Inteqam Lal Ishq By Pareesha Mahnoor Readelle50245

Inteqam Lal Ishq By Pareesha Mahnoor Readelle50245 Last updated: 20 September 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqam Lal Ishq

By Pareesha Mahnoor

آج کے دھچکے سے سب تھوڑے سنبھل چکے تھے۔مگر دن کو ہونے والی زلزلے کی گونج ابھی تک کاظمی خویلی کے درودیوار سے سنائ دے رہی تھی۔۔ سب بنا کچھ کھاۓ اپنے اپنے کمروں میں چلے گۓ تھے۔عینا کو سومو نے امان کے کمرے میں پہنچا دیا تھا۔۔ عینا اب وہ عینا نہ تھی سات سال کی قید نے اسے بھری جوانی میں بوڑھا کر دیا۔۔ آنکھوں کے نیچے گہرے سیاہ ہلکے پڑ چکے تھے۔۔۔ اب وہ فقط ہڈیوں کا ڈھانچہ معلوم ہوتی تھی مگر آج وہ اپنے امان کے گھر تھی اس کا بیٹا اپنے میں تھا یہ سوچ اسے سکون دے رہی تھی۔۔ سعدی اپنے گھر چلا گیا تھا۔آخر کو وہ بہت سالوں بعد اپنے گھر کی شکل دیکھ سکتا تھا جہاں اس کا اور دانین کا بچپن تھا۔اس کے ماں باپ کی یادیں تھی بہت کچھ تھا اس گھر میں اور وہ بہت کچھ سکون تھا۔۔ دانین زارا اور سارہ کو لیئے کمرے میں چلی آئ تھی۔۔انہیں کھانا کھلا کر سلانے کے لیئے لٹایا اور خود بھی لیٹ گئ تھی ۔آج وہ سکون میں تھی برسوں بعد وہ سرخرو ہوئ تھی۔۔ وہ آزاد ہوئ تھی۔۔ زارا اور سارہ کو سلاتے وہ بھی آنکھیں موند کر سونے کی کوشش کرنے لگی تھی۔آج تو نیند بنتی تھی برسوں جاگی تھی وہ۔۔ دروازے پر آہٹ ہوئ پھر ہلکی سی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا تھا مگر دانین نے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا تھا ۔وہ جانتی تھی وہ کون ہو سکتا ہے۔؟؟ وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا بیڈ کے پاس جا کر کھڑا ہوا تھا۔۔نظریں دانین کے چہرے پر ٹِک گئیں تھیں۔۔ ان آنکھوں میں پچھتاوا ملال دکھ اذیت کچھ کھو دینے کا کرب افسوس خوف کیا کچھ نہیں تھا۔۔ دانین۔۔!! اس نے ہولے سے دانین کو پکارا تھا لہجے میں ڈھیروں خوف تھا۔۔ دانین جاگ رہی ہو۔۔دانین کی طرف سے کوئ جواب نہ پا کر اس نے پھر سے پکارا تھا۔۔ اب کہ دانین نے آنکھیں کھول کر اساور کو دیکھا۔سردمہری سے برف سی نظر تھی اس کی جو منجمند کر دینے کی صلاحیت رکھتی تھی۔۔ بات کرنی ہے تم سے۔۔وہ واقعی بہت ٹوٹ گیا تھا پچھتاوا اس کے لہجے میں بول رہا تھا۔۔ میں نے کہا تھا تم جب ہارو گے تو صرف انتقام کی جنگ نہیں ہارو گے ساتھ ہم تینوں کو بھی ہار دو گے۔۔ ت زارا کے سر پر بھوسہ دیتے اس کی نظریں اب معصوم سی سارہ پر تھیں۔۔ میں جانتی ھوں تمہیں کیا بات کرنی ہے مگر میں اس موضوع پر کوئ بات نہیں کرنا چاہتی جو چھ سالوں میں بارہا میں تمہیں بتا چکی ہوں۔۔ تم نے چھ سالوں میں جو کچھ دیا ہے میرے پاس اس کا بدلہ لوٹانے کو بھی کچھ نہیں ہے انفیکٹ میرے پاس تمہیں دینے کو اب کچھ نہیں ہے کچھ بھی نہیں اور اس کچھ بھی نہیں میں محبت سرِفہرست آتی ہے۔۔ وہ یوں ہی چِت لیٹی چھت کو گھور رہی تھی۔۔ دانین معافی بنتی نہیں ہے یار پھر بھی میں معافی چاہتا ہوں یار میں کمظرف ھوں یار تم تو اعلیٰ ظرف ہو معاف کر سکتی ہو مجھے پلیز. ۔۔اس کاانداذ التجائیہ تھا۔۔ معاف نہ کرنے والی معافی مانگیں تو بڑا عجیب لگتا ہے مجھے لیکن پھر بھی میں نے تمہیں معاف کیا اساور کاظمی۔۔نظریں ابھی تک چھت پر تھیں اس نے ایک نظر بھی اساور پر نہ ڈالی تھی۔۔ اساور نے چونک کر اسے دیکھا تھا ۔۔اسے اپنی سماعت پر شک گزرا تھا۔۔ سچ یار تم نے معاف کر دیا۔۔اساور نے تصدیق چاہی تھی۔۔ میں جن سے تعلق نہ رکھنا چاہوں ان پر بلاوجے کے ملبے ڈالتی ہوں نہ شکوے کرتی ہوں اس لیئے بات ختم میرا تم سے کوئ لینا دینا نہیں ہے تم اور میں دو اجنبی ہیں جو ریلوے ٹریک پر ٹرین چھوٹ جانے پر غلطی سے ملے تھے اور اب ٹرین آ چکی ہے ہم دونوں کو اپنے اپنے ڈبے میں سوار ہو جانا چاہیئے۔۔دانین کا لہجہ دو ٹوک تھا۔۔۔۔۔۔ مگر دانین۔۔!!. . . . اساور نے کچھ کہنا چاہا تھا۔۔ لائٹ آف کر دو مجھے نیند آ رہی ھے اپنے کمرے میں مجھے ایک پھرپور نیند لینے دو گے ۔۔۔دانین نے قطیعت سے کہتے کروٹ بدلی تھی۔۔ اساور کے اندر بہت کچھ ٹوٹا تھا جس میں سرِفہرست اساور خود تھا۔۔ اور اس ٹوٹنے کی چبن آنکھوں میں ابھری تو آنسو بےاختیار اس کے گالوں پر بہہ نکلے تھے۔۔ جنہیں اس نے ہاتھ کی پشت سے صاف کیا۔۔دانین جانتی تھی وہ رو رہا ہے مگر دانین کو پتھر کرنے والا بھی وہ خود تھا۔۔اس مقام تک لانے والا بھی وہ تھا جہاں اساور کا مر جانا بھی اس پتھر کو توڑ نہیں سکتا تھا۔۔ تو ایسی محبت کے دُر فٹے منہ"۔۔