپس لی جا سکتی ہے نا ہی سائیڈ سے نکال سکتا ہوں ۔۔اس طرح کسی ذی روح کے اپر سے گاڑی نہیں گزار سکتا ۔۔۔"
اس سے پہلے کے ان دونوں میں سے کوئی کبیر کو روک پاتا وہ تیزی سے گاڑی لاک کرنے کا زینب کو اشارہ کرتا اتر چکا تھا۔زینب نے فوری اس کے حکم کی تعمیل کی تھی۔
