Jungal by Jameela Nawab Readelle 50384 Jungal Episode 2
Rate this Novel
Jungal Episode 2
Jungal by Jameela Nawab
کبیر تیز تیز قدم اس سفيد چادر میں لپٹے وجود کی طرف جا رہا تھا۔بارش تیزی سے اس کو بگھا رہی تھی۔زور سے بجلی کڑکتی اور پورا جنگل روشن ہو جاتا ۔۔۔درختوں کے سبز پتے گیلے ہونے کی وجہ سے چمک کر اس منظر کو اور خوفناک بنا رہے تھے۔
“آنٹی ۔۔۔۔میرا دل بہت گھبرا رہا ہے ۔۔۔”
زینب نے دو بار یہ بات دوہرائی تھی مگر پیچھے بیٹھی نسرین بيگم کی طرف سے مکمل خاموشی تھی۔
وہ جو بھی تھا سات فٹ قد کا مالک تھا۔کبیر کے قدم بلکل اس کے پاس آ کر رک گئے تھے۔وہ اس کا چہرہ دیکھنے کی ہمت نہیں جتا پا رہا تھا۔
“کبیر واپس آ جائیں۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔ “
زینب مسلسل روتے ہوۓ چیخ رہی تھی۔
کبیر نے گاڑی کی طرف دیکھا تھا مگر فرنٹ لائٹ آن ہونے کی وجہ سے وہ زینب کو دیکھ نہیں پا رہا تھا مگر زینب کو وہ دونوں صاف نظر آ رہے تھے۔
ایک دم وہ وجود اٹھا اور کبیر کے پیچھے کھڑا ہو گیا ۔۔وہ انتہا کا سیاہ وجود تھا جس کے چہرے پر جابجا نيل گو واضح نشان تھے جیسے کسی زہریلی چیز کے کاٹنے سے ہوجایا کرتے ہیں ۔۔۔اس کی آنکھوں کی پتلیاں بلکل سفيد تھیں۔اور وہ عجیب سی غصیلی آواز نکال رہا تھا۔اس سے پہلے کے زینب کچھ کرتی گاڑی کی لائٹس بند ہوگئی ۔۔اب گهپ اندھیرا تھا۔
“آنٹی ۔۔۔۔کبیر کو مار دے گا وہ آدمی ۔۔۔۔آنٹی ؟؟؟”آپ جواب کیوں نہیں دے رہی؟؟؟؟”
زینب روتے ہوۓ چیخ کر بولی تھی۔کوئی جواب نا پا کر اس نے پیچھے دیکھا تھا۔مگر پیچھے کا منظر اس سے بھی خوفناک تھا۔
کبیر،نسرین بيگم اور وہ آدمی اسی طرح نيلے داغ دار چہرے اور سفيد پتلیاں لئے زینب کو دیکھ رہے تھے۔ان کے چہروں پر عجیب سا کرب اور غصہ تھا۔زینب کا اپر کا سانس اپر اور نیچے کا نیچے اٹک گیا تھا۔وہ پتهرائی آنکھوں سے بنا پلک جهپکاۓ ان تینوں کو دیکھ رہی تھی۔
اب وہ تینوں اپنی ناک میں روئی ڈال رہے تھے۔
آخر اپنی ساری توانائی جمع کر کے زینب زور سے چیخی تھی۔
“کیا ہو گیا ہے یار ؟؟؟؟؟”
کبیر نے ایک زور دار جھٹکے سے گاڑی روکی تھی۔
“اچھی بهلی سو رہی تھی تم پھر چیخی کیوں ؟؟؟؟؟؟”
وہ دبے الفاظ میں برہم بھی ہوا تھا۔
نسرین بيگم بھی ہڑبڑا کر ادھ کھلی آنکھوں سے پچھلی سیٹ پر بیٹھی خوفزده زینب کو دیکھ رہی تھیں۔
“کچھ نہیں ۔۔وہ ۔۔۔۔۔۔شائد خواب تھا ۔۔۔۔۔آپ ۔۔۔آپ سفر جاری رکھیں ۔۔۔۔کبیر ۔۔۔”
زینب چہرے پر آتا پسینہ صاف کرتی بے چارگی سے بولی تھی۔
“دیکھو یار موسم کتنا خراب ہو گیا ہے کچھ سمجھ نہیں آ رہی راستے کی ۔۔۔بس اللّه کے بھروسے بهگا رہا ہوں گاڑی کو ۔۔۔۔نا بارش تھم رہی ہے نا ہی آندھی ۔۔۔۔کبھی تو دل کیا واپس گھر چلا جاؤں ۔۔۔۔آپ دونوں تو آرام سے کھا پی کر سو گئی تھیں ۔۔۔میں نے کتنی مشکل سے تب سے گاڑی چلائی ہے یہ بس میں جانتا ہے اللّه کے بعد ۔۔۔۔اوپر سے تمہاری چیخ ۔۔۔۔میرا تو دل منہ کو آ گیا یار ۔۔۔۔”
کبیر پیچھے بیٹھی بیوی کو سمجھانے والے انداز سے کہتا چلا گیا ۔۔۔۔جس کا زینب کے پاس جواب موجود تھا مگر وہ جانتی تھی یہ جواب اسے اور زچ کروا دے گا ساس اور شوہر کے آگے ۔۔۔۔لہذا خاموشی میں ہی عافیت سمجھی ۔۔۔
اس وقت اسے اپنی امی کی یاد شدت سے آئی تھی ۔۔۔جو فقط اس کا چہرہ دیکھ کر اس کے دل کا حال جان جاتی تھیں ۔۔۔زینب کو بہت زور کا رونا آ رہا تھا مگر وہ آنسو پی گئی تھی۔وہ بنا کوئی جواب دیے کبیر کی بات پر محظ اثبات میں سر ہلا گئی تھی۔جبکہ نسرین بيگم سر نفی میں ہلاتیں دوبارہ سے سیٹ کے ساتھ سر لگا کر سونے کی کوشش میں لگ گئی تھیں۔
کبیر دوبارہ سے گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا۔
وہ بہت پریشان تھا۔کیوں کہ اس طوفانی موسم میں اس گھنے جنگل میں گاڑی چلانا تو مشکل تھا ہی ۔۔۔مگر درست سمت کا تعین الگ مسلہ تھا۔
آخر اس کی مشکل تھوڑی آسان ہوئی تھی۔اسے ایک چوکی نظر آئی تھی۔
وہ جلدی سے اتر کر نیچے آیا تھا۔
“یہ راستہ کدھر کو جاتا ہے؟؟؟”
کبیر تیز ہوتی بارش سے بچنے کے لئے سر پر اپنے دنوں ہاتھ رکھ کر چوکی پر موجود کانسٹیبل کے پاس بھاگ کر نیچے آیا تھا۔جو منہ پر ٹوپی رکھے شاید اس طوفانی ٹھنڈی رات میں نیند پوری کر رہا تھا۔
“ارے بہرے ہو کیا؟؟؟” جلدی بتاؤ میرے ساتھ فیملی ہے۔۔۔یار۔۔”
کبیر اس کو ٹس سے مس نا ہوتا دیکھ اس کی ٹیبل پر موجود میپ سے خود ہی آگے کا راستہ دیکھنے میں لگ گیا تھا۔جہاں یہاں سے آگے کے راستے کو پہلے سے ہی واضح کیا گیا تھا۔
وہ اپنا جواب ملتے ہی سر پر ہاتھ رکھ کر گاڑی کی طرف بھاگنے کو تھا جب اس کانسٹیبل کی آواز اس کی سمات سے ٹکرائی تھی۔
“واپس لوٹ جاؤ وہاں کے لوگ کسی باہر کے بندے کو برداشت نہیں کرتے۔۔۔۔وہ اس گھنے جنگل کے واحد حکمران ہیں۔۔۔”
وہ آنکھوں پر سے ٹوپی ہٹا کر چیخ کر بولا تھا۔جس پر کبیر کے قدم ہوا میں معلق ہوۓ تھے۔
“میں فارسٹ آفسیر ہوں وہاں کا یار ایک ایک کو دیکھ لوں گا”
وہ ازلی اعتماد سے مسکرا کر بولا تھا۔یہ کہہ کر وہ وہاں رکا نہیں تھا۔
تیز بارش میں وہ بس ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کو تھا جب کانسٹیبل کی آواز نے ایک بار پھر اس کو بے چین کیا تھا۔
“تم وہاں کے انسانوں سے بچ بھی گئے تو وہاں کے سانپ تمہیں زندہ نہیں چھوڑے گے صاحب”
“وہاں کے سانپ انسان کو ڈس کر نہیں سالم نگل کر مارتے ہیں”
کانسٹیبل اتنا بول کر دوبارہ ٹوپی چہرے پر رکھ کر خاموش ہو چکا تھا جبکہ کبیر بوجھل دل کے ساتھ ایک نظر اس پر ڈال کر گاڑی سٹارٹ کررہا تھا۔
“امی پتہ نہیں مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے میرا اس حقیقت کو اپنے خواب کی تعبیر سمجھ کر اس تبادلے کو قبول کرنا غلط فیصلہ تھا۔میری چھٹی حس اچھے سائن نہیں دے رہی”
کبیر گاڑی سٹارٹ کرتے ہوۓ پریشان سا بولا تھا۔
“نہیں میرا پتر ایسا بلکل نہیں ہوگا ۔۔۔اللّه سب خیر کرے گا ۔۔ بس موسم کی وجہ سے تم پریشان ہو ۔۔۔ایسا کرو کوئی مناسب جگہ دیکھ کر گاڑی روک دو ۔۔۔باقی کا سفر صبح دیکھ لے گے۔کیا کہتے ہو ؟؟؟”
نسرین بيگم نے شفقت سے کبیر کا كندها سہلاتے ہوۓ کہا تھا ۔
“امی میں اکیلا ہوتا تو اور بات تھی اس طرح فیملی کے ساتھ کیسے کہیں بھی روک جاؤں ۔۔۔”
کبیر کی آواز میں بے بسی تھی۔
“کبیر ۔۔۔میرے خیال میں وہ کانسٹیبل والی جگہ نسبتأ کسی اور جگہ کے محفوظ جگہ تھی ۔۔۔رات ركنے کے لئے ۔۔۔۔”
زینب نے ڈر ڈر کر اپنی بات رکھی تھی۔
“وقت کیا ہوا ہے ؟؟؟”
کبیر نے کچھ دیر سوچنے کے بعد پوچھا تھا۔
“رات کا ایک بج رہا ہے کبیر ۔۔۔”
زینب نے موبائل سے وقت دیکھ کر بتایا تھا۔
اب کبیر گاڑی ریورس کر کے اس چوکی کی طرف لے کر جا رہا تھا۔جو دس منٹ کی ڈرائیو پر پیچھے رہ گئی تھی۔
“آپ دونوں جب میں کہوں تب ہی نیچے آئیے گا میں کانسٹیبل سے بات کر کے آتا ہوں۔”
کبیر نیچے اترتے ہوۓ بولا تھا۔
کانسٹیبل اس کرسی پر موجود نہیں تھا۔وہ ایک چھوٹا سا ہی تو کمرہ تھا اور باہر موسم سخت خراب ۔۔۔۔ایسے میں اس کا غائب ہونا سمجھ سے بالا تر تھا۔
اس کی ٹوپی اور وہ نقشہ ٹیبل پر اب بھی موجود تھا۔
اس کمرے میں ایک ٹیبل دو کرسیاں اور ایک بینچ پڑا تھا۔
کبیر جسمانی تھکاوٹ کے ساتھ ساتھ اعصابی تھکاوٹ کا بھی شکار ہو چکا تھا وہ بس جلد از جلد آنکھیں بند کر کے سکون حاصل کرنا چاہتا تھا۔اس نے دونوں کو گاڑی سے اترنے کا کہا گاڑی لاک کی اور اس بینچ پر سونے لیٹ گیا جبکہ نسرین بيگم وہاں موجود کرسی پر سستانے بیٹھ گئی۔۔نسرین بيگم اور کبیر کی آنکھ فورا ہی لگ گئی ۔۔۔ جبکہ زینب کو خواب والا منظر پل بھر کو چین نہیں لینے دے رہا تھا۔وہ دروازے میں کھڑی سہمی سی اس تیز بارش اور چمکتی بجلی کو دیکھ رہی تھی۔
ایک دم بجلی کڑکی جس میں ایک موٹی رسی نما چیز درخت کے ساتھ لٹکی چمکی تھی۔زینب کو جانے کیوں بہت تجسس ہوا تھا۔
وہ اب دوبارہ بجلی کڑکنے کی منتظر تھی۔مگر اب بارش تھمنے لگی تھی بس ہلکی ہلکی بوندا باندی ہونے لگی تھی۔
زینب نے موبائل کی ٹارچ آن کی اور ایک نظر کمرے میں موجود نفوس پر ڈال کر وہ باہر نکل آئی۔
بارش کی وجہ سے جنگل میں موجود ہر کیڑا مکوڑا جاگ رہا تھا طرح طرح کی آوازیں جنگل میں اچھا خاصا شور پیدا کر رہی تھیں۔
وہ جہاں پاؤں رکھتی نیچے کوئی نا کوئی چیز رینگتی ہوئی دوسری جگہ چلی جاتی۔وہ جنگل گھنا ہونے کی وجہ سے کروڑوں حشرات کا گھر بھی تھا۔
وہ رسی نما چمکدار ہوا کے ساتھ ہل ہل کر جھول رہی تھی۔
زینب جب اس درخت کے کافی قریب آ چکی تو اس کے قدم آگے نہیں جا پا رہے تھے ایسا لگ رہا تھا کوئی ان دیکھا حصار ہے جو اسے وہاں روک رہا ہے۔
زینب نے موبائل کی لائٹ ہر طرح سے گھما کر کچھ نظر آ جانے کی سعی کی مگر بے سود ۔۔۔۔
اب وہ ہاتھ آگے کر کے کچھ محسوس کرنے کی کوشش کررہی تھی۔
اس نے جیسے ہی ہاتھ آگے کیا اس کی آنکھ میں کچھ چلا گیا جس سے اس کی دونوں آنکھیں بند ہوگئی ۔۔۔آنکھیں بند ہونے کی دیر تھی اس کے ہاتھ کو کچھ محسوس ہوا تھا۔
اس سے پہلے کے وہ کچھ اندازہ کرتی غیر ارادی طور پر اس کے ہاتھ نے آنکھ کو ملنا شروع کیا تھا جس میں کچھ گرا تھا۔
مگر یہ کیا اب اس کی آنکھ بلکل ٹھیک تھی اسے کچھ بھی محسوس نہیں ہو رہا تھا۔اس نے جلدی سے دوبارہ ہاتھ آگے بڑھایا مگر اسے پہلے کی طرح کچھ محسوس نہیں ہوا ۔۔۔
اس نے دوبارہ سے آنکھیں بند کی تو اسے پھر سے کچھ ہاتھ کو چھوتا محسوس ہوا ۔۔۔۔
ایسا لگ رہا تھا بہت سا گوشت ہے جیسے ساتھ میں گوند کر ایک دیوار سی رکھی گئی ہے ۔وہ سارا گوشت گيلا گيلا سا محسوس ہو رہا تھا ۔اس سے پہلے کے زینب کسی حتمی نتیجے پر پوہنچ پاتی کبیر کی آواز نے اس کو پیچھے مڑ کر دیکھنے پر مجبور کیا تھا ۔
“جی کبیر آ رہی ہوں”
وہ جلدی سے اس کی طرف بھاگی تھی۔اس بار بہت سے کیڑے مکوڑے اس کے پیروں کے نیچے آ کر مرے تھے۔
“کیا کرنے گئی تھیں تم ادھر ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟آرام نہیں آتا تمہیں ؟؟؟؟جانتی ہو نا کوئی بھی جنگل رات کے وقت کتنا خطرناک ہوتا ہے ؟؟؟؟؟؟آخر تم ثابت کیا کرنا چاہتی ہو یہ سب کر کے ؟؟؟؟”
کبیر شدید برہم لگ رہا تھا۔
“وہ ۔۔۔میں ۔۔۔کبیر وہاں کچھ لٹک رہا ہے چمکدار سا ۔۔۔ وہ جو بھی چیز ہے ۔۔۔مجھے بہت بے چین کررہی تھی کہ میں اس کے پاس جاؤں ۔۔۔ میں خود نہیں جانتی ۔۔۔میں اتنی بہادر کیسے ہو گئی اور وہاں ۔۔۔اکیلی چلی گئی ۔۔۔”
زینب نے تھوک نگل کر پورا جملہ ایک ہی سانس میں مکمل کیا تھا۔
“جسٹ شٹ اپ زینب ۔۔۔۔جسٹ شٹ اپ ۔۔۔ “
“چلو گاڑی میں جا کر بیٹھو ۔۔۔۔امی بیٹھ چکی ہیں”
آخری جملہ نرمی سے ادا ہوا تھا۔زینب چپ چاپ گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی تھی۔
“بیٹا ہم پریشان ہو رہے تھے تمہارے لئے ۔۔۔۔”
نسرین بيگم کے الفاظ اور نیت دونوں متضاد سمت میں تھے۔جو زینب بھانپ چکی تھی۔
“ارے جانے دیں امی ۔۔۔۔پتہ نہیں اسے ہو کیا گیا ہےیہ میری پریشانی بانٹنے کی بجاے الٹا بڑھانے پر تل گئی ہے وہ وہ حرکتیں کر رہی ہے جو اس نے کبھی گھر میں بھی نہیں کیں ۔۔۔”
کبیر نے روایتی شوہر کی طرح اپنی ساری پریشانی کی فرسٹریشین بیوی پر نکالی تھی۔
“آپ بھی تو بلکل بدل گئے ہیں کبیر ۔۔۔۔ ایک ہی رات میں ۔۔۔۔دو بار ڈانٹ پلا چکے ہیں ۔۔۔ بنا مجھے سمجھے ۔۔۔”
زینب فقط دل میں ہی یہ کہہ سکتی تھی۔
سفر ایک بار پھر شروع ہو چکا تھا۔ صبح کے چار بج رہے تھے۔بارش مکمل طور تھم چکی تھی۔صبح کی روشنی بھی پر پھیلانے کی تیاری کر رہی تھی۔
“مجھے وضو کرنا ہے کبیر گاڑی روک دیں”
زینب نے آہستہ سے کہا تھا۔جس کے جواب میں کبیر نے ایک مناسب جگہ دیکھ کر گاڑی سائیڈ پر روک لی تھی۔وہ زینب کے ساتھ ہی اترا تھا پانی کی بوتل پکڑے وہ بھی نیچے بیٹھ گیا تھا۔
وہ خود اسے وضو کروا کر شائد اس سبکی کو کم کرنا چاہ رہا تھا جو وہ اس رات زینب کی کر چکا تھا۔
زینب نے جیسے ہی ہاتھ دھونے کے لئے آگے کیے جو منظر اس کا منتظر تھا اسے اپنے ہاتھ بجلی کی تیزی سے پیچھے کرنے پڑے ۔۔۔وہ بمشکل اپنی چیخ روک پائی تھی۔
اس کے ہاتھ خون سے لت پت تھے۔تازہ بدبودار خون ۔۔۔جو انسانی نہیں تھا ۔۔۔۔
