60.7K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

موج عشق کی تلاطم حیز روانی
جیسے اجڑا ہوا دریا بکھرا ہوا پانی
تیری آنکھوں کی سرخی کا بیان
تیری شب بھر کی اداسی کی کہانی
ڈریسنگ کے سامنے بیٹھی وہ سر سے نکلتے خون کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
صیح کہا ہے کسی نے ماں باپ کے گھر چھوٹی سی چوٹ پر گھر سر پر اٹھا لینے والی لڑکی سسرال میں بڑی سے بڑی چوٹ بھی چپ کر کے سہہ جاتی ہے۔۔۔
دوپٹے سے بےدردی سے اس نے چوٹ کو رگڑا۔زخم مذید رسنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اٹھی اور جا کر منہ دھو کر کچن میں گھس گئ۔۔دن بھر نوکروں کی طرح اس سے کام لیا جانا تھا اب۔درد محسوس کرنے کا وقت کہاں تھا اس کے پاس۔۔۔
دانی۔۔!!!ناشتہ بناؤ جلدی سے میرے اور ماما کے لیئے۔اور ہاں مجھے پوریاں اور ماما کو آلو کے پراٹھے بنا دو۔۔۔سائرہ اپنا فرمائشی پروگرام لے کر خاضر ہوئ۔۔اس کی چوٹ دیکھی اور مسکرا دی۔_اس کے درد پر سکون ملتا تھا اسے۔۔۔
جی آپ جائیں میں بنا کر کمرے میں بجھواتی ہوں۔۔بخار کے مارے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے ٹانگیں شل ہو رہیں تھی۔۔۔
پانی پیتی سائرہ نے اک نظر اسے دیکھا اور ہاتھ میں پکڑا گلاس نیچے پھینک دیا. ۔۔
کانچ کے ٹوٹنے کی آواز گونجی۔۔دانین نے سہم کر سائرہ کو دیکھا۔۔۔۔۔۔
کانچ سمیٹ لینا۔۔۔اک ادا سے مسکراتی سائرہ کچن سے چلی گئ۔۔۔
جلدی جلدی ان کے لیئے ناشتہ بنایا۔۔۔پھر لے کر کمرے میں پہنچی۔۔۔۔سائرہ اور اس کی ماں بیٹھی ٹی وی انجواۓ کر رہیں تھیں۔۔اس پر نظر پڑتے بھابھی کا مسکراتا چہرہ پتھر ہوا۔لب بھینچ لیئے۔۔آنکھوں میں غصہ نفرت خقارت جانے کیا کچھ در آیا۔۔۔
دانین کو لگا وہ اک منٹ اور یہاں رکی تو اس کا سانس بند ہو جاۓ گا۔۔سانس بند نہ بھی ہوا بھابھی اسے کچا کھا جائیں گی۔۔۔۔
ٹرے ان کے سامنے رکھتی وہ جلدی سے کمرے سے نکل آئ۔۔۔
وہ بھاگتے ہوۓ کچن میں پہنچی۔۔ٹوٹے کانچ کو وہ فراموش کر چکی تھی جو سیدھا اس کے دائیں پاؤں میں گھسا۔۔اس کے منہ سے سسکی نکلی۔۔۔
وہ وہیں بیٹھ گئ مارے درد کے اس کی گھگھی بند گئ تھی۔۔اس کا دل دھاڑیں مار مار کر رونا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔مگر وہاں اس کا رونا سننے والا کوئ نہیں تھا۔۔جو کہتا تھا کبھی کہ آنسوں نہیں آنے دوں گا آنکھوں میں وہ شخص پتھر ہو چکا تھا۔۔۔
چچی ناشتہ وہ۔۔۔!!!سومو کو بریک لگا اس نے کچن میں سسکتی ہوئ دانین کو دیکھا ۔..
پاس پڑے جھاڑو سے کانچ کو ایک سائیڈ کرتی وہ اس کے پاس بیٹھ گئ۔۔جو گھٹنوں میں سر دئیے بےآواز ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
چچی۔۔سومو نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو اسے ایک دم جھٹکا لگا۔۔دانین آگ بنی ہوئ تھی۔۔۔بخار نے اس کے جسم کو تپا دیا تھا۔۔۔
چچی بخار ہے آپ کو تو۔۔۔سومو پریشان ہوئ۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا سومو ٹھیک ہوں میں۔۔۔دانین نے گھٹنوں سے سر اٹھایا تو سومو کو دھچکا لگا۔۔اس کے سر سے بھی خون بہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
چچی یہ سب کیا ہے بخار سر اور پاؤں سے خون۔۔۔سومو کا لہجہ بھیگا۔۔۔
کچھ نہیں سومو۔۔یہ کانچ لگ گیا تھا پاؤں میں۔۔۔وہ مسکرائ ۔۔نم آنکھوں سے مسکرانا اذیت کی انتہا تھی۔۔۔
چکس نے ہاتھ اٹھایا آپ پر۔۔۔سومو کے لہجے میں دبا دبا غصہ در آیا۔۔۔۔.چلیں آپ میرے ساتھ ہوسپٹل۔۔طبیعت ذیادہ خراب ہو گئ یا کچھ ہو گیا آپ کو تو۔۔سومو پریشان تھی اس کے لیئے۔۔۔
بےفکر رہو سومو بہت ڈھیٹ جان ہوں کچھ نہیں ہو گا مجھے۔۔۔سومو کے اتنی فکر پر اس کا لہجہ بھرا گیا۔۔۔
چچی میں کچھ نہیں سنوں گی چلیں میرے ساتھ۔۔۔اسے ہاتھ سے پکڑ کر تقریباً گھسیٹتی ہوئ بولی۔۔۔۔۔
سومو کام ہے ابھی مجھے بہت بعد میں چلیں گے۔۔۔اس نے اختجاج کرنا چاہا مگر سومو پر کوئ اثر نہ ہوا۔۔۔۔۔۔۔وہ اسے کھینچتی ہوئ اپنے ساتھ لے جا رہی تھی۔۔جلا ہوا ہاتھ زخمی پاؤں پھٹا ہوا سر اتنا درد کر رہے تھے کہ اس نے خاموشی اختیار کر لی۔۔۔۔
ڈرائیور انکل گاڑی نکالیں۔۔۔سومو نے ڈرائیور کو آواز دی۔۔جو سامنے بیٹھا ہوا تھا۔۔۔
سوری چھوٹی بی بی اساور صاحب کا حکم ہے دانی بی بی کو کہیں نہیں لے کر جانا۔۔۔ڈرائیور کی بات پر تو سومو کو آگ لگ گئ۔۔دانین کا دل ڈوبا۔دل نے وہ پانی رسنا شروع کیا جو آنکھ سے نکل کر آنسو کہلاتا ہے۔۔۔۔
صیح ہے مت لے کر جائیں آپ میں خود لے جاؤں گی۔۔۔فرنٹ ڈور کھول کر سومو نے دانین کو بٹھایا۔۔۔پھر گھوم کر ڈرائیور کے پاس آئ۔۔اس کے ہاتھ سے چابی کھینچی۔۔۔
گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کی اور زن سے بھگا کر لے گئ۔۔۔
پیچھے کھڑا ڈرائیور اساور کے غصے سے ڈر گیا۔۔جلدی سے اساور کو کال لگائ۔۔۔
صاحب وہ سومو بیٹی دانین بی بی کو لے کر کہیں چلی گئیں ہیں۔۔۔
صاحب روکا تھا وہ مجھ سے چابی لے کر خود ڈرائیو کر کے چلیں گئیں۔۔۔۔
معاف کر دیں صاحب۔۔۔ڈرائیور کو اچھی خاصی شاید سنائ گئیں تھیں۔۔۔وہ ڈر گیا تھا۔۔۔
صاحب۔۔۔!!!اس کی بات منہ میں ہی رہ گئ۔۔دوسری طرف سے کال کاٹ دی گئ تھی۔۔۔
کرے کوئ بھرے کوئ۔۔۔ڈرائیور بڑبڑاتے ہوۓ اپنے کواٹر کی طرف چل پڑا۔۔۔۔۔۔۔۔


آج اتوار کا دن تھا۔۔ڈے۔جے گدھے گھوڑے بیچ کر سو رہی تھی۔۔ہاسٹل سے گھر آکر اس کا یہی تو کام ہوتا تھا کھانا پینا اور سو جانا۔۔۔
پراٹھوں کی خوشبو سارے گھر میں پھیلی ہوئ تھی۔۔گرما گرم پوریاں راشدہ بھیگم اماں بی کے ساتھ تل رہیں تھیں۔۔۔
پراٹھوں کی مہک اسے لگی تو وہ فوراً اٹھ بیٹھی کھانے پینے کی وہ بہت شوقین تھی۔۔۔
چھلانگ لگا کر بیڈ سے اتری۔۔بکھرے بالوں کو کیچڑ میں جھکڑتی بغیر منہ دھوۓ وہ کچن کی طرف بھاگی۔۔۔
یاہو۔۔پوریاں۔. . وہ خوشی سے چہکتی اماں بی کے گلے لگ گئ جو ان کی ہاں برسوں سے نوکرانی تھیں اب تو وہ گھر کا فرد بن چکی تھیں۔۔۔۔۔۔
خبردار ہاتھ لگایا. . تو پہلے خلیہ درست کرو۔۔پراٹھا تلتی راشدہ بھیگم نے چمٹا اس کے الٹے ہاتھ پر مارا۔۔۔
اففف اماں ۔۔۔بعد میں ہو جاؤں گی فریش ناں پلیز ابھی کھانے دیں۔۔۔اسنے ہاتھ پوریوں کی طرف بڑھایا۔۔۔۔
ڈی۔جے جاؤ۔۔۔اس بار راشدہ بھیگم نے باقائدہ آنکھیں نکالیں۔۔۔ڈی۔جے نے رونی سی صورت بنا کر ماں کو دیکھا۔۔
باہر سے آتا اے۔کے اس کے تاثرات دیکھ کر ہنس پڑا۔۔۔
اسلام علیکم خالہ جان۔۔۔اے۔کے کچن میں ہی چلا آیا۔۔زبردست سا ناشتہ دیکھ کر اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔۔۔
تم کیا صبح سویرے یہ سوکھا بوتھا لے کر پہنچ جاتے ہو۔بڑے کوئ ویلے انسان ہو۔۔۔کہتے ہوۓ اس نے ہاتھ دوبارہ سے پوریوں کی طرف بڑھایا۔۔۔راشدہ بھیگم نے چمٹے کا کاری وار کیا تو وہ سی کر کے رہ گئ۔۔ ۔۔۔
یہ آج مطلع ابر آلود کیوں ہے۔۔۔اے۔کے مسکرایا۔۔اور شیلف پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔
یہ جو تمہارا مطلع ہے کھا کھا کر پھٹ جاۓ گا مگر کھانے سے باز نہیں آۓ گا۔۔۔اماں بی نے بھی اپنا خصہ ڈالا۔اے۔کے کا قہقہ بےساختہ تھا۔۔۔۔
اماں بی آپ بھی ۔۔۔۔ڈی۔جے کو صدمہ ہوا۔۔۔۔
کہہ تو ٹھیک رہیں ہے اماں بھی۔تھوڑا اپنے وزن پر دھیان دو پھٹنے کو بےتاب ہی ہو۔۔۔۔راشدہ بھیگم نے بھی اسے چھیڑا۔۔
آپ میں سے کوئ مجھ سے بات مت کرے۔۔۔منہ پھلاتی وہ پاؤں پٹختی کمرے میں گھس گئ۔۔۔
مائینڈ کر گئ وہ۔۔حالہ وزن کی بات پر وہ ناراض ہو جاتی ہے نہ کیا کریں ناں۔۔۔اے۔کے کو برا لگا تھا یوں اس کا مذاق بننا۔۔۔
کوئ ناراض نہیں ہوتی ابھی پوریوں کی خوشبو پا کر بےصبری دوڑتی چلی آۓ گی۔۔۔۔۔اماں بی نے کہا تو اے۔کے اور راشدہ بھیگم مسکرا کر رہ گۓ۔۔۔۔


محبت سمیٹ لیتی ہے
زمانے بھر کے رنج و غم
سنا ہے دوست اچھے ہوں تو__
کانٹے بھی نہیں چبتے۔۔۔۔۔!!!!!
مری کی ٹھنڈ تو ویسے ہی ہڈیوں کو چیرتی ہے اوپر سے دسمبر کا مہینہ تھا۔۔خنکی فضا میں پھیلی ہوئ تھی۔۔
آسمان نے چاند کو اپنے اندر سمویا تو دن کی سفید چادر نے دنیا کو اپنی آغوش میں لیا۔۔۔
ایسے میں لارنس کالج مری کے سٹوڈنٹس بستروں میں دبکے خواب و خرگوش کے مزے لے رہے تھے۔۔
وارڈن جہاں داد کی کڑک آواز پر سب آنکھیں ملتے بستر چھوڑ کر واش روموں کو بھاگے۔۔۔
سردی سے بچنے کے لیئے اوپر نیچے جلدی جلدی شرٹیں چڑھا کر گراؤنڈ کی طرف دوڑ لگا دی۔۔۔
ابے سعدی تو نے پھر میری بنیان پہنی چھٹی کے بعد تجھے پوچھتا ہوں۔۔۔لائن میں لگے لڑکے بھاگ رہے تھے ان میں ہی بھاگتے ہوۓ امان دبی آواز میں غرایا۔۔۔
کیا یار تیری بنیان میری بنیان اور میری بنیان بھی میری ہی بنیان۔۔۔سعدی نے اسے چھیڑا۔۔۔۔۔
یہ ایڈوانس تھا۔۔امان نے اِدھراُدھر دیکھتے ہوۓ اس. کی کمر میں دھموکہ مارا۔۔۔۔باقی ادھار۔۔۔۔
تیری تو ۔۔۔سعدی اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔
سعدی رانا اور امان کاظمی۔۔۔۔وارڈن جہاں داد کی آواز پر سعدی کا امان کی طرف بڑھتا ہاتھ رکا۔۔۔۔
تم دونوں نے ناک میں دم کر رکھا پورے کالج کے کل بھی سیکنڈ ایئر کے شفیق نے تم دونوں کی شکایت کی ہے ۔۔۔وارڈن جہاں داد کی آواز کرک اور اپنی تیز تھی کہ بندہ سن کر دو قدم پیچھے کھسکتا۔۔۔
اس شبو کو بھی زبان لگ گئ۔۔۔امان بڑبڑایا۔۔سعدی نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
کیا بول رہے ہو اونچا بولو۔۔وارڈن جہاں داد اپنی اذلی انداذ میں بولا۔۔۔۔
سوری۔۔۔یک لفظی ادائیگی دونوں نے بیک وقت کی۔۔۔اور سر جھکا کر منہ پر معصومیت طاری کر کے کھڑے ہو گۓ۔۔۔۔۔
ابھی جانے دے رہا ہوں اگلی بار پرنسپل کے پاس لے جاؤں گا۔۔۔اپنی کرک آواز میں وارڈن جہاں داد انہیں وارن کرتا ہوا چلا گیا۔۔۔
وہاں کھڑے اکا دکا سٹوڈنٹس کی ہنسی چھوٹی۔۔۔
تم لوگوں کی۔۔۔سعدی نے جو آنکھیں دکھائ سب فوراً وہاں سے رفو چکر ہو گۓ۔۔۔
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئیں ہیں
لیکن آج بہت بےآبرو ہو کر وارڈن کے شر سے ہم نکلے۔۔۔امان نے غالب کے شعر کو بگاڑتے ہوۓ سرد آہ بھری۔۔۔۔۔۔
چل بیٹا اسمبلی میں نہ پہنچے تو پرنسپل نے بہت بےآبرو کر کے ہمیں کالج سے نکالنا ہے۔۔۔سعدی نے بھی سر آہ بھری ۔دونوں شکل پر شیطانی معصومیت سجھا کر سر جھکاۓ گراؤنڈ کی طرف بڑھ گۓ۔۔۔۔۔۔