489.8K
9

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Jungal Episode 3

Jungal by Jameela Nawab

زینب نے فورأ سے کبیر کے تاثرات جانچنے کے لئے اس کے چہرے کی طرف دیکھا تھا مگر وہاں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔

“یار جلدی کرو میں بہت تهک گیا ہوں گھر کے بستر پر سکون سے سونا چاہتا ہوں۔آج کا ہی دن ہے پھر کل سے ڈیوٹی سٹارٹ ہو جائے گی ۔۔۔”

کبیر ہاتھ پر بندھی گھڑی کو دیکھتا ہوا بولا تھا۔

“مطلب یہ خون کبیر کو نہیں دکھائی دے رہا ؟؟؟”

زینب نے ایک بار پھر اپنے خون آلود ہاتھوں کو دیکھا تھا۔اب وہ خاموشی سے وضو کرنے لگی تھی۔

اب گاڑی پھر سے رواں دواں تھی۔

بارش مکمل طور تھم چکی تھی۔ٹھنڈی تیز ہوا چل رہی تھی۔ تنگ کچے راستے پر درخت نیچے تک ہوا کے زور سے جھک کر پھر سے اوپر اٹھ جاتے ایسا لگ رہا تھا ہر درخت وہاں پر ان کو خوش آمدید کہہ رہا ہے۔

رات بھر کی جاگی زینب نماز پڑھتے ہی سو گئی تھی۔اس کی آنکھ گاڑی کے رکنے اور بہت سے لوگوں کے ایک ساتھ بولنے کے شور سے کھلی۔وہ آنکھ ملتی ہوئی باہر دیکھنے لگی تھی جہاں کبیر اور نسرین بيگم لگ بھگ بیس سے پچیس لوگوں کے جھرمٹ نما دائرے کے اندر دیکھ رہے تھے۔دور سے منظر کو سمجھنا زینب کو مشکل لگا تھا۔وہ بھی نیچے اتر گئی تھی۔مگر کبیر کی نظر جیسے ہی اس پر پڑی اس نے اسے واپس گاڑی میں بیٹھ جانے کا اشارہ کیا تھا۔وہ خود بھی ماں کے ساتھ گاڑی کی طرف آ رہا تھا۔

“امی یہ سب کیا تھا ؟؟؟؟کس صدی میں رہتے ہیں یہ لوگ ؟؟؟”

کبیر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہوۓ بولا تھا۔

“امی ؟؟؟؟”

نسرین بيگم کسی گہری سوچ میں معلوم ہو رہی تھی انہوں نے کبیر کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔جس پر کبیر نے دوبارہ سے ماں کو آواز دی تھی۔

“کبیر فلحال تو مجھے بس اتنی سمجھ آ رہی ہے کہ ان جنگلی لوگوں کے ساتھ تمہیں بہت مشکل پیش آنے والی ہے ۔۔۔۔جتنی جلدی ہو ۔۔۔اپنا تبادلہ کروالو واپس یا کہیں اور ۔۔۔۔”

نسرین بيگم کے لہجے میں پریشانی واضح جهلک رہی تھی۔

“امی یہ سب اتنا آسان نہیں ہوگا اب ۔۔۔۔تبادلے کی درخواست کم از کم دو سال سے پہلے نہیں منظور ہوتی ۔۔۔دو سال کا عرصہ بھی غنیمت ہے اگر سنوائی ہو جائے تو ۔۔۔”

کبیر نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوۓ افسردگی سے کہا تھا۔

“بات کیا ہے کبیر ؟؟آپ لوگ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں ؟؟؟کیا ہو رہا تھا ادھر ؟؟؟”

زینب نے پریشانی سے پوچھا تھا۔

“وہاں پر ایک آدمی اپنی تین بیٹیوں کی شادی ایک ہی ہستی سے کر رہا تھا اور جانتی ہو وہ ہستی کون تھی ؟؟؟”

کبیر نے زینب پر ایک نظر ڈال کر بتانا شروع کیا تھا۔جس پر زینب تھوڑا آگے ہو کر اس کے قريب ہوگئی تھی۔

“مگر تین بہنوں کا نکاح ایک ہی بندے سے کیسے جائیز ہو سکتا ہے وہ ہستی جو بھی تھی؟؟؟”

زینب کا تجسس عروج پر تھا۔

“یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں زینب ۔۔۔۔۔اللّه جانے کیا عقیدہ ہے ان کا مگر کم از کم اللّه کو نہیں مانتے ۔۔۔”

نسرین بيگم نے بھی لقمہ لیا تھا۔

“امی جو یہ کر رہے تھے وہ تو شائد ہندو ۔۔۔۔یا شائد کسی بھی اس مذہب میں نا ہو جو ہم جانتے ہیں ۔۔۔”

کبیر نے گاڑی کو ایک بڑے درخت سے بال بال بچاتے ہوۓ کہا تھا جو گاڑی کو بنا کوئی نقصان پہنچاۓ اس پر جھک کر تیزی سے اوپر کو اٹھ گیا تھا۔

“کبیر پوری بات بتائیں ۔۔۔۔”

زینب کو اب غصہ آ رہا تھا ماں بیٹے کی پہلیوں پر۔

“وہ اس کی شادی ایک ادھ مرے سانپ کے ساتھ کر رہے تھے جو کل طوفانی رات میں ان سے غلطی سے زخمی ہو گیا تھا۔”

کبیر نے گهتی سلجهائی تھی۔

“کیا ؟؟؟؟؟”

زینب کا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا تھا۔

“کبیر گھر اور کتنا دور ہے ؟”

وہ کافی دیر بعد بس اتنا بول پائی تھی۔

“بس یہ جو گھنے درخت نظر آ رہے ہیں نا ان کے بیچ میں ہی گیٹ ہوگا نقشے کے حساب سے یہاں جنگل کا مڈ ہے وہی فارسٹ آفیسر کا بنگلہ ہوتا ہے عام طور پر ۔۔یہی ہوگا ہمارا گھر ۔۔۔”

اور پھر ایسا ہی تھا۔دو مالی گیٹ پر ہی موجود تھے جو گیٹ کے اوپر پھیلی جنگلی بيلوں کو صاف کر رہے تھے۔ان دونوں کو کبیر کی تعیناتی سے دو دن قبل ہی اس بنگلے میں اگی جنگلی پودوں کی کانٹ چھانٹ اور صاف صفائی کے لئے بھیجا گیا تھا جو اندر کی ساری صفائی کر لینے کے بعد اب بس گیٹ کو فائنل لک دینے کو تھے۔اس کے بعد انہوں نے واپس شہر چلے جانا تھا۔اور ایک مقامی آدمی کو دو دن بعد یہاں گھر کی دیکھ بھال کا چارج سنمبهالنا تھا۔جو کسی ذاتی وجہ سے فل وقت ڈیوٹی پر آنے سے قاصر تھا۔

یہ ایک سفيد بنگلا تھا جس کا پینٹ اپنے نظر انداز ہونے کی روداد چیخ چیخ کر سنا رہا تھا۔

بارش کے پانی نے اس کو جگہ جگہ سے سیاہ کر رکھا تھا۔ایک عجیب سی سمل ہر پورے ماحول میں پهيلی ہوئی تھی وہ شائد مسلسل نمی کی تھی ۔

“کبیر صاحب کمروں کی صفائی بھی کردی ہے موٹی موٹی باقی یہ مین گیٹ ہی رہ گیا ہے یہ بھی بس ہو چکا ۔۔۔۔آپ اندر سے جائزہ لے لیں مزيد کوئی کام ہو تو بتا دیں ورنہ پھر ہم بس وقت سے نكلنا چاھتے ہیں ۔۔۔”

ان میں سے ایک آدمی کبیر کی گاڑی کو گیٹ پر ہی روک کر پوچھ رہا تھا۔

“ٹھیک ہے میں بتاتا ہوں”

کبیر نے گاڑی اندر کی طرف لی تھی۔ہوا کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا۔جو کہ اب آندھی کی شکل اختیار کر چکی تھی۔بہت سے پتے صاف کی ہوئی جگہ پر پھر سے جمع ہونے لگے تھے۔کالے بادلوں سے آسمان بھر چکا تھا۔موسم چند ہی لمحوں میں ایسا بدلہ تھا کہ صبح کا وقت رات کا منظر پیش کرنے لگا تھا۔

وہ تینوں بہت مشکل سے گاڑی سے نکل کر اندر جانے میں کامیاب ہوۓ تھے۔اندر کے کمرے کافی بڑے بڑے تھے۔پرانے طرز کا فرنیچر جسے جابجا سفيد چادروں سے ڈھکا گیا تھا۔

زینب تیزی سے ساری کھڑکیاں بند کرنے لگی تھی جہاں سے پتے اب اندر آنے لگے تھے۔

ہوا کی تیز آواز کانوں کے پردے پھاڑ رہی تھی۔وہ دونوں آدمی کام آدھے میں چھوڑ کر جانے کہاں چلے گئے تھے۔یہ سب لگ بھگ ادھ گھنٹے تک چلتا رہا اور پھر تیز بارش نے اس کی جگہ لے لی۔کبیر ایک کمرہ دیکھ کر اس میں سونے لیٹ گیا تھا جبکہ نسرین بیگم زینب کے ساتھ ہی گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں مصروف رہیں۔

“کبیر لگ بھگ دوپہر کے دو بجے سو کر اٹھا تو اسے بھوک محسوس ہوئی۔تب تک زینب اور نسرین بيگم نے گھر کے اندرون کو کافی حد تک بہتر حالت میں کر لیا تھا۔اب وہ بھی کھانے کے لئے سوچ وچار میں تھیں کہ کیا کیا جائے کیوں کہ راشن تو یہی سے خرید کر ڈالنا تھا۔

“زینب کل کا کچھ ہے تو دے دو بہت بھوک لگی ہے”

کبیر نے ماں کے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوۓ کہا تھا۔

“کھانا تو نہیں ہے کبیر بس لیز اور نمکو کے چند پیکٹ ہو شاید وہ دے دیتی ہوں”

وہ اٹھ کر کچن میں آئی تھی۔جہاں اس نے لنچ بكس اور کھانے والے شاپر رکھے تھے۔

لمبے عرصہ سے کچن کے کیبنٹ بند رہنے کی وجہ سے کھلنے پر گندی سے سمل ناک کے نتھنوں سے ٹکرارہی تھی۔

“پورا کچن سرف سے دھولوں تو شاید کچھ سمل کم ہو جائے”

زینب کچن کو دیکھتی ہوئی شاپر ہاتھ میں پکڑے اپنا اگلا کام ترتیب دے رہی تھی۔جب کبیر کی آواز نے اس کا تسلسل توڑا تھا۔

“یار جلدی کرو پاۓ چڑھالئے ہیں کیا ؟؟؟”

آواز میں سونے کی وجہ سے بھاری پن تھا۔

“کبیر آپ اور امی راشن لے کر آجائیں میں تب تک کچن صاف کر لیتی ہوں اور پھر موسم بھی ابھی بہتر ہے”

زینب نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوۓ کہا تھا جہاں وہ دونوں آدمی اب دوبارہ سے اپنا ادھورا کام نپٹا رہے تھے۔

“چلیں امی”

چپس کے مصا لحے سے ہاتھ جھاڑ کر اب وہ جمائی روکتا ہوا اٹھ گیا تھا۔

“صاحب ہمیں بھی کچھ راستے تک چھوڑ دیں ہم پہلے ہی بہت لیٹ ہو گئے ہیں آخری بس شام کے تین بجے جاتی ہے وہ بھی نکل گئی تو بہت مسلہ بن جائے گا ۔۔۔۔ہم بیوی بچوں والے ہیں”

ان میں سے ایک کبیر کے پاس آ کر بولا تھا جبکہ کبیر گاڑی کا دروازہ کھول رہا تھا۔

“ٹھیک ہے بیٹھ جانا میں گاڑی باہر نکال لوں تو”

کبیر کہہ کر گاڑی میں بیٹھ گیا تھا اب وہ چاروں گاڑی میں موجود تھے۔

“یہاں سے آٹا گھی وغیرہ کہاں سے ملے گا ؟؟؟”میرا مطلب ہے بازار ہے یہاں ؟؟؟”

سوال ان دونوں سے ہوا تھا۔

“نہیں صاحب ہم نہیں جانتے ہم تو اپنا دو دن کا دانہ پانی ساتھ لاۓ تھے۔بس گھر پر ہی رہے ہیں”

ان میں سے ایک بولا تھا۔

“اچھا بس کہاں ملے گی تمہیں کہاں پر اتارنا ہے تمہیں ؟؟؟”

کبیر نے پیچھے ان کی طرف دیکھ کر پوچھا تھا۔

“بس تھوڑا سا آگے وہاں ایک بس اسٹاپ موجود ہے بس بھی بس آتی ہی ہوگی”

کبیر ان دونوں کو اتار کر خود بھی بس کا انتظار کر رہا تھا۔اس کا خیال تھا بس میں بیٹھا کوئی نا کوئی نفس ضرور بازار کا پتہ جانتا ہوگا۔

تھوڑی ہی دیر میں بس آتی دکھائی دی تھی جس میں ڈرائیور کے سوا کوئی نہیں تھا پوری بس خالی تھی وہ دونوں آدمی جلدی سے اس بس میں سوار ہوۓ تھے۔

کبیر جلدی سے گاڑی سے اتر کر بس ڈرائیور کے پاس آیا تھا۔

“بھائی صاحب یہاں کا بازار کدھر ہے ؟؟؟کھانے کا سامان،راشن کہاں سے ملے گا ؟؟؟”

اس نے ڈرائیور کی بیزاری دیکھ کر ایک ہی سانس میں سوال مکمل کیا تھا۔

کبیر کی بات پر وہ شخص کچھ لمحے اسے حیرانگی سے دیکھتا رہا پھر وہ یوں ہنسنے لگا جیسے کوئی بہت مزاحیہ بات سن لی ہو۔اس کا قہقہ رکنے کو ہی نہیں آ رہا تھا۔کبیر کی ہارٹ بیٹ خطرناک حد تک تیز ہوئی تھی۔وہ سوکھے منہ اسے بس دیکھ رہا تھا۔اس کے قہقہے میں کبیر کو بس اپنی ذات کے لئے تضحیک ہی تضحیک محسوس ہوئی تھی۔اب ان قہقہوں کی گونج میں اضافہ ہوا تھا کیوں کہ وہ بس میں موجود دونوں نفوس بھی اس میں شامل ہو چکے تھے۔

کبیر کو لگا وہ مزيد یہاں دو منٹ میں رکا رہا تو اس کے کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے مگر اس کے قدم زمین کو چھوڑنے کے لئے تیار ہی نہیں تھے۔وہ کسی معصوم بچے کی طرح بے بسی سے بس رو دینے کو تھا جب کسی نے اس کا بازو کھینچ کر اپنی طرف کیا تھا وہ نسرین بيگم تھیں جن کی نظر نیچے کچھ دیکھ رہی تھی۔کبیر نے ان کی نظروں کا تعاقب کیا تو ایک چھوٹا سا سانپ اس کی پنڈلیوں کے گرد بل کھانے میں مصروف تھا۔کبیر کا دیهان اس طرف ہوا وہ اپنے پاؤں زور زور سے زمین پر جھٹکنے لگا جس سے سانپ تیزی سے وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا مگر اسی دوران

وہ بس چل پڑی بلکہ منظر سے ایسے غائب ہوئی جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔نسرین بيگم کبیر کا پيلا پڑتا چہرہ دیکھ کر کافی پریشان ہوگئی تھیں وہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر گاڑی میں لے آئی تھیں۔اسے پینے کے لئے پانی دیا اور کچھ وقت اسے نارمل ہونے کے لئے دیا۔دس منٹ ایسے ہی گزر گئے۔

“امی میں گھر جاتے ہی شہر فون کرتا ہوں ۔۔۔میں یہاں نہیں رہ سکتا ۔۔۔۔آپ جانتی ہیں میں مہینہ مہینہ اکیلا سنسان جنگلوں میں فیملی کے بغیر تن تنہا رہا ہوں مگر کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا جیسا اس جنگل میں داخل ہونے سے لے کر اب تک میں کر رہا ہوں ۔۔۔۔ گو کہ میں اکیلا بھی نہیں ہوں ۔۔۔۔،”

کبیر کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا۔

“تمہیں جیسے ٹھیک لگے کرو بیٹا ۔۔۔ مجھے تو تبھی شک ہوا تھا جب انہوں نے تمہیں یہاں تبادلے کی دگنی تنخواہ کی آفر کی تھی۔میں تو بس تمہاری خوشی میں خاموش ہو گئی تھی”

نسرین بيگم نے بھی اپنا دل ہلکا کیا تھا۔

“امی آپ یہ بات زینب کو نا بتاییے گا ۔۔۔کہ میں یہاں زیادہ تنخواہ دیکھ کر آیا ہوں ورنہ وہ کیا سوچے گی میرے بارے ۔۔۔”

کبیر نے رازداری سے کہا تھا جیسے وہ یہی موجود ہو اور انهیں سن لے گی۔ماں نے محظ سر ہلا کر اسے تسلی دی تھی۔

“چلیں گھر چلتے ہیں زینب اکیلی ہے ڈر نا گئی ہو”

کبیر نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوۓ کہا تھا۔

وہ گھر آۓ تو ایک نیا جھٹکا ان کا منتظر تھا ۔کچن مکمل صاف ستھرہ تھا اور زینب وہاں موجود نہیں تھی۔جبکہ چولہے پر موجود کھانا ہلکی آنچ پر پک رہا تھا۔

“زینب ؟؟؟؟”

کبیر نے بلند آواز میں اسے پکارہ تھا۔مگر کوئی جواب نا پا کر وہ بھاگا بھاگا اسے ہر کمرے میں ڈھونڈ رہا تھا۔ایک کمرے کے واش روم میں نل چلنے کی آواز سے وہ مطمئين ہوا تھا کہ وہ یہاں موجود ہے۔وہ تقريبأ گرتے ہوۓ ماں کے پاس پڑے صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔

اتنے میں زینب آتی دکھائی دی تھی جو کافی فریش اور خوش لگ رہی تھی۔

“آ گئے آپ لوگ ؟؟؟چلیں ہاتھ دھو لیں پھر میں کھانا لگا دیتی ہوں ۔۔۔میں تو نہا کر بہت اچھا محسوس کر رہی ہوں سفر کی ساری تھکان مانو پانی کے ساتھ ہی بہہ گئی ہے”

وہ بالوں کو تولیے میں رگڑتی کچن میں چلی آئی تھی جبکہ وہ دونوں ماں بیٹا اسے اتنا پر سکون دیکھ کر ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔نسرین بيگم ہاتھ دھونے اٹھی تھیں جبکہ کبیر زینب کے پیچھے کچن میں آ آگیا تھا۔جہاں وہ راشن کبنیٹ میں رکھ رہی تھی۔ضرورت کے برتن بھی وہ ترتیب دے چکی تھی جو وہ شہر سے ساتھ لائی تھی۔اس سے پہلے کے وہ اس کے متعلق کچھ پوچھتا الٹا زینب کے سوال نے اسے حیران کر دیا تھا۔

“کبیر جب آپ نے جاتے ہی سامان بھیجوا دیا تھا تو پھر اتنی دیر کہاں لگا دی ؟؟؟اپنی زینب کے اکیلے پن کی زرہ فکر نا ہوئی تم کو ؟؟”

زینب شرارت سے اس کا ہاتھ پکڑ کر مسکراتی ہوئی پیار سے پوچھ رہی تھی۔کبیر کو اس ڈرائیور کا قہقہ سنائی دیا تھا زینب کی مسکراہٹ اسے خوفزده کرنے لگی تھی۔اس نے اس کا ہاتھ جھٹک کر چہرے پر آتا پسینہ صاف کیا تھا۔

“کیا بکواس کر رہی ہو زینب کون سا آدمی کیسا راشن ؟؟؟؟”

اس نے سارا غصہ ایک ہی جملے میں سمو کر اتار دیا تھا۔

“یہ سب ۔۔۔۔”

زینب نے کچن کی کھڑکی کے باہر اشارہ کیا تھا جہاں اچھی خاصی مقدار میں کچن کے خشک لوازمات موجود تھے۔جس میں آٹا چاول دالیں شامل تھیں۔