489.8K
9

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Jungal Episode 4

Jungal by Jameela Nawab

“آپ اس طرح حیران کیوں ہو رہے ہیں کبیر ؟؟؟”وہ بندہ مقامی آدمی تھا اس کا کہنا تھا اس کو شہر سے ہدایت ملی تھی کہ وہ یہ سب لے کر یہاں پوہنچا دے ۔۔۔وہ یہ سب شہر سے ہی لایا تھا کیوں کہ یہاں کے لوگ بھی سب شہر سے ہی لاتے ہیں ان کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ کوئی یہاں دوکان کھول سکے ۔۔۔اور یہ رہا اس سب کا بل ۔۔۔۔”

زینب اس کے ہاتھ میں بل تهماتی اب کھانے کے پیچھے چولہہ بجھا رہی تھی۔

“اچھا کہاں گیا ہے وہ اب ؟؟؟”

کبیر آٹے کی بوری اٹھا کر اندر لاتا ہوا پوچھ رہا تھا۔

“کہہ رہا تھا رات تک آ جاؤں گا کام پر ۔۔میں کھانا لگا رہی ہوں اور ہاں فریج بھی ركهوا گیا ہے کہہ رہا تھا باقی ہر سامان تھا بس یہی نہیں تھی”

وہ اب سالن ڈونگے میں انڈیل رہی تھی۔

اب وہ تینوں خاموشی سے کھانا کھا رہے تھے۔

“دال تو بہت مزے کی بنی ہے یار اور ڈال کے دو”

کبیر نے پلیٹ زینب کی طرف کھسکائی تھی۔

نسرین بيگم کی رغبت بھی ان کے مزہ کا پتہ دے رہی تھی۔

اس وقت شام کا وقت تھا۔زینب ڈبے کے دودھ سے چاۓ بنا کر لائی تھی۔

“کبیر میں نے صبح کے لئے آپ کی ساری تیاری کر دی ہے،کیا ٹائمنگ ہے وہ بتا دیں میں اس حساب سے الارم لگا لوں”

وہ چاۓ ميز پر رکھتی ہوئی پوچھ رہی تھی۔

“آٹھ بجے تک نکلوں گا”

کبیر موبائل میں مگن مصروف سا بولا تھا۔

“چلیں کبیر باہر لان میں جا کر چاۓ پیتے ہیں ۔۔۔۔برسوں بعد میری بڑے گھر کی خواہش پوری ہوئی ہے”

زینب اپنا کپ اٹھاتی محبت سے بولی تھی۔

“نہیں تم جاؤ میں ادھر امی کے ساتھ ہی چاۓ پینا چاہتا ہوں”

کبیر کا جواب سن کر نسرین بيگم کے چہرے پر اطمینان آیا تھا۔زینب ایک نظر دونوں پر ڈال کر باہر آ گئی تھی۔جہاں صبح کی بارش کی وجہ سے ٹھنڈک اور نمی سی تھی۔زمین کی مٹی کی کالی رنگت زیادہ بارشوں کا پتہ دے رہی تھی۔

وہ واک کرتی ہوئی چاۓ پی رہی تھی جب اسے دیوار کے ساتھ لگے گھنے پودوں میں سرسراہٹ سنائی دی تھی۔وہ چاۓ کا آخری گھونٹ انڈیلتی کپ ٹیبل پر رکھ کر اس جگہ پر آئی تھی۔مگر اب وہ آواز رک چکی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے ایک بج رہے تھے۔زینب کی آنکھ شدید پیاس سے کھل گئی تھی۔وہ کچن میں فريج سے پانی لینے آئی تھی۔باہر کا موسم کافی اچھا تھا۔لان میں لگے پھولوں کی خوشبو اندر تک گھر کو مہکا رہی تھی۔وہ ٹیوی لاؤنچ میں بنی بڑی بڑی کھڑکیوں میں کھڑی ہو گئی تھی جو فل وقت پردوں سے عاری تھے۔

“کتنا خوبصورت منظر ہے ۔۔۔۔کیا رات اتنی حسین ہوا کرتی ہے ۔۔۔۔اوپر پورا چاند ۔۔۔۔نیچے ٹھنڈی ہوا ۔۔۔۔خوبصورت پھول ۔۔۔۔”

وہ پانی کا گلاس ہاتھ میں لیے کسی ٹرانس میں چلتی ہوئی باہر آ گئی تھی۔ایسا لگ رہا تھا کوئی کشش ہے جو اسے وہاں کھینچ لائی ہے۔

وہ مگن سی آسمان کو دیکھ رہی تھی۔جب اسے اپنے پیچھے کوئی کھڑا محسوس ہوا تھا۔

زینب کے دل کی دھڑکن کسی انجانے خوف کی وجہ سے بے ترتیب ہوئی تھی۔

وہ غیر ارادی طور آیت لكرسی پڑھنے لگی تھی۔ساری ہمت جتا کر اس نے پیچھے دیکھا تھا ایک بہت بڑا اور موٹا سانپ تیزی سے درختوں میں گم ہوگیا تھا۔

وہ کانپتی ہوئی اندر کو بھاگی تھی اور کمرے میں جا کر لیٹ گئی تھی۔

“کبیر کو اٹھاتی ہوں،نہیں ۔۔۔۔وہ مجھے ہی ڈانٹ دے گے کہ اس وقت باہر کیوں گئی تھی اکیلی ۔۔۔۔وہ سانپ اتنا طاقت ور تھا آسانی سے مجھے دبوچ سکتا تھا پھر ۔۔۔۔۔۔مجھے دیکھ کر بھاگا کیوں ؟؟؟؟”سانپ بھی بھلا ڈرا کرتے ہیں کسی سے ؟؟؟؟”

سوالوں کی بوچھاڑ تھی جو زینب کے سر میں درد کرنے لگی تھی پھر نا جانے کب اس کی آنکھ لگی اور الارم بجنے پر بھی نہ کھل سکی۔وہ اٹھی تو دن کے دس بج رہے تھے۔دن چڑھ چکا تھا۔کبیر ڈیوٹی پر جا چکا تھا بنا ناشتے کے۔

“او میرے اللّه ۔۔۔۔۔۔کبیر خالی پیٹ ہی چلے گئے ؟؟؟؟اب کیا ہوگا ۔۔وہ تو مجھ سے بات نہیں کریں گے اب ۔۔۔۔میں اتنی لا پروائی کیسے برت سکتی ہوں آخر ؟؟؟؟اور نماز بھی گئی ۔۔۔۔۔”

وہ بالوں کا جوڑا بناتی اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔

“اٹھ ہی گئی ہو تو ناشتہ بنا دو مجھے بیٹا تو میرا بھوکا بھیج ہی چکی ہو تم ۔۔۔”

نسرین بيگم دروازے میں کھڑی آگ نکالتی ہوئی بولی تھیں۔

“جی امی ۔۔۔۔”

وہ جلدی سے واش روم میں ہاتھ منہ دھو کر کچن میں آ گئی تھی۔لگ بھگ پندره منٹ میں ناشتہ نسرین بيگم کے سامنے رکھ کر وہ اب دوپہر کے کھانے کے بارے سوچ رہی تھی جب وہ ہی مقامی آدمی گیٹ سے اندر آتا دکھائی دیا تھا۔یہ ایک درمیانی عمر کا آدمی تھا جس کا رنگ سانولا مگر پر کشش تھا۔زینب برتن دھو رہی تھی جب اس نے کچن کی کھڑکی سے اسے اندر آتا دیکھا تھا اس کے ہاتھ میں دودھ کی بوتلیں تھیں۔

“السلام علیکم ۔۔۔کیا میں اندر آ سکتا ہوں بيگم صاحبہ ؟؟؟؟”

وہ اب دروازے میں کھڑا نسرین بيگم سے ٹی وی لاؤنچ میں آنے کی اجازت طلب کر رہا تھا۔

“ہاں مگر تم ہو کون ؟؟؟”

وہ پراٹھے سے انصاف کرتیں اوپر سے چاۓ کا گھونٹ بھرتی ہوئی بھاری آواز میں بولی تھیں۔

“امی یہ وہ ہی ہیں جو کل یہ سارا

سامان لاے تھے۔”

اتنے میں زینب کچن سے بولی تھی۔

“اچھا اچھا .۔۔۔۔آ جاؤ اندر ۔۔۔۔ان بوتلوں میں کیا ہے ؟؟؟”

نسرین بيگم نے استفسار کیا تھا۔

“یہ دودھ ہے ماں جی ۔۔ میرے گھر کی بھینسوں کا ۔۔۔سوچا دودھ کا مسلہ ہو رہا ہوگا آپ لوگوں کو ۔۔۔تو روز آتے ہوۓ لیتا آیا کروں گا۔کیا میں یہ کچن میں رکھ دوں ؟؟؟”

وہ عاجزی سے پوچھ رہا تھا۔

“ہاں ۔۔۔رکھ دو ۔۔۔کبیر مہینہ پورا ہو جانے پر پیسے دے دیا کرے گا”

وہ چاۓ کا آخری گھونٹ بھرکر پراٹھے کا تيل اپنے ہاتھوں پر ملتی ہوئی بولی تھیں۔

“یہ برتن بھی لے جاؤ،اور بتاؤ کیا کیا کام کرو گے یہاں ؟؟؟؟مطلب کس کس کام کے لئے تمہیں یہاں بھیجا گیا ہے ؟؟؟؟”

وہ کھوجتی نظروں سے اب سر تا پير اس کا جائزہ لے رہی تھیں۔

“پہلی بات میں اس دودھ کے پیسے نہیں لوں گا ۔۔۔ بہت کرم ہے اللّه کا ۔۔۔کھلا دودھ دیتی ہیں میرے بھینسیں بچ جاتا ہے روز ۔۔۔۔دوسری بات میں ہر کام کر لیتا ہوں ۔۔۔وہ سارے کام جو ایک عورت کرتی ہے اور وہ سارے کام جو ایک مرد کرنا جانتا ہے ۔۔۔۔”

وہ اتنا کہہ کر کچن میں چلا آیا تھا جہاں زینب دوپہر کے لئے سوچ میں تھی۔

“یہ دودھ میں ابال لیتا ہوں”

وہ بجلی کی سی تیزی سے دودھ ابالنے میں لگ گیا تھا۔

“دوپہر کا کھانا میں بنا لوں گا آپ فکر نا کریں”

وہ زینب کو بنا دیکھے کام میں مگن بولا تھا۔

“مگر کیا بناؤ گے ؟؟؟”

“یہ شکار کا گوشت”

وہ اس کی طرف بڑا سا شاپر کرتا ہوا مسکرایا تھا۔

اسی دوران زینب کی نظر پہلی بار اس کی آنکھوں پر پڑی تھی۔جو بہت خوبصورت اور پرکشش تھیں۔وہ بلکل بھی عام نہیں تھیں۔وہ کس رنگ کی ہیں اس بات کا اندازہ لگانا ممکن نہیں تھا کبھی سبز لگتیں تو کبھی نيلی ۔۔۔کبھی کالی لگتی تو کبھی براؤن ۔۔۔وہ بس اس کی آنکھوں کا رنگ کھوج رہی تھی وہ کیا بول رہا ہے کان وہ سن کب رہے تھے۔۔۔

“زینب ؟؟؟؟؟؟”

آخر نسرین بيگم کی پکار نے اسکی اس کھوج کو منتشر کیا تھا۔

“آ رہی ہوں”

وہ جلدی سے بلند آواز میں بولی تھی۔

“تمہارا نام کیا ہے ؟؟؟”

وہ جاتے جاتے بنا پوچھے نہیں رہ پائی تھی۔

“سلطان “

وہ گہری مسكراہٹ لئے بولا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“یہ جنگل کی كٹائی کب سے ہو رہی ہے ؟؟؟یہ تو غیر قانونی ہے نہ ؟؟؟؟کیا آپ لوگ نہیں جانتے ؟؟؟؟”

کبیر کو آج پہلے دن ہی سختی سے پیش آنا پڑا تھا۔

وہ جیسے بی آفس آیا تو بہت سے مسائل کو اپنا منتظر پایا تھا جو عرصے سے کسی کی مدد چاھتے تھے۔

اس جنگل میں پاۓ جانے والے درخت بہت نایاب ہونے کی وجہ سے حکومت نے ان کی كٹائی مکمل طور قانوناً جرم قرار دی تھی مگر باوجود اس کے اس جگہ لوگ اس فعل میں ملوث نظر آ رہے تھے

“کبیر نے یہ سوال کوئی دسويں بار دوہرایا تھا مگر وہ آدمی خاموشی سے اپنا کام کر رہے تھے گویا وہ کبیر کو سن ہی نہیں رہے ہو ۔۔۔”

آخر کبیر تنگ آ کر واپس آفس میں آ کر بیٹھ گیا تھا۔

“کہاں پھنس گیا ہوں”

وہ بڑبڑایا تھا۔

“کسی مقامی کو ساتھ لے کر چلتا ہوں ہو سکتا ہے یہ لوگ میری زبان ہی نا جانتے ہو۔۔۔”

وہ آفس سے باہر آ چکا تھا۔اب اس کا رخ آبادی کی طرف تھا جس کا سوراخ اس نے آفس میں پڑے نقشے سے لگایا تھا۔

آبادی میں داخل ہوتے ہی ایک عجیب سے تعفن نے کبیر کا استقبال کیا تھا۔

وہ منہ پر رومال رکھے ایک گھر کے دروازے کے باہر کھڑا ہوا تھا۔اس سے پہلے کہ وہ ناک کرتا ایک بچہ دروازے سے باہر آیا تھا جو فقط نيكر نما کپڑے کا رومال لپیٹے ہوۓ تھا۔

“بیٹا کسی بڑے کو بلا کر لاؤ”

کبیر اسے اتنا کہہ کر اب موبائل پر وقت دیکھ رہا تھا جو دوپہر کے تین بتا رہا تھا۔وہ بچہ کچھ دیر اسے حیرانگی سے دیکھتا رہا پھر بھاگ کر اندر چلا گیا

کبیر کو وہاں کھڑے آدھا گھنٹہ ہونے کو تھا مگر وہ واپس نا آیا۔آخر تنگ آ کر اس نے دروازہ تھوڑا سا کھول کر اندر جھانکا جہاں ہر جگہ مٹی کے سوراخ تھے ایسا لگ رہا تھا وہ وہ بل ہیں جو چار دیواری میں بناے گئے ہیں۔کبیر دروازہ مکمل کھول کر اندر آ چکا تھا۔اب وہ بچہ کہیں نہیں تھا۔اندر آ کر وہ تعفن کا احساس زور پکڑ چکا تھا اس سے پہلے کہ کبیر کو قے آتی وہ جلدی سے باہر آگیا تھا

وہ جیسے ہی باہر آیا وہ وہاں سے دو گھر چھوڑ کر سانس بحال کرنے کے لئے کھڑا ہوگیا۔کبیر گهٹنوں پر ہاتھ رکھے منہ میں انگلی ڈال کر قے کرنا چاہتا تھا کیوں کہ وہ تعفن اس کی سانس کی نالی میں اٹک کر اس کا سانس روکے ہوۓ تھا۔آخر وہ اس عمل میں کامیاب ہوگیا تھا

اس کی آنکھیں لال ہو چکی تھیں۔وہ بس اب گھر جانا چاہتا تھا۔سانس بحال ہوتے ہی اس نے جیسے ہی واپسی کا رستہ لیا وہ ہی بچہ یک ٹک اسے اسی دروازے میں کھڑا دیکھ رہا تھا۔کبیر کو اس بچے سے خوف محسوس ہوا تھا اس نے نا آؤ دیکھا نا تاؤ وہ اندھا دهند بھاگنے لگ گیا یہاں تک کہ اس کے حواسوں نے کام چھوڑ دیا اور وہ اس دنیا نے بیگانہ ہوگیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کون ہو تم ؟؟؟؟؟”

کوئی تھا جو کبیر کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مار کر اسے ہوش کی دنیا میں واپس لا چکا تھا۔

مگر وہ جو کوئی بھی تھا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔کبیر آنکھیں ملتا ہوا اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔گهپ اندھیرا ہونے کی وجہ سے جگہ سمجھ سے باہر تھی۔طرح طرح کی جنگلی جانداروں کی آوازیں ماحول کو پر اسرار بناے ہوۓ تھیں۔اس نے ہاتھوں کی مدد سے جگہ کو ٹٹولنا شروع کیا تھا ہاتھ بار بار چھوٹی چھوٹی دیواروں سے ٹکڑا رہے تھے۔مگر وہ کیوں ہیں یہ چیز ناقابل فهم تھی۔

اس نے جلدی سے موبائل نکالا اور اس کی روشنی میں اس جگہ کو جاننا چاہا مگر وہ گھنے جنگل کے علاوہ کچھ نہیں تھا جو دیوار اس کے ہاتھوں کو محسوس ہو رہی تھی وہ تو وہاں تھی ہی نہیں ۔۔۔موبائل پر گھڑی رات کے دس بجا رہی تھی۔آخر گرتا پڑتا وہ چلتا رہا اور اسے گھر کا گیٹ نظر آیا۔

“کبیر ؟؟؟؟”

زینب اور نسرین بيگم جو گیٹ پر ہی اس کی منتظر تھیں اس کو یوں بكھلایا ہوا دیکھ بھاگ کر اس کی طرف آئی تھیں۔

“امی ۔۔۔۔یہ جگہ بہت عجیب ہے ۔۔۔۔زینب ہم کل صبح ہی یہاں سے چلے جائے گے”

یہ وہ واحد جملہ تھا جو وہ بند آنکھوں سے مسلسل ادا کر رہا تھا۔