60.6K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

وہ چاروں اس وقت لاہور کے ایک خوبصورت ریستوران میں موجود تھے۔،*
رات میں شامین کی فلائیٹ تھی اور کل سعدی لوگوں نے بھی مری کے لیئے نکل جانا تھا۔
یہ وِداعی پارٹی دی جا رہی تھی شامین کو۔”_
ہنستے مسکراتے وہ لنچ کرنے میں مصروف تھے شامین کے جانے کا دکھ بھی تھا اور وہ ایک خوشخال زندگی گزارے گی اس بات کی خوشی بھی تھی۔
ہاں یار وقت سے پہنچ جانا۔”_ فون پر بات کرتا نومی ہوٹل کا گلاس ڈور دھکیلتے اندر داخل ہوا۔
ٹیبل کے ساتھ رکھی کرسی کھینچ کر وہ بیٹھا ہی تھا کہ سامنے عینا کو دیکھ کر ٹھٹھکا۔
فوراً سے اس نے موبائل سے تصویر کھینچی ۔تصویر ایسے کھینچی گئ تھی کہ اس میں سعدی عینا اور امان نظر آ رہے تھے “” افف میرا کام تو بن گیا ۔۔ نومی شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ ان کی طرف دیکھ رہا تھا۔“_
اب آۓ گا مزہ۔۔”_” موبائل پاکٹ میں ڈالتا وہ حیا سے ملنے کے ارادے سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔
ہوٹل سے نکلتے ایک مکروہ مسکراہٹ ان ہنستے کھیلتے چار نفوس پر ڈالتا وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔۔


مجھ سے ملنے ضرور آنا تمہارا اور امان کا انتظار کروں گی میں۔۔شامین جا رہی تھی تھوڑی دیر میں اس کی فلائیٹ تھی۔
سعدی عینا اور امان اسے چھوڑنے آۓ تھے۔
واقعی یار جو جو بندہ محبوب کو پیارا ہوتا ہے دوستوں کو بھول جاتا تم پرائ ہو گئ ہو شامین پرائ ہو گئ ہو۔۔سعدی نے ڈرامیٹک انداذ میں کہا تو تینوں نے حیرانی سے اسے دیکھا۔۔
کیوں سعدی کیا ہو گیا۔۔؟؟شامین نے بمشکل اپنی ہنسی کنٹرول کرتے پوچھا۔
ان دونوں کو کہہ رہی ہو ” میں انتظار کروں گی” اور مجھے جھوٹے منہ بھی نہ پوچھنا۔۔سعدی کے شکوے جاری تھے۔۔
تم تو انٹیلیجنس آفیسر ہو مستقبل کے کسی چور چکے غدار کو پکڑنے آتے جاتے رہو گے ان کا ذرا مشکل تھا تو انوائیٹ کر دیا۔۔شامین نے اسے پچکارا۔۔
اچھا اب مسکا نہ مار۔۔
ان کی باتیں جاری تھی تھوڑی دیر میں ترکی جانے والی فلائیٹ کی اناؤسمینٹ ہو گئ تو شامین نے الوداعی نظروں سے انہیں دیکھا۔۔
“اچھے دوست زندگی کاسکون ھوتے ہیں شامین اور تم وہ سکون ہو میری زندگی کا ملیں گے پھر کسی دن کسی موڑ پر اور مل بیٹھ کر یوں ہنسیں گے جیسے پاگل ہوں اور بےشک پرانے دوست ایک دوسرے کے لیئے پاگل ہی ہوتے ہیں”_
سعدی نے کہتے ہوۓ ہاتھ آگے بڑھایا جس پر امان شامین اور عینا نے اپنے ہاتھ رکھے تھے”_
سب کے مل کر شامین بھیگی آنکھیں صاف کرتی اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئ۔۔


یہ فون کیوں بند ہے حیا کا اتنی دھواں دھار نیوز دینی تھی۔۔وہ مسلسل کمرے میں ٹہلتا ہوا اسے کال ملا رہا تھا مگر ہر بار نمبر بند ہونے کی اطلاع مل رہی تھی۔۔”_
مجھے واپس جا کر اسے بتانا چاہیئے بڑی مشکل کے وہ ہاتھ لگی ہے ہاتھ سے پھسل نہ جاۓ۔۔نومی نے بڑبڑاتے ہوۓ الماری سے بیگ نکالا اور کپڑے رکھنے لگا۔۔
اوہ ڈئیر کزن یہ کیا ہو رہا ہے۔۔اک لڑکا اندر داخل ہوا تو اسے تیزی سے پیکنگ کرتے دیکھ کر چونکا۔۔
عادل مجھے روکنے کی کوشش نہ کرنا بہت ضروری کام ہے مجھے فٹافٹ نکلنا ہو گا۔۔
یار نومی تو دو ہفتوں کے لیئے آیا تھا مشکل سے ایک دن ہی ہوا ہے اور شادی ہے یار انجواۓ گھر ایسی فیملی پارٹیز روز تھوڑی ہوتی ہیں دن کو بھی ہم تجھے ہوٹل میں ڈھونڈتے رہے تھے نجانے کن چکروں میں ہو تم۔”_ اس کے کزن نے ایک ہی سانس میں اتنی باتیں کرتے اس کے ہاتھ سے شرٹ چھینی۔۔
یار کہا نہ مت روکو میں واپس آ جاؤں گا دو تین دن بعد شادی اٹینڈ کروں گا مگر ابھی جانا ہو گا مجھے ۔۔نومی نے اس کے ہاتھ سے شرٹ چھین کر بیگ میں رکھی اور جلدی سے سوٹ کیس بند کرتا قدآور آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔۔
پکا آؤ گے۔۔عادل نے اداسی سے پوچھا۔۔
ہاں یار آؤں گا. ۔بال ہاتھ سے پیچھے کرتا وہ سوٹ کیس گھسیٹتا وہاں سے نکل آیا تھا۔۔
وہ جلد از جلد حیا کے پاس پہنچ کر اسے عینا اور اس کے شوہر کے متعلق بتانا چاہتا تھا۔۔


کل پیپر ہے یار تو نے کچھ پڑھنا ہے کہ نہیں۔_” سعدی نے امان کو کشن مارا جو پچھلے دو گھنٹے سے موبائل میں گھسا ہوا تھا۔۔ اب اپنی اتنی خوبصورت بیوی کو اکیلا چھوڑ کر آیا ہوں اور کیا کروں۔۔امان پر ذرا اثر نہ ہوا تھا۔۔ ہاں بہت اچھے کہاں چھوڑ کر آۓ ہو یہ دس میٹر چلو تو سامنے دکھے وہ اور اکیلی کہاں ہے وہ اپنی دوست کے پاس ہے اس لیئے کچھ پڑھ لے تو۔۔۔سعدی نے برا سا منہ بنایا۔۔ میں نے ٹاپ کرنا ہے بغیر پڑھے اور تو پڑھ کے کر لینا۔” امان نے بےپرواہی کا مظاہرہ کیا۔۔
کیوں کیا ارادہ ہے تیرا۔۔؟؟ سعدی نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔۔ یہ دیکھ۔۔امان نے اپنا تکیہ اٹھایا تو سعدی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔ “تکیے کے نیچے پرزوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا جنہیں بہت مہارت سے اوپر نیچے رکھ کر جوڑے بناۓ گۓ تھے۔ اوہ بھائ صاحب تو چیٹنگ کرے گا۔۔سعدی نے حیرانی سے پوچھا۔۔ آف کورس۔‘”_امان نے آنکھیں پٹپٹائیں ۔۔
تو یہاں کیا کر رہا تم جیسوں کو سیاست میں ہونا چاہیئے۔۔سعدی نے واپس برا منہ بناتے کتابیں کھولیں۔۔
او تیری مشورہ کمال کا دیا ہے تو نے سوچتا ہوں کچھ۔۔امان کی بات پر سعدی نے دوسرا کشن بھی اٹھا کر اسے مارا۔امان نے ہنستے ہوۓ کشن کیچ کر لیا اور دوبارہ سے موبائل پر جھک گیا۔۔


وہ گھٹنوں میں سر دیئے بےآواز رو رہی تھی۔وہ کم عمر تھی اس کے باوجود وہ خقیت پسند اور مظبوط تھییوں وہ کبھی نہیں روتی تھی مگر آج اس کی محبت کے کردار کے چیتھڑے اڑاۓ گۓ تھے آج اس کی نظروں میں اساور خاک ہوا تھا اتنا رونا تو بنتا تھا۔۔ دروازہ ناک ہونے کی آواز پر اس نے سر اٹھا کر دروازے کی سمت دیکھا۔ “اساور نے اندر داخل ہو کر دروازہ ہلکی سی آواز کے ساتھ بند کیا۔ سومو نے دونوں ہاتھوں کی پشت سے رگڑ رگڑ کر اپنے آنسو صاف کیئے۔ سومو بیٹا کیا تھا یہ سب۔؟ اساور قدم قدم چلتا بیڈ پر اس کے سامنے آ بیٹھا۔۔
أپ کون میں نے پہچانا نہیں۔۔سومو نے سوالیہ انداذ میں اسے دیکھا۔۔
سومو تم سے جو پوچھا وہ بتاؤ۔اساور ذرا سختی سے بولا۔۔
جن کو میں جانتی نہیں ہوں یا کوئ رشتہ نہیں رکھنا چاہتی میں ان کو صفائیاں دینا تو دور بات کرنا بھی پسند نہیں کرتی اور آپ سے رشتہ ختم کر کے unknown person کی لِسٹ میں ڈال دیا ہے۔۔سومو بیزاریت سے بولی۔۔
سومو تمہارے رویے نے مجھے صدمہ پہنچایا ہے۔۔
اوہ رئیلی اور جو آپ باتوں کے نشتر سے دل لہولہان کر دیتے ہیں وہ میرے لیئے دانین کے لیئے صدمہ نہیں ہوتے۔۔
دانین کا یہاں کوئ ذِکر نہیں ہے سومو میں تم سے تمہاری بابت پوچھ رہا ہوں۔میں تم سے اتنی محبت کرتا ہوں کہ تمہاری باتیں گہرا صدمہ ثابت ہوئ میرے لیئے۔اساور کا لہجہ دانین کے ذکر پر سخت ہوا تھا۔۔
آپ کہا کرتے تھے دانین کے لیئے آپ کو اپنا دل تب سے دھڑکنا محسوس ہوا جب آپ دس سال کے تھے دانین کوئ سات سال کی تھی اور تب میں نہیں تھی کہیں بھی نہیں اس دنیا پر میرا وجود بھی ہو گا کوئ نہیں جانتا تھا کوئ نہیں۔
أپ دانین سے بیس سال محبت کے دعویدار رہے ہیں اور مجھ سے سترہ سال سے جب آپ اس کی محبت کو بھلا سکتے ہیں تو میں کیسے مان لوں کہ مجھ سے واقعی محبت کرتے ہیں آپ۔
“جو لوگ محبتوں کے مان نہیں رکھتے محبت ان پر یقین نہیں رکھتی ہے نہ دوسرا موقع دیتی ہے”_
اور آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں اس وجہ سے میری باتوں سے آپ کو صدمہ ہوا ۔کبھی سوچا وہ جو ایک لڑکی ہے دانین اس پر کیا گزرتی ہو گی آپ کی باتوں سے۔۔
میری سترہ سالہ محبت میں دی گئ اذیت آپ کو ٹھا کر کے لگی ہے تو آپ کی بیس سالہ محبت کے بعد دی گئ تکلیف اس کے لیئے موت جیسی اذیت ثابت ہوئ ہے۔سومو اسے آئینہ دکھانا چاہتی تھی مگر وہ شخص محبت کا مجرم تھا اور مجرم کہاں اپنے جرائم آئینے میں دیکھتے ہیں۔۔
سعدی نے جو کیا اس کے بعد دانین کو سر آنکھوں پر نہیں بٹھایا جا سکتا تھا۔۔
اچھا چلیں ایک پل کو مان لیں سعدی نے امان بھائ کا قتل کیا ہے اس میں دانین کو سزا دینے والی کون سی لاجک ہے بقول آپ سب کے وہ اس کا بھائ نہیں ہے جیسے آپ کا کزن ہے ویسے ہی دانین کا بھی کزن ہے پھر یہ سب۔۔۔
اساور چپ رہ گیا تھا وہ کیا کہتا اب۔۔
میں امان کی موت کو بھلا نہیں سکتا۔بدلہ لوں گا اور خون کے بدلے خون کی اجازت اللہ بھی دیتا ہے۔۔
میں یہ نہیں کہہ رہی ونی یا قصاص ایک فضول رسم ہے جس بات کے لیئے ہمارا قرآن کہتا ہے وہ فضول نہیں ہو سکتی قصاص جائز ہے “اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قصاص میں تمہارے لیئے زندگی ہے ” موت کا تکلیف کا ذکر تو نہیں کیا پھر آپ کیوں اسے موت سے پہلے موت سی اذیت دینا چاہتے ہیں آپ دانین کے ساتھ جیسے پہلے تھے ویسے بھی تو رہ سکتے تھے آپ کو بدلنا نہیں چاہیئے تھا۔۔بدلے کا حکم ہے مگر اس سے بہتر ہے معاف کر دینا۔۔
“بدلاؤ ضروری ہے مگر یہ بدلاؤ محبت میں آ جاۓ تو سب تہس نہس ہو جاتا ہے”
جس گھر کا فرد یوں اندھا دھند قتل کر دیا جاۓ وہاں کے مکین پہلے سے نہیں رہ سکتے سومو۔۔!!
میں خون کا بدلہ خون سے لوں گا معاف نہیں کروں گا اور اگر یہ غلط ٹھہرا تو میں ہاتھ جوڑ کر رب سے معافی مانگ لوں گا۔۔اساور کہہ کر رکا نہیں دروازہ دھرام سے بند کرتا باہر نکل گیا۔۔
پیچھے وہ گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھی سوچتی رہی کہ “”رحم نہ کرنے والوں پر کیا خدا کی طرف سے رحم کر دیا جاتا ہے معافی مل جاتی ہے”_


مری لارنس کالج_ امتخانی ہال میں سکوت چھایا ہوا تھا سب اپنے اپنے پیپر بورڈ پر جھکے لکھ رہے تھے۔۔ ممتخن پورے ہال کا چکر لگا کر سٹوڈنٹس پر نظر رکھے ہوۓ تھے۔۔_
سعدی بھی جھکا پیپر لکھ رہا تھا وہ اتنا اچھا دِماغ رکھتا تھا کہ جب پیپر دیتا تو ختم کر کے ہی سر اٹھاتا تھا_ جبکہ امان ٹیڑھی نظر سے ممتخن کو جاتے دیکھتا اور پھر اپنے لباس میں چھپاۓ پرزے نکال کر پیپر بورڈ کے نیچے رکھ کر لکھنے لگتا۔_
امان سے اگلی سیٹ پر ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا جو اِدھراُدھر کے نظارے کر رہا تھا صاف لگ رہا تھا اسے کچھ بھی نہیں آ رہا۔_ اس سے اگلی سیٹ پر سعدی تھا جو چپ چاپ لکھے جا رہا تھا۔_
اوۓ کیوں بیٹھا ہے ایسے۔۔_ امان اپنا لکھ چکا تو اگلے سیٹ پر بیٹھے لڑکے کو سرگوشی میں کہا۔۔ نہیں آ رہا۔۔_ لڑکے نے بےپرواہی سے جواب دیا۔۔_ اچھا یہ لے اور لکھ۔۔_ امان نے اپنے پاس موجود تمام پرزے اس کی طرف بڑھاۓ جنہیں فوراً سے پہلے اس نے اچک لیا تھا۔_ تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ان کے پاس سے گزرتے ممتخن نے اس لڑکے کو نوٹ کر لیا۔۔ کیا ہے آپ کے پاس۔‘ ‘ ممتخن نے تیز لہجے میں لڑکے محاطب کیا۔۔ کچھ بھی تو نہیں سر۔ لڑکے کے چہرے سے ہوائیاں اڑ گئ تھیں۔۔۔
ممتخن مطمئن نہ ہوا اور تیزی سے اس کی طرف بڑھا اور تلاشی شروع کر دی اس کے پاکٹ سے خاصی مقدار میں نقل کی پرچیاں نکلی تھیں۔۔
یہ سب کیا ہے
؟؟ممتخن کے غصے کا گراف بڑھ گیا تھا۔۔لڑکے نے بےبسی سے امان کی طرف دیکھا۔۔امان نے نفی میں گردن ہلا کر اپنا نام لینے سے منع کیا اسے۔۔: کہاں سے آئ تمہارے پاس اتنی نقل آپ پر کمیٹی بیٹھے گی آپ کے خلاف کاروائ ہو گی۔۔ممتخن کی باتوں سے لڑکے کی گھگھی بند گئ تھی ۔ اس نے اِدھراُدھر دیکھا تو سارا ہال ہی اسے دیکھ رہا تھا اس نے ایک نظر اگلی سیٹ پر بیٹھے سعدی پر ڈالی۔۔۔ سر اس کی ہیں یہ ساری پرچیاں اس نے دی ھیں ۔۔لڑکے نے فٹاک سے سعدی کا نام لے لیا۔۔ سر یہ جھوٹ بول رہا ہے میری نہیں ہے یہ۔۔سعدی پر تو حیرتوں کا پہاڑ ٹوٹا تھا اس نے شاکی نظروں سے لڑکے کی طرف دیکھا جو اپنی جان بچانے کو سارا ملبہ اس پر ڈال رہا تھا۔۔ سر مم میں جھوٹ نہیں بول رہا یہ پکا اسی کے ہیں۔۔لڑکے نے پھر وہی بات دہرائ ۔امان پہلو بدل کر رہ گیا اسے نہیں پتہ تھا اس کے گناہ میں ایسے سعدی پھنس جاۓ گا۔۔
مسٹر سعدی رانا اپنے پیپر پر اور ان نقل کے پیپر پر لکھی لکھائ آپ کی ہی ہے۔۔ممتخن نے جھک کر اس کا پیپر اٹھا کر دیکھا تھا۔۔
سر میرا نہیں ہے یہ آپ یقین کریں۔۔سعدی کی آواز بھرا گئ تھی۔۔
مگر اب کچھ بھی تو نہ ہو سکتا تھا امان کو نوٹس بھی وہی تیار کر کے دیتا تھا اور عقل کے دشمن امان نے نقل انہیں نوٹس سے پھاڑ کر لائ تھی۔۔
چلیں آپ دونوں کاروائ ہو گی دونوں پر کیس فائل ہو گا اور اگلے تین سال تک آپ دونوں ایگزام نہیں دے سکتے۔۔”_ ممتخن کے الفاظ تھے یا ہتھوڑا سعدی کی سماعت کراہ کر رہ گئ۔۔
سعدی نے غصے اور شاکی بھری نظروں سے امان کی طرف دیکھا جو مٹھیاں بند کیئے بےبسی اور پریشانی سے اسے دیکھ رہا تھا_”
سعدی کا پیپر اس سے لے کر ریڈ مارک لگا دیا گیا تھا۔۔
اس کا کرئیر اس کے زندگی کے اتنے سال برباد ہو گۓ تھے۔۔


جاری ہے۔۔