No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں
فرازؔ اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں
جدائیاں تو مقدر ہیں پھر بھی جان سفر
کچھ اور دور ذرا ساتھ چل کے دیکھتے ہیں
تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا
یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں
نہ تجھ کو مات ہوئی ہے نہ مجھ کو مات ہوئی
سو اب کے دونوں ہی چالیں بدل کے دیکھتے ہیں
ایکسرے ہو گیا ہو میرے چہرے کا تو تم سو سکتی ہو۔۔اپنے چہرے پر اس کی نظروں کی تپش وہ حاصی دیر سے محسوس کر رہا تھا۔۔
ایک بات پوچھوں اساور۔۔اس کی بات کو نظر انداذ کر چکی تھی وہ۔۔۔
ہاں پوچھو۔۔لہجہ سپاٹ تھا نظریں لیپ ٹاپ کی سکرین پر جمی ہوئ تھیں۔۔
اتنی نفرت کیسے کر لی تم نے مجھ سے۔۔اساور کی کی بورڈ پر چلتی انگلیاں تھمی۔۔کمرے میں کچھ پل کو سکوت چھا گیا۔۔اور پھر کی بورڈ پر اس کی انگلیاں چلنے لگیں۔۔۔
اساور . . کمرے کے سکوت میں دانین کی نرم سی آواز گونجی۔۔کانپتے وجود کے ساتھ وہ اٹھی اور سر اساور کے کندھے پر ٹِکا دیا۔۔اساور نے چونک کر اسے دیکھا مانو وقت چند پل کے لیئے ٹھہر گیا۔۔
کیوں کرتے ہو اتنی نفرت تم نے کہا تھا ہمیشہ محبت کرو گے۔۔۔دانین کے أنسو تواتر سے بہتے ہوۓ اساور کے کندھے کو بھگو رہے تھے۔اساور کی نفرت جواب دے گئ آخر کب تک وہ خود سے لڑتا۔۔
اس کی آنکھ سے بھی ایک آنسو نکل کر گال پر آ ٹِکا۔۔اپنی انگلی کی پوروں سے اس کے آنسو بھرا چہرہ صاف کیا۔۔دانین نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔اساور کی آنکھوں میں کتنے عرصے بعد اس نے اپنے لیئے محبت دیکھی تھی۔۔
آنسو بھری آنکھوں اور مسکراتے ہونٹوں کے ساتھ دوبارہ سے سر اس کے کندھے پر ٹکا دیا۔۔
گال پر بہتے آنسو کو صاف کرتے اساور نے مسکراتے ہوۓ اپنا سر دانین کے سر پر ہلکے سے ٹِکا دیا۔۔اسے اپنےدونوں بازوں کے گھیرے میں لیا۔۔۔۔۔دونوں کے آنسؤ تواتر سے بہہ رہے تھے۔۔۔دانین کے لیئے تو یہ سب خواب و خیال ہو گیا تھا جو آج ہو گیا تھا۔۔
مگر یہ اختتام تھوڑی تھا یہ تو اذیتوں بھرے ایک اور راستے کا آغاز تھا۔۔
محبت اور نفرت ہر گزرتے دن کے ساتھ شروع ہوتی ہے اور ان دو جذبوں کے اختتام کے مراحل وقوع پذیر نہیں ہوتے۔۔۔
ہاں یاد ہے وہ دوستی کا ہر مزہ
محبتیں وہ رونقیں وہ مستیاں
لگا کے شرط وہ زندگی کی پھر کوئی
جو وعدے کر لیے نہ ہوں گے ہم جدا کبھی
او میرے یارا تیری یاریاں
دل کی صدا
میری خوشیاں تو ساریاں
ہونگے نہ جدا
دل كا دل سے ھوا ہے “عہدوفا”
اوۓ خبیث کدھر ہے تیری سنڈریلا۔۔۔۔وہ چلتے چلتے ریسٹورینٹ کے پاس پہنچ گۓ۔۔سردی کی شدت بڑھ رہی تھی۔۔
یہیں ہو گی یار دیکھتے ہیں نا۔۔امان اسے ہاتھ سے پکڑ کر کھینچنے لگا۔۔۔۔۔
کوئ بہت ہی نکما انسان ہے تو۔۔
وہ رہی عینا وہ دیکھ۔۔تھوڑے فاصلے پر کھڑی لڑکی کی طرف امان نے اشارہ کیا۔لہجہ خوشی کا غماز تھا۔۔
چل مجنوں مل آ لیلا سے تب تک میں پیٹ پوجا کر لوں۔۔اسے دھکیل کر وہ ریستوران کے اندر چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔
ہاۓ۔امان بھاگ کر عینا کے پاس پہنچا جو ہاتھ میں برگر پکڑے کھاتے ہوۓ اپنی دوست سے مسکرا کر باتیں کر رہی تھی۔۔
ہاۓ۔۔عینا نے ایک نظر اس پر ڈال کر کہا۔۔۔کیسے ہو۔۔
ایک دم پرفیکٹ۔۔امان بلش کر رہا تھا ہوٹل کی گلاس ونڈو سے دیکھ کر سعدی مسکرا دیا۔۔
برگر کھاؤ گے۔۔عینا نے آدھا کھایا برگر اس کی طرف بڑھیا جسے اس نے مسکراتے ہوۓ پکڑ لیا۔اور آنکھ کے اشارے سے عینا کو کچھ کہا۔۔
اس کا مطلب سمجھ کر عینا نے پاس کھڑی اپنی دوست کے کان میں کچھ کہا تو وہ مسکراتے ہوۓ ہوٹل کی طرف بڑھ گئ۔۔۔
کیا تھا یہ ہاں کب سے کھڑی ہوں میں تم اب آ رہے پتہ نہیں ہے کتنی ٹھنڈ ہے جم گئ ہوں میں۔۔عینا اب اپنی جون میں لوٹ آئ تھی تیزی سے ہاتھ اٹھا کر امان کی طرف بڑھی۔۔۔
آئ ایم سو سوری یا وارڈن بہت کڑکدار انسان ہے اس لیئے دیر ہو گئ۔۔اس کے حملے سے بچنے کے لیئے وہ تھوڑا جھک کر سائیڈ پر ہو گیا۔۔
سوری مائ فٹ۔۔وہ غصے سے لال پیلی ہو رہی تھی۔۔
عینا میری پیاری عینا معاف کر دو پلیز. . امان نے معصوم سی شکل بنائ تو عینا کی ہنسی نِکل گئ۔۔
اچھا بس کرو اب ڈرامہ کنگ وہ میں کل اسلام آباد واپس جا رہی ہوں شفٹ ہو رہے ہیں ہم لاہور تو بہت کام ہے پیکنگ وغیرہ۔۔۔
واؤ مطلب ہمارے لاہور یاہو مزا آ گیا فاصلے ختم ہوۓ۔۔امان کی خوشی کی کوئ انتہا نہ تھی۔۔
ہاں نہ میں بھی تبھی بہت خوش ہوں اور لاہور شفٹ ہو جائیں پھر آپی کو تمہارے بارے میں بتاؤں گی۔۔۔عینا کے چہرے سے خوشی اور امان کے لیئے محبت صاف دِکھ رہی تھی۔۔۔
ہاں اور وہ. . . اوۓ مانی۔۔سعدی کی آواز پر اسے اپنی بات پیچ میں چھوڑنی پڑی۔۔
کیا ہے۔۔وہ کھا جانے والے لہجے میں بولا۔۔
مسٹر عاشق باقی کا ادھار رکھو قسطوں میں کر لینا ابھی چلو وارڈن کو لگ گیا پتہ تو ساری عاشقی ناک کے ذریعے بہہ جانی ہے۔۔۔۔سعدی چبا چبا کر بولا۔۔
آتا ہوں کباب میں ہڈی ۔۔۔امان نے آنکھیں نکال کر اسے غصے سے دیکھا۔۔۔
ٹھیک ہے عینا چلتا ہوں ۔۔۔بجھے چہرے کے ساتھ عینا کو اللہ خافظ کہہ کر سعدی کی طرف بڑھا۔۔
ویسے کسی بہت ہی نکمے عاشق کی روح گھس گئ ہے تیرے اندر یا پھر رانجھے کا دوسرا جنم ہے تو۔۔۔سعدی نے منہ پھلا کر چلتے سعدی کو مزید چھیڑا۔۔۔
عشق کے دشمن خود تجھے کوئ پسند نہیں آتی میری دال بھی نہیں گلنے دیتا۔۔۔امان نے اسے ایک زوردار مکہ مارا۔۔
افف کتنا بھاری ہاتھ ہے تیرا۔اور باۓ دب وے کس نے کہا مجھے کوئ پسند نہیں ہے۔۔۔اپنا کندھا سہلاتے ہوۓ وہ مسکرایا۔۔
ہیں یہ معجزہ کب ہوا اور وہ خوش قسمت ہے کون جو اس عشق بیزار انسان کو پسند آ گئ۔۔امان حیران ہوا تھا۔۔
ہر چیز کا ایک مقررہ وقت ہوتا ہے اور مقررہ وقت پر ہی ہر شے اچھی لگتی ہے دل کو دل کی طرح ٹریٹ کر کنٹرول بٹن نہ بنا۔۔۔اس کی بات کو اِدھر کرنے کی کوشش کی اس نے۔۔
بات مت گھما افلاطون کی اولاد کس کی بات کر رہا ہے وہ بتا۔۔امان کو تجسس ہو رہا تھا۔
کہا نہ ہر شے اپنے وقت پر بتائ جاۓ تو ہی اچھی لگتی ہے۔۔وقت آنے پر بتا دوں گا۔۔۔
چل دفعہ ہو سسپینس پیدا کر رہا ہے۔۔امان کو غصہ چڑھ گیا تھا۔۔
سسپینس کو چھوڑ جلدی چل جہاں داد صاحب کو پتہ لگ گیا نہ تو پھر وہ مار ماریں گے کہ ہم دوبارہ پیدا نہ ہو پائیں گے۔۔ سعدی نے اسے وقت کی نزاکت کا احساس دلایا اور حوف بھی۔۔
سہی کہہ رہا ہے جلدی کر۔۔۔امان کو بات سمجھ آ گئ تھی۔ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے وہ تیز تیز چلنے لگے تا کہ جلد سے جلد پہنچ جائیں۔۔
کہانی گر!
بتاو ناں ،تمہیں کچھ ربط میں بخشوں؟؟ خرابان محبت کی غم ہجراں سے نسبت کا اگر دوں آگہی تم کو کہیں کچھ پھول کانٹے ،سیپ موتی،اشک میں سونپوں دریدہ دل کی وحشت تک رسائی تم کو باہم دوں کہو تم مان تو لو گے جو میرے روگ ہیں کاری فراق یار میں الفاظ میں جو کہہ نہیں سکتا میرے کچھ زخم ایسے ہیں جنہیں میں سہہ نہیں سکتا میرے حرف عقیدت کو کوئی پھلواری بخشو گے؟؟ میرے اس درد و درماں کو کہیں دلداری بخشو گے؟؟
یہ تانے بانے لفظوں کے میرے بس میں نہیں آتے
مجھے لکھنا نہیں آتا،مجھے لکھنا اگر آتا
اسے میں قید کر لیتا،غزل کہتا ،نظم کہتا
میں کچھ بھی بحر چنتا مقطع و مطلع بنا لیتا
اسے دیتا غزل کا روپ ٹھمری سجا لیتا
نظم کہتا کوئی جس میں وصل جز لازمی ہوتا
سطور حد میں جذبوں ک تلاطم بیکراں ہوتا
سنو پیارے!
سنو محرم!
میرے پیارے کہانی گر
تم اب کی بار یوں کرنا
کہانی کچھ بھی لکھ دینا
قبل کچھ پل ختم شد سے
اسے میرا بنا دینا!!
آپ ویٹ کریں میں آتا ہوں۔آ رہا ہوں نا بیٹا۔۔اے۔کے نے مسکراتے ہوۓ کال منقطع کر کے موبائل پاکٹ میں ڈالا کہ گاڑی ایک جھٹکے سے بند ہو گئ۔۔۔
کیا ہوا سعید ..!! اس نے ڈرائیور سے پوچھا جو گاڑی سٹارٹ کرنے کی بھرپور کوشش میں تھا۔۔
پتہ نہیں صاحب لگتا ہے انجن بند ہو گیا ہے میں دیکھتا ہوں۔ڈرائیور گاڑی سے نکل کر انجن چیک کرنے لگا۔۔گلاسز پہنتے وہ بھی گاڑی سے نکلا اور سڑک پر اکا دکا جاتی گاڑیوں کو دیکھنے لگا۔۔
صاحب انجن بند ہو گیا ہے مکینک کے پاس لے جانا پڑے گا۔۔۔ڈرائیور نے گاڑی چیک کر لی تھی۔۔۔
ہمم میں کیب منگوا لیتا ہوں تم ورکشاپ لے جانا گاڑی کو ۔۔اے۔کے نے کیب منگوانے کے لیئے موبائل پاکٹ سے نکالا۔ابھی وہ کال ملانے کی لگا تھا کہ اک گاڑی زن سے پاس سے گزری پھر ریورس لے کر پاس آ کر رُک گئ۔۔اے۔کے نے حیرانگی سے گاڑی کی طرف دیکھا۔۔
ہاۓ مسٹر اے۔کے ۔۔کھڑکی کا شیشہ نیچے ہوا تو سامنے حیا سدوانی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی تھی۔۔
ہاۓ مِس حیا۔۔
Can I help you..??حیا سدوانی اپنے محسوس پرغرور انداذ میں مسکرا کر بولی۔۔۔
No thanks,اے۔کے نے مسکرا کر کہا اور کیب کمپنی کو کال کرنے لگا ۔ ۔
یقیناً آپ کی گاڑی خراب ہو گئ ہے میں آپ کو چھوڑ دیتی ہوں پلیز منع مت کیجیئے گا۔۔۔
نہیں مِس حیا شکریہ آپ زحمت مت کریں۔۔۔
زحمت کیسی ہم بزنس پارٹنر بننے والے ہیں اتنا تو کر سکتی ہوں پلیز۔۔۔۔
اوکے ۔۔اے۔کے ڈرائیور کو کچھ ضروری ہدایات دیتا ہوا فرنٹ ڈور اوپن کر کے بیٹھ گیا۔۔اس کے بیٹھتے ہی حیا گاڑی زن سے آگے بڑھائ۔۔
آپ کو out of the way تو نہیں پڑے گا ناں۔۔
نہیں اے۔کے آپ کے گھر سے تین چار گھر چھوڑ کر ہی میرا گھر ہے۔۔حیا سدوانی مسکرائ تھی اے۔کے نے اس وقت اقرار کیا بےشک حیا سدوانی مسکراتے ہوۓ بہت دلکش لگتی ہے۔۔۔۔
اچھا پچھلے ماہ آپ لوگ شفٹ ہوۓ ہیں صدیقی صاحب کے گھر۔
یس باس۔۔
ہممم گُڈ۔۔کون کون ہے فیملی میں۔۔
ڈیڈ موم چھوٹی بہن اور میں بس مختصر سی فیملی ہے۔۔۔
اوکے۔. .
اور آپ کی فیملی میں کون کون ہے۔۔۔
میری. . . اسی وقت اے۔کے کا فون رِنگ کرنے لگا۔۔اے۔کے نے بات ادھوری چھوڑ کر کال پِک کی۔۔
ہیلو آفت کی پُریا۔۔۔وہ مسکرایا۔۔
ہاں نا آؤں گا ہر بار تو آتا ہوں پھر بھی بھروسہ نہیں کرتی ہو۔۔۔حیا نے دیکھا کال پر بات کرتے ہوۓ وہ ہمیشہ سنجیدہ رہنے والا شخص کھلے دل سے مسکرا رہا تھا۔۔اس کی خوشی بتا رہی تھی کسی بہت اپنے کا فون ہے۔۔حیا کی دھڑکن ایک دم سے تیز ہوئ۔۔اسے شدید گرمی محسوس ہونے لگی دل حسد کی آنچ پر پک رہا تھا اس سا۔۔
اس نے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی مگر مقابل کے پھیلتی مسکراہٹ میں کوئ فرق نہ آیا۔۔
وہ ابھی بھی مسکرا مسکرا کر بات کر رہا جو حیا سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔
میں اتنے سال سے اپنے دل میں پنپتی اس محبت کو اتنی آسانی سے کسی کو نہیں دے دوں گی کبھی نہیں۔۔وہ ضبط کرتی ہوئ سوچ رہی تھی۔۔
تم میرے ہو اے۔کے ازل سے ابد تک۔۔۔حیا نے فصے کی شدت سے موڑ کاٹتے ہوۓ گاڑی کو اک زوردار جھٹکا دیا۔۔گاڑی بےقابو ہوتی ہوئ درخت سے جا ٹکرائ۔اک زوردار آواز گونجی اور پھر سکوت چھا گیا ۔
موبائل اے۔کے کے ہاتھ سے دور جا گِرا تھا سر ونڈو کے شیشے سے ٹکرایا۔۔
حیا اسٹیرنگ پر سر سے بہتے حون کے ساتھ بےہوش ہو گئ تھی۔۔
ایکسیڈنٹ اتنا زوردار تھا کہ اے۔کے بھی توازن قائم نہ رکھ پایا تھا۔ سر شیشے سے اتنے زور سے ٹکرایا کہ کانچ اس کے سر میں لگے۔۔
بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ اس نے دیکھا گاڑی سے اتر کر کچھ لوگ پریشانی سے ان کی مدد کو پہنچے۔۔۔۔
جاری ہے۔۔
