60.7K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

سعدی رانا آۓ ہیں آپ کے ہوٹل۔۔سومو پرامید تھی وہ سعدی کو بچا لے گی۔۔
کیا۔۔؟؟
اچھا میری بات کروائیں۔۔سومو تھوڑی پرسکون ہوئ تھی۔۔
چچی وہ وہیں ہے ابھی چکس نہیں پہنچے ۔۔سوم نے روتی ہوئ دانین کو بتایا ۔دانین نے سکون کا سانس لیا۔
مم میری بات کروائیں پلیز۔سومو کے ہاتھ سے فون لے کر دانین نے کان سے لگایا۔۔
جی آپ سا نام۔ریسیپشن پر کھڑی لڑکی بولی۔۔۔
مسٹر سعدی آپ کے لیئے کسی مس دانین کا فون ہے۔۔سعدی ریسیپشن پر پہنچا تو لڑکی نے دانین کا خوالہ دے کر ریسیور اسے پکڑایا۔۔
کیا ہوا دانی تم ابھی تک آئ کیوں نہیں۔اور کال کیوں کاٹ دی تھی۔تم ٹھیک تو ہو نا۔سعدی نے ایک ہی سانس میں دو سوال کر ڈالے۔۔
ہاں میں ٹھیک ہوں سعدی تم جلدی سے نِکلو وہاں سے ۔
کیوں کیا ہوا ہے دانی۔۔
ابھی تفصیل نہیں بتا سکتی بس اتنا ہی کہ اساور کو پتہ چل گیا ہے تم وہاں ہو وہ تمہیں مارنے آیا ہے۔۔پلیز سعدی میری جان بھاگو وہاں سے۔۔دانین کی آنکھوں سے مارے بےبسی کے آنسو جاری تھے۔۔
ہاں ہاں نکلتا ہوں۔۔سعدی کی نظر سامنے پڑی جہاں سے اساور تیز تیز چلتے آ رہا تھا۔اس نے سعدی کو نہیں دیکھا تھا۔موقع کا فائدہ اٹھاتے سعدی تیزی سے ریسیپشن کے پیچھے سے گزرتا ہوا خفیہ دروازے سے باہر نِکل گیا۔۔
اساور اسے پورے ہوٹل میں ڈھونڈ رہا تھا مگر وہ ہوتا تو ملتا نا۔۔
اکسکیوزمی۔۔!! اساور ریسیپشن پر کھڑی لڑکی سے مخاطب ہوا۔۔
یس سر۔۔!!
آپ کے ہاں کوئ سعدی رانا نام کا لڑکا آیا ہے۔۔
ہمم یس سر وہ یہاں کے مستقل کسٹمر ہیں۔ابھی ابھی ہی یہاں سے گۓ ہیں۔لڑکی خالص پروفیشنلانہ انداذ میں مسکرائ۔۔
چلے گۓ۔۔
جی سر انہیں فون آیا تھا تو وہ جلدی میں نِکل گۓ۔۔۔
کس کا فون آیا تھا آپ بتا سکتی ہیں۔۔
یس سر کوئ دانین کاظمی کا فون تھا۔۔لڑکی کے بتاتے ہی اساور کے چہرے کے تاثرات مزید پتھر ہوۓ۔۔سر کی رگیں غصے سے تن گئیں۔۔اس وقت سامنے دانین ہوتی تو وہ اس کا قتل ضرور کر دیتا۔۔
غصے سے مٹھیاں بھینچتے وہ ہوٹل سے باہر نکلا۔۔ذیادہ دور نہیں گیا ہوا گا میں آج اسے ڈھونڈ لوں گا۔۔خود کلامی کرتا وہ پارکنگ کی طرف بڑھا۔۔گاڑی میں بیٹھتے ہی گاڑی کو فل اسپیڈ پر سڑک پر ڈال دیا۔۔


ماما۔۔!! سائرہ رخشندہ بھیگم کو آوازیں دیتی لاؤنج میں پہنچی جہاں رخشندہ بھیگم بیٹھیں کوئ سیرئیل دیکھ رہی تھیں۔۔
کیا ہو گیا ہے سائرہ کیوں ایک ہی سانس میں شروع ہو گئ ہو۔۔رخشندہ بھیگم یوں ڈرامہ میں ڈسٹرب ہونے پر تنک کر بولیں۔۔
اماں میری ساس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے ہسپتال میں ہیں ٹانگ ٹوٹ گئ ہے۔۔سائرہ بےزاری سے بولتی ریمورڈ لے کر چینل تبدیل کرنے لگی۔۔
کیا میری بہن کا ایکسیڈنٹ یہ کیسے چلو چلو چلیں. ۔بہن کے ایکسیڈنٹ کی خبر سنتے ہی وہ پریشان ہو گئیں تھیں۔
اماں رہنے دیں میں نہیں جا رہی ان کنگلوں کی طرف ۔۔سائرہ نے نخوت سے کہا۔۔
بہن ہے وہ میری ساس نہیں مانتی تو خالہ کی طرخ ہی خیال کر لیا کرو۔۔اپنی بہن کے متعلق بیٹی کے فرمودات سن کر انہیں ہائ وولٹیج کا غصہ چڑھا تھا۔۔
اماں میں ایک شرط پر چلوں گی مجھے ان غریبوں کی بستی میں نہیں چھوڑ آئیں گی آپ آنا ہوا تو اپنے داماد سے کہیئے گا یہیں آ جاۓ ورنہ بھول جاۓ کہ ایک بیوی بھی تھی اس کی۔۔۔سائرہ کے تو مزاج ہی نہیں ملتے تھے ۔
کون سی غریب بستی کی بات ہو رہی ہے۔۔کچن سے چاۓ کا کپ لے کر نکلتی سومو نے پوچھا۔۔
تم بھی جلدی سے تیار ہو جاؤ سومو تمہاری فرخندہ خالہ کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے ہسپتال میں ہے جانا ہو گا۔۔
جی ماما چلوں گی میں۔۔سومو جلد ہی مان گئ کہ فرخندہ اس کی فیورٹ تھی۔۔
تم بھی اٹھ جاؤ سائرہ۔۔۔رخشندہ بھیگم اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔۔سومو بھی تیار ہونے کمرے کو چل پڑی۔۔سائرہ چاروناچار پیڑ پٹختے ہوۓ جانے کو تیار ہو گئ تھی۔۔
تھوڑی دیر میں وہ تینوں شہر سے دور ہسپتال کی طرف روانہ ہو گئیں۔جو بقول سائرہ کے تھرڈکلاس لوگوں کا علاقہ اور ہسپتال تھا۔۔


مم مجھے جانے دو پلیز. بکھرے بالوں ملگجے خلیے والی لڑکی چلا رہی تھی مگر اس کی سننے والا وہاں کوئ نہ تھا۔۔
پلیز میرے بیٹے کا دم گھٹ جاۓ گا ہم دونوں مر جائیں گے۔۔خود کو گھسیٹتی وہ دروازے پر پہنچ کر بند دروازے کو زور زور سے پیٹنے لگی۔۔۔
کیا ہے لڑکی کیوں نیند خراب کر رہی ہو۔۔اک موٹی خرانٹ سی عورت آنکھیں ملتی کمرے میں داخل ہوئ۔۔
دیکھو میرا بیٹا بھوکا ہے کچھ کھانے کو دے دو مجھے بےشک نہ سہی میرے بیٹے کو کچھ دے دو۔۔اس نے تھوڑے دور بیٹھے دو سالہ بچے کی طرف اشارہ کیا جو بھوک کی شدت سے رو رہا تھا۔۔
میم صاحبہ کا خکم نہیں ہے مجھے اور اب دروازہ مت کھٹکھٹانا میری نیند خراب ہوئ تو میں تمہاری زندگی عذاب کر دوں گی ۔۔موٹی عورت غصہ کرتی دروازہ زور سے پٹخ کر لاک لگاتی ہوئ چلی گئ۔۔
پلیز پلیز خدا کا واسطہ ہے میرا بچہ بھوکا ہے کچھ تو دو۔۔پیچھے وہ دروازہ پیٹتی رہ گئ۔
خوراک کی عدم موجودگی نے لڑکی کی صخت کو حراب کر دیا تھا۔۔
میم صاحب وہ کچھ کھانے کو مانگتی ہے اس کا بیٹا اذان رو رہا ہے ۔۔موٹی عورت نے باہر آ کر فوراً اپنی میڈم کو کال ملائ تھی.
ٹھیک ہے میم صاخب۔۔کال بند کرتے وہ موٹی عورت کچن کی طرف بڑھی فریج سے ڈبل روٹی اور دودھ کا پیکٹ نکالتی وہ اس بندھ کمرے کی طرف آئ جہاں ایک بدنصیب لڑکی کو اس کے بیٹے سمیت قید کیا گیا تھا۔۔
یہ لو اور کھاؤ۔۔ڈبل روٹی اور دودھ کا پیکٹ اس کی جھولی میں پھینکتی وہ پھر سے دروازہ لاک کر کے چلی گئ۔۔
اس بکھری لڑکی کو جیسے امید ملی ہو۔۔جلدی سے اپنے بیٹے کے پاس پہنچی اور اسے ڈبل روٹی دودھ میں ڈبو کر کھلانے لگی۔۔
بہت سارے آنسو اس کی آنکھوں سے نکلتے اس کی گردن پر جذب ہو گۓ۔۔


وہ بیڈ پر آنکھیں موند کر لیٹا تھا۔۔سائیڈ ٹیبل پر پڑا اس کا موبائل بہت دیر سے رِنگ کر رہا تھا۔۔وہ جو نیندکی وادیوں میں تھا. ہربڑا کراٹھ بیٹھا۔۔
موبائل اٹھا کر دیکھا تو سکرین پر خیا سدوانی کالنگ لکھا آ رہا تھا۔۔
آنکھیں ملتے اس نے کال پِک کر کے فون سے کان لگایا ۔
ہیلو میں نے آپکو ڈسٹرب تو نہیں کیا۔۔حیا سدوانی کی سریلی آواز موبائل سے گونجی جو اس وقت اسے شدید بری لگی تھی۔۔
رات کے اس وقت فون کرنا اور پھر پوچھنا کہ ڈسٹرب تو نہیں کیا ۔۔کیا کہلاتا ہے۔؟؟وہ بغیر کسی لخاظ کے تیز لہجے میں بولا۔۔
آئم سوڑی مجھے لگا آپ جاگ رہے ھوں گے۔۔حیا کے توقع کے برعکس جواب پرحیا تھوڑی دیر کو شرمندہ ہوئ مگر پھر ڈھیٹوں کی طرح مسکرانے لگی۔۔۔
کیوں میں آپ کو ویمپائرز کی فیملی سے لگتا ہوں۔۔جمائ کو ہاتھ سے روکتے وہ طنز سے اپنے لہجے کو پاک نہ کر پایا۔۔
آپ ٹھیک ہیں اب یہی پوچھنا چاہتی تھی میں۔۔۔حیا نے بات کو طول دینی چاہی ۔
میں ٹھیک ہوں مِس حیا آئندہ کوئ ضروری کام ہو تب بھی مجھے کال مت کیجیئے گا میری سیکٹری سے بات کر لیئجیے گا۔دوسری بات رات گۓ مجھے پھر کبھی بھول کر بھی کال مت کیجیئے گا اللہ خافظ۔۔بیزاری سے کہتے ہی اس نے کال کاٹ کر موبائل سائیڈ ٹیبل پر پٹخا اور زوردار جمائ لیتے ہوۓ دوبارہ سو گیا۔۔
دوسری طرف حیا حیرانی سے موبائل کو دیکھ رہی تھی۔۔پھر وہ اٹھی اور آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئ۔۔رخ بدل بدل کر خود کو غور سے دیکھنے لگی ۔
آخر کس چیز کی کمی ہے مجھ میں جو اے۔کے اتنی بری طرخ نظرانداز کرتا ہے مجھے۔۔لوگ میری ایک جھلک کو ترستے ہیں اور اسے کوئ قدر نہیں۔۔لیکن میں پھر بھی تمھیں پا کر رہوں گی۔۔۔وہ مغرور سا مسکرائ۔بالوں کو اک ادا سے جھٹکتے وہ ٹیرس کی طرف بڑھ گئ۔۔


جاری ہے ۔۔