No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
اس دن کے بعد سے اے۔کے کو حیاسدوانی کہیں نظر نہ آئ تھی۔
بزنس وائینڈاپ کر کے وہ کہاں چلی گئ کسی کو نہیں پتہ تھا۔
” اے۔کے کو تھوڑا گِلٹ تھا کہ حیا کی کچھ ذیادہ انسلٹ کر دی مگر پھر وہ بھول گیا کوئ حیا بھی تھی”_
آج وہ بہت خوش اتنا خوش کہ خوشی کا کوئ پیمانہ اس کی خوشی کو نہ ماپ سکتا تھا۔
سائرہ کے ولیمے کے ساتھ ہی آج اس کی منگنی تھی اس لڑکی سے جسے وہ بےانتہا چاہتا تھا۔” ولیمے کا فنکشن شہر کے مشہور ہال میں تھا ۔لوگوں کی آمد آمد تھی۔ دو دو رسمیں تھیں تو مہمان بھی ذیادہ تھے۔ سائرہ کا شوہر طیب اور اساور کاظمی عرف اے۔کے دونوں بلیو تھری پیس سوٹ میں اسٹیج پر بیٹھے اپنی دلہنوں کا انتظار کر رہے تھے۔۔”
آمنے سامنے دو اسٹیج بناۓ گۓ تھے جن کو سفید اور سرخ گلابوں کے امتزاج سے بہت خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا تھا” تھوڑی دیر بعد مین انٹرنس پر شور اٹھا تھا ۔پھولوں کی برسات تلے سہج سہج کر چلتی وہ دونوں کہیں کی اپسرائیں معلوم ہوتی تھیں۔۔ دانین جمشید علی عرف ڈی۔جے گولڈن رنگ کی میکسی کے ساتھ دوپٹہ سر پر سلیقے سے رکھے ہم رنگ جیولری پہنے سیدھی اساور کے دل میں اتر رہی تھی۔۔۔۔۔۔””‘
جبکہ سائرہ نے ہلکا گلابی لہنگا زیب تن کیا ہوا تھا جس کے ساتھ میچنگ جیولری پہنے دوپٹہ سر پر ٹکا کر ایک طرف سے کمر پر اور ایک طرف سے دائیں کندھے پر بچھایا ہوا تھا۔۔_‘”
دونوں چلتی ہوئ اسٹیج کے پاس پہنچی تو طیب اور اساور نے مسکراتے ہوۓ جھک کر ہاتھ آگے بڑھا اور سہارا دیتے ہوۓ صوفے تک لا کر اپنے بٹھایا اور خود بھی پہلو میں بیٹھ گۓ۔۔
سائرہ کے شوہر طیب کی ٹریول ایجنسی تھی اچھی خاصا امیر بندا تھا وہ اس لیئے سائرہ نے بھی کوئ اعتراض نہیں کیا اور دوسری بات رشتے کے لیئے ہاں کی یہ تھی کہ وہ خالہ زاد بھی تھا ورنہ شہزادی سائرہ کاظمی کے مزاج کہاں ملتے تھے ہر کسی سے۔“
سب بہت حوش تھے خوشی سب کے چہروں سے جھلک رہی تھی۔۔
امان سب کی تصویریں اتار رہا تھا۔جبکہ سعدی کا فون صرف سومو کے گرد گھوم رہا تھا جسے وہ اچھے سے نوٹ کر رہی تھی اور مسکرا بھی رہی تھی جس سے سعدی کو اپنی کشتی کنارے لگنے کا خوصلہ ہوا تھا۔
“مرد خوصلے کی رسی مظبوطی سے تب پکڑتا ہے جب عورت اپنی مسکراہٹ سے وہ رسی اس کی طرف بڑھاتی ہے۔””
خوش ہو۔“ اساور نے دانین کے مسکراتے چہرے کی طرف دیکھ کر پوچھا۔“
ہاں دِکھ نہیں رہا تمہیں ناچوں تب پتہ لگے گا۔۔دانین نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ تپ کر کہا۔۔
گُڈ آئیڈیا یار ڈانس کریں ہم دونوں ساتھ۔وہ بچوں کی طرح خوش ہوا تھا”“
خوف کرو جو امیج لوگوں کی نظر میں تمہارا بنا ہوا ہے وہی رہنے دو فِری میں شوخے ہو کر چھچھوری خرکتیں نہ ہی کرنا۔۔۔دانین نے ہری جھنڈی دکھائ۔“
اوکے مائ لارڈ۔۔“اساور نے سینے پر ہاتھ رکھتے ذرا جھک کر کہا تو وہ ہنستی چلی گئ تھی دھنک جیسی ہنسی۔۔وہ مبہوت سا اسے دیکھے گیا تھا۔۔
ہاۓ آج تو بڑے بڑے لوگوں نے ہمارے غریب خانے کو رونق بخشی ذہے نصیب ذہے نصیب۔۔وہ رخ موڑ کر کھڑی ڈرائینگ روم کی دیوار پر قدآور فوٹو فریم دیکھ رہی تھی جب آواز پر پلٹی۔
وہ سینے پر ہاتھ رکھے جھک کر کھڑا تھا۔،”وہ نہ چاہتے ہوۓ بھی کھلکھلا کر ہنس دی تھی۔۔ کیا ہنستی ھو یار چاہے میں جتنا جھوٹا بندہ سہی مگر قسم سے ہنستے ہوۓ تم اپسراؤں کو مات دیتی ہو۔۔ایک گھٹنے کے بل بیٹھتے اس کا ہاتھ تھامتے ہاتھ کی پشت پر بھوسہ دیا۔۔ فلرٹی طبیعت تمہاری ختم نہ ہوئ ابھی تک “_ وہ ایک ادا سے بولی تھی۔_
ہاۓ میری جان یہ فلرٹ باقی دنیا کی لڑکیوں کے لیئے تمہارے لیئے تو بندہ ہر پل تن من دھن سے خاضر ہے۔۔وہ ہونٹوں کو ٹیڑھا کرتا خباثت سے بولا۔۔
مجھے بھولے نہیں ہو ابھی تک میں سمجھی نام بھی یاد نہ ہو گا۔۔اس نے انگلی کو اس کے چہرے پر پھیرا۔۔
میں تم کو نہ بھلا پاؤں میری جان میری مینا۔۔!! اس نے مینا کو کمر سے کھینچ کر اپنے بےحد قریب کیا۔۔ مینا نہیں حیا نام ہے میرا حیا سدوانی ۔۔حیا نے اس کے بالوں میں انگلی پھیرتے ایک ہاتھ اس کے سینے پر رکھتے ہلکا سا دھکا دے کر خود سے دور کیا۔۔ “اور مجھ ناچیز کو نومی کہتے ہیں”سینے پر ہاتھ رکھتے نومی نے جھک کر اپنا تعارف کر وایا۔۔
اتنا کیوں جھک رہے ہو نومی۔۔“_ دیوی ہو حسن کی تم اور دیویوں کے آگے جھکا جاتا ہے نا سوئیٹ ہارٹ۔۔“ اوکے مجھے تم سے کچھ کام تھا“_ حیا نے اپنے مطلب کی بات کی جس وجہ سے وہ آئ تھی۔“
پتہ تھا اس غریب کے غریب خانے پر دیوی حیا ایسے گزرتے گزرتے تو نہیں آ سکتیں ضرور کچھ کام ہو گا ۔۔بولیں جی ہم آپ کے غلام آپ کی سیوا میں خاضر۔‘“
میری بہن عینا نے گھر سے بھاگ کر شادی کر لی ہے کس سی کی ہے کہاں رہ رہی ہے مجھے نہیں پتہ اور یہ صرف تم پتہ لگا سکتے ہو۔۔“
تو اتنا سا کام ہو جاۓ گا کل تک مگر۔۔۔. . نومی نے انگلی سے سر کجھایا۔۔
مگر کیا۔۔حیا نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔
قیمت لگے گی کچھ بھی مفت تھوڑی ہوتا ہے سوئیٹ ہارٹ ۔۔“ نومی نے سر ٹیرھیا کر کے ترچھی آنکھ سے اسے دیکھا۔۔
مل جاۓ گی تمہیں قیمت مگر کام ہونے کے بعد۔“ حیا اس کے سارے مطلب اچھے سے سمجھ گئ تھی مگر نفرت کی آگ وہ بھی اپنی ہی بہن کے لیئے اس کے اندر اتنی ذیادہ بھری ہوئ تھی کہ وہ اس نفرت کی آگ میں سب جلا دینا چاہتی تھی چاہے پھر وہ خود ہی کیوں نہ راکھ بن جاۓ۔۔“
اوہ واؤ سچ۔۔! وہ خوشی سے تیزی سے اس کی طرف بڑھا تھا۔۔ ہاں بلکل سچ تم میرا کام کرو تمہیں منہ مانگی قیمت ملے گی۔۔“_ حیا کے چہرے پر مسکراہٹ تھی بہت خطرناک مسکراہٹ۔۔۔“
تھینک یو سوئیٹ ہارٹ ۔۔تھینک یو سو مچ ماۓ لو۔!! ایک ہاتھ سے اس کے بال کان کے پیچھے کرتا دوسرے سے نرمی سے اس کے گال کو مَس کیا تھا۔۔
“نفرت ،حسد یہ دو ایسی چیزیں ہیں جو انسان کو صیح اور غلط کا فرق بُھلا دیتی ہیں پھر انتقام کی چکی چلتی ہے پھر چاہے اس چکی میں انتقام لینے والا خود بھی پِس جاۓ اسے پرواہ ہی نہیں ہوتی”
وہ گھر بہت دیر سے لوٹا تھا دن کو ہوۓ فساد کے بعد وہ گھر لوٹنا ہی نہ چاہتا تھا مگر رات گۓ وہ لوٹ آیا تھا۔
دھیرے دھیرے چلتا وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا۔“اسے لگا تھا دانین ابھی تک رو رہی ہو گی وہ جاۓ گا تو اس سے لڑے گی مگر وہ تو صوفے پر آلتی پالتی مارے بیٹھی لیپ ٹاپ کھولے بیٹھی تھی۔”
دروازہ پاؤں کی ٹھوکر سے زور سے بند کرتا ڈریسنگ کے سامنے آ کھڑا ہوا ۔۔ترچھی نگاہ دانین پر ڈالی جس نے ایک بار بھی سر اٹھا کر اسے نہیں دیکھا تھا۔۔
“گھڑی اتار کر ڈریسنگ پر رکھتے اس نے ٹائ ڈھیلی کی پھر پیر پٹختا باتھ روم میں گھس گیا“
دانین نے نظر اٹھا کر باتھ روم کے دروازے کی سمت دیکھا ۔وہ اس شخص سے ایک نفرت ہی تو نہیں کر پا رہی تھی اور دوسری شے تھی محبت جو اب محسوس ہی نہیں ہوتی تھی۔“
چینج کر کے وہ باہر نکلا تو وہ پھر سے لیپ ٹاپ میں گم تھی“
دن کو ہونے والے ڈرامے پر روشنی ڈالو گی۔“اساور نے اس سے لیپ ٹاپ چھین کر بیڈ پر اچھالا۔ ساری روشنیاں تم اور تمہاری اس بھتیجی نے ڈال دی تھی میری اتنی مجال جو روشنی ڈالوں۔“_ چبا چبا کر کہتے وہ پھر سے لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گئ۔۔
مجھے سچ جاننا ہے۔۔“ اس کا چہرہ اساور نے ٹھوڑی سے پکڑ کر اونچا کیا۔۔
اور تم سب دن کو سچ بھی بتا چکے ہو۔“دانین نے بنا ڈرے کہا۔۔۔
کیا رشتہ ہے تمہارا سعدی سے۔۔“ لیپ ٹاپ کارپٹ پر پٹختے اساور نے ہاتھ سے کھینچ کر اسے اپنے مقابل کھڑا کیا۔۔
پتہ ہے اس دن تم نے میرا کرئیر جلایا تھا میرے خوابوں کو آگ میں جھونک دیا تھا اس دن سے پہلے میں نے تم سے بےانتہا محبت کی تھی ۔اس دن کے بعد کچھ بھی نہیں کر پائ نہ محبت نہ نفرت کیونکہ ایک عورت ہوں میں۔ اور عورت محبت اسی سے کرتی ہے جو اس کی عزت کرتا ہے ۔
تم سے بھی محبت اسی لیئے ہوئ تھی کہ تم مجھے عزت دیتے تھے مگر اب تم نے جو کچھ کیا اس کے بعد محبت کی گنجائش ہی نہیں تھی مگر. ۔۔_”
وہ ذرا دیر کو رکی۔۔
جب عورت ماں بنتی ہے تو اس کے پاس دو آپشنز ہوتے ہیں یا صرف عورت رہے یا ماں بن جاۓ اور میں نے دوسرے آپشن کو چنا میں ماں بنی تو میں نے اپنے اندر کی عورت کو رہنے دیا اور ماں کو آنے دیا اور مائیں تو معاف کر دیتی ہیں اور میں نے کر دیا تمہیں معاف کیونکہ تم میرے ہونے والے بچے کے باپ ہو مگر تم نے کیا کر دیا میرے اندر جو صرف ماں رہ گئ تھی آج آدھی ٹوٹ گئ اب تم سے اتنی شدت سے میں نفرت کوں گی کہ تم بھی جلو گے اس آگ میں۔_
“تم غلط ہو اور ایک دن ثابت ہو جاؤ گے اس دن تمہیں احساس ہو گا تم نے کیا کھو دیا پھر تم پچھتاؤ گے مگر تمہارے ہاتھ کچھ نہیں آۓ گا “
یاد رکھنا میں معاف نہیں کروں گی اور تم باقی کی زندگی پچھتاوں میں گزارو گے “گال بہتا اکلوتا آنسو صاف کرتے وہ واش روم میں گھس گئ وہ باقی کے بچے آنسو اس پتھر شخص کے سامنے نہیں بہانا چاہتی تھی “
اور وہ تو اسے دیکھ کر رہ گیا تھا اکثر یہ سوچتا کہ اگر سب ایسا نہ ہوا جیسا وہ سمجھ رہا ہے تو پھر مگر دوسرے ہی پل اس پر ایک پتھر شخص چھا جاتا جو اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کر دیتا۔“
آپ کیوں جا رہی ہیں شامین۔۔عینا صبح سے ایک ہی سوال پوچھے جا رہی تھی۔“_ گڑیا تم اپنی محبت سے مل گئ میں نہ ملِوں کیا۔۔شامین اس کے گال پر چٹکی کاٹی۔۔ تو آپ اپنے ان کو کہیں وہ یہیں آ جائیں پلیز آپ مت جائیں۔۔ کون کہاں جا رہا ہے بھئ۔۔اندر داخل ہوتا امان سیب کی قاش منہ میں رکھتا بولا۔۔ شامین ترکی جا رہی ہیں سعید بھائ نے بُلا لیا ہے ان کو آپ روکیں نا ان کو۔عینا نے امان کا بازو پکڑ کر بچوں کی طرح ضد کی“ اوۓ کیوں جا رہی ہے تو۔۔امان نے ہلکی سی چپت اس کے سر میں لگائ۔۔ سعید سیٹل ہو گیا ہے چاہتا ہے میں بھی اس کے پاس پہنچ جاؤں۔شامین مسکرائ خوش ہو بہت تم۔۔“ ہاں بہت۔۔شامین بہت خوش لگ رہی تھی”” چلو خوش رہو تم اور عینا میں ہوں نا تیرے پاس بہت جلد کاظمی حویلی لے جاؤں گا موج سے زندگی گزاریں گے پھر۔۔”
امان سیب کھاتا صوفے پر ٹانگ پھلاتا بیٹھ گیا۔“_
کب لے کر جاؤ گے۔۔عینا اس کے پاس ہی بیٹھ گئ۔۔
بہت جلد۔امان نے اس کا گال تھپتھپایا۔۔
تم لوگ جاتے رہنا ابھی میری شام کی فلائیٹ ہے مجھے تو ٹھیک سے وِداع کرو یار۔۔”_
صیح صیح لنچ ہم ساتھ میں باہر کریں گے سعدی کو بھی بلا لیتا ہوں کل ہمیں بھی مری واپس جانا ہے_”،
ڈن ۔۔۔
ڈن۔۔
جاری ہے۔۔
